Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موت کا انجکشن

راؤ عمران اشفاق جمعه 26 اپریل 2019
موت کا انجکشن

ایک ہفتے میں زہریلے انجکشن لگنے سے 3 بچوں اور اسٹاف نرس کی ہلاکت نے شہر کی پوری انتظامی مشینری کو ہلا کر رکھ دیا‘معصوم نشواکی دارالصحت اسپتال میں ہلاکت کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے تو صرف اسپتال پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ اور نرسنگ اسٹاف کے 2 افراد کو معصوم بچی کی ہلاکت کا ذمے دار قرار دے کر اس کیس کو بند کردیا‘ لیکن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس واقعے پر شدید مضطرب تھے۔ انہوں نے ایک بار لیاقت نیشنل اسپتال جاکر معصوم نشوا کی عیادت کی اور دوسری بار اس کی میت پر اس کے گھر جاکر تعزیت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ہیلتھ کیئر کمیشن نے بدھ کی شب گلستان جوہر میں واقع دارالصحت اسپتال کی او پی ڈی اور ایمرجنسی کو سیل کردیا۔ کمشنر کراچی کے مطابق اسپتال کے عملے میں 80 سے زائد نرسنگ اسٹاف غیر تربیت یافتہ ہے اس لئے اسپتال کے عملے کو شہریوں کی جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اسپتال کے سیل ہونے پر عملے نے اسپتال کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ نشوا کے علاوہ کورنگی میں 5 دن قبل سرکاری اسپتال میں دانت کی درد کی شکایت کے علاج کے لئے جانے والی لڑکی عصمت خانجو سے نہ صرف زیادتی کی بلکہ اس کو زائد مقدار کا انجکشن لگادیا جس سے لڑکی جاں بحق ہوگئی‘ اسی طرح کورنگی بلال کالونی میں بھی 4 سالہ رضیہ کو ڈاکٹر نے غلط انجکشن لگایا وہ ہلاک ہوگئی اور کورنگی کراسنگ پر معروف وکیل اور متحدہ کے رہنما را? شریف کے 4 دن کا نواسہ بھی ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔شہر میں طبی سہولیات کا فقدان ہے جو نامی گرامی اسپتال ہیں وہاں اتنا مہنگا علاج ہے کہ غریب آدمی کی تو چیخیں نکل جاتی ہیں‘ ناتجربہ کار طبی عملہ مریضوں کو انجکشن تو ایسے لگاتا ہے جیسے کسی جانور کو انجکشن لگاتے ہوں۔

پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے مہنگی فیس دے کر ڈگریاں حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کو ڈگری تو مل گئی ہے لیکن وہ تجربے مریضوں پر کرتے ہیں۔ نشوا اور عصمت کی ہلاکت جیسے واقعات روزانہ پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوتے ہیں اور منظر عام پر نہیں آتے۔ نشوا کی ہلاکت کے بعد دارالصحت اسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت سے 10 مریضوں کی ہلاکت کے کیس منظر عام پر آچکے ہیں۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر اسپتال کا نام دارالموت رکھ دیا ہے‘ سوشل میڈیا پر نیب حکام کو یہ بھی تجویز دی جارہی ہے کہ عوام کی رقم ہڑپ کرنے والے کرپٹ سیاستدانوں کو علاج کے لئے دارالصحت اسپتال لے آئیں‘ سچی باتیں کرنے لگیں گے۔ نشوا کی موت سے پہلے تو شہریوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سندھ ہیلتھ سروس کمیشن نام کا ادارہ بھی ہے۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر منہاج اے قدوائی کی سربراہی میں 3 رکنی وفد نے آئی جی سندھ کلیم امام سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

