Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 11 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سالا مار ڈالا

قومی نیوز جمعه 10 مئی 2019
سالا مار ڈالا

مومن آباد کے علاقے سیکٹر 10 ہریانہ کالونی کا رہائشی 15 سالہ جنید 6 بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا اور گھر والوں کا لاڈلا تھا‘ 6 بھائی بہنوں میں جنید کا سب سے بڑا بھائی طارق ہے جس کا ذہنی توازن درست نہیں اور اس کے بعد اس کی4 بڑی بہنیں ہیں اور چھٹا نمبر جنید کا تھا چونکہ جنید کے والد جاوید کی نظر میں بیٹیاں تو اپنے گھر چلی جائیں گی اور اس کا بڑا بیٹا طارق ذہنی معذور ہے جس کے بعد جنید ہی تھا جو ان کی امیدوں کا مرکز تھا اور اسی وجہ سے گھر اور باہر کے کام کی تمام تر ذمہ داری جنید پر ہوا کرتی تھی‘ جنید کے والد جاوید 15 سال کی عمر سے ہی آہستہ آہستہ اس کے کاندھوں پر گھر باہر کے کاموں کی ذمہ داری ڈال رہے تھے تاکہ جنید اپنی عمر کو پہنچتے پہنچتے ایک ذمہ دار نوجوان بن جائے اور والد کے خیال میں وہ اپنی عمر کو پہنچتے پہنچتے باقی 2 بہنوں کی ذمہ داری بھی حسن وبخوبی پورا کردے‘ کیونکہ جنید کی 2 بڑی بہنوں کی شادی ہوچکی تھی اور اس کے بہنوئی نوید احمد اور چھوٹا بہنوئی قیصر تھا جس کے ساتھ جنید اور اس کے گھر والے انتہائی احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔دونوں بہنوئی بھی جنید کے گھر کے قریب ہی رہتے تھے جس کی وجہ سے ان لوگوں کا بھی ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ جنید مقامی اسکول میں نویں جماعت کا ذہین طالب علم تھا‘ جنید کے معمولات میں شامل تھا کہ وہ صبح سویرے جاگتا اور اپنے والد کے ساتھ نماز فجر ادا کرتا اور پھر گھر کے چھوٹے موٹے کام نمٹا کر اسکول جانے کی تیاری کرتا اور پھر اسکول سے واپس آنے کے بعد کچھ دیر آرام کرتا اور شام کو جب علاقے میں لوڈشیڈنگ کے باعث بجلی چلی جاتی تو اوپر چھت میں جاکر جنریٹر اسٹارٹ کرنے کی ذمہ داری بھی جنید کی تھی جسے وہ حسن و بخوبی نبھارہا تھا اور ہریانہ کالونی سیکٹر 10 کا رہائشی 15 سالہ جنید گھر کے فرائض اسی طرح نمٹا رہا تھا جس سے اس کے والد جاوید اور تمام گھر والے مطمئن اور خوش تھے جبکہ اس کے دونوں بہنوئی نوید اور قیصر کا بھی ان کے گھر آنا جانا معمول تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ 11 مارچ 2019ء کی شام جب جنید اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ آپ میرے لئے کھانا گرم کرو میں 5 منٹ میں واپس آتا ہوں جس کے بعد جنید اپنے ہاتھ میں اپنا سام سنگ موبائل فون پکڑے چھلاوے کی طرح دروازے کی طرف بڑھا اور غائب ہوگیا‘ اس کی والدہ اس کو آواز ہی دیتی رہ گئیں کہ تم کھانا کھاکر جائو لیکن اس سے قبل وہ مرکزی دروازہ عبور کرچکا تھا جس کے بعد شام اور پھر رات ہوگئی لیکن جنید ابھی تک لوٹ کر نہیں آیا۔
رات کو جب جنید کے والد جاوید کام سے گھر واپس آئے اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھر میں اندھیرا دیکھا تو جاوید نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ گھر میں اندھیرا کیوں ہے‘ کہا جنید نے جنریٹر نہیں چلایا‘ یا جنریٹر میں کوئی خرابی ہوگئی ہے جس پر جنید کی والدہ نے تمام ماجرا سنایا اور کہا کہ جنید نے پانچ منٹ کا کہا تھا اور اب گھنٹوں گزرنے پر بھی گھر واپس نہیں آیا اور اس کا موبائل فون بھی آف جارہا ہے۔ یہ سن کر جاوید وقتی طور پر پریشان ہوا‘ کیونکہ اس سے پہلے جنید اس طرح کبھی گھر سے غائب نہیں ہوا لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے گیا ہے‘ شاید اس کو ٹھیک کروانے میں دیر ہورہی ہوگی اور اس سوچ کی اثر کو ختم کرنے کے لئے اپنی اہلیہ سے کھانا نکالنے کو کہا اور گھر کے تمام لوگوں کو ساتھ لے کر کھانا کھانے لگا لیکن کھانا کھاتے ہوئے بھی اس کا ذہن مسلسل اس بات کو سوچ رہا تھا کہ جنید کبھی بھی اس طرح گھر سے غائب نہیں رہا اور کبھی اسے کہیں دیر بھی ہورہی ہوتی تو وہ فون کرکے گھر والوں کو ضرور مطلع کرتا تھا‘ لیکن آج اس نے گھر والوں کو دیر ہونے کی اطلاع کیوں نہیں دی جبکہ اس کے پاس اپنا موبائل فون بھی ہے اور اگر اس کا موبائل فون خراب تھا تو وہ کسی دوست کے موبائل فون سے فون کردیتا‘ کھانا کھانے کے دوران جاوید کے ذہن میں بار بار یہ خیال آرہا تھا جس کو وہ ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کررہا تھا‘ اس دوران وہ کھانے سے فارغ ہوکر اُٹھا اور فوری طور پر قریبی رہائش پذیر اپنی چھوٹی بیٹی کے گھر گیا‘ کیونکہ جاوید کا خیال تھا کہ جنید سے اس کے چھوٹے بہنوئی قیصر سے بڑی اچھی دوستی تھی‘ شاید قیصر کو جنید کے بارے میں پتہ ہو کہ وہ کس دوست کے پاس اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے گیا ہے‘ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا اپنی چھوٹی بیٹی کے گھر پہنچا اور قیصر کے بارے میں اپنی بیٹی سے پوچھا کہ قیصر کہاں ہے جس پر جاوید کی بیٹی نے کہا کہ قیصر کا تو کوئی پتہ نہیں‘ کیونکہ وہ شام سے ہی گھر سے کسی کام کا کہہ کر نکلے ہیں اور ان کا موبائل فون بھی گھر پر ہی موجود ہے اور چارج پر لگا ہے‘ اب بیٹی کی بات سن کر جاوید تھوڑا سا پریشان ہوا اور بوجھل قدموں سے اپنے گھر واپس آگیا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے لیکن جنید اب تک گھر واپس نہیں لوٹا تھا اور اس وقت تک اس کا موبائل فون بھی سوئچ آف جارہا تھا۔ تقریباً سوا 11 بجے جاوید کا داماد قیصر اس کے پاس آیا‘ پوچھنے پر قیصر نے بتایا کہ وہ کام کے سلسلے میں کسی دوست کے پاس گیا تھا اور وہاں سے اب لوٹا ہے جبکہ اُسے جنید کے بارے میں کوئی علم نہیں‘ پھر قیصر نے جنید کے گھر والوں سے تمام واقعات کے بارے میں پوچھا جس پر جاوید نے اُسے تمام واقعہ سنایا۔ یہ سن کر قیصر بھی تھوڑا پریشان ہوا اور وہ یہ کہتا ہوا جاوید کے پاس سے اُٹھ گیا کہ میں جنید کے تمام دوستوں سے معلومات کرکے آتا ہوں اور اس کو ہر وہ جگہ تلاش کرتا ہوں جہاں جنید آتا جاتا تھا اور جس کی اُنہیں معلومات ہو۔ جنید کے گھر میں اس وقت اہل محلہ اور دیگر رشتہ داروں کا آنا جانا شروع ہوگیا تھا کیونکہ جنید کی اتنی دیر سے لاپتہ ہونے کی خبر علاقے میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ اس دوران جاوید کے جاننے والے اور دیگر دوست احباب نے جنید کو ہرممکن جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں پر جنید کی موجودگی ممکن ہوسکتی تھی‘ لیکن اب تک جنید کا کوئی پتہ نہیںچلا سکا تھا‘ جبکہ دونوں داماد نوید اور قیصر بھی اس وقت جاوید کے ساتھ موجود تھے اور اُسے اور گھر کے دیگر افراد کو تسلی دینے کی کوشش میں مصروف تھے‘ وقت گزرتا رہا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں صبح ہوگئی‘ پھر دوپہر اور شام ہوگئی لیکن جنید کا کوئی پتہ نہیں چل سکا‘ آج جنید کا لاپتہ ہونے کا دوسرا دن تھا‘ اس وقت جاوید کے گھر دوست و احباب اور علاقہ مکینوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی‘ اسی دوران ان میں سے جاوید کے ایک جاننے والے نے مشورہ دیا کہ اس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے سے کچھ نہیں ہوگا‘ لہٰذا جنید کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو بھی دی جائے‘ ممکن ہے پولیس کے ذرائع سے جنید کے بارے میں کوئی پتہ چل سکے۔ جاوید کے جاننے والے کا یہ مشورہ وہاں موجود دیگر لوگوں کو بھی پسند آیا اور پھر جاوید سمیت کئی لوگ اس واقعہ کی اطلاع کے لئے گروپ کی شکل میں مومن آباد پولیس اسٹیشن پہنچے‘ جہاں جاوید نے ایس ایچ او مومن آباد آصف منور کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے جنید کے بارے میں بتایا۔ واقعہ سننے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر گمشدہ جنید کے ورثاء سے درخواست وصول کی اور پولیس کے ساتھ انہیں بھی 15 سالہ جنید کی تلاش جاری رکھنے کی ہدایت کی‘ لیکن 2 روز مزید گزرنے پر جب جنید کا کوئی پتہ نہیں چل سکا تو مومن آباد پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ باقاعدہ طور پر درج کیا۔
مقدمہ الزام نمبر 78/2019 میں مدعی جاوید نے پولیس کو بتایا کہ میں مومن آباد کے علاقے ہریانہ کالونی سیکٹر 10 میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہائش پذیر ہوں۔11 مارچ 2019ء کی شام 7 بجے میرا 15 سالہ بیٹا جنید جس کے پاس سام سنگ ماڈل J.7 تھا‘ اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ آپ کھانا گرم کریں‘ میں 5 منٹ میں واپس آکر کھانا کھاتا ہوں‘ لیکن پھر وہ واپس نہیں آیا‘ میں نے اس واقعے کی اطلاع مورخہ 12 مارچ 2019ء کو مومن آباد تھانے میں دیا تھا لیکن ہم سب اب تک تلاش و معلومات کرتے رہے لیکن کچھ پتہ نہیں چلا‘ اتنے دن گزرنے کے بعد اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میرے بیٹے جنید کو نامعلوم شخص یا اشخاص ‘ نامعلوم وجہ کی بناء پر گھر کے باہر سے اغواء کرکے نامعلوم جگہ پر لے گیا ہے اور اب میں قانونی کارروائی چاہتا ہوں۔ مقدمہ الزام نمبر 78/2019 درج ہونے کے بعد پولیس نے اس مقدمے کا باقاعدہ تفتیش کا آغاز کیا اور باریک بینی سے محرکات کا جائزہ لینا شروع کیا‘ اس دوران پولیس نے مغوی کے گھر اور دیگر جگہوں کا جائزہ لیا لیکن جائے وقوعہ سے کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوسکی۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی اس کیس میں دلچسپی لینا شروع کی اور پولیس کے کئی اعلیٰ افسران نے مغوی جنید کے گھر پہنچ کر ورثاء کو تسلی دیتے ہوئے پولیس کے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا‘ لیکن کئی دن گزرنے کے بعد بھی مغوی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور نہ ہی تفتیش میں کوئی پیش رفت ہوئی۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ پولیس اور اس کے اعلیٰ افسران صرف خانہ پوری کے لئے مغوی کے گھر آرہے ہیں اور ورثاء کو تسلی دے کر جارہے ہیں‘لیکن لوگوں کو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ اندرون خانہ پولیس نے مغوی کی بازیابی یا سراغ کے لئے علاقے میں مخبروں کا جال بچھا دیا ہے اور انٹیلی جنس اور اپنے ٹیکنیکل اسٹاف کو اس مقدمے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ہدایت کر رکھی ہے اور مغوی کا موبائل نمبر اور ای ایم آئی نمبر کو سرچنگ پر لگا رکھا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کا بار بار مغوی کے گھر آنا‘ اس بات کا ثبوت تھا کہ اعلیٰ افسران بھی اس غیر معمولی تفتیش میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کا اعلیٰ افسران مغوی کے ورثاء سے بھی تذکرہ نہیں کررہے تھے‘ دن گزرتے رہے‘ عام لوگوں اور مغوی کے ورثاء کے ذہن میں یہ خیال بار بار آرہا تھا کہ اتنے دن گزرنے پر پولیس دوسرے کسی مقدمے میں الجھ کر اس کو بھول گئی ہے‘ 15 سالہ جنید کو لاپتہ ہوئے آج 25 دن گزر گئے تھے کہ اچانک مغوی جنید کے والد جاوید کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ جاوید جو اس وقت اپنے بستر پر لیٹا تھا‘ بے دلی سے اپنا موبائل فون اُٹھایا‘ اس وقت جاوید کا خیال تھا کہ دوسری جانب اس کا کوئی جاننے والا ہوگا جو جنید کی بازیابی کے بارے میں پوچھے گا اور جنید کا پتہ نہ چلنے پر افسوس کرتا ہوا فون بند کردے گا۔ جاوید کے ساتھ یہ صورت حال تقریباً 25 روز سے جاری تھی اور اب تو وہ لوگوں کے سوالوں کا جو ازراہ ہمدردی اُسے فون کیا کرتے تھے جواب دے دے کر تھک گیا تھا‘ اس وقت بھی جاوید یہ ہی سمجھا کہ دوسری طرف اس کا کوئی جاننے والا ہوگا اور وہ جنید کے بارے میں پوچھے گا‘ لہٰذا جاوید بڑی بددلی سے موبائل فون کو آن کیا تو دسری جانب مومن آباد تھانے کا تفتیشی افسر تھا جس نے جاوید کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بڑے افسوس کے ساتھ بتایا کہ آپ کے بیٹے جنید کو اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ پولیس نے جنید کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جنید کے قتل کئے جانے کی خبر سن کر جاوید کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور اس کے اوسان خطا ہوگئے لیکن پھر جاوید نے بڑی مشکلوں سے اپنے اوسان بحال کئے اور تفتیشی افسر کی پوری بات سنی جو اُسے ملزمان کا اعترافی بیان سننے کے لئے مومن آباد تھانے بلوارہا تھا۔ فون بند ہونے کے بعد جاوید نے جنید کی قتل کی خبر گھر والوں کو بتائی جس پر اس کے گھر میں کہرام مچ گیا اور ایک بار پھر یہ خبر علاقے میں زبان زد عام ہوگئی‘ اس وقت جس جس کو جنید کے بارے میں یہ خبر پتہ چل رہی تھی وہ فوری طور پر مقتول کے گھر پہنچ رہے تھے اور اس وقت مقتول کے گھر اچھے خاصے لوگ جمع ہوچکے تھے اور اس گھر کے باہر مجمع لگ چکا تھا‘ کچھ دیر بعد جب جاوید کی حالت کچھ سنبھلی تو اُس نے اپنے دیگر بااعتماد لوگوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ پولیس نے جنید کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کے اعترافی بیان سننے کے لئے مومن آباد تھانے بلوایا جارہا ہے جس پر جاوید کے کچھ قریبی عزیزوں نے مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر مومن آباد تھانے پہنچے‘ اس بات پر جاوید اپنے دیگر قریبی عزیزوں کے ساتھ مومن آباد تھانے کے لئے نکلا‘ اس وقت جاوید کو شدید حیرت ہورہی تھی کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کا چھوٹا داماد قیصر جسے جاوید اپنے بڑے داماد نوید سے زیادہ قریب رکھتا تھا‘ وہ اب تک اُسے نظر نہیں آرہا تھا‘ تاہم جاوید ان خیالوں کو ذہن سے جھٹک کر مومن آباد تھانے کی طرف چل دیا اور تھانے پہنچ کر تفتیشی افسر محمد فارس سے ملا جو اُسے اس کمرے میں لے گیا جہاں جنید کے قاتل موجود تھے‘ کمرے کا دروازہ کھلتے ہی جاوید کی نظر وہاں موجود قیصر پر پڑی‘ کچھ لمحہ کے لئے جاوید نے یہ سوچا کہ قیصر کو جنید کے قتل کا پتہ چل گیا ہوگا اور وہ بجائے ہماری طرف آنے کے ڈائریکٹ تھانے آگیا لیکن جب جاوید مکمل طور پر کمرے کے اندر آگیا تو تفتیشی افسر فارس نے جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آپ کے 15 سالہ بیٹے جنید کے قاتل ہیں‘ ایک لمحے کے لئے تو جاوید کا دل چاہا کہ وہ پولیس کو کھری کھری سنائے کہ پولیس نے مقدمے کو انجام تک پہنچانے کے لئے ان دونوں کو گرفتار کرلیا اور پھر تفتیش کے نام پر تھرڈ ڈگری استعمال کرتے ہوئے ان سے اقرار جرم کروالیا کیونکہ جاوید کی عقل میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ قیصر جو اس کا چہیتا داماد ہے اور جس سے مقتول جنید کی بھی دوستی تھی‘ وہ اپنے چھوٹے سالے کو کیوں کر قتل کرے گا۔ جاوید سکتے کے عالم میں ابھی یہ ہی سوچ رہا تھا کہ اس دوران تفتیشی افسر فارس کی آواز گونجی جس نے جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں نے تمہارے بیٹے جنید کے قتل کا اعتراف کرلیا اور آپ کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پولیس نے اعتراف جرم کے لئے کوئی خاص تشدد نہیں کیا‘ کیونکہ پولیس نے ٹیکنیکل اور انٹیلی جنس بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کیا اور پولیس کے پاس ملزمان کے خلاف ایسے ثبوت موجود ہیں جس سے ملزم انکار نہیں کرسکتا۔ تفتیشی افسر کی یہ بات سن کر جاوید کچھ دیر کے لئے جذباتی ہوگیا اور اُس نے تفتیشی کمرے میں ہی اپنے داماد کو لعن طعن کرنا شروع کردیا جب جاوید کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو تفتیشی افسر نے ملزمان سے اعترافی بیان دینے کا کہا‘ اس دوران مومن آباد پولیس نے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی‘ جس میں مومن آباد پولیس نے بتایا کہ مومن آباد پولیس نے اغواء ہونے والے 15 سالہ بچے جنید ولد جاوید کے ملزمان گرفتار کرلئے‘ مورخہ 11 مارچ 2019ء کی شام 7 بجے 15 سالہ جنید گھر کے باہر سے غائب ہوگیا جس کی گمشدگی کی رپورٹ اس کے والد نے مورخہ 12 مارچ 2019ء کو درج کرائی۔ پولیس نے مورخہ 15 مارچ کو اس سلسلے میں مقدمہ الزام نمبر 78/2019 جرم دفعہ 365/34 درج کرکے ٹیکنیکل بنیادوں پر تلاش شروع کی۔
مورخہ 6 اپریل 2019ء کو پولیس نے مغوی کے بہنوئی قیصر ولد محمد پرویز اور اس کے دوست سہیل ولد سلطان کوگرفتار کیا‘ جنہوں نے انکشاف کیا کہ مورخہ 11 مارچ کو مغوی بچے کو صلاح الدین ٹائون راجہ تنویر کالونی کے بلاک C حدود تھانہ اقبال مارکیٹ کے غیر آباد علاقے میں لے جاکر گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر قتل کردیا اور اس کے کپڑے اور آلہ قتل رسی کو جلادیا۔ پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر وقوعہ سے مقتول جنید جس کی نعش کی باقیات جن میں کھوپڑی‘ جبڑا‘ جسم کے مختلف حصوں کی ہڈیاں‘ بال اور مغوی بچے کا چپل موقع سے برآمد کرکے کرائم سین یونٹ حسب ضابطہ سیل کرکے بغرض میڈیکل معائنہ ڈی این اے کروانے مغوی بچے کے ورثاء نے چپل کی مدد سے شناخت کی۔ دوران تفتیش ملزمان نے رقم اور جائیداد کے لالچ میں بچہ جو کہ ملزم قیصر کا حقیقی سالا ہے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے‘ جبکہ اس موقع پر مقتول جنید کے والد جاوید نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور نویں جماعت کا طالب علم تھا‘ میرے بڑے بیٹے طارق کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے جس کے بعد میری 4 بیٹیاں ہیں اور جنید سب سے چھوٹا تھا‘ بڑے بیٹے کا ذہنی توازن درست نہ ہونے کی وجہ سے میری ساری امیدوں کا مرکز جنید ہی تھا‘ جس کی وجہ سے میں آہستہ آہستہ اس پر گھر اور باہر کی ذمہ داریاں دے رہا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ جنید اپنی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک ذمہ دار نوجوان بن جائے گا‘ اس دوران میں نے اپنی 2بیٹیوں کی شادی کی اور ہمارے گھر میں بڑا داماد نوید اور چھوٹا داماد قیصر کی صورت میں 2 افراد کا اضافہ ہوگیا‘ اور میں وقتی طور پر خوش ہوگیا کہ چلو اب میرے گھر کو سنبھالنے کے لئے اور جنید کا ساتھ دینے کے لئے بیٹوں کی صورت 2 داماد موجود ہیں۔ قیصر سے میں نے ڈیڑھ سال قبل اپنی بیٹی کی شادی کروائی تھی‘ قیصر ہمارارشتہ دار اور ایمبرائیڈری کا کام کرتا تھا لیکن کچھ عرصے سے وہ بے روزگار تھا یا کہیں کام لگتا تو صرف حاضری لگاکر واپس آجاتا‘ پوچھنے پر بتاتا کہ کام نہیں تھا‘ اس دوران قیصر کے گھر ایک بیٹی کی ولادت ہوئی لیکن قیصر کے بے روزگار ہونے کی وجہ سے اس کے گھر کا خرچ مشکل سے چل رہا تھا‘ یہ صورت حال دیکھ کر میں نے اپنے گھر کے قریب ایک مکان کرائے پر لے کر انہیں رہائش کے لئے دے دیا اور قیصر کے گھر کا خرچ چلانے لگا۔ میرا خیال تھا کہ قیصر کے گھر بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کے طور طریقے میں تبدیلی آئے گی لیکن وقت گزرنے کے باوجود قیصر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘ لیکن میں نے اس بات کو محسوس نہیں کیا اور وقت گزرتا رہا۔ قیصر میرے گھر صبح و شام آتا تھا‘ اس کی جنید سے بہت اچھی دوستی تھی لیکن بار بار میرے گھر آنے کی وجہ اب مجھے معلوم ہوئی کہ قیصر ہماری محبت میں میرے گھر نہیں آتا تھا بلکہ اس کی نظر میری جائیداد پر تھی۔ واقعہ والے روز ملزم قیصر نے جنید کو بلایا اور 5 لاکھ روپے تاوان کے لئے اس کا اغواء کیا اور اس کو اپنے دوست سہیل کی مدد سے راجہ تنویر کالونی کے سنسان علاقے میں لے گیا‘ ان کا خیال تھا کہ جنید کو کچھ دن اپنے پاس رکھ کر 5 لاکھ روپے تاوان لے گا جس کے بعد وہ لوگ جنید کو رہا کردیں گے‘ لیکن جنید کی طرف سے مزاحمت کرنے پر اسی وقت ملزمان نے رسی کی مدد سے مقتول کا گلا گھونٹا اور قتل کرنے کے بعد نعش کو اسی مقام پر دفنا دیا اور گھر آکر جنید کی تلاش میں ہمارے ساتھ ساتھ رہا جبکہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد فارس نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے مقتول جنید کا موبائل فون سرچنگ پر ڈالنے کے بعد مقدمے کا مختلف زاویے سے تفتیش کا آغاز کیا لیکن 24 روز گزرنے کے باوجود مقدمے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی‘ لیکن 25 ویں روز بعد مقتول کا موبائل فون آن ہوا اور یہ ہی ٹریسنگ پوائنٹ تھا جب پولیس کو ملزم کی لوکیشن معلوم ہوئی۔ ہم نے اس لوکیشن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے وسیم نامی شخص کو گرفتار کیا جس نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس نے سہیل نامی شخص سے یہ موبائل فون خریدا ہے جس پر پولیس نے سہیل کو گرفتار کرنے کے لئے موقع پر پہنچی تو ملزم سہیل اور قیصر ایک موٹر سائیکل پر سوار فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے جس پر پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم سہیل اور قیصر کو گرفتار کیا‘ پھر تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے مقتول جنید کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے ملزم قیصر نے بتایا کہ ملزم کی مقتول کے والد جاوید کی پراپرٹی پر نظر تھی‘ اس کا خیال تھا کہ جاوید کا بڑا بیٹا طارق کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں جبکہ اس کی مزید 2 سالیاں شادی کے بعد اپنے گھر چلی جائیں گی اور اس کے بعد جنید ہی اس ساری پراپرٹی کا وارث ہوگا‘ لہٰذا اگر جنید کو راستے سے ہٹادیا گیا تو آئندہ دنوں میں سسر جاوید کی تمام پراپرٹی اس کے ہاتھ آسکتی ہے کیونکہ اس وقت ملزم قیصر اپنے سسرال میں چہیتا داماد تھا جبکہ جاوید کا بڑا داماد نوید اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص ہے۔
