Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پھروہی پرانا پاکستان

قومی نیوز پیر 22 اپریل 2019
پھروہی پرانا پاکستان

پی ٹی آئی خصوصا ًعمران خان نے الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان کے عوام کو نیا نعرہ دیا نیا پاکستان نیا نعرہ یہ بھی تھا کہ ہم تبدیلی لائیں گے پھر خود بھی کہا کہ تبدیلی آنہیں رہی ہے تبدیلی آگئی ہے، عمران خان کے اس نعرے کے سبب پی ٹی آئی حکومت کو تبدیلی سرکار کا خطاب مل گیا لیکن پی ٹی آئی اپنی حکومت کے 8 ماہ میں ملک میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکی البتہ تبدیلی سرکار خود تبدیل ہو گئی نیا پاکستان کا نعرہ بھی عملی جامہ نہ پہن سکا اور صرف 8 ماہ بعد ہی پھر وہی پرانا پاکستان عمران خان نے پی ٹی آئی کے جن لوگوں کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا اور الیکشن میں کامیابی حاصل کی اس ٹیم کے تمام اہم کھلاڑی عمران خان نے گھر بھیج دیئے

آج عمران خان اپنی اس ٹیم کو گھر بھیج کر پرانی ٹیم سامنے لے آئے ہیں یہ پرانی ٹیم پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور پرویز مشرف کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور اب عمران خان اس پرانی ٹیم کے ساتھ ایک بار پھر نیا پاکستان بنانے کی کوشش کریں گے ، عمران خان نے ٹیم کی تبدیلی کے بعد انتہائی دلچسپ بیان دیا ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کو کابینہ یا حکومت میںجو ملک کیلئے فائدہ من ہوں گے، کیا زبردست بات ہے اب ملک کو فائدہ پہنچانے کیلئے انہوں نے سابقہ حکومتوں کے وزراء اور مشیران کو رکھ لیا ہے اگر یہ ہی ملک کیلئے فائدہ من ہیں تو پھر ان کی سابقہ حکومتوں میں کیا خرابی تھیجس میں وہ کام کرتے رہے ہیں جن وزراء کو ان کی نااہلی پر نکالا گیا ہے اگر وہ ملک کیلئے فائدہ مند ہیں تھے تو ان کو رکھا کیوں تھا 8 ماہ کے اقتدار میں ان وزراء نے ملک کو نقصان پہنچایا، اس کا ذمہ دارا کون ہے کپتان نے اس ملک کو فائدہ نہ پہنچانے والی ٹیم کا انتخاب کیوں کیا، اس میں ٹیم کے کھلاڑیوں کا کم اور کپتان کا زیادہ قصور ہے اور اب یہ کہ 8ماہ بعد آنیوالی نئی ٹیم کتنی اہل ہے اور کتنا ملک کو فائدہ پہنچا سکے گی ملک کو آخر کب تک تجربوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا

اس نئے تجربے کی بنیاد پر بھی پی ٹی آئی عمران خان کو حکومت دی گئی تھی کہ سابقہ حکمرانوں خصوصاً پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) نے ملک کو نقصان پہنچایا اس لئے اب نئے تجربے اور نئی قیادت کو آزمایا جائے سب نے اس بات کو مانا اور نئی جماعت نئی قیادت عمران خان کو موقع دیا صرف 8ماہ میں ہی یہ تجربہ غلط ثابت ہوا، جس کا ثبوت خود عمران خان نے اپنی ٹیم کو تبدیل کرکے دیا ہے اور اب پھر وہی پرانا پاکستان پرانے پاکستان کی ان حکومتوں کے وزراء عمران کان کی ٹیم کا حصہ ہیں جن سے عمران خان کبھی نہ ملے نہ دیکھا، خصوصاً مشیر خزانہ حفیظ شیخ جن کو عمران خان جانتے تک نہیں ہیں اور جس کو قریب سے جانتے تھے اسد عمر جو 8سال سے ان کے ساتھ تھے اور ملک کی معیشت کے بارے میں ان کی سوچ اور تجربے کے عمران خان گن گاتے تھے آج جب اسد عمر کو تبدیل کیا گیا تو آخر وقت تک اسدعمر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں واقعتا تبدیل کیا جارہا ہے ان کو ہٹائے جانے سے ایک روز قبل جب کسی صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ان کو ہٹایا جارہا ہے تو انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ مصرعہ پڑھاتھا
کہ ہزاروں خواہشیں ایسی ؟

یہ بھی پڑھیں : ابھی نندن کو ۔۔۔ ابھی کیوں چھوڑا

اسد عمر کی لاکھ خرابیوں کے باوجود وزرات چھوڑنے پر انہوں نے جوکر دکھایا ہے کہ وزیر اعظم سمیت دیگر وزراء کی تمام کوششوں کے باوجود انہوں نے کوئی اور وزرات لینے کی پیش کش مسترد کردی اور گھر جانا قبول کیا ورنہ فواد چوہدری اور دیگر وزراء نے نااہلی پر وزرات سے ہٹائے جانے کے باوجود بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق جو وزرات بھی ملی اسے قبول کیا، اور ہر حال میں وزرات سے چمٹا رہنا ضروری سمجھا ۔

عمران خان کابینہ کے ایک اہم وزیر پرویز خٹک نے نئی ٹیم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی حالات میں مشکل لگتا ہے کہ نئی ٹیم ڈیلیور کرسکے گی، کابینہ میں تبدیلی خصوصاً اسد عمر کو ہٹائے جانے پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا تبصرہ دلچسپ ہے انہوں نے کہا ہے کہ اسد عمر حکومت کا دماغ تھے اب خالی کھوپڑی کب تک چلے گی واضح رہے کہ سراج الحق اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کے سب سے زیادہ قریب رہی ہے5سال کے پی کے میں دونوں کی اتحادی حکومت رہی ہے بلکہ سراج الحق کو سینیٹر بنوانے میں پی ٹی آئی کا اہم کردار ہے ورنہ جماعت اسلامی کے پاس اتنے ووٹ نہیں تھے کہ وہ سینیٹر بن سکتے، سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی جو پی ٹی آئی کے اہم مرکزی رہنما ہیں دھرنے میں عمران خان کے ساتھ ساتھ تھے ان کا تازہ بیان یہ ہے کہ 4ماہ بعد عمران خان کے پاس وزرات عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ مانگے تانگے کے لوگوں کے ساتھ جنگیں نہیں لڑی جاتی

نئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے ملازم ہیں ہمارے خیال میں جاوید ہاشمی نے 4ماہ بھی زیادہ بتادیا ہے کہ ابھی سالانہ بجٹ سر پر ہے اب دیکھنا ہے کہ بجٹ کیسا آتا ہے گزشتہ 8ماہ میں جتنی مہنگائی بڑھی ہے کیا اس تناسب سے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہ بھی بڑھائے گی اگر حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ کیا تو وہ کیسے گزارا کریں گے ، پھر وہ کرپشن نہیں کریں گے تو کیا کریں گے پولیس کی کرپشن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پولیس والے رشوت نہ لیں تو کیا کریں ان کی تنخواہ انتہائی کم اور ڈیوٹی سخت اور زیادہ ہوتی ہے یہ ہی حال ہے سرکاری ادارے کا ہے عمران خان اپنے پرانے اور جدوجہد میں ساتھ رہنے والے ساتھیوں کو خیر آباد کہہ کر اب پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور پرویز مشرف کی ٹیموں کے کھلاڑیوں کو آگے لائے ہیں فردوس عاشق اعوان جو پیپلز پارٹی کے دور میں بھی اطلاعات کی ناکام وزیر تھیں اب عمران خان کی ٹیم کا حصہ ہیں

پنجاب میں وزیر اطلاعات کا منصب پیپلز پارٹی دور کے صمصام بخاری کے پاس ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ پنجاب کے پی کے میں بھی بڑی تبدیلی آنیوالی ہے پنجاب کے جس وزیر اعلیٰ کی عمران خان تعریفیں کرتے نہیں تھکتے وہ عمران خان کی تمام حمایت کے باوجود اب تک کچھ ڈیلیور نہیں کر سکے ہیں کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں عثمان بوزدار نام کے و زیر اعلیٰ ہیں اصل کام کئی اہم شخصیات ہیں جو ڈمی وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کررہی ہیں یہ ہی حال کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کا ہے وزیر اعلیٰ عمران خان ملک کو بھی کرکٹ کا کھیل سمجھ رہے ہیں اور کرکٹ کی طرح ملک کو چلا رہے ہیں لیکن یہ 22کروڑ لوگوں کا ملک ہے 11کھلاڑیوں کی ٹیم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ بمقابلہ سیاسی قائدین

