Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 15  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حکومت کو اپوزیشن تحریک سے خطرہ نہیں

ویب ڈیسک پیر 03 جون 2019
حکومت کو اپوزیشن تحریک سے خطرہ نہیں

اسلام آباد … ٹاپ سول انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک سے کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آتا ،لیکن حکومت کو اپوزیشن سے رابطے رکھنے والے اپنے اتحادیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اعلیٰ حکومتی ذرائع نے اپوزیشن کی جانب سے عید کے بعد شروع کی جانے والی تحریک کے حوالے سے ٹاپ سول انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رپورٹ میں اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کے حوالے سے حکومتی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے بارے میں لکھا ہے جن کے صدر اختر مینگل نے اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں شرکت کی جو کہ معنی خیز ہے۔

حکومت کی ایک اور اتحادی متحدہ قومی مومنٹ(پاکستان)بھی حکومت پر بڑھتے دبائو کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے بعض مطالبات کیلئے ازسر نو بات کر سکتی ہے اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں حکومت مخالف لائن لے سکتی ہے ، اسکے ساتھ ہی حکومت کو اپنے دیگر اتحایوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عید کے بعد اپوزیشن کی جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے اکٹھا ہو رہی ہیں، جن میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام(ف)،پختوانخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ن لیگ کی قیادت اور کارکن حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے زیادہ متحرک نہیں پائے جاتے ،سابق حکمران جماعت کے اندر نواز شریف اور شہاز شریف گروپ مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کی جانب سے ایک ہونے کا تاثر دینے کے باوجود ورکرز کو قائل نہیں کر سکے ،جسکی بڑی مثال 28مئی کو پارٹی آفس میں کمزور پاور شو تھا۔

پیپلز پارٹی سندھ میں کچھ نظر آنیوالے مجمع کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے ،وفاقی دارالحکومت میں مجمع اکٹھا کرنا اپوزیشن جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیلئے مشکل نظر آتا ہے ،لیکن پیپلز پارٹی سندھ سے اپنے ورکر ٹرانسپورٹ کر سکتی ہے اور خیبر پختوانخوا سے بھی اپنے ورکر لانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

ن لیگ وسطی پنجاب سے اپنے کچھ ورکر لانے میں کامیاب ہوسکتی ہے لیکن کوئی بڑا شو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اپوزیشن کے ممکنہ حکومت مخالف اتحاد میں صرف جمعیت علمائے اسلام(ف) تحریک شروع کرنے کی صورت میں حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے جو خیبر پختوانخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں قائم اپنے مدرسوں سے طلبہ کی بڑی تعداد کو وفاقی دارلحکومت میں اکٹھا ہونے کی کال دے سکتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا میں متحرک سپورٹ رکھتی ہے اوراپوزیشن کے اسلام آباد کو بیس کیمپ بنانے کی صورت میں اس سپورٹ کا استعمال کر سکتی ہے۔ دریں اثنا عیدالفطر کے بعد بڑی اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک کا روڈ میپ وضع کرنے پر متفق ہوگئیں، مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی حتمی رائے مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کے میزبان مولانا فضل الرحمن کو مل گئی، مسلم لیگ (ن) مل کر احتجاجی تحریک چلانے پر آمادہ ہے، سربراہ جے یو آئی کو قیادت کا پیغام دیدیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مجوزہ اے پی سی کے میزبان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا، سڑکوں پر حکومت مخالف احتجاج کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی طرف سے یہ رابطہ حکومت مخالف تحریک کے روڈ میپ پر اعتماد میں لینے کیلئے کیا گیا۔ مسلم لیگ ن احتجاجی تحریک کے حوالے سے بالکل دوٹوک اور واضح موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی کرادی گئی ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ عیدالفطر کے فوری بعدمجوزہ اے پی سی کے ایجنڈے کی تیاری کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا محدود مشاورتی اجلاس ہوگا، ایجنڈا تیار کیے جانے کے بعد اے پی سی کے شیڈول کا اعلان کردیا جائے گا۔ حال ہی میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرنے پر بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی بھی اے پی سی میں شرکت کا قوی امکان ہے۔

دریں اثنا میڈیاسے گفتگومیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت اور غریب کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پانچ سالوں کے دوران جتنے قرضے لیے۔ عمران خان نے ابتدائی آٹھ ماہ میں اس کے نصف قرضے لے کر ریکارڈ قائم کر دیا۔

عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کے پاس نہ تو کوئی ویڑن ہے اور نہ ہی کو ئی اہل ٹیم ہے۔ سابق وزرائے اعظم کے نام ای سی ایل میں ڈالے جا رہے ہیں۔ نواز شریف کو بد ترین سیاسی انتقام کانشانہ بنایاجارہا ہے۔

(546 بار دیکھا گیا)

تبصرے