Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بے روزگاری کی ’’فیکٹریاں‘‘

قومی نیوز جمعرات 02 مئی 2019
بے روزگاری کی ’’فیکٹریاں‘‘

پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور بے روزگاری کی شرح بھی نواعشاریہ ایک فیصد ہوگئی ہے۔۔۔۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوجوان مردوں اورخواتین کی شرح برابر ہے جبکہ 70 فیصد نوجوان پڑھے لکھے ہیں۔۔۔۔پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔۔۔۔۔ملک کی 33 فیصد نوجوان آبادی شادی شدہ ہے ، 55 فیصد پنجاب اور 23 فیصد سندھ میں رہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔۔۔۔۔ دو فیصد مردوں اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے جبکہ 57 فیصد بے روزگاروں کو ملازمت کی تلاش ہی نہیں۔۔۔۔۔۔پاکستان میں 77 فیصد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبر فورس کا 41.6 فیصد ہے جبکہ 40 لاکھ نوجوان ہرسال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔
کسی سیانے نے کہا ہے ’’مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی‘‘ بیروزگاری بھی ایک لعنت ہے جو اپنے ساتھ دوسری بہت سی مصیبتیں لے کر آتی ہے۔۔۔۔ بے روزگاری، مفلسی، بھوک اور بیماری کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔۔۔۔۔ ان کا اثر ایک طرف تو بے روزگار شخص اور کنبے کے تمام افراد کی جہالت، بدحالی اور پریشانی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ دوسری طرف بے روزگاری اور غریبی کی وجہ سے طرح طرح کی اخلاقی اور سماجی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔۔۔۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیروزگاری کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی منصوبوں سے جو ملک کو ترقی اور فائدہ ہونا چاہیے تھا وہ سب بیکار اور ضائع ہو رہا ہے۔پاکستان میں بے روزگاری کی ایک اہم وجہ نظام تعلیم بھی ہے۔۔۔۔ آزادی سے پہلے ملک میں صرف پانچ یونیورسٹیاں تھی لیکن آج ان کی تعداد میں بہت حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔ کالجوں اور اسکولوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوا ہے وہ اور بھی کہیں زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔ نتیجہ یہ کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہر سال جتنے طلباء پڑھ کر نکلتے ہیں ان میں سے بہت کم نوکریاں حاصل کرتے ہیں اور بیشتر نوجوان نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں ہر سال کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے یہ مسئلہ روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام بیس سال پرانا ہے جس کی ایک تازہ مثال نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کا نصاب ہے ۔۔۔۔۔۔سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے کلاس نہم کے لاکھوں طلبہ کو پڑھائے جانے والے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 20 سال پرانی معلومات شامل ہیں۔۔۔۔۔۔ مذکورہ کتاب میں اب بھی طلبہ کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ ملک میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ جس کے تحت ملک کی کل آبادی 13 کروڑ 27 لاکھ ہے اور کراچی شہر کی کل آبادی ایک کروڑ سے بھی کم ہے جبکہ ملک میں آخری مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی تھی جس کے تحت ملک کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ سے زائد اور کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔ کلاس نہم کے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں 2017ء کی مردم شماری کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ کلاس نہم کی کتاب میں صرف یہ نہیں لکھا کہ ملک میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی تھی بلکہ آبادی سے متعلقہ دیگر تمام اعداد و شمار بھی اسی 20 سال پرانی مردم شماری کے ہی پڑھائے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔کراچی میں کلاس نہم کا مطالعہ پاکستان کا پرچہ تیار کرنے والے اساتذہ نے پرچے میں آبادی سے متعلق باب سے کوئی بھی سوال شامل نہ کرکے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور طلبہ کو مزید امتحان میں ڈالنے سے گریز کیالیکن یہ مسئلے کا حل تو نہیں۔آج سوشل میڈیا کے جدید دور میں ہم طلبہ کو ’’ریورس‘‘میں کیوں لے جارہے ہیں۔
