Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ٹیکس دہندگان سے مزید ساڑھے 12 کھرب سمیٹنے کا پلان

ویب ڈیسک هفته 20 اپریل 2019
ٹیکس دہندگان سے مزید ساڑھے 12 کھرب سمیٹنے کا پلان

اسلام آباد … حکومت نے آئی ایم ایف کو سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس ریجیم کے نفاذ کی تحریری یقین دہانی کرادی جس کے نتیجے میں وسط مدتی معاشی اصلاحات کے عمل کے نتیجے میں آئندہ 3 سال کے لئے صوبائی اور وفاق کی حکومت کو مزید ساڑھے 12 کھرب اضافی ٹیکس وصول ہوسکیں گے۔

اس اضافی متوقع وصولیوں کی بلحاظ جی ڈی پی شرح 2.6 فیصد ہوگی۔ وفاقی حکومت کے ٹیکسز میں 2.3 فیصد کی شرح سے 10 کھرب روپے کا اضافہ ہوگا۔ آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانی کے تحت پہلے سال 2019-20ء میں وفاقی حکومت کے ٹیکسز میں 1.1 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوگا۔

2020-21ء میں 0.9 فیصد اور 2021-22ء میں محاصل 0.3 فیصد کی شرح سے بڑھائے جائیں گے۔ صوبائی حکومتوں کے ٹیکسز میں سالانہ 0.1 فیصد کی شرح سے متواترسالانہ اضافہ کیاجاتا رہے گا۔ یعنی 2019-20ء میں 1.3 فیصد سے بڑھا کر اگلے 3 سال میں 1.6 فیصد تک لے جایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : مندی کے بادل چھٹ گئے‘ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

علاوہ ازیں ٹیکس مراعات اور چھوٹ میں بھی بتدریج کمی لائی جائے گی جس کے بعد انکم ٹیکس‘ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے قانون میں ترامیم اور تبدیلیاں لائی جائیں گی‘ تاکہ اس کی ہیئت بدل کر ایک واحد (سنگل) سیلز ٹیکس ( ویلیو ایڈڈ ٹیکس) کی شکل دی جاسکے۔

ڈان اخبار نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف نے اتفاق کیا ہے کہ مجموعی وفاقی ریونیو کو پہلے مالی سال 2019-20ء میں جی ڈی پی کی شرح میں 1.1 فیصد کے اضافے کے ساتھ بڑھایا جائے گا جس کے نتیجے میں اس میں (0.4فیصد) 175 ارب روپے سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے بیسز کے تحت آئیں گے جبکہ مذکورہ سال ٹیکس رعایتیں ختم کرنے سے (0.3 فیصد) 130 ارب روپے وصول ہوسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : استعفیٰ منظور‘ حفیظ شیخ مشیر خزانہ مقرر

حکومت ٹیکس اضافے کے ساتھ ساتھ ایسے ودہولڈنگ ٹیکسز بھی واپس لے گی جن کی وجہ سے بینکوں کے لین دین میں صارفین کی ترغیبات متاثر ہورہی ہیں۔ علاوہ ازیں کارپوریٹ ٹیکس کو منجمد کرنے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی بھی بات کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق حکومت ایک جانب ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکس مراعات ختم کرنے کی تحریری یقین دہانی کرارہی ہے تاکہ ان دستاویزات کی بنیاد پر آئی ایم ایف قرض دے سکے اور دوسری جانب ٹیکس چوروں کو ایمنسٹی کی ترغیب دی جارہی ہے جو پالیسی میں کھلے تضاد کی عکاس ہے۔

(1484 بار دیکھا گیا)

تبصرے