Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 16 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سر کلر ریلوے غریبوں کی خوشحالی یا بربادی؟

تحریر:مختار احمد بدھ 29 مئی 2019
سر کلر ریلوے غریبوں کی خوشحالی یا بربادی؟

کسی بھی ملک یا شہر کی ترقی اس کے ذرائع نقل وحمل کی ترقی سے مر بوط ہوتی ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ جب انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے اس جانب تو جہ دیتے ہو ئے مٹی ،ریت اورپتھر کی سڑکوں کو 1851میں بندر روڈ کے علاقے سے سڑکوں کو پختہ بنا نے کا آغاز کیا اور پھر ان پر گاڑیاں چلا ئیں تا کہ لوگوں کو سفری سہو لت مہیا ہو سکے اور پھر لوگوں کو مزید سہو لیات مہیا کر نے کے لئے 1861میں کراچی چھا ئو نی اسٹیشن جسے آج کینٹ اسٹیشن کہا جا تا ہے سے کراچی تا کوٹری تک ٹرین چلا نے کا آغاز کیا جبکہ شہر کے اندر لوگوں کو سفری سہو لیات بہم پہنچا نے کے لئے 1885سے ٹرا م چلا نے کا آغاز کیا گیا اور جب پاکستان بن گیا تو ایوب خان کے دور حکو مت میں جنرل اعظم خان نے بھا رت سے ہجرت کر کے آنے والے مہا جرین جنہیں لانڈھی ،کورنگی کے علا قوں میں بسا یا گیا تھا کے لئے سر کلر ٹرین چلا نے کا آغاز کیا گیا جس کے تحت کراچی سٹی پلیٹ فارم نمبر 5,6کراچی پورٹریٹ ،وزیر مینشن ،لیاری ،سائٹ کواورنگی ،ناظم آباد ،لیاقت آباد ،گیلا نی ،اردو کا لج ،ڈرگ روڈ ،لانڈھی ،ملیرمیں قائم لگ بھگ 24اسٹیشنوں سے لا کھوں لوگ صرف 25پیسے میں 43.2کلو میٹر تک کا سفر طے کیا کر تے تھے

جسے 1999میں خسارے کا بہا نہ بنا کر اچا نک بند کر دیا گیا تھا جسے ایک بار پھر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری آفس میں دو رکنی بینچ نے بحال کر نے کا حکم دے ڈالا مگر اس حکم نا مے میںماضی میں عدالت سے ہی ہو نے والے اس فیصلے جس کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ سر کلر ٹرین کی راہ میں رکاوٹ تجاوزات جو کہ گھروں ،دکانوں کی صورت میں موجود ہیں کو برقرار رکھتے ہو ئے یہ ہدا یت جا ری کی کہ 15روز کے اندر سر کلر ٹرین کے ٹریکس اور اسٹیشنوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے ایک ماہ کے اندر سر کلر ٹرین کو بھی بحا ل کیاجا ئے اور شاید پاکستان ریلوے پہلے سے ہی اس حکم کی منتظر تھی لہذا اس نے بنا سوچے سمجھے رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور اس ماہ مبا رک میں رحم ،کرم کے سبق کو فراموش کر تے ہو ئے فوری طور پر اردو سائنس کا لج کے عقب میں واقع وہ ٹریکس جو کہ کراچی یو نیورسٹی تک جا تے تھے بغیر کسی نوٹس کے بھاری مشینری اور پو لیس کی بھا ری نفری اور شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر تجاوزات پر دھاوا بول دیا اور وہ مکین جو عرصہ دراز سے یہاں آباد تھے اور انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی سے اپنے گھر تعمیر کئے تھے کو مسمار کر ڈالا جس کے پیش نظر روزے دار خواتین اور بچے بے گھر ہو نے کے بعد سخت دھوپ میں کھلے آسمان تلے آگئے ہر طرف آہ و بکا مچی ہو ئی تھی مگر شاید ان کی سننے والا کو ئی بھی نہیں تھا

