Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 20 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آئی ایم ایف نے شکنجہ کس دیا

قومی نیوز هفته 11 مئی 2019
آئی ایم ایف نے شکنجہ کس دیا

عوام پر آٹھ سوارب کے نئے ٹیکسوں کا بوجھ اور بجلی، گیس پر سبسڈی ختماور نرخوں میں اضافے کی شرائط پیش کردی گئیں۔۔۔۔پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تین سالہ پروگرام پر معاہدہ ہوگیا ہے۔۔۔۔ پاکستان آئی ایم ایف سے ساڑھے چھے ارب ڈالر سے زائد قرض حاصل کرے گا۔۔۔۔۔۔ ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے چھے سو ارب سے زائد کے ٹیکس لگیں گے۔۔۔۔۔ بجلی اور گیس مہنگی ہوگی۔۔۔ ذرائع کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا جائے گا۔۔۔۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔۔۔۔ ایکسچینج ریٹ کو مراحلہ وار فلاوٹینگ کی طرف لیجایا جائے گا۔۔۔۔ جبکہ بجٹ خسارہ کم کیا جائے گا۔جس کے نتیجے میں روپے کی قدر مزید گرسکتی ہے اور مہنگائی کا طوفان آسکتا ہیملک میں مہنگائی سے عوام سخت پریشان ہیں،حکومت نے قرض حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی مزید شرائط تسلیم کرلی ہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے سب کچھ آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دے دیا ہیجبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ موجودہ حالات سابق حکمرانوں کا کیا دھرا ہے،ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی نے کہاہے کہ ملک میں اس وقت بحران کی کیفیت ہے، وزیر اعظم ایوان بالا میں اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتے،آئی ایم ایف کے افسران کے ساتھ تبدیلی سرکار اب بھی بات چیت کر رہی ہے،ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالر ایف بی آر میں اصلاحات کے لئے فنڈ دئیے،کراچی سے خیبر تک چولہا نہیں جل رہا،روحانیت کو سائنس میں بدلنا ہمارا مسئلہ نہیں، غریب کا مسئلہ مہنگائی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ ملک میں اس وقت بحران کی کیفیت ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں معاشی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ایوان بالا میں وزیراعظم اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہاکہ ایوان بالا کے اجلاس میں صرف ایک بار آئے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف اب ملک کو چلائیگا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے افسران کے ساتھ تبدیلی سرکار اب بھی بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات بڑھائی گیی مہنگائی کا طوفان برپا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ورلڈ بینک نے 400 ملین ڈالر ایف بی آر میں اصلاحات کے لئے فنڈ دئیے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کراچی سے خیبر تک چولہا نہیں جل رہا۔انہوں نے کہاکہ پرانا پاکستان آپ کو بتا دیگا کہ مہنگائی کیسے کم کی جاتی ہے؟۔انہوں نے کہاکہ آپ این ایف سی میں کٹوتی کرینگے اور 18 ویں ترمیم تبدیل کریں گے آپ سے تو ملک نہیں چلایا جا رہا۔مولانا بخش چانڈیو نے کہاکہ دنیا میں قوموں پر مشکل وقت آتے ہیں لیکن قومیں مل کر بحرانوں سے ختم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سینیٹ سے آپ بھاگتے پھیرتے ہیں،سینیٹ تمام صوبوں کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ روحانیت کو سائنس میں بدلنا ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ غریب کا مسئلہ مہنگائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ملک کو سنجیدگی سے نہیں چلا رہے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کو اپنے مسائل دیر سے سمجھ آتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ تحریک انصاف کہتی رہی ہے ملک میں باہر سے لوگ آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دیکھ لیں آئی ایم ایف کے لوگ باہر سے لائے جا رہے ہیں عمران خان کا ایک اور وعدہ پورا ہوا۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ:IMF) ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے بہت سے یورپی ممالک کا توازن ادائیگی کا خسارہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے ممالک کی مدد کرنے کے لیے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدہ کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لیے دسمبر 1945 میں قائم ہوا۔

یہ بھی پڑھیں :

