Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈالرز کی گھر گھر تلاشی ہوگی

ویب ڈیسک هفته 22 جون 2019
ڈالرز کی گھر گھر تلاشی ہوگی

اسلام آباد… حکومت نے بجٹ 2019-20 ء منظور ہونے کے بعد اثاثوں میں ظاہر نہ کئے جانے والے ڈالر ضبط کرنے کیلئے گھروں پر چھاپے مارنے کی بھی منصوبہ بندی کرلی‘ ممبران لینڈ ریونیو ایف بی آر ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے گزشتہ روز میڈیا کو بتایا کہ بجٹ میں شق متعارف کرائی گئی ہے

جس کی رو سے گھروں پر چھاپے بھی مارے جاسکیں گے‘اس شق کے مطابق مجاز کمشنر مصدقہ معلومات پر سونا‘ سیکورٹی بانڈز یا غیر ملکی کرنسی کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ مارسکتاہے اور ان اثاثوں کو ظاہر نہ کئے جانے پر مذکورہ شق پر عملدر آمد کیلئے انہیں ضبط کرسکتا ہے

ذرائع کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ حکومتی فہرست میں سے سونے کو حذف کردے اور چھاپے کے دوران سونا برآمد ہونے پر ضبط نہ کیا جائے‘ ڈاکٹر حمید عتیق نے کہا کہ عملے کی کمی کی وجہ سے ایف بی آر ایسے ہر کیس پر کام نہیں کرسکتا ‘تاہم ممکن ہے کہ آئندہ ماہ ایف بی آر ایسے 50 کیسز کی چھان بین کرے۔

دریں اثناء فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پرتعیش زندگی زندگی گزارنے والے ٹیکس نادہندگان کی فہرست مرتب کرلی ہے اور لگژری گاڑیوں کے مالکان کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ کرلیا‘ ذرائع نے بتایا کہ ریجنل آفس ٹو کے براڈ ننگ ٹیکس بیس زون نے سندھ میں 13193 لگژری گاڑیوں کے مالکان کی معلومات حاصل کرلی ہیں

یہ بھی پڑھیں : تمام بے نامی اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ

لگژری گاڑیاں استعمال کرنے کے باوجود مالکان ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں‘ ایف بی آر کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق کراچی میں 9230 ویگو 1605 لینڈ کروزر‘1970 پراڈو ‘ 45 آڈی ‘272 مرسڈیز اور71 بی ایم ڈبلیو لگژری گاڑیاں چل رہی ہیں‘ لیکن ان کے مالکان ٹیکس فائلر نہیں ہیں‘ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی آخری تاریخ 30 جون ہے

جس سے استفادہ نہ کرنے والے لگژری گاڑیوں کے مالکان کو باقاعدہ نوٹس جاری کرنے کے ساتھ کریک ڈائون شروع کردیا جائے گا‘ اگر بے نامی اثاثے کے نام پر ایمنسٹی نہیں لی تو اس کے خلاف بھی یکم جولائی سے سخت کارروائی ہوگی۔

ایف بی آر اور نادرانے شہریوں کے ڈیٹا سے متعلق معلومات کیلئے دو ویب پورٹل کاآغازکردیا، جس میں ابتدائی طورپر5 کروڑ30 لاکھ شہریوں کے منقولہ اورغیر منقولہ اثاثہ جات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، جس پر رجسٹر ڈہونے کے بعد شہری اپنے اثاثہ جات کی معلومات حاصل کر سکیں گے

اگر ان کے پاس کوئی ایسا اثاثہ ہو جسے انہوں نے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا تو وہ 30جون تک ظاہر کرسکتے ہیں ،اگر کوئی ایسا اثاثہ جو ان کی ملکیت نہیں پھر بھی ان کے اثاثہ جات میں شمار نظر آ رہا ہے تو اس کے بارے میں بھی معلومات ٹیکس حکام کو دی جاسکتی ہیں جنہیں بے نامی اثاثہ ڈ کلیئر کیا جاسکے گا اور اس کی بنیاد پر اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکے گی

چیئرمین ایف بی آر سید شبرزیدی اورنادرا کے نمائندے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے محصولات حماداظہر نے کہا مختلف اداروں کے پاس شہریوں سے متعلق ڈیٹاکو مربوط بنانا اہم قدم ہے ، اس ڈیٹا میں رئیل اسٹیٹ، یوٹیلیٹی بلز اور سفری ریکارڈ سمیت شہریوں کے حوالے سے تمام معلومات موجود ہیں۔

(404 بار دیکھا گیا)

تبصرے