Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مسجدوں کا آغازکب اور کیسے ہوا

تحریرو تحقیق : مختار احمد بدھ 08 مئی 2019
مسجدوں کا آغازکب اور کیسے ہوا

دنیا میں پہلی تعمیر ہو نے والی مسجد مدینہ منورہ کے جنوب اور مسجد نبوی سے 3کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر ہوئی اس مسجد کو مسجد قباکے نام سے جانا اور مانا جاتا ہے اس کا سنگ بنیاد نبی کریم ﷺ نے اس وقت اپنے دست مبارک سے رکھا جب وہ مکہ سے ہجرت کو کے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور اس وقت انہوں نے قبا نامی بستی میں قیام کیا تھا جس کی مناسبت سے اس مسجد کو مسجدقبا کہا گیا اس وقت اس مسجد میں ایک کنویں ،وسیع صحن ،کھجور کے چند درختوں اور ایک گنبد کے علاوہ کچھ بھی نہ تھاروایت یہ بھی ہے کہ مسجد کے تقدس اور حرمت سے متعلق اس مسجد پر بھی ایک سورئہ کا نزول ہوا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی مدینے سے مکہ تشریف لاتے تو اس مسجد میں 2 رکعت نفل ضرور ادا کیا کر تے تھے پھر جیسے اسلام کا پھیلائو عمل میں آیا دنیا بھر میں صحابہ اکرام ؓ ،اولیاء اللہ ،بزرگان دین کی جانب سے لاتعداد مساجد بنائی گئیں جوکہ ابتدائی ادوار میں مٹی کے گاروں، پہاڑوں کو تراش کر اوردرختوں کی چھال اور پتوں سے بنائی گئی اور ان سے اللہ اکبراور حی الفلاح کی صدائیں گونجنے لگیں

اس کے بعد اگر بر صغیر پاک ہند کا مشاہدہ کیا جائے تو مغل بادشاہوں نے لاتعداد خوبصورت دیدہ زیب مساجد کی تعمیر کی جن میں لاہور کی بادشاہی مسجد ،شاہ جہانی مسجد و دیگر مساجد آج بھی اپنی آن بان شان کے ساتھ کھڑی ہیں اور نمازیوں کو دعوت عبادت دے رہی ہیں شہر کراچی جہاں ماضی میں ہندو ،عیسائی ،یہودی ،سکھ ،پارسی اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی تھی اور تمام مذاہب کے لوگوں میں اپنی اپنی جھگی نما یا پھر مٹی کے گاروں کی مدد سے عبادت گاہیں قائم کر رکھی تھیں اسی طرح مسلمانوں کی بھی ناپختہ عبادت گاہیںموجود تھیں لیکن جب انگریزوں نے فروری 1839میں شہر کراچی پر قبضہ کیا اور تمام مذایب کے لوگوں نے اپنی عبادت گاہیں چرچ ،گردوارے ،یہودی مساجد ،مندر ،آتش کدے تعمیر کر لئے جو آج بھی پوری شان کے ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں : چوہدری نثار نے ن لیگ سے ناطہ توڑ لیا

لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو کیونکہ اس وقت کراچی کی کل آبادی 13ہزار 8سو50 لوگوں پر مشتمل تھی اور مسلمان صرف 4ہزار 8سو50ہونے پر اقلیت میں تھے انہوں نے بھی اپنے مساجد کی تعمیر کا کام شروع کر دیا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے گاڑی کھاتہ بندر روڈ پر 1857میں با قاعدہ طور پر میمن مسجد کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی اور اس کے فوری بعد جونا مارکیٹ کھجور بازار جبکہ دوسری کیماڑی میں پیر غائب شاہ کے مزار کے ساتھ تیسری مسجد بنائی گئی اور پھر اور اسی دوران 1874 میں کھڈا مارکیٹ میں چھوٹانی مسجد کے نام سے پختہ مسجد کی تعمیر کی اور پھر 1893 میں راجہ غضنفر روڈ صدر میں ہی ایک اور میمن مسجد کو تعمیر کیا اور اس کے بعد گویا مساجد کی تعمیر کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ۔جہاں تک صدر یا صدر بازار کے علاقے کا تعلق ہے تو کیونکہ یہاں عیسائی ،پارسیوں اور ہندئوں کی ایک بڑی اکثریت آباد تھی لہذا انہوں نے سینٹ پیٹرک چرچ سمیت کئی چرچ تعمیر کر رکھے تھے جبکہ پارسیوں کے لئے ایک آتش کدے کے علاوہ گھروں میں ہندئوں کے مندر موجود تھے

جہاں سے بجنے والے گھنٹوں ،بھجن اور گیتوں کی آواز تو آتی تھی مگر کہیں سے حی الصلائہ کی صدا بلند نہیں ہوتی تھی جسے دیکھتے ہوئے یہاں اقلیت میں موجود مسلمانوں جن کی اکثریت کا تعلق قریش برادری یعنی کے قصائی برادری سے تھا جوکہ ایمپریس مارکیٹ کٹرک روڈ پر ہلال گوشت فروخت کر نے کا کام کیاکر تے تھے نے ابتدائی طور پر چٹائی کی چھتوں سے مسجد قصابان کی بنیاد رکھی اور یہاں سے بنائے گئے ایک مینار جسے آذان دینے کے لئے جائے آذان بنایا گیا تھا سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہونی شروع ہوئی اور دور دراز سے مسلمان جوکہ اقلیت میں تھے یہاں نماز کی ادائیگی کے لئے آنے لگے اور پھر 1313ہجری بمطابق 1879میں پتھروں سے ایک پختہ مسجد کی تعمیر کا کام ترکی کے مساجد کے طرز پر کیا گیا اور اس مسجد کو پہاڑی پتھروں سے بنایا گیا اور اس پر پتھروں کو تراش کر مینار بنائے گئے اور اس کا پہلا با قاعدہ خطیب و پیش امام حضرت مولانا حافظ علم دین کو بنا یا گیا جو کہ نہ صرف مسجد کی دیکھ بھال کیا کر تے تھے بلکہ 5وقت کی نمازوں کے ساتھ ساتھ مسلمان بچوںکو قرآن و حدیث کی تعلیم بھی دیا کر تے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں : گوتم گمبھیر اورشاہد آفریدی پھر آمنے سامنے

انگریزوں کے شہر میں قبضے کے بعد کیونکہ صدر میں انگریز فوجیوں اور بڑے بڑے افسران کی رہائش تھی اسی طرح تجارت پیشہ ہندو اور پارسی آباد تھے لہذا مذہبی آزادی ہونے کی بنیاد پر جگہ جگہ شراب خانے ،ڈانسنگ کلب ،نائٹ کلب موجود تھے جہاںشام ہوتے ہی نوجوان نسل کے لڑکے اور لڑکیاں شراب کے نشے میں دھت ہو کر جگہ جگہ ہلا گلا کرتے اور ناچتے تھرکتے نظر آتے جسے دیکھ کر اس وقت کراچی کی معروف سماجی شخصیت مولوی محمد مولدینا نے مسجد قصابان کی بالائی منزل تعمیر کر وائی اور ایک مکمل دینی مدرسہ قائم کیا جہاں مسلمان بچے ،بچیوں اورنوجوانوں کودینی تعلیم دی جاتی اسی مسجد سے ملحق ایک مسافر خانہ بھی تعمیر کیا گیا جہاں دور دراز سے آنے والے طلبہ کو ہاسٹل کی سہولت مہیا کر تا تو دوسری جانب مسافروں کو طعام و قیام کی سہولت بھی مہیا کر تا تھا اب یہ مسافر خانہ موجود نہیں اور اسے اب مسجد ہی میں شامل کر لیا گیا ہے ۔

مسجد قصابان جو کہ قدامت کے اعتبار سے لگ بھگ 175سال پرانا ہے آج دوسری صدی میں داخل ہو جانے کے با وجود آج تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے مگر محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اسے قدیم ورثہ اقرار دئے جانے کے با وجود اس کے پرانے درودیوار اور پتھروں سے تراشیدہ مینار ،گنبد جن پر اب رنگ و روغن کیا جا چکا ہے مگر اس کے با جودوہ ااپنی قدامت کی داستان بیان کر رہی ہے مسجد کو اگر اندر سے دیکھا جائے تو اندر سے بھی مسجد انتہائی شاندار نظر آتی ہے اور اس کی کچھ دیواریں ،چھجے او ر دیواروں پر ٹنگی صدیوں پرانے گھڑیال اس کی قدامت کی گواہ ہیں ان دنوں اس مسجد کے پیش امام مولانامختار احمد سعیدی ہیں جو کہ گزشتہ 26 سال سے لوگوں کو نماز پڑھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں

اوصاف نے جب مسجد کی قدامت کے حوالے سے گفتگو کی تو ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ مسجد لگ بھگ 175سال قدیم ہے اور اس مسجد میں ایسے جید عالم دین پیش امام کے فرائض انجام دے چکے ہیں جنہیں دین اسلام پر مکمل عبور حاصل ہوا کر تا تھا اور یہی وجہ تھی کہ یہ مسجد کنٹونمنٹ کے علاقے جہاں انگریز ،پارسی ،یہودیوں کی بڑی تعداد موجود تھی لوگ دور دراز خطبہ سننے اور نمازوں کی ادائیگی کے لئے نا صرف آتے تھے بلکہ اللہ کے اس گھر میں نماز کی ادائیگی کو اپنے لئے ایک فخر خیال کر تے تھے انہوں نے کہا کہ اب یہ مسجد جسے بھارت احمد آباد و دیگر علاوقوںسے آنے والے قریش برادری کے لوگوں نے ابنیاد رکھی تھی کل کی طرح آج بھی اللہ کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کا کام کر رہی ہے ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ اب گوکہ یہ مسجد محکمہ اوقاف کے زیر نگرانی ہے مگر اس کے باوجود لوگ اس مسجد کی دیکھ بھال میں اپنی مدد آپ کے تحت کر تے ہوئے اسے خوبصورت اور دیدہ زیبب بنانے میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں جس کے سبب اس مسجد کی شہرت آج بھی وہی ہے جوکہ ماضی میں ہوا کر تی تھی ۔

(244 بار دیکھا گیا)

تبصرے