Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 22  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اے پی سی، 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز

ویب ڈیسک بدھ 26 جون 2019
اے پی سی، 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز

اسلام آباد: حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) جاری ہے اور 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

مطابق اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کا تلاوت کلام پاک سے آغاز ہوا۔ کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سوا تقریبا تمام اپوزیشن جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے وفود اے پی سی میں شریک ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں شہبازشریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، احسن اقبال، مرتضیٰ جاوید عباسی، مریم اورنگزیب، راناثنااللہ اور دیگر شامل ہیں۔ پی پی پی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضاگیلانی،شیری رحمان، رضاربانی، نیّربخاری، فرحت اللہ بابر شرکت کررہے ہیں۔ میر حاصل بزنجو کی سربراہی میں نیشنل پارٹی کا وفد جبکہ ایم ایم اے کے ساجد میر اور دیگر رہنما اے پی سی میں شرکت کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹھنڈے روزوں کیلئے تیار ہوجائیں

اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک اور بجٹ منظوری رکوانے پر مشاورت کی جارہی ہے جب کہ اسلام آبادلاک ڈاؤن کی تجویزاورجلسوں کا شیڈول بھی زیرغور ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ٹیم نے بی این پی مینگل کو بجٹ کی حمایت کے لیے منالیا ہے اور اختر مینگل نے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے پی سی میں خطاب کے دوران فضل الرحمان نے کہا کہ دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں،
مہنگائی اورعوامی مسائل میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، حکومت کے خلاف اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پرہونا چاہیے جب کہ 25 جولائی 2018 کوہونے والے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی جسے یوم سیاہ کے طورپرمنانا چاہیئے۔ مولانا کی تجویز پر اے پی سی میں غور کیا جارہاہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس میں شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا، دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جب کہ حکومت کے ہاتھ روکنے کے لئے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

(318 بار دیکھا گیا)

تبصرے