Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 24 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

شاہد آ فریدی کی ’’دھواں دار‘‘ کتاب، چوکے ، چھکے ماردیئے

ویب ڈیسک جمعه 03 مئی 2019
شاہد آ فریدی کی ’’دھواں دار‘‘ کتاب، چوکے ، چھکے ماردیئے

کراچی …. قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آ فریدی نے ریٹائرمنٹ کے بعد زور دار چھکے لگادیے، اس بار انہوں نے کرکٹ گرائونڈ نہیں بلکہ کتاب کے صفحات کا انتخاب کیا ہے۔

عالمی شہرت یافتہ آ ل رائونڈر نے اپنی سوانح حیات میں پاکستان کی تاریخ کے دو عظیم کرکٹرز جاوید میاں داد اور وقار یونس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سنسنی خیز انکشاف اور اعترافات کئے ہیں ان کی کتاب سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔

کتاب کے اقتباسات منظر عام پر آ گئے ہیں۔شاہد آفریدی نے سوانح عمری میں یہ راز بھی فاش کیا کہ پہلا ون ڈے کھیلتے وقت ان کی عمر سولہ نہیں19برس تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان ٹیم کو میچ جتوانے کے لئے گیند چبائی تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ 1975 میں پیدا ہوئے جبکہ کرکٹ ریکارڈ بکس میں ان کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 1980درج ہے۔ وقار یونس کو بدترین کوچ اور جاوید میانداد کو چھوٹا آ دمی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شعیب ملک کان کے کچے اور کپتانی کے لیے ان فٹ تھے۔ کتاب کی تقریب رونمائی ہفتے کی شام کو کراچی میں ہورہی ہے۔1997میں اپنا کیریئر شروع کرنے والے شاہد آ فریدی 2016تک پاکستان کے لئے کھیلے اور مسلسل خبروں میں رہے۔

کتاب میں بھی انہوں نے اپنی دھواں دار بیٹنگ کی طرح کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ شاہدآ فریدی نے تحریر کیا ہے کہ جاوید میانداد نے کوچ بن کر ہمیشہ ان کی مخالفت کی، جاوید میانداد نے 1999میں بھارت کے خلاف چنئی ٹیسٹ سے قبل مجھے پریکٹس نہیں کرائی میں الگ ٹیم سے ہٹ کر پریکٹس کرتا رہا۔

وہ لکھتے ہیں کہ وقار یونس اوسط درجے کے کپتان اور کوچ اْس سے بھی برے تھے۔ واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز میں وقار یونس سے اختلافات کے بعد شاہد آ فریدی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔ انھوں نے کہا ہے کہ جاوید میانداد کو میرے بیٹنگ اسٹائل سے نفرت تھی، میانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگر وہ چھوٹے آ دمی ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ سابق چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آ گئے تھے۔ شعیب ملک کو کپتان اور سلمان بٹ کو نائب کپتان بنانا غلط تھا، شعیب ملک برے لوگوں سے برے مشورے لیتا تھا۔ آفریدی لکھتے ہیں سب جانتے ہیں کہ عمران خان بعض کھلاڑیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور عام طور پر کھلاڑیوں سے میل جول بھی نہیں بڑھاتے تھے لیکن کسی سے کبھی ذاتی اختلاف نہیں رکھتے تھے۔

شاہد آ فریدی نے آ نجہانی کوچ باب وولمر کے بارے میں لکھا کہ وولمر نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی، ہر بڑے میچ سے پہلے فری ہینڈ دیا، ہمیشہ نیچرل گیم کھیلنے کی ہدایت کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :

شاہدآ فریدی نے کتاب میں2010کے بدنام زمانہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے بھی پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا بہت پہلے علم ہوگیا تھا، جانتا تھا کہ کچھ کھلاڑیوں منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سٹے بازمظہر مجید نے اپنا موبائل فون مرمت کیلئے لندن میں جس دکان پر دیا تھا اس کا مالک میرے دوست کا دوست تھا۔

فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کو کیے گئے پیغامات ملے جس سے ہولناک انکشافات ہوئے۔ ٹیم انتظامیہ کوثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ ہوا۔ میں نے یہ پیغامات وقار یونس اور منیجر یاور سعید سے شیئر کیے تھے۔ ٹیم مینجمنٹ خوفزدہ تھی اسے ملک کے وقار کا خیال نہ تھا۔ یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی زحمت بھی نہ کی۔ عبدالرزاق نے بھی سلمان، عامر اور آ صف پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔ میں نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران کپتانی چھوڑنے کافیصلہ کرلیا تھا، چوتھے دن سلمان بٹ سے کہا تھا کہ وہ قیادت سنبھال سکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ میرا پورے سیٹ اپ سے اعتبار اٹھ چکا تھا۔ ٹیم مینجمنٹ معاملے کی فعال تحقیقات کرنے کوتیار نہ تھی۔ سلمان بٹ نے ملک کا سودا کیا اس کی اس حرکت کے بعدکبھی قومی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہئے۔

(757 بار دیکھا گیا)

تبصرے