لہٰذا سینکڑوں کی تعداد میں بنے کچے پکے گھروندے مسمار ہو گئے اور لوگوں کے پاس اس اقدام کیخلاف سینہ کو بی کے کچھ بھی نہ بچا ان روزے داروں نے اس ظالما نہ اقدام کو بحکم اللہ سمجھ کر سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا اور جیسے ہی افطاری کے لئے سائرن کی گونج اور اذانوں کی آواز آئی انہوں نے دھنسی ہو ئی پٹریوں پربیٹھ کر کھجور اور پا نی سے افطار کیا مگر اس کے با وجود کسی کو بھی ان کا خیال نہیں آیا اور یہاں تک کے انہیں آئندہ تجاوزات قائم کر نے ،جھگیاں قائم کر نے سے رو کنے کے لئے پو لیس کی پوری موبائل ان پر مسلط کردی گئی سیاسی جماعتیں جن کا شیوہ ہو تا تھا کہ وہ ایسے موقعے کی تاک میں رہتی ہیں کہ کو ئی ایسا موقع آئے اور وہ اپنی سیاسی دکانداری چمکا ئیں مگر شو مئی قسمت اس اقدام پر کسی نے آواز بلند کر نے کی ضرورت ہی پیش نہیں کی جس کے پیش نظر ریلوے حکام اور شہری انتظا میہ کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے عدالتی حکم کی بجاآوری کے لئے دوسرے اور تیسرے دن عراق کے سابق سفیر حضرت عبدالقادر گیلا نی ؒ کے نام سے بنا ئے گئے گیلا نی اسٹیشن سے اس غریب آبادجہاں پہلے ہی فر نیچر مارکیٹ کو مسمار کیا جا چکا تھا تک دوبارہ آپریشن کر تے ہو ئے سینکڑوں کی تعداد میں تجاوزات کے نام پر گھروں کو اجاڑ دیا اور یہ آپریشن جو کہ مسلسل 11روز سے جاری ہے

موسی کا لو نی سمیت تمام غریب بستیوں پر بلڈوزر چلا دئے گئے حا لا نکہ دنیا بھر میں جب ریلوے کا نظام آیا تو اس کے قوانین بھی بنے اور اسی قانون کے تحت ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان 100فٹ کا فاصلہ مقرر کیا گیا اور اسی عالمی قانون کے تحت بر صغیر میں 1861میں کراچی سے کوٹری تک ٹرین چلا ئی گئی تو اس پر سختی سے عملدر آمدکیا جا تا رہا اور ملک کے بیشتر علاقوں میں اس عالمی قانون کی پا بندی برقرار رکھی گئی مگر جب 14اگست 1947کو ملک وجود میں آیا تو کچھ عرصے بعد ہی ریلوے کی کرپٹ انتظامیہ نے اس قانون کی پاسداری چھوڑ دی جس کے سبب آبادیاں ریلوے ٹریکس پر چڑھ دوڑیں اور ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلے کم ہو گئے اس سلسلے میں شہر کراچی میں بھی اس قانون کی مکمل طور پر پاسداری نہیں کی جا سکی جس کے سبب ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلہ ختم ہو کر رہ گیا اور جب عدالت کے حکم کے تحت شہر کراچی جہاں جنرل ایوب خان کے دور میں جنرل اعظم خان نے شہر میں بسا ئے جا نے والے مہا جرین بلخصوص محنت کشوں کو سفری سہو لت مہیا کر نے کے لئے جو کراچی سر کلر ٹرین چلا ئی گئی تھی اور جو کہ 1969سے لے کر 1999تک چلتی رہی جسے بعد میں خسارے کی بنیاد بنا کر بند کر دیا گیا تھا کو دوبارہ بحال کر نے کا حکم جاری کیا تو ریلوے نے جب اس حوالے سے ریلوے اسٹیشن اور ٹریکس جو کہ 43.2کلو میٹر پر محیط ہے کا سروے کیا تو 37مقامات پر ریلوے ٹریکس اور آبادی میں مقرر کردہ قانون جو کہ 100فٹ تھا ختم ہو کر رہ گیا تھا اور کوکا کولا کمپنی اور ٹریکس کے درمیا کا فاصلہ 100فٹ کے بجا ئے صرف 20فٹ رہ گیا ہے