ملزم قیصر نے پولیس کو مزید بتایا کہ ملزم اس واردات کی پلاننگ ایک ہفتے سے بنارہا تھا جس میں اس نے اپنے دوست سہیل کو شامل کیا اور اس کے ذمے سنسان علاقہ دیکھنے کی ذمہ داری لگائی جس نے واردات کے لئے اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود راجہ تنویر کالونی کا ایک سنسان علاقہ دیکھا اور واردات کے لئے مقام دکھانے قیصر کو لے گیا جس نے جائے واردات دیکھ کر گرین سگنل دیا اور 11 مارچ 2019ء کو ملزم قیصر مقتول جنید کو بہانے سے بلا کر موٹر سائیکل پر بٹھایا اور مذکورہ مقام پر لے گیا جہاں رسی کی مدد سے اس کا گلا گھونٹا اور اسی سنسان مقام پر مقتول کو دفنا دیا اور ملزمان واپس گھر آگئے جہاں اس وقت کہرام مچا ہوا تھا‘ ملزم قیصر اپنے سسر جاوید کے ساتھ مل کر مقتول کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ رچاتا رہا اور وہ مدعی کے ساتھ رپورٹ درج کروانے مومن آباد تھانے بھی آیا۔ رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس نے تمام کوشش کے بعد 25 ویں روز ٹیکنیکل بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کرلیا جنہوں نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو جائے وقوعہ پر بھی لے گیا جہاں سے پولیس نے کچی زمین سے مقتول کا چپل‘ دفن اعضاء اور دیگر چیزیں برآمد کرلیں جبکہ مقتول کے چپل سے لواحقین نے مقتول کی نعش کی شناخت کی جبکہ ملزم قیصر نے میڈیا کے سامنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ قتل کے بعد ملزم قیصر نے مقتول کا موبائل فون اپنے ساتھی ملزم سہیل کو دیا اور اُسے موبائل فون استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی لیکن کچھ دنوں تک تو ملزم سہیل نے مقتول کا موبائل فون اپنے پاس رکھا لیکن اس کے بعد ملزم نے مقتول کا موبائل فون کسی وسیم نامی شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا۔ وسیم نے موبائل فون خریدنے کے بعد آن کیا اور فون استعمال کرنا شروع کردیا۔ یہ جانے بغیر کے موبائل فون پولیس کی سرچنگ پر لگا ہوا ہے‘ مقتول کا موبائل فون آن ہوتے ہی پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر خریدار وسیم کوگرفتار کیا جس نے پولس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کچھ روز قبل یہ موبائل سہیل نامی شخص سے خریدا ہے۔ پولیس نے وسیم کے انکشاف پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ملزم سہیل نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ وہ مقتول جنید کے بہنوئی قیصر کے کہنے پر قتل کی واردات میں شامل ہوا۔ ابتدائی طور پر ملزم قیصر نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سالے مقتول جنید کے کردار کو خراب کرنے کی کوشش کی لیکن جب پولیس نے روایتی تفتیش کی تو ملزم نے حقیقی صورت حال بتاتے ہوئے جرم کا اعتراف کرلیا۔ مقتول جنید کے لواحقین نے اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ جس طرح ملزمان نے میرے لخت جگر کو اذیت دیتے ہوئے قتل کیا‘ اسی طرح ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(1052 بار دیکھا گیا)

تبصرے