Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 26  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سرپرائز قتل

عارف اقبال جمعه 19 اپریل 2019
سرپرائز قتل

22 مارچ جمعہ کی صبح فجر کے وقت پٹیل پاڑہ بجلی گرائونڈ جہانگیری مسجد کے قریب واقع گلفام خان کی اوطاق سے دھواں نکلتا دیکھ کر محلے میں شور مچ گیا۔ گلفام خان کے بیٹے اور خاندان کے لوگ جمع ہوگئے۔ تنگ گلی کی وجہ سے فائر بریگیڈ گلی میں نہیں آسکی تاہم محلے والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھائی‘مکان سے انسانی گوشت جلنے کی بُو آرہی تھی‘ کمرے میں گلفام کی بیٹی شمائلہ ‘ اس کا 9 سالہ بیٹا صفوان اور ساڑھے 3 سالہ بیٹی انیسہ رہائش پذیر تھے۔ معصوم بچوں اور ان کی ماں کی نعشیں جل کر کوئلہ ہوگئی تھیں‘ متوفیہ شمائلہ کے کزن اکمل ‘بھائی فرحان اور فلاحی ادارے کے رضاکاروں نے کمرے سے سوختہ نعشیں نکال کر ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال پہنچائیں۔

ماں اور 3 بچوں کے جلنے کی اطلاع پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ شمائلہ کا سسرال بھی اس کے میکے کے سامنے تھا‘ گلی میں شور مچ جانے کے باوجود شمائلہ کی ساس گھر سے باہر نہیں نکلی‘ تاہم دوسری گلی میں رہائش پذیر اس کا دیور نادر پہنچ گیا تھا۔ شمائلہ کے والدین اور بھائیوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا‘ سول اسپتال کے مردہ خانے میں شمائلہ کے دیور نادر اور اس کے سالے نے جو خود کو اینٹی کرپشن کا اہلکار ظاہر کررہا تھا‘ وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کو تصاویر بنانے سے روک دیا۔ اسپتال میں لیڈی ایم ایل او نہیں تھی‘ اس کو پہنچنے میں وقت درکار تھا‘ شمائلہ کے سسرال والے اس کے بھائیوں کو سمجھانے لگے کہ حادثے میں بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایم ایل او آئے گا تو نعشوں کی چیڑ پھاڑ کرے گا‘ شمائلہ کے بھائی اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھے‘ اسی لئے انہوں نے بھی نعشوں کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا اور نعشیں بغیر پولیس کارروائی کے لے گئے۔ جمشید کوارٹر پولیس بھی موقع پر پہنچی‘ پولیس نے مکان کا معائنہ کیا تو کمرے کی وائرنگ بالکل ٹھیک تھی‘ کمرے میں گیس کا کنکشن نہیں تھا‘ آگ لگی کیسے؟ یہ معمہ بنا ہوا تھا۔ شبہ ہوا کہ کمرے میں مچھر مار کوائل جل رہی تھی اس سے بستر میں آگ لگ سکتی ہے‘ پھر کسی نے کہا کہ چارجنگ بیٹری چارج ہورہی تھی وہ گری ہے تو شارٹ سرکٹ ہوا ہے‘ جتنے منہ ا تنی باتیں کچھ لوگوں نے کمرے میں جھانکا تو پیٹرول کی بُو آنے کا بھی شبہ ظاہر کیا تاہم سب سے پہلے جس شخص نے کمرے سے دھواں نکلتا دیکھا تھا‘ اُس کا کہنا تھا کہ کمرے کا گلی میں کھلنے والا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا‘ شمائلہ کے اہل خانہ شدید صدمے میں تھے۔

شمائلہ کا شوہر جنیدملائیشیا گیا ہوا تھا‘ وہ گزشتہ 9 سال سے ملائیشیا میں ملازمت کررہا تھا‘ اس کا سسرال بھی گھر کے سامنے تھا جہاں اس کی ساس نسرین‘ سسر سلیم رہائش پذیر تھے۔ سسر سلیم خان میڈیسن کمپنی میں کام کرتا تھا‘ لیکن آنکھوں کی بینائی چلی گئی اس لئے گھر پر رہتا تھا۔ جنید کی 3 بہنیں شادی شدہ‘ ایک بھائی نادر میڈیسن کمپنی میں کام کرتا ہے‘ وہ محلے میں ہی رہائش پذیر تھا جبکہ چھوٹے بھائی عمیر نے ایم بی اے کیا ہوا تھا اور وہ آئرلینڈ میں مقیم ہے۔ماں اور 2 بچوں کی ہلاکت کے بعد ان کی نماز جنازہ گھر کے قریب واقع بجلی گرائونڈ میں ادا کی گئی‘ اس کے بعد تدفین لیاقت آباد سی ون ایریا قبرستان میں ہوئی۔ جنازے اور تدفین میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی تھی‘ معصوم صفران اپنے خاندان کا لاڈلہ تھا‘ وہ سبیل والی مسجد کے قریب اسلامک ایجوکیشن سسٹم میں زیر تعلیم تھا‘ تیسری جماعت کا امتحان دیا تھا‘ اس نے اپنی ماں سے کہہ دیا تھا کہ اگر میں نے پوزیشن لی توپاپا سے موبائل فون گفٹ لوں گا‘ اس کی موت کے تیسرے دن اس کا نتیجہ آیا تو اس نے 93 فیصد نمبر حاصل کرکے اے ون گریڈ حاصل کیا تھا

یہ بھی پڑھیں :ببلو گروپ کو نالہ نگل گیا

گھر میں اس کا رپورٹ کارڈ آیا تو اس کے ماموں اور رشتے دار رپورٹ دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جبکہ صفوان کی بہن انیسہ عائشہ اکیڈمی میں زیر تعلیم تھی‘ جنازے میں دونوں بچوں کے اساتذہ اور ساتھی طالب علم بھی شریک تھے۔لیاقت آباد سی ون ایریا قبرستان میں شمائلہ کے پہلو میں دونوں بچوں کی تدفین بھی ہوئی۔تدفین کے بعد قبرستان میں لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے لگے اور ماں 2 بچوں کے معاملے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے یہ بات ہونے لگی کہ ماں 2 بچوں کو جلایا گیا ہے۔ کمرے سے پیٹرول کی بُو آنا اور گلی والا دروازہ کس نے کھولا‘ شمائلہ تو بچوں کے ساتھ دروازہ بند کرکے سوتی تھی‘ وہ تمام دن ماں کے گھر میں رہتی تھی‘ کمرے میں صرف سونے کے لئے آتی تھی‘ جب باتیں شمائلہ کے گھر والوں نے سنیں تو اُن کو بھی یقین ہوگیا کہ شمائلہ اور بچوں کے کمرے میں آگ لگی نہیں‘ لگائی گئی ہے۔

بچوں کا والد جنید ملائیشیا میں تھا‘ اس کی تدفین کے بعد اس کے بھائی نادر نے گلی میں کھڑے ہوکر فون کیا اور زور سے باتیں کرنے لگا کہ لوگ بھی سن لیں کہ جنید کو یہ اطلاع دی کہ تیرے بیٹے کی طبیعت خراب ہے‘ وہ اسپتال میں ہے تو جلدی آجاؤ۔ شمائلہ کے پڑوس میں رہائش پذیر اس کے چچا کے بیٹے اکمل اور دیگر رشتے دار الرٹ ہوگئے تھے‘ انہوں نے بھی کھوج لگانا شروع کردیا۔ جنید کو ملائیشیا سے کراچی پہنچنے میں پورا دن لگنا تