Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

وکٹوریہ میوزیم سے قومی عجا ئب گھر کراچی تک

تحریر: مختار احمد بدھ 12 جون 2019
وکٹوریہ میوزیم سے قومی عجا ئب گھر کراچی تک

جہاں تک دنیا بھر میں نوادرات جمع کر نے کا تعلق ہے تو یہ کو ئی چند صدیوں پہلے کی روایت نہیں بلکہ اس روایت کا آغاز تو دنیا کے وجود میں آنے کے ساتھ ہو گیا تھا جب لوگوں نے اپنے آبائو اجداد کے زیر استعمال رہنے والی چیزوں کو آئندہ آنے والی نسلوں کو دکھا نے کے لئے جمع کر نا شروع کر دیا تھا لیکن اس کا با قاعدہ آغاز اس وقت تر کی سے ہوا جب لوگوں نے اپنے آبائو اجداد کی تدفین کے لئے ان کی لا شوں کو مصالحہ لگا کر محفوظ کر نا شروع کر دیا اور اسے احرام مصر کا نام دیا اسی زما نے یعنی کے 5000سال قبل لوگوں نے اپنے اجدادکی نعشوں کو دفنا نے کے ساتھ ساتھ ان کے زیر استعمال اشیا کو بھی ان کے ساتھ مدفون کر نا شروع کر دیا تا کہ آنے والی نسلوں کو اپنے آبائو اجدادکی تہذیب و ثقافت سے آگا ہی حاصل ہو سکے جبکہ جب دنیا بھر میں صنعتی انقلاب بر پا ہوا تو اس وقت یورپین نے افریقہ اور ایشیائی ممالک میں کی جا نے والی لوٹ مار کے دوران ملنے والے نوادرات کو محفوظ کر نے کے لئے میوزیم قائم کئے اور انہیں میں سے ایک میوزیم جو کہ آج دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہے کو بر ٹش میوزیم کانام دیا جس کا شمار آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اور قدیم عجا ئب گھروں میں کیا جا تا ہے۔

اب جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو انہوں نے بھی اپنے آبائو اجداد کے زیر استعمال اشیا کو محفوظ بنا نے کا کام غاروں اور مٹی کے گھروندوں میںرکھنے سے کیا اور اس سلسلے میں جب نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺکا وصال ہوا تو خلیفہ وقت بھی اسے مقرر کیا گیا جس کے پاس نبی کریم کے زیر استعمال رہنے والی سب سے زیادہ اشیا جن میں عصا ،کپڑے ،کٹورے سمیت نوادرات کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا یہ سلسلہ سلطنت عثما نیہ تک جاری رہا پھر قسطسطنیہ میں توپ کاپی میوزیم میں نبی کریم ﷺ،صحابہ کرام کے زیر استعمال رہنے والی چیزوں کا ذخیرہ کیا گیا جس کی بنیاد پر اسے اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اسلامی میوزیم کا در جہ دیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد دنیا بھر میں عجا ئب گھروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور اس وقت لگ بھگ دنیا بھر میں 50ہزار سے زائد عجا ئب گھر موجود ہیں جہاں کروڑوں کی تعداد میںقدیم ترین ،اہم اور قیمتی نوادرات کا قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔

پاکستان کے اندر وفاقی حکو مت کی سطح پر 13جبکہ صوبائی سطح پر 70سے زائد میوزیم موجود ہیں جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان ،پاکستان ریلوے ،پاکستان نیوی ،پاکستان ایئر فورس ،پاکستان آرمی ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت مختلف اداروں کے میوزیم موجود ہیں جہاں ان اداروں کے آغاز سے لے کر اب تک کے تمام اہم قیمتی نوادرات جن میں ہوائی جہاز ،وردیاں ،آتشی اسلحہ ،توپ ،ٹینک تک موجود ہیں لیکن وفاقی حکو مت کی سطح پر جو13میوزیم قائم ہیں ان میں پتھر دور ،کانسی دور ،تانبہ دور اورمختلف قدیم ادوار کے نوادرات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ایسے میوزیموں میں سے قومی عجا ئب گھر کراچی کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے اسے بر طانوی دور میں ایک انگریز کمشنر سر بارٹلے فریئر نے 1871 میں اس وقت کے مشہور زمانہ ٹاؤن ہال ’’فریئر ہال‘‘ کی اوپری منزل سے اس کا آغاز کیا۔ابتدائی طور پر میوزیم اور جنرل لائبریری دونوں ہی فریئر ہال کی اوپری منزل پر قائم کیے گئے جہاں شائقین کی ایک بڑی تعداد نہ صرف مطالعے کا شوق پورا کرتی بلکہ تاریخ سے لگاؤ رکھنے والے لوگ ماضی میں استعمال ہونے والی نادر و نایاب اشیا کا مطالعہ بھی کرتے تھے۔اس میوزیم کو اس وقت وکٹوریہ میوزیم کا نام دیا گیا تھا، جبکہ لائبریری جنرل لائبریری کے نام سے مشہور تھی پھر اچانک اس میوزیم آج کے سپریم کورٹ کراچی کے رجسٹری آفس منتقل کر دیا گیااور یہ کافی عرصے تک یہیں قائم رہی لیکن پھر جب یہاں مزید نوادرات رکھنے کی گنجائش ختم ہو گئی تو پھر ایک وسیع و عریض میوزیم قائم کر نے کے بارے میں سوچا جا نے لگا ۔

اور پھر برنس گارڈن جو کہ قدامت کے اعتبار سے کراچی کا پہلا باغ تھا، کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا اور باغ کے اندر قومی عجائب گھر قائم کرنے کی منظور ی بھی دے دی گئی۔ جس کے بعد تیزی سے اس کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور جلد ہی ایک 5 منزلہ دیدہ زیب عما رت تعمیر ہو گئی۔اس کے بعد وکٹوریہ میوزیم کے نوادرات جو کہ مختلف وقتوں میں کبھی ڈی جے کا لج اور کبھی سپریم کورٹ کے رجسٹری آفس اور دیگر عمارتوں میں رکھے گئے تھے، سے نوادرات کو اکھٹا کرکے نیشنل میوزیم کراچی کے اندر منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہاں 2 یا 3 گیلریاں شروع کی گئیں جن میں قرآنک گیلری ، گندھار،موہن جودڑو،زمانہ قبل از تاریخ ،تحریک پاکستان سمیت مختلف گیلریاں موجود ہیںجن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتارہا اور گیلریوں کی تعداد 12کو پہنچ گئی اور جس میں مزید اضا فے کے لئے 4اضافی گیلریوں کی تعمیر شامل ہے اس وقت ان 12گیلریوں میںزمانہ ماں قبل از تاریخ سے لے کر تحریک پاکستان گیلری بھی شامل ہے اور یہاں چاند کے پتھر کے علاوہ دیڑھ لا کھ سے زائد نادر و نا یاب قیمتی نوادرات جن کی مالیت انشورنس کمپنیاں ماضی میں 43ارب روپے سے زائد بنا چکی ہیںموجود ہیں لیکن ان میں قرآنک گیلری اور مخطوطات گیلری کوان تمام گیلریوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے کیو نکہ یہاں قرآن قریم کے ہاتھوں سے لکھے گئے نسخوں سمیت عبرانی و دیگر زبانوں میں پہلی صدی سے لے کر پانچویں صدی تک کے قرآن مجید محفوظ ہے جبکہ مخطوطات گیلری میں مختلف عہد کے بادشاہوں ،شہنشاہوں کے فرمان سے لے کر تحریک پاکستان کی جدو جہد کے حوالے سے لکھے جا نے والے اہم خطوط بھی شامل ہیں۔

قومی عجا ئب گھرکراچی جو کہ قیام پاکستان کے بعد وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کا حصہ تھی اور اس کے انتظا مات یہی محکمہ سنبھا لتا تھا 2011میں 18ویں تر میم کے آنے کے بعد اسے سندھ کا حصہ قرار دے دیا گیا تھا جس کے بعد اس وقت سے لے کر ماہ جنوری تک یہ سندھ کے زیر انتظام چلا گیا تھا مگر 17جنوری 2019کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے ریٹائر منٹ شروع ہو نے سے ایک روز قبل اسے پھر سے وفاق کے زیر انتظام کر دیا ہے جس کے بعد صوبائی حکو مت نے وفاق کو اس کے اختیا رات واپس لوٹا دئے ہیں اور اس کے تمام تر انتظا مات ایک بار پھر محکمہ آثار قدیمہ نے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر قومی ورثا شفقت محمودنے قومی عجا ئب گھر کراچی کو جدید خطوط سے ہم آہنگ کر نے کے لئے فلم میکر شر مین عبید چنا ئے کی سر برا ہی میں ایک 13رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو کہ میوزیم کو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطا بق ڈھالے گی ۔

(67 بار دیکھا گیا)

تبصرے