انہیں بتایا کہ سندھ بھر کے تمام اسپتالوں کے مختلف شعبہ جات میں شہریوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات کے معیار کو چیکنگ کا عمل کیا جارہا ہے جبکہ اتائی ڈاکٹروں کے خلاف بھی اقدامات کررہے ہیں۔آئی جی سندھ نے بھی صوبے بھر میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، ایک اندازے کے مطابق کراچی شہر میں 10 ہزار سے زائد اتائی ڈاکٹرز اپنے کلینک چلا رہے ہیں۔اتائی ڈاکٹرز کے کلینک مضافاتی علاقوں اور گوٹھوں میں ہیں۔سفید یونیفارم پہن کر کوئی بھی نرسنگ اسٹاف بن جاتا ہے جبکہ یہ اتائی ڈاکٹر زہر مریض کو رنگ برنگی گولیاں اور مخصوص سیرپ دے دیتے ہیں۔ سندھ ہیلتھ سروس کمیشن نے گزشتہ روز ڈیفنس کے علاقے میں بھی ایک اسپتال پر سرپرائز وزٹ کیا اور بنیادی سہولتوں کے فقدان پر اسپتال کو سیل کردیا۔ گلستان جوہر کا رہائشی محمد قیصر گزشتہ ہفتے اپنی جڑواں بچیوں 9 ماہ کی نشوا اور امیشہ کو ڈائریا کی تکلیف میں لے کر دارالصحت اسپتال پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں : سرپرائز قتل

اسپتال میں ایک دن علاج جاری رہنے کے بعد بچیوں کی حالت بہتر ہوئی تاہم والدین کے بچیوں کو گھر لے جانے کے اسرار پر اسپتال انتظامیہ نے ڈس چارج کرنے سے قبل علاج کے لئے نشوا کو انجکشن لگایا جس کے بعد بچی کے دل کی دھڑکن تیز اور اْسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ عملے نے اْسے فوری طور پر انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا۔اسپتال میں کئے گئے سی ٹی اسکین رپورٹ کے مطابق نشوا ذہنی طور پر مفلوج ہوگئی ہے جس کا علاج جاری ہے‘ بچی کے والد نے صحافیوں کو بتایا کہ پوٹاشیم کلورائیڈ کا انجکشن زائد مقدار میں اور غیر تربیت یافتہ عملے کی جانب سے لگائے جانے کی وجہ سے بچی کی یہ حالت ہوئی‘ کم تنخواہیں دینے کی وجہ سے اسپتال میں غیر تربیت یافتہ عملہ بھرتی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں جوانجکشن 24 گھنٹے میں وقفے وقفے سے لگایاجاتا ہے‘ وہ بچی کو ایک ساتھ لگادیا گیا جس کی وجہ سے بچی کی حالت خراب ہوگئی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق9 ماہ کی نشوا کو گیسٹروانٹ ئیٹس کی شکایت کا سامنا تھا‘ علاج کے لئے فوری طور پر عملے نے پوٹاشیم کلورائیڈ کا انجکشن لگایا‘ دل کی دھڑکن تیز وار سانس لینے میں دشواری ہونے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد نشوا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو نوکری سے معطل کردیا‘ تاہم اسپتال حکام نے یقین دہانی کرائی کہ نشوا کے علاج کے تمام اخراجات اسپتال اٹھائے گا۔ گلستان جوہر میں دارالصحت اسپتال میں زیر علاج 9 ماہ کی نشوا اسپتال انتظامیہ کی غفلت کے باعث ذہنی طور پر مفلوج ہونے کے بعد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوگئی۔بچی کے والد قیصر نے شارع فیصل تھانے میں اسپتال انتظامیہ کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 354/19 بجرم دفعات 34/337/324 درج کرایا جس میں اقدام قتل اور اعضاء￿ کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔بچی کے والد نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لئے ہر فورم پر جائیں گے تاکہ ایسا کسی اور کے ساتھ نہ ہوپائے۔ اسپتال انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ بچی کو غلطی سے انجکشن کی زیادہ ڈوز دی گئی ہے جس پر انہوں نے بچی کے علاج کے خرچ کی پیشکش کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ گئی جس کے باعث اس کی ح۔ ایسٹ انویسٹی گیشن پولیس نے نجی اسپتال میں 9 ماہ کی بچی نشوا کو غلط انجکشن لگائے جانے میں ملوث گرفتار کئے جانے والے ملزم آغا معیز کی نشاندہی پر ایڈمن انچارج شہباز اور نرسنگ انچارج عارف جاوید اور نرس صوبیہ بی بی کو گرفتار کرلیا‘ دیگر 4 ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔اسپتال مالک عامر چشتی کو تفتیشی افسر نے ایک اور نوٹس بھی بھیجا ہے‘ مگر وہ گھر پرموجود نہیں تھے۔