یہ بھی پڑھیں : کراچی کی سڑکوں پر موت کا کھیل شروع

جبکہ ہنڈا موٹرز ٹریکس سے 5فٹ ،گودام 20،سیمنس کمپنی 15 ،سند باد پلے لینڈ35 ،مہک گارڈن 60 ،نیشنل بینک اسٹیٹ لائف 60 ،سٹی ہا ئی اسکول 30،سپر پلازہ 60،ونڈر ٹائور40،پروگریسیو پلازہ 60،بیو منٹ 60،لاکھا نی پرائڈ 40،پاک کیمیکل 25،آرمی سپلائی ڈپو 60،عظمی اپارٹمنٹ 60،الحبیب پرائڈ 60،عوامی مر کز 43،نیشنل موٹرز 30،منیلا شاپنگ سینٹر 40فٹ رہ گیا ہے اور ان 37مقامات میں سے تمام عمارتیں، فیکٹریاںعالمی قوانین کے بر خلاف ریلوے ٹریکس سے انتہا ئی نزدیک ہو چکی ہیں مگر اس کے با وجود پاکستان ریلوے کی جا نب سے ان ملٹی نیشنل اداروں اور پلازوں کیخلاف اب تک کسی قسم کی کو ئی کاروائی عمل میں نہ لا ئی گئی اور صرف اور صرف غریب آبادیوں کو صرف اس لئے تختہ مشق بنا دیا گیا کہ ان کے پاس اللہ کے آسرے کے علاوہ کو ئی دوسرا سہارا نہیں اب جہاں تک آپریشن اور غریبوں کو بے گھر کر کے سر کلر ریلوے چلا نے کی بات ہے تو اگر سر کلر ریلوے کی شہر بھر میں بحا لی کی بات کی جا ئے تو وہ ممکن ہی نہیں کیو نکہ بیشتر ٹریکس کے نزدیک بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم ہی جبکہ کئی جگہوں جن میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب ماضی میں لیاقت آباد سے حیدری کو ملا نے کے لئے 2پل ہوا کر تے تھے انہیں مکمل طور پر ختم کر کے اس کے عین اوپرسے گرین لا ئن کے پل کو گزارا گیا ہے جس کے تحت اب یا تو اس جگہ کو پھر سے بحال کر نے کے لئے گرین لا ئن کے منصوبے کو ختم کر نا پڑے گا یا پھر سر کلر ریلوے کو گزارنے کے لئے انڈر پاس بنا نا بڑے گا جس کے لئے اربوں کے اخرا جات صرف ہو نگے جس کے امکا نات کم ہیں مگر اس کے با وجود ریلوے حکام اس بات کے بلند و با نگ دعوے کر رہے کہ وہ سر کلر ٹرین کو جلد بحال کر دیں گے اور اسی قسم کے بلند و با نگ دعوے ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد جنہیں ریلوے حکام نے ایک ٹریک پر ریلوے کی ٹرا لی پربٹھا کر سیر کرادی ہے بھی کر رہے ہیں غالبا یہ وہی وفاقی وزیر ریلوے ہیں جنہوں نے چند ماہ قبل کراچی تا دھابیجی ایک ٹرین دھا بیجی ایکسپریس کے نام سے شروع کی تھی جو کہ چند ہی ماہ میں فیل ہو گئی تھی اور با لا آخر اسے نقصان کے سبب بند کر نا پڑ گیا اس حوالے سے ما ہرین کا کہنا بھی یہ ہے کہ سر کلر ریلوے کی بحا لی کو ئی آسان کام نہیں ہے اگر پاکستان ریلوے اسے بحال کر نے میں بھی کامیاب ہو گئی تو کیو نکہ اس شہر میں اب ٹرانسپورٹ کی بھر مار ہے جو کہ کم کرا یوں پر انتہا ئی تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے تو وہ بھلا اس سر کلر ریلو ے کے ذریعے کیوں سفر کریں گے جو کہ ان کے منٹوں کے سفر کو گھنٹوں میں طے کرے گی

