Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 24 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

وکیل کا ” کمانڈو ایکشن“

قومی نیوز جمعه 17 مئی 2019
وکیل کا ” کمانڈو ایکشن“

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ڈاکوﺅں نے شہر کراچی پر ہلہ بول دیا ‘ لانڈھی ‘ کورنگی‘ ڈاکوﺅں کا خاص ٹارگٹ ہیں ان علاقوں میں یومیہ 40 سے50 اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں، کورنگی میں ڈاکوﺅںنے ایک ماہ کے دوران 4 شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیاہے

آﺅٹ آف کنٹرول ڈاکوﺅںسے نمٹنے کیلئے عوام نے آستینیں چڑھائیں‘ کورنگی میں عوام نے ڈاکوﺅں کو پکڑ کر زندہ جلانے کی کوشش کی اور تشدد کرکے ڈاکوﺅں کو ٹھکانے لگایا تو ڈاکوﺅں کے آگے بے بس پولیس نے ڈاکوﺅں سے مقابلہ کرنے والی عوام کے خلاف آپریشن کردیا

درجنو ں افراد کو گرفتار کیااورپھر ان کی رہائی کیلئے تھانے کے باہر دکان سج گئی ‘ ڈاکو ﺅں پر عوام کے حملوںکے بعد ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوگئی تھی‘ لیکن جب ڈاکوﺅں کے بچاﺅ کیلئے پولیس میدان میں آئی تو ایک بار پھر ڈکیتی کی وارداتیں زور وشور سے شروع ہوگئی‘ کورنگی میں تو لوڈ شیڈنگ ہوتے ہی ڈاکوگلی ‘محلوں میں داخل ہوجاتے ہیں‘ جینا محال کیا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : فرزانہ بن گئی نشانہ

رمضان المبارک سے2 دن قبل اتوار کی صبح 10 بجے لانڈھی نمبر 2 سیکٹر ون سی میں موٹر سائیکل پر سوار 2 مسلح ملزمان نورانی ملک شاپ پر آئے ‘ جس جگہ دکان تھی‘ وہ نیشنل چوک کے نام سے مشہو ر تھا‘ دکاندار عمران سلیم لوگوں کو دودھ دینے میں مشغول تھا‘ وہ سمجھا کہ موٹر سائیکل سوار نوجوان دودھ لینے آئے ہوں گے۔

موٹر سائیکل سے اترنے والا ایک نوجوان اس کے قریب آئی اور اس پر پستول تان کر دکان میں کاﺅنٹر سے تمام کیش اورموبائل فون لینے کے بعد گاہکوں سے لوٹ مار کی‘ اس دوران دکان کے سامنے کار آکررکی اور دکاندار عمران کا پڑوسی سید عثمان الحسن ایڈووکیٹ دودھ لینے کار سے اتراتو ڈاکوﺅںنے عثمان الحسن کو بھی یرغمال بنانے کی کوشش کی ‘ فائرنگ بھی کی۔

عثمان الحسن تیزی سے کا ر کی طرف مڑا اور کار سے اپنا لائسنس یافتہ پستول نکال کر ڈاکوﺅں پر فائرنگ کردی ‘ موٹر سائیکل سوار ڈاکو کا ساتھی زخمی حالت میں بھا گ گیا‘ لیکن دوسرے ڈاکو کو عثمان الحسن ایڈووکیٹ نے گردن سے دبوچ لیا‘ اس دوران پولیس بھی پہنچ گئی‘ پولیس نے زخمی ڈاکو کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا‘ جہاں وہ ہلاک ہوگیا

دکاندارعمران سلیم نے پولیس کو بتایا کہ میں ایریا C-1 لانڈھی نمبر 2 چوڑے روڈ پر نورانی ملک شاپ کے نام سے دکان پر موجود تھاکہ بوقت 10:00 بجے دن ایک موٹرسائیکل پر سوار 2نو جوان نوعمر لڑکے آئے اور میری دکان کے پاس موٹر سائیکل کھڑی کرکے دونوں میرے پاس آئے ‘ دونوں کے پاس اسلحہ تھا‘ ایک نے مجھ سے نقد رقم 800 روپے اور دوسر ے نے دکان کے اندر رکھے ہوئے گلے سے نقد رقم 1500 روپے نکال لئے

یہ بھی پڑھیں : رنگیلا ماموں بھانجی مار ڈالی

اسی دوران میر ی دکان پر میرا محلہ دار عثمان الحسن دودھ لینے آیا تو اس نے کار دکان کے سامنے کھڑی کی جیسے وہ کار سے باہر نکلا تو دونوں ڈاکو ا س کولوٹنے کیلئے اس کی طرف آئے تو عثمان بھائی بھاگا تو ڈاکوﺅںنے اس پر فائرنگ کردی‘ عثمان نے بھاگ کر اپنی کار سے اپنی پستول نکال کر ڈاکوﺅں پر جوابی فائرنگ کی تو ایک ڈاکو کی دائیں ران میں گولی لگی جس سے وہ زخمی ہوکر گرپڑا‘ جبکہ اس کا دوسرا ساتھی فائرنگ کرتا ہوا موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا‘ جبکہ بھاگنے والا ڈاکو بھی زخمی تھا‘ اسی دوران عثمان نے پولیس کو اطلاع دی ‘ پولیس موبائل بھی موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس افسر زخمی ڈاکو کے دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک پستول 30 بور، میگزین ‘ 3 راﺅنڈ ایک راﺅنڈ چیمبر برآمد ہوا‘ جس کوپولیس نے قبضہ میں لے لیا‘ پولیس افسر نے زخمی ڈاکو سے نام دریافت کیاتو اس نے اپنا نام انور ولد غلام شبیر اور اپنے بھاگ جانے والے فرار ساتھی کانام سرفراز ولد غلام شبیر بتایا مزید بتایا کہ وہ میرا بھائی ہے

