Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

گواہوں سے جرح نہ کرنے پر میشا کو جرمانہ ہوا

ویب ڈیسک بدھ 01 مئی 2019
گواہوں سے جرح نہ کرنے پر میشا کو جرمانہ ہوا

لاہور… گلوکار و اداکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے تازہ الزامات کا جواب سامنے آگیا۔

علی ظفر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا تھا کہ وہ ہر زبانی اور تحریری الزام کا جواب حقائق اور ثبوتوں کے ساتھ دیں گے اور کچھ ایسی چیزیں جاری کریں گے جو اس معاملے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔

اب علی ظفر کی قانونی ٹیم کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علی ظفر آ گاہ تھے کہ میشا شفیع نے محتسب کے روبرو جنسی ہراسانی کی درخواست دی ہے لیکن میشا شفیع کی درخواست مسترد کردی گئی تھی، گورنرپنجاب نے بھی اسی بنیاد پر میشا شفیع کی اپیل کو مسترد کردیا تھا۔

علی ظفر کی لیگل ٹیم کے مطابق میشا شفیع نے محتسب کے حکم کی معطلی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، ابھی یہ معاملہ زیر التوا ہے، عدالت نے نہ تو محتسب اور نہ ہی گورنر کے احکامات کو کالعدم قراردیا ہے، میشا شفیع کی شکایت مسترد ہونے کے بارے میں محتسب اور گورنر کے احکامات برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : علی ظفرٹی وی پروگرام میں روپڑے

لیگل ٹیم نے مزید کہا کہ عدالت نے متعدد بارمیشا شفیع سے جواب طلب کیا، میشا شفیع کی لیگل ٹیم نے مواقع ملنے کے باوجود علی ظفرکی طرف سے پیش گواہوں پرجرح نہیں کی، جرح نہ کرنے پرعدالت نے میشا شفیع کو 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔

علی ظفر کی لیگل ٹیم نے استفسار کیا کہ اگر یہ تاخیری حربے نہیں تو اسے کیا کہیں گے؟ لیگل ٹیم نے واضح کیا کہ یہ جواب میشا شفیع کی لیگل ٹیم کی طرف سے میڈیا پر دیے گئے جھوٹے بیانات کے جواب میں دیا جارہا ہے، علی ظفر ایسے بیانات پر قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں علی ظفر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ‘میری فلم کی ریلیز سے قبل دھمکیاں دینے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی شروع ہوگئی۔

علی ظفر نے کہا کہ ‘میری اور میری فلم کے خلاف مہم شروع کرنے والے دیگر اکاؤنٹس کی معلومات دیکر میری مدد کریں، میں نیکہا تھا میرے خلاف مہم جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے چلائی جارہی تھی، ایف آئی اے کو درخواست دینے کے بعد یہ اکاؤنٹس بند ہونا شروع ہوگئے ہیں’۔

(1036 بار دیکھا گیا)

تبصرے