نرسنگ انچارج عاطف جاوید نے بتایا کہ میڈیکشن کی ذمے داری صوبیہ کی تھی اور صوبیہ نے انجکشن پر لیبل لگائے بغیر معیز کو دے دیا جبکہ انجکشن لگانا معیز کا کام نہیں تھا اور معیز نے بچی کو انجکشن لگادیا‘ لیبل نہ ہونے کے باعث انجکشن مکس اپ ہوگیا اور انجکشن بھی غلط طریقے سے لگایا گیا‘ سب سے بڑی غلطی صوبیہ کی تھی‘ یہ غفلت ان کی طرف سے ہوئی ہے۔ نرسنگ انچارج نے بتایا کہ جس روز یہ واقعہ ہوا‘ وہ ہفتہ وار تعطیل پر تھے اور یہ ایک انفرادی شخص کی غلطی ہے۔ ایڈمن انچارج احمد شہزاد کا کہنا تھا کہ ان کا اسپتال میں علاج کے معاملات سے کوئی سروکار نہیں اورمیری معلومات کے مطابق یہ واقعہ معیز کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ دوسری جانب صوبیہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سات‘ آٹھ ماہ سے اسپتال میں ملازمت کررہی ہے‘ وقوعہ کے روز وہ نائٹ شفٹ میں تھی‘ انجکشن لگانے والا معیز بھی نائٹ شفٹ میں تھا‘ اْسے صبح جاتے وقت سپروائزر نے روک لیا تھا کیونکہ دوسرا اسٹاف نہیں آیا تھا۔ صوبیہ کا کہنا تھا کہ اس روز صبح وہ فائل ورک کررہی تھی اور زیادہ تر مریضوں کو دوائیں اور انجکشن وغیرہ دے چکی تھی لیکن تین‘ چار مریض ابھی باقی تھے جنہیں دوائیں دینے کے لئے میں نے معیز کوکہا‘ میں نے انجکشن اور دوائیں بناکر رکھی ہوئی تھیں‘ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ معیز نے کون سا انجکشن لگایا اور کتنی مقدارمیں لگایا۔

تفتیشی افسر محمد سلیم کا کہنا تھا کہ دوران علاج نشوا کو 7 تاریخ کو کے سی ایل کا انجکشن لگایا گیا جوکہ ڈرپ میں لگنا تھا‘ لیکن اسپتال والوں نے ڈائریکٹ لگا دیااور جس نے انجکشن لگایا وہ نرس نہیں بلکہ مڈوائف ہے‘ جسے عام لفظ میں دائی کہتے ہیں‘ جس کانام ثوبیہ ہے اور وہ گرفتار ہے اور دوسرالڑکا معیز ہے‘ جس کا کام بیڈ کی چادریں وغیر تبدیل کرنا ہے‘ دونوں اسپتال میں نرس کا کام کررہے تھے‘ ان دونوں کے خلاف کارروائی ہورہی ہے‘ ثوبیہ نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ میں نے 10 سی سی کا انجکشن بھر کر معیز کو دیا اور کہا کہ یہ انجکشن ڈرپ میں لگائیں‘ لیکن ا س نے کینولا میں لگا دیا‘ جس سے نشوا کی حالت غیر ہوء ‘ تاہم ایک ہفتے موت وزیست کی کشمکش میں رہنے کے بعد غلط انجکشن سے متاثر ہونیوالی 9ماہ کی بچی نشوا زندگی کی بازی ہار گئی۔ ترجمان لیاقت نیشنل اسپتال کے مطابق دارالصحت اسپتال میں غلط انجکشن لگنے سے نشوا کا 71 فیصد دماغ مفلوج ہو۔گیاتھا بچی نشوا کے والد قیصرعلی نے کہا ہے کہ نشوا ہارگئی،ظلم جیت گیا، میری بیٹی نے بہت ہمت کی لیکن وہ ہار گئی‘ خداراسب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ کل کسی اور کی بیٹی نہ جائے۔ نشوا کے والد قیصرعلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میری بیٹی نے بہت ہمت کی لیکن وہ ہار گئی، میری بیٹی چلی گئی ہے۔قیصرعلی نے اپیل کی خداراسب مل کرآوازاٹھائیں تاکہ کل کسی اور کی بیٹی نہ جائے‘ کیااس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے حکام آتے رہیں گے مگرکارروائی نہیں ہوگی۔خبربنتی رہے گی‘تصویریں کھنچتی رہیں،ہوناکچھ نہیں، ہم یہاں کسی کوبچانہیں سکتے۔بعد ازاں نشوا کے والد نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا نشوا ہارگئی،ظلم جیت گیا۔9ماہ کی ننھی نشوا کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال کے مردہ خانے میں پونے 2گھنٹے تک جاری رہا جس میں نشوا کے جسم کے مختلف حصوں کے نمونے لیکر ڈاو ¿ یونیورسٹی کی لیبارٹری بھجوادیئے ہیں جس کی رپورٹ آئندہ تین روز تک موصول ہوجائیگی جس کے بعد میڈیکل بورڈ کے حکام وجہ موت جاری کریںگے، پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر قرار عباسی نے بتایا کہ 3 رکنی میڈیکل بورڈ پروفیسر فرحت مرزاکی سربراہی میں پوسٹ مارٹم کیاگیا تھا جس میں پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی اور ڈاکٹر سمیعہ طارق شامل ہیں، انھوں نے بتایا کہ بے بی نشوا کے دماغ اورجسم کے بعض حصوں کے نمونے لیکر ان کے کیمیائی تجزیئے (ہسٹوپیتھالوجی)کے لیے ڈاو ¿ یونیورسٹی کی لیب میں بھیج دیئے گئے ہیں

