Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے نمبر گیم مکمل

ویب ڈیسک جمعه 28 جون 2019
چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے نمبر گیم مکمل

اسلام آباد…چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لئے قرارداد پر رائے شماری خفیہ ہو گی۔ موجودہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس 67 اور حکومتی بنچز کے پاس 36 سینٹرز موجود ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس میں طے پا چکا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹایا جائے گا اور اس کے لئے تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

تحریک پیش کرنے کی اجازت کے بعد قرارداد پر خفیہ رائے شماری ہو گی، اگر اکثریت نے ہٹانے کا فیصلہ دے دیا تو چیئرمین سینیٹ عہدے پر نہیں رہیں گے اور بعد میں نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا۔ موجودہ سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق اس وقت 104 کے ایوان میں 103 ارکان ہیں۔

حلف نہ اٹھانے والے اسحاق ڈار کے بغیر مسلم لیگ ن کے ساتھ 30 سینیٹرز ہیں، ان میں 17 مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جیتے تھے باقی 13 آزاد حیثیت سے جیتے ہوئے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ 21، جمعیت علماء اسلام ف کے 4، جماعت اسلامی کے 2، اے این پی کا 1، نیشنل پارٹی کے 5 اور پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے ساتھ 4 سینیٹرز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بلاول ڈیفیکٹڈ لیڈر، سندھ اسمبلی میں ہنگامہ

یوں سینیٹ میں اپوزیشن کے 67 سینیٹرز ہیں۔ حکومت بنچز پر پاکستان تحریک انصاف کے 14، ایم کیو ایم کے 5، فاٹا کے 7، مسلم لیگ فنکشنل کا 1، بی این پی مینگل کا 1 اور سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8 سینیٹرز ہیں۔ یوں حکومت کو 36 ارکان سینیٹ کی حمایت حاصل ہے اگر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے شیڈول جاری ہو گا اور یہ انتخاب بھی خفیہ رائے شماری سے ہو گا۔

سلیم مانڈوی والا نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے نمبر گیم مکمل ہو گئی ہے، صادق سنجرانی کو ہٹانے کا طریقہ کار کمیٹی طے کرے گی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے گنتی پوری ہو گئی ہے۔

دوسری جانب صحافی نے نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو سے سوال کیا کہ چیئرمین سینیٹ کون بنے گا ؟ تو وہ اسے گول کر گئے اور کہا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس بارے میں انہیں کچھ بتایا گیا ہے۔

(326 بار دیکھا گیا)

تبصرے