اس کا مرکزی دفتر امریکہ کے دار الحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس وقت دنیا کے 185 ممالک اس کے رکن ہیں۔ شمالی کوریا، کیوبا اور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔آئی ایم ایف سے جب کوئی ملک قرض مانگنے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے ایک باضابطہ تحریری درخواست اس کے سامنے پیش کرنا ہوتی ہے۔

عام طور پر ایسا اس ملک کے وزیراخزانہ ذاتی طور پر آئی ایم ایف کے دفتر میں جا کر کرتے ہیں۔اس درخواست میں اس قرض کے حصول کی وجہ اور اپنا ماضی کا ریکارڈ بتایا جاتا ہے تاکہ ثابت کیا جائے کہ اس ملک کے لیے یہ قرض لینا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ ماضی میں اس ملک نے قرض لے کر اس کا درست استعمال بھی کیا اور قرض واپس بھی کیا۔آئی ایم ایف اپنے اجلاس میں اس درخواست کا سرسری جائزہ لے کر قرض دینے کی اصولی منظوری دیتا ہے۔ آئی ایم ایف صرف ان ملکوں کو قرض جاری کرتا ہے جو معاشی بحران کا شکار ہوں۔ آئی ایم ایف کی مشن سٹیٹ منٹ کہتی ہے: ’آئی ایم ایف ان ملکوں کی مدد کرتا ہے جو معاشی بحران سے دوچار ہوں تاکہ انھیں معاشی استحکام لانے کے لیے اپنی معاشی پالیسیاں بہتر بنانے کا موقع مل سکے۔جب آئی ایم ایف یہ طے کرتا ہے کہ قرض لینے والے ملک کو اپنے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کرنے چاہییں تو وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ وہ ملک یہ اقدامات ضرور کرے۔

ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف یہ اقدامات کرنیکی حکومت سے تحریری یقین دہانی لیتا ہے۔ انھی کو آئی ایم ایف کی شرائط کہا جا سکتا ہے۔ یہ شرائط اس معاہدے کا حصہ ہوتی ہیں جس کے تحت قرض جاری کیا جاتا ہے۔ اقتصادی ماہرین آئی ایم ایف کو تنگ نظر معاشی پالیسی کا حامل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کے پاس دنیا بھر کے ملکوں کے معاشی بحرانوں کو حل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے۔ اور وہ فارمولا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے اور آئی ایم ایف کی ویب سائیٹ پر موجود بھی ہے۔آئی ایم ایف حکام ہمیشہ برآمدات بڑھانے، شرحِ سود بڑھانے، سبسڈیز ختم کرنے، مقامی کرنسی کی قدر کم کرنے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے گرد آئی ایم ایف کی شرائط گھومتی ہیں اور پاکستان کے لیے بھی اس نوعیت کی شرائط ہوں گی۔بات پر منحصر ہے کہ قرض لینے والا ملک اپنے کوٹے کے مطابق قرض لیتا ہے یا اس سے زیادہ۔ اس وقت پاکستان کا کوٹہ جس حد تک وہ قرض لے سکتا ہے وہ دو سے تین ارب ڈالر تک ہے۔ لیکن کوئی بھی ملک اپنے کوٹے سے زیادہ قرض بھی لے سکتا ہے۔پاکستان کے پاس اپنے کوٹے سے چار سو فیصد سے زائد قرض لینے کی سہولت موجود ہے۔

لیکن کوٹے سے زیادہ قرض لینے میں مسئلہ یہ ہے کہ جوں جوں قرض کی مقدار کوٹے سے بڑھتی چلی جاتی ہے، آئی ایم کی شرائط پر عمل کرنا بھی اتنا ہی ٰضروری ہوتا چلا جاتا ہے۔مثلاً اگر پاکستان اپنے کوٹے کے مطابق دو سے تین ارب ڈالر لیتا ہے تو وہ ان شرائط کو بہت حد تک نظر انداز کر سکتا ہے لیکن اگر اپنے کوٹے کی آخری حد سے بھی زائد قرض لیتا ہے تو ان کے علاوہ بعض نئی شرائط بھی عائد ہوں گی جن پر سو فیصد عمل بھی ضروری ہو جائے گا۔

(734 بار دیکھا گیا)

تبصرے