کیمیائی تجزیئے کی رپورٹ آنے کے بعد حتمی وجہ موت بتائی جاسکے گی، پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی نے کہا کہ غلط انجکشن لگنے سے جاں بحق ننھی نشوا کی میڈیکل ہسٹری ہی نامکمل ہے، لیاقت نیشنل اسپتال کی انتظامیہ نے میڈیکل رپورٹ میں زیرعلاج نشوا کی وجہ موت ظاہر نہیں کی، انھوں نے کہا کہ غلط انجکشن کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود میڈیکل لیگل رپورٹ تیار نہیں کرائی گئی،وجہ موت جانے بغیر ایف آئی آر درج ہوبھی تو ملزمان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ہوتی، قانونی ماہرین کے مطابق ننھی نشوا کا پوسٹ مارٹم 3رکنی بورڈ نے جناح اسپتال میں کیا ،عام طور پر زیرعلاج ہونے کے دوران جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا،نشوا کے گھر جاکر میت اور میڈیکل ہسٹری کی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے، اہل خانہ کو پوسٹ مارٹم کرنے پر راضی کیا گیا تھا، سندھ ہیلتھ کیئرکمیشن نے نشوا کی جان کی قیمت 5لاکھ روپے مقرر کردی۔ نشوا غفلت قتل کیس میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ کی روشنی میں واقعے کا ذمہ دار صرف2افراد کو ٹھہرایا گیا جس میں میل نرس آغا معیز اور مڈ وائف ثوبیہ پر غفلت کی ذمہ داری ڈال دی گئی۔ دارالصحت اسپتال پر5لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نشوا کو ڈائریا کی شکایت پراسپتال لایا گیا‘ مڈ وائف ثوبیہ اور میل نرس آغا معیز نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے،نشوا کو پوٹاشیم کلورائیڈ کا غلط انجکشن لگایا، غفلت برتنے پر دارالصحت اسپتال پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ،جبکہ اسپتال کوغیر تربیت یافتہ عملہ فوری طور پر معطل کرنے اور انتظامی اور کلینیکل معیار کو بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ رپورٹ میں مڈوائف ثوبیہ اورنرسنگ اسسٹنٹ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور عملے کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے کی ہدایت سمیت یہ انکشاف بھی کیا گیا دارالصحت اسپتال کے 160 میں سے صرف 70 طبی عملے کے افراد تربیت یافتہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے حکم پر ہیلتھ کئیر کمیشن کی ٹیم چیئرمین ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے ہمراہ پہنچی اور اسپتال کی او پی ڈٰ کو سیل کردیا گیا۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا ہے کہ اسپتال میں نئے داخلوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم جو مریض زیر علاج ہیں انکا علاج جاری رہے گا۔واضح رہے کہ کمیشن ننھی نشوا کے علاج کے دوران اسپتال کے عملے کی غفلت سامنے آئی تھی جس کے بعد ننھی نشواکی موت واقع ہوگئی تھی اور اس سلسلے میں اسپتال کے حوالے سے تفتیش کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا اور سندھ حکومت کے احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی جانب سے اسپتال کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ اسپتال میں غیر تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے ،80 سے زائد غیرتربیت یافتہ عملے کی نشاندہی ہوئی ہے،سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم دارالصحت اسپتال کو سیل کرنے پہنچا توسندھ حکومت کے فیصلے کا اسپتال کے باہر موجود تیمارداروں نے خیر مقدم کیا، انکا کہنا تھا کہ مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کے لئے حکومت وقت دے،تیماردار حکومت اس طرح کے اسپتالوں کو جلد از جلد سیل کرے، دارالصحت اسپتال والے او پی ڈی کا صرف400 روپے مانگتے ہیں،یہاں انفکیشن کے مریضوں کو وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا جاتا رہا ہے،اسپتال کے چند شعبہ جات سیل ہونے کے بعد اسپتا ل کے مالک اور انتظامیہ کے حکم پر دارلصحت اسپتال کے عملینے احتجاج کیامظاہرین کا کہنا تھا کہ اسپتال کو بند کرنے سے00 12 ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے ،دارالصحت اسپتال کے وائس چیئرمین ڈاکٹر علی فرحان رضی نے موجودہ صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا اسپتال انتظامیہ دکھ کی گھڑی میں نشوا کے اہل خانہ کے ساتھ ہے ،اسپتال انتظامیہ ہیلتھ کئیر کمیشن کے احکامات پرمکمل عملدرآمد کررہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ہیلتھ کئیر کمیشن پر عدم اعتماد اور اسپتال کو سیل کرنے کی بات قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ،اسپتال کو سیل کرنے کا مطلب صوبے میں نجی طبی مراکز کے سسٹم کو ختم کرنے کے مترادف ہے ، وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اسپتال کو سیل کرنے کے احکامات واپس لیں۔اسپتال کے مختلف واڈز میں چالیس پچاس سے زائد مریض موجود ہیں ،۔ابراہیم حیدری کا رہائشی کارپینٹر بابو ماہی گیروں کی کشتیاں بنانے کا کام کرتا ہے۔ اس نے دن رات کرکے اپنی 5 بیٹیوں اور 2 بیٹوں کو اچھی تعلیم دلوائی بابو کی بیٹی عصمت خانجو نے گریجویٹ کرنے کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھی‘ 18 اپریل کو دوپہر عصمت نے دانت کی تکلیف میں علاج کے لیے اسپتال گئی اور ٹی بی کنٹرول سینٹر گئی ‘ وہاںماہر امراض ناک ‘ کان‘ گلاڈاکٹر ایاز موجود تھے‘ تھوڑی دیر عصمت وہاں بیٹھی ‘ ڈاکٹر نے دانت کے درد کے علاج کیلئے سیفٹرو یازوں نامی انجکشن لکھ کر دیا‘ عصمت انجکشن لگوانے کیلئے ایمر جنسی میں جانے کے بجائے ٹی بی کنٹرول سینٹر میں ڈسپنسر شاہ زیب کے پاس چلی گئی‘ جہاں انجکشن لگنے سے اس کی حالت خراب ہوگئی‘ اسٹریچر پر ڈال کر عصمت کو ایمر جنسی وارڈ منتقل کیا‘ جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی‘ عصمت کی موت کی اطلاع اہل خانہ کے احتجاج پر عوامی کالونی پولیس نے متوفیہ کے بھائی غلام رسول کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے پولیس کے فوکل پرسن ایس ایس پی ڈاکٹر فرخ رضا نے بتایا کہ تینوں زیر حراست ملزمان کے نمونے حاصل کر لئے گئے ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ مقتولہ کے اہل خانہ نے ڈاکٹر ایازعباسی اور ڈاکٹر شکیل پر شک ظاہر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عصمت ماضی میں ان دونوں ڈاکٹروں کے ساتھ 2 اسپتالوں میں نوکری کرچکی ہے،دوسری جانب سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی کی جانب سے حکام کو بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈس اسپتال کی انسداد ٹی بی کی ٹیم سندھ گورنمنٹ اسپتال میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور عصمت خانجو انسداد ٹی بی پروگرام کی سابقہ ملازمہ تھی‘18 اپریل دوپہر 1:30 بجے عصمت دانت کے درد کے لیے ڈاکٹر ایاز کے پاس آئی‘ڈاکٹر ایاز حسین ماہر امراض ناک کان گلا ہیں

