Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی سبی سے بھی زیادہ گرم

راؤ عمران اشفاق جمعه 14 جون 2019
کراچی سبی سے بھی زیادہ گرم

کراچی … شہر میں شدید گرمی‘ سبی اور تربت سے زیادہ گرمی بڑھ گئی‘ شہری ادارے الرٹ‘ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی‘ سمندری طوفان نے رخ بدل لیا‘ ساحلی آبادیاں زیر آب آگئیں‘ ہزاروں افراد کی نقل مکانی‘ کراچی اور سندھ میں بارش کا خطرہ ٹل گیا‘ گرمی کی شدت مزید 2 دن برقرار رہے گی‘ گرمی کی شدت کے بعد کراچی میں پانی اور بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا

مختلف علاقوں میں ہنگامے‘ بجلی کی 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ‘ گرمی کی شدت سے 3 شہری جاں بحق ہوگئے‘ شہر بھر میں ہیٹ ویو کیمپ لگ گئے۔ اطلاعات کے مطابق آج بھی شہر میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی‘ جمعرات کو کراچی میں سبی اور تربت سے زیادہ گرمی پڑی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی شہر کا درجہ حرارت 43 ڈگری ہے‘ ہوا میں نمی بڑھنے کی وجہ سے اس کی حدت 52 ڈگری تک محسوس کی جائے گی۔ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے سے گرمی اصل درجہ حرارت سے کئی گنا بڑھ کر محسوس ہورہی ہے۔ آج ہیٹ انڈیکس 58 سینٹی گریڈ تک ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ بھر میں قیامت کی گرمی

آج صبح محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سمندر میں طوفان وایو کراچی کے جنوب میں 500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ اب اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہے‘ سمندری رخ بدلنے کے باعث پہلے کیٹی بندر‘ ٹھٹھہ‘ بدین‘ تھرپارکر‘ مٹھی میں تیز بارش اور آندھی کی پیشگوئی کی گئی تھی‘ اب شدید بارش کا خطرہ نہیں ہے‘ تاہم گرد آلود ہوائیں چل سکتی ہیں۔

کراچی میں بارش کا کوئی خدشہ نہیں ہے‘ تاہم کراچی میں ہیٹ ویو کے 2015ء جیسے اثرات ہیں۔محکمہ ہیلتھ سندھ نے ہیٹ ویو کے باعث شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے‘ ڈاکٹروں کو ہنگامی ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا ہے۔ شہر بھر میں رینجرز‘ پولیس اور سماجی اداروں کی جانب سے ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لئے کیمپس لگادیئے ہیں‘ سمندر طوفان وایو کی وجہ سے سمندر میں بھونچال آیا ہوا ہے‘ ساحلی پٹی پر سمندری لہریں 8 سے 10 فٹ اونچی ہیں۔

کیٹی بندر ‘ ابراہیم حیدری‘ ریڑھی گوٹھ‘ ٹھٹھہ اور بدین کی ساحلی پٹیاں زیر آب آگئی ہیں۔ آج صبح ساحلی پٹیوں میں 3 فٹ تک پانی آگیا تھا جس کے باعث آبادیوں سے نقل مکانی شروع ہوگئی تھی۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق سمندری طوفان کااب کوئی خطرہ نہیں ہے‘ تاہم سمندر میں طوفان ہے جس کی وجہ سے سمندری ہوائیں رک گئی ہیں جس سے گرمی کا پارہ ہائی ہوا ہے‘ گرمی کی شدت 2 دن کے بعد کم ہونا شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے‘ دوسری طرف شہر میں گرمی کا پارہ ہائی ہونے کے بعد شہر میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہونے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کردیا گیا‘ مختلف علاقوں میں 14 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے شہری اذیت میں مبتلا ہیں‘ دن کے بعد رات کو بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے‘ بجلی کے تعطل پر اورنگی‘ ملیر‘ سرجانی کے علاقوں میں ہنگامے ہوئے‘ ڈیفنس کلفٹن میں بھی بجلی کے تعطل پر شہریوں نے احتجاج کیا۔

یہ بھی پڑھیں : بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع

کے الیکٹرک کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 60 فیصد شہر لوڈشیدنگ سے مستثنیٰ ہے‘ شدید گرمی کے باعث کیس لوڈ کے پریشر میں کمی آنے کے باعث سسٹم میں خرابی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کے نظام متاثر ہوا ہے۔ گرمی بڑھ جانے کے باعث عارضی لوڈ مینجمنٹ ناگریز ہے‘ جبکہ بجلی کی ترسیل معمول پر آجائے گی۔

دوسری طرف پانی کا بھی شدید بحران ہوگیا ہے۔ کورنگی‘ گارڈن‘ نیو کراچی‘ نارتھ کراچی‘ فیڈرل بی ایریا‘ گلشن اقبال‘ شاہ فیصل کالونی کے علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی پر شہریوں نے مظاہرے کئے‘ پانی کے بحران کے باعث ٹینکرز مافیا نے بھی پانی کی بلیک شروع کردی ہے‘ ڈبل ٹینکر 6 سے 8 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ شہر میں ہیٹ ویو کی وجہ سے مدینہ کالونی کے علاقے بلدیہ 7 نمبر قبرستان کے قریب 30 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا۔

جبکہ نیو کراچی کے علاقے میں بھی 36 سالہ شہری گرمی کی شدت سے ہلاک ہوگیا۔ ادھر منگھوپیر کے علاقے میں 50 سالہ راہگیر غفور احمد بھی ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہوگیا۔

(474 بار دیکھا گیا)

تبصرے