اور اگر کچھ دیر کے لئے اس بات کو مان بھی لیا جا ئے کہ پاکستان ریلوے اس سر کلر ٹرین کو چلا نے میں کامیاب ہو جا تی ہے تو کیا اس کے پاس ماضی کی طرح اتنے وسائل ہیں کہ وہ ہر ایک گھنٹے پرسر کلر ٹرین چلا سکے ماہرین اس بات پر بھی شاقی ہیں کہ ابھی صرف تجاوزات گرا ئے گئے ہیں مگر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سر کلر ٹرین چلا نے کی ذمہ داری سندھ حکو مت پر ڈال رہی ہے اورصوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سر کلر ٹرین چلا نے کے لئے وفاق کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے ان حالات میں جب وفاق اور سندھ ابھی تک اس بات کو فیصلہ ہی نہیں کر پا ئے کہ سر کلر ٹرین کونسی سی حکو مت آپریٹ کرے گی توبا لا آخر سر کلر کی بحا لی پر کون یقین کر سکتا ہے اس حوالے سے ریلوے ور کر یو نین کے مر کزی چیئر مین منظور احمد رضی جنہوں نے پاکستان ریلوے کی نوکری میں پہلی سر کلر ٹرین کے 25پیسے کا پہلا ٹکٹ فروخت کیا تھا بھی سر کلر ٹرین کی بحالی سے شاقی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یہ غریب بستیاں قائم تھیں اور ان کے درمیا ن سے نا صرف ملک کے اندر جا نے والی ٹرینیں بلکہ سر کلر ٹرینیں چلا کر تی تھیں جس میں کبھی کسی قسم کی پریشا نی کا سامنا نہیں کر نا پڑا لہذا سر کلر ٹرین چلا نے کی آڑ لے کر غریبوں جو کہ 50 سالوں سے ان ٹریکس کے ارد گرد آباد ہیں کو ان کے گھروں سے بے دخل ہو نے سے روکا جا ئے انہوں نے کہا کہ اگر ریلوے ٹریکس اور آبادی کے درمیان فاصلے کی بات کی جا ئے تو اس سلسلے میں عالمی قانون کے مطا بق اس کا فاصلہ کم از کم 100 فٹ ہے لہذا صرف ان غریبوں کو نہیں بلکہ سر ما یہ داروں کی کوٹھیوں ،فلیٹوں اورملٹی نیشنل کمپنیز کو بھی مسمار کیا جا ئے ورنہ یہ غریبوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہو گی انہوں نے کہا کہ سر کلر ٹرین کا منصوبہ محنت کشوں کو سفری سہو لت مہیا کر نے کا منصوبہ ہے جس سے ناصرف محنت مزدوروں کو سستی سواری ملے گی بلکہ سڑکوں سے ٹریفک کا اژدھام ختم ہو گا لہذا اس منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے جبکہ سول سوسائٹی جنہوں نے اس ظالما نہ اقدام کیخلاف ایک ایکشن کمیٹی بنا رکھی ہے نے بھی سر کلر ریلوے کی بحا لی پر شکوک ظا ہر کر تے ہو ئے فوری طور پر تجاوزات کے نام پر غریب لوگوں کے گھروں کو مسمار کر نے کی نا صرف مذ مت کی ہے بلکہ تحریک چلا نے اور اس اقدام کیخلاف مذاحمت کی دھمکی بھی دے دی ہے ۔

(143 بار دیکھا گیا)

تبصرے