عصمت نے دانت کے درد کے لیے سیفٹریازوں نامی انجکشن لگانے کی درخواست کی جو وہ پہلے بھی لگواتی تھی‘ڈاکٹر ایاز نے اسے یہ انجکشن لکھ کر ایمرجنسی میں لگوانے کا کاکہا، عصمت ایمرجنسی میں جانے کی بجائے ٹی بی لیب میں فرسٹ فلور پر چلی گئی،شاہ زیب نامی لڑکے نے وہاں پہلے 10 ایم ایل انجکشن لگایا ، اس کے 10 منٹ بعد پھر سے 5 ایم ایل انجکشن لگایا‘ جس کے بعد اس کی طبیعت بگڑی،اسے فوراً سے ایمرجنسی میں لے جایا گیا، اِیمرجنسی ڈاکٹر نے دل کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا،جب دل کے وارڈ میں لے کر گئی تب تک اس کی موت ہوچکی تھی۔ گرفتار کمپاوڈر شاہ زیب نے بتایا کہ عصمت این جی او کے تحت کورنگی نمبر5 میں ہمارے ساتھ سرکاری اسپتال میں ملازمت کرتی تھی‘ 2 ماہ قبل اس نے نوکری چھوڑ دی تھی‘ جمعرات کی دوپہر وہ اسپتال آئی اور مجھ سے کہا کہ اسے دانت میں شدید در د ہے‘ میں نے کہا اس وقت ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ایاز بیٹھے ہیں‘ ان سے چیک ا پ کروا? وہ چیک اپ کرا کر واپسی آئی اسے انجکشن لگایا تو اس کی اچانک طبیعت بگڑنے لگی‘ اسے فوری طورپر اسٹریچرپر ڈال کر ایمر جنسی لے گئے تو ڈاکٹروں نے چیک اپ کرنے کے بعد بتایا کہ اس کا انتقال ہوگیاہے‘ ملزم شاہ زیب نے بتایا کہ وہ اسپتال میں ٹیکنیشن کی حیثیت سے ملازمت کرتا ہے‘ میرے پاس کمپاوڈر کی سند بھی موجود ہے ‘ ایک سوال کے جواب میں ملزم نے بتایا کہ متوفیہ ہمارے ساتھ ہی پہلے نوکری کرتی تھی‘ ڈاکٹر نے جو انجکشن لکھ کر دیا‘اس سے موت ہوء ہے‘ ملزم نے بتایا کہ انجکشن لگانے سے قبل عصمت کافی دیر تک ڈاکٹر ایاز کے پاس بیٹھی رہی ‘ وہاں کیا ہورہا تھا‘ ہمیں نہیں معلوم جب اس ایمرجنسی وارڈز سے اوپر آیاتو ڈاکٹر ایاز اپنے روم سے غائب تھا۔