نصاب کا ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے ہم نے اپنے نصاب میں سندھی ،اردو اور انگریزی تو شامل کی ہیں لیکن قرآن پاک کا کوئی موضوع شامل نہیں ہے ۔۔۔۔دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بھی ناکامیاں ہمارا مقدر بنتے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ماضی میں عربی کا مضمون بھی ہم نے تقریباًختم کردیا ۔۔۔۔۔۔لیکن آج کے دور میں جب آپ چینی زبان سکھارہے ہیں تو عربی کیوں نہیں؟حکومت کو چاہئیے کہ عربی کو پرائمری سے پی ایچ ڈی تک مضامین میں شامل کرے تاکہ اس کے مثبت نتائج آسکیں۔امتیازی تعلیمی نظام بھی ہمارا ایک مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔ہم غریب اور امیر کو الگ الگ تعلیم دیتے ہیں ۔۔۔۔امیر باپ کا بچہ بڑے اسکول اور غریب کا بچہ چھوٹے اسکول میں پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔دونوں یونیفارم میں اسکول جاتے ہیں لیکن نصاب کی تفریق ہمیں تباہ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔ہم نے انگریزی کو تعلیم سمجھ لیا جبکہ وہ تو صرف ایک زبان ہے ۔۔۔۔۔جسے ہم اسٹیٹس سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے ۔۔۔۔۔۔چین میں انگریزی زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی لیکن وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور مستقبل کی سپر پاوربھی ۔۔۔۔۔۔لیکن ہم بچوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔
ہماری بیشتر تعلیم محض نصابی ہو کر رہ گئی ہے جو کہ عملی زندگی اور مختلف پیشوں میں کوئی فائدہ یا مدد نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔ دوسری کمی یہ ہے کہ تعلیم میں ملکی ضرورت کا صحیح خیال نہیں رکھا جاتا جس وجہ سے بہت سی ڈگریاں کسی نوکری کے حاصل کرنے میں مددگار نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔۔آج کل ملک میں انجینئروں کی بے روزگاری کا مسئلہ بھی کافی اہم ہے۔ ۔۔۔۔۔اس کی بھی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم انجینئرنگ یونیورسٹیز میں نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔لیکن جب وہ انجینئربن کر نکلتے ہیں تو باہر ایسی صنعتیں ہی نہیں ہوتیں جہاں وہ نوکری حاصل کریں ۔۔۔۔۔اور اپنا مستقبل مضبوط بنائیں ۔۔۔۔۔انجینئرنگ یونیورسٹیز کو چاہیئے کہ وہ حکومت پر زور ڈالیں کہ ’’صنعتی جال‘‘بچھایا جائے تاکہ فارغ اتحصیل انجینئرز کو کھپایا جاسکے ۔۔۔۔۔ صنعتی ترقی کا مطلب صرف نئے کارخانے کھول دینا ہی نہیں بلکہ ملکی خوشحالی بھی ہے۔۔۔۔۔۔اس کے لئے وہی فارمولا استعمال کیا جاسکتا ہے جو میڈیکل میں کیا گیا ماضی میں ڈاکٹرز بھی بہت بنتے تھے لیکن اب طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے میڈیکل کا تعلیمی معیار اتنا بلند کیا گیا ہے کہ بھیڑ نہیں لگی بلکہ اچھے ڈاکٹرز ’’جنم‘‘لے رہے ہیں ۔
ملک میں بہت سی ایسی صنعتوں کے امکان موجود ہیں جو ملک کے تمام بے روزگار لوگوں کو روزگار فراہم کرسکتے ہیں۔ ۔۔۔۔تعلیم کو صنعتی اور ملکی ضروریات کے لحاظ سے شکل دینا چاہیے تاکہ جو لوگ تعلیم حاصل کرکے نکلیں وہ ملک کے لیے کار آمد ثابت ہو سکیں۔۔۔۔۔۔ تعلیم میں فنی اور عملی صلاحیتوں پر زیادہ زور ہونا چاہیے اور صرف انہی لوگوں کو اعلیٰ تعلیم دینی چاہئے جن میں واقعی اس کی صلاحیت ہو۔ ۔۔۔۔باقی لوگوں کو زراعت، تجارت یا دوسرے فنون کی تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ آئندہ زندگی میں اپنے خاندان اور ملک کے دوسرے لوگوں پر بوجھ نہ بنیں بلکہ اپنی روزی خود کما سکیں۔۔۔۔۔۔اس طرح کچھ حد تک ملک سے بیروزگاری کا مسلہ حل ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(325 بار دیکھا گیا)

تبصرے