اعظم سواتی جیسے لوگوں کو دوبارہ وزیر بنانے کا کیا مقصد ہے سپریم کورٹ نے ان کے بارے میں جو ریمارکس دیئے تھے اس کے بھی ان کو وزیر بنانے کا کیا جواز ہے ، سپریم کورٹ سے نااہل ہونیوالے جہانگیر ترین کو حکومت حکومتی امور میں اہمیت دینا کابینہ کے اجلاس میں بٹھانے کا کیا مقصد ہے

ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ عمران خان اپنی 22 سالہ سیاسی جدوجہد میں 22ایسے کھلاڑی پیدا نہیں کرسکے جو ان کی حکومتی ٹیم میں شامل ہو کر ان کی مدد کرسکیں، عمران خان کے جو اپنے چند لوگ تھے ان کو بھی ہٹا دیا گیا اور اب پوری ٹیم پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) پرویز مشرف کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے کابینہ کے اہم قلمدان غیر منتخب لوگوں کو سونپ دیئے گئے ہیں جو پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہیں عمران خان روز ایک نیا تجربہ کررہے ہیں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جو ملک کیلئے فائدہ مند نہیں ہوگا اس کو ہٹا دونگا ، اگر ان کو بعد میں پھر ہٹانا ہے تو پھر لگایا ہی کیوں ہے اپوزیشن خصوصاً نواز شریف کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں حکومت کے خلاف کسی قسم کی احتجاجی تحریک چلانے یا حکومت گرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ اپنے دشمن آپ ہیں اپنی حرکتو ں سے خود ہی گر جائیں گے ہم حکومت گرانے کا الزام اپنے سر کیوں لیں، مریم اورنگزیب کا تازہ بیان یہ ہے کہ ابھی تو اپوزیشن نے بائولنگ ہی نہیں کرائی کہ آدھی ٹیم صفر پر آئوٹ ہوگئی عمران خان کا یہ نعرہ بھی سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہورہا ہے کہ گھبرانا نہیں چاہے کچھ ہو جائے گھبرانا مت پہلے لوگ اسے مذاق میں لیتے تھے لیکن اب سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ آخر کب تک نہ گھبرائیں اب رمضان المبارک کا مہینہ آنیوالا ہے عید الفطر بھی آئیگی پھر عید قربان بھی لوگ پریشان ہیں رمضان میں مہنگائی کا کیا عالم ہوگا لوگ عید کیسے منائیں گے عید قربان پر قربانی کرنے کے بجائے خود قربان ہونے کی نوبت آجائیگی

عمران خان اور پی ٹی آئی والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن(ن) پر کرپشن ، چوری، ڈکیتی کے الزامات لگاتے رہے ہیں اور ان ہی نعروں پر انہیں حکومت ملی لیکن اب ان ہی دونوں جماعتوں کے لوگوں کو انہوں نے اپنی حکومت کا حصہ بنا لیا ہے، اور انہیں انتہائی اہم عہدے دیدیئے ہیں ، پیپلز پارٹی کے رہنماء مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی کشتی میں سوراخ ہو چکا ہے، پی ٹی آئی سندھ کے ایک رہنما جو (ن) لیگ اور (ق) لیگ میں تھے (ق) لیگ کے کوٹے پر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر بھی رہے ۔حلیم عادل شیخ نے ورکرز کنونشن سے خطاب میں دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے شوکت خانم اسپتال کے معاملے میں اپنے والد سے استعفیٰ لے لیا تھا اس کے بعد تو کہنا فضول ہوگا جو شخص اپنے والد سے استعفیٰ لے سکتا ہو وہ اور کیا کر سکتا ہے لیکن عوام سے پھر بھی یہ ہی کہا جائیگا کہ گھبرانا مت ، اس لیئے نیا پاکستان بنانا ہے اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے نیا پاکستان بنانے کیلئے پرانے پاکستان کی کرپٹ جماعتوں کے لوگوں کو شامل کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔

(298 بار دیکھا گیا)

تبصرے