یہ بھی پڑھیں : دارالصحت اسپتال سیل کرنے پر دو گروپ آمنے سامنے

پولیس کے مطابق شاہ زیب متضاد بیان دے رہا ہے‘ کبھی کہنا ہے مجھے معلوم تھا کہ مقتولہ کو زہر پلاپر انجکشن دیاگیا‘ کبھی منع کرتا ہے ‘ مجھے کچھ نہیں معلوم ‘ مقدمے کے مرکزی ملزم ڈاکٹر ایاز نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروالی ہے‘ مقدمے میں نامزد ڈاکٹر ایاز کو جناح اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا ، اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس کے ساتھ ڈاکٹر ایاز اسپتال آئے تھے جہاں انکا ڈی این اے حاصل کرنے کے لئے خون کے نمونے لے لئے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عصمت کی خالہ نے بتایا کہ ابھی تک اصل ملزم کو گرفتار نہیں کیاگیا‘ ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں‘ عصمت کے اہل خانہ کے مطابق عوامی تھانے کے تفتیشی اہلکاروں کے توسط سے کیس سے دستبرداری اور سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں‘نیشنل کمیشن فارہیو من رائٹس کے نمائندے انیس ہارون کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی غفلت کے قصے تو اکثر سنتے ہیں‘ مگر اس گھنا?نے فعل نیسرندامت سے جھکا دیاہے‘ اسی اسپتال میں عصمت کو ایک سال قبل ہراساں کیا گیاتھاکہ جس کے بعد اس نے اسپتال سے استعفیٰ دے دیاتھا۔عصمت کے پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم نے بتایا کہ عصمت سے زیادتی کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نعش کی بے حرمتی بھی کی گئی ہے۔ اہل خانہ کے احتجاج پر مقدمے کی تفتیش ابراہیم حیدری تھانے منتقل کردی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ‘ صوبائی وزیر صحت کے ہمراہ متوفیہ عصمت خانجو کے گھر گئے۔ انہوں نے کہا کہ عصمت کے اہل خانہ سے تعزیعت کی۔ دوسری طرف عصمت قتل کے خلاف ابراہیم حیدری کے رہائشیوں نے احتجاج کیا اور قتل کے خلاف احتجاجی طور پر ابرہیم حیدری میں دکانیں اور کاروبار بند رکھا ، واقعے کے خلاف احتجاج فشر فوک فارم کے تحت کیا گیا ، احتجاجی ریلی میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

چیئرمین فشر فوک فورم محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ، ڈاکٹر ایاز نے پولیس کی ملی بھگت سے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ایاز کی ضمانت منسوخ کر کے اسے گرفتار کیا جائے ، واضح رہے کہ عصمت پانچ بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھی اور بی ایس سی کر رہی تھی ساتھ ہی لینگویج کورس بھی کر رہی تھی،عصمت گھر کی واحد کفیل بھی تھی پورے گھر کی ذمہ داری عصمت پر ہی تھی۔کورنگی بلال کالونی میں عصمت کی ہلاکت کے بعد مبینہ طورپر غلط انجکشن لگنے سے 4 سالہ بچی رضیہ جاں بحق ہوگئی۔ 4 سالہ رضیہ کو خسرہ میں بخار تیز ہونے پر مقامی کلینک منتقل کیا گیا تھا۔ورثاء کے مطابق ڈاکٹر کے غلط انجکشن لگنے سے بچی کی موت واقع ہوگئی۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر نے بچی کو سیپوٹیکس کا انجکشن لگایا جس سے اس کی حالت مزید خراب ہوتی چلی گئی اور بچی زندگی کی بازی ہار گئی۔ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث ڈاکٹر عمران کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی4سالہ رضیہ کے والدین نے ڈاکٹر عمران کے خلاف قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے ، متوفیہ کے والد کے مطابق ڈاکٹر عمران کا نام غصے میں لے لیا تھابچی چار پانچ روز سے شدید بیمار تھی، پولیس نے بتایا کہ ڈاکٹر عمران کا بیان قلمبند کرلیا ہے پولیس کے مطابق بچی کے والدین کی شکایت کے بعد ہی ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا تھا ڈاکٹر کی ڈگری اور دیگر دستاویزات چیک کروارہے ہیں غلط انجکشن لگانے کے باعث جاں بحق ہونے والی کمسن بچی کے باپ نے ڈاکٹر عمران کو معاف کردیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران کا بیان قلمبند کرلیا ہے‘ ڈاکٹر عمران کو ریلیز کیا جارہا ہے جب والدین کارروائی نہیں چاہتے تو پولیس کے پاس بھی کوئی جواز نہیں، تھے ،بچی کے والدین کی شکایت پر ہی ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا تھا۔رضیہ کی ہلاکت کے بعد گزشتہ روز کورنگی کراسنگ بھٹائی کالونی کے رہائشی متحدہ کے رہنما را? شریف ایڈووکیٹ کی بیٹی کے ہاں 5 سال بعد بیٹے کی ولادت ہوئی۔ 4 دن کا نومولود موسیٰ بھی کورنگی ڈیڑھ نمبر کے اسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت سے ہلاک ہوا۔ را? شریف نے نواسے کی ہلاکت کا مقدمہ ڈاکٹروں کے خلاف درج کروانے کے لئے تھانے سے رابطہ کرلیا‘ تادم تحریر گلستان جوہر کے ایک اور پرائیویٹ اسپتال میں معصوم بچی کو غلط انجکشن لگنے سے حالت خراب ہوگئی تھی‘ بچی کے والدین نے اسپتال کے باہر ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔

(175 بار دیکھا گیا)

تبصرے