پکڑے ہوئے زخمی ڈاکو کی جامہ تلاشی میرے اور عثمان الحسن کے سامنے لی تو اس کی پہنی ہوئی پینٹ کی دائیں جیب سے ایک پرس سیاہ رنگ کا جس میں موٹر سائیکل نمبرKGS-150 بائیونک کارننگ پیج و دیگر کاغذات اور پینٹ کی دوسری جیب سے لوٹی ہوئی رقم مبلغ 800/= روپے برآمد ہوئے جو کہ ہمارے سامنے پولیس افسر نے اپنے قبضہ میںلئے ہمارے سامنے پولیس افسر نے لکھا پڑھی کی ‘ جس پر میں نے عثمان الحسن نے دستخط کئے‘ اس کے بعد زخمی ڈاکو کو چھیپا ایمبولینس M-74 کے ذریعے موقع سے موبائل سرکاری HC نصیر احمد 9317 کے ذریعے علاج ومعالجے کیلئے جناح اسپتال روانہ کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت انور ولد شیر کے نام سے کی گئی‘ ڈاکو کو 3 گولیاں لگیں تھی‘ ایس ایچ او سعادت بٹ نے قومی اخبارکوبتایا کہ ہمیں جناح اسپتال میں ایک زخمی شخص کی آمد کی اطلاع ملی‘ پولیس اسپتال پہنچی تو شہریوں نے زخمی نوجوان کو مارے جانے والے ڈاکوکے ساتھی کی حیثیت سے شناخت کرلیا‘ زخمی ڈاکو سرفراز مارے جانے والے ڈاکو کا سگا بھائی تھا‘ دونوں ڈاکو بھائی لانڈھی شیر پاﺅ کالونی کے رہائشی تھے۔ ملزمان سے اسلحہ لوٹی ہوئی رقم برآمد ہوئی۔
ڈاکوﺅں کے والد شیر احمد کے مطابق اس کا ایک بیٹا حال ہی میں جیل سے رہا ہوکر آیا تھا‘ ڈکیت بردار گروپ نے لانڈھی میں لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا تھا‘ اس کے خلاف 5 مقدمات درج ہیں

ڈاکوﺅں سے بہادری سے مقابلہ کرکے ایک ڈاکو کو جہنم رسید کرنے والے ہائیکورٹ کے وکیل عثمان الحسن ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ ضلع کورنگی میں جسٹس آف پیس ہیں جبکہ کنزیومر پروٹیکشن کمپنی کے رکن بھی ہیں‘ علاقے میں لوٹ مار کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث گاڑی میں لائسنس والا پستول رکھا ہوا تھا

یہ بھی پڑھیں : جلاد باپ

انہوںنے بتایا کہ میرا ارادہ ڈاکو کو زندہ پکڑنے کا تھا‘ لیکن ڈاکوﺅں نے ان پر براہ راست 7 گولیاں فائر کیں ‘ جس کے جواب میں گولیاں چلائیں‘ ہلاک ہونے والے ڈاکو کو متعدد دکانداروں اور مکینوں نے شناخت کیاہے جس نے علاقے میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا

عثما ن الحسن ایڈ ووکیٹ نے بتایا کہ 2016 ءمیں بھی اسی طرح لانڈھی بابر مارکیٹ میں 2 ڈاکوﺅں سے مقابلہ ہوا‘ جن کو میں نے پکڑا اور ان کے خلاف عدالت میں کیس بھی لڑا ‘ انہیں عدالت نے سزا بھی دی ‘ عثمان الحسن ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان کی گاڑی میں قرآن شریف ہوتاہے اور وہ آیت الکرسی کا ورد بھی کرتے ہیں‘ ا س لیے اللہ نے مجھے ڈاکوﺅں کی گولیوں سے محفوظ رکھا

انہوںنے بتایا کہ ڈکیت بھائیوں نے واردات کے دوران 2 شہریوں کو قتل کیا تھااور 5 بار جیل جاچکے تھے‘ انہوںنے بتایا کہ جس دکان پر واردات ہوئی وہاں سے میرا گھر 60 قدم کے فاصلے پر ہے‘ جبکہ ڈاکو 8 کلومیٹر دور شیر پاﺅ کالونی سے واردات کیلئے آئے۔

انہوںنے بتایا کہ اس واردات کے بعد انہوںنے لانڈھی تھانے میں درخواست دی ہے کہ ڈاکوﺅں کے خلاف ایک ایف آئی آر ان کی مدعیت میں بھی درج کی جانی چاہیے‘ کیونکہ ڈاکوﺅں نے ان پر جان لیوا حملہ کیا تھا۔

ڈاکو بردار گروپ کے مارے جانے کے بعد علاقے میں ڈکیتی کی وارداتو ں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ‘ ایس ایچ او لانڈھی سعاد ت بٹ نے بھی عثمان الحسن ایڈووکیٹ کی بہادری کی تعریف کی‘ ایس ایچ او نے عثمان الحسن ایڈووکیٹ کو تعریفی اسناد کیلئے کراچی پولیس چیف اور آئی جی سندھ سے بھی سفارش کی ہے۔

(303 بار دیکھا گیا)

تبصرے