Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

میشا شفیع کا علی ظفر کے نام شکریہ کا پیغام

ویب ڈیسک جمعه 03 مئی 2019
میشا شفیع کا علی ظفر کے نام شکریہ کا پیغام

لاہور(ویب ڈیسک) گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کی درمیان ہونی والی واٹس ایپ گفتگو منظر عام پر آگئی ہے جس میں میشا شفیع نے جیمنگ سیشن کے بعد علی ظفر کے نام شکریہ کا پیغام بھیجا ہے۔

گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر جیمنگ سیشن کے دوران ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن اب علی ظفر کے وکلا میشا شفیع کے جیمنگ اور پرفارمنس کے میسج منظر عام پر لے آئے ہیں جب کہ میشا کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کو سوشل میڈیا پر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

میشا شفیع نے اپنے پیغام میں صاف لکھا ہے کہ 23 دسمبر کو جیمنگ اور پرفارمنس کے دوران ان کا بہترین وقت گزرا، میشا شفیع نے اس میسج میں علی ظفر کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جب کہ دوسری طرف میشا شفیع نے ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا تھا کہ ان کا پیغام صرف کانسرٹ پرفارمنس کے حوالے سے تھا۔

دوسری جانب علی ظفر اس جیمنگ کی ویڈیو بھی منظر عام پر لا چکے ہیں، اس ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس جیمنگ سیشن کے دوران گیارہ کے قریب موسیقار علی ظفر اور میشا شفیع کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے موجود ہیں

یہ بھی پڑھیں : جنسی ہراسانی کیس، تاخیری حربوں پر میشا شفیع کو جرمانہ

ان موسیقاروں میں دو خواتین بھی شامل ہیں جو عدالت میں گواہی کے لیے بھی متعدد مرتبہ حاضر ہو چکی ہیں جب کہ علی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ میشہ شفیع نے ٹی وی پروگرام میں جھوٹ بولا ہے۔

گلوکارہ میشاشفیع کی جانب سے گزشتہ روز علی ظفر کو 200 کروڑکا لیگل نوٹس بھجوایاگیا ہے میشا شفیع کی قانونی ٹیم میں شامل نگہت داد نے یہ نوٹس اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ علی ظفر نے مختلف ٹی وی چینلز پر میشا شفیع پر نہ صرف جھوٹے الزامات لگائے بلکہ انہیں بدنام کیا اور ان کے خلاف ایسے بیانات دئیے جس سے ان کی شخصیت کو نقصان پہنچا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ علی ظفر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی وجہ سے ان کی کلائنٹ میشا شفیع کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اورانہیں ذہنی پریشانی ہوئی ہے۔

لیگل نوٹس میں علی ظفر سے 15 دن کے اندر معافی کا مطالبہ کیاگیاہے اورکہاگیا ہے کہ علی ظفر میشا شفیع کی شہرت کونقصان پہنچانے کے لیے 200 کروڑ کا ہرجانہ ادا کریں۔

(1166 بار دیکھا گیا)

تبصرے