Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 15 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دنیا کے مختلف ممالک میں 250سے زائد صحافی قید

قومی نیوز جمعه 03 مئی 2019
دنیا کے مختلف ممالک میں 250سے زائد صحافی قید

کراچی …معروف کالم نگار حامد میر نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں 250سے زائد صحافی قید ہیں۔

صحافیوں کیلئے ترکی سب سے بڑا جیل خانہ ہے، جہاں 68صحافی پابندِ سلاسل ہیں۔ چین میں 47جبکہ مصر میں 27صحافی جیلوں میں بند ہیں۔

یہ بات جان کر خوشی ہوئی کہ انڈیا اور پاکستان کا شمار اْن بارہ ممالک میں نہیں ہوتا جہاں صحافیوں کو بدترین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں جمہوری ممالک بھی اْس فہرست میں شامل ہیں جہاں پریس کی آزادی سمٹ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسعود اظہر پر فتح ہوئی نہ شکست، بھارتی ہائی کمشنر

نیویارک سے تعلق رکھنے والی صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (سی پی جے) کے گلوبل انڈیکس پر انڈیا اور پاکستان کا شمار اْن بارہ ممالک میں ہوتا ہے جو صحافیوں کے قاتلوں کو سزا دینے کا انتہائی خراب ریکارڈ رکھتے ہیں۔

برسلز سے تعلق رکھنے والی ’انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس‘ (آئی ایف جے) نے میڈیا کیلئے چودہ انتہائی خطرناک ممالک کی فہرست مرتب کی ہے۔

اْن میں عراق سب سے اونچے درجے پر ہے۔ اِس فہرست میں پاکستان کا نمبر چوتھا جبکہ انڈیا کا ساتواں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نوازشریف پیسے واپس دینا چاہتے ہیں مریم منع کر رہی ہیں، آصف زرداری

’رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز‘ (آر ایس ایف) کے تیار کردہ پریس فریڈم انڈیکس 2019کے مطابق دنیا کے 180ممالک میں انڈیا 138سے نیچے گر کر 140ویں درجے پر جبکہ پاکستان 139سے گر کر 142ویں درجے پر پہنچ گیا ہے۔

2018میں انڈیا 138جبکہ پاکستان 139ویں نمبر پر تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ انڈیا دو درجے اور پاکستان تین درجے نیچے گرا ہے۔ 2014میں انڈیا کا نمبر 140واں اور پاکستان کا 158واں تھا۔

(278 بار دیکھا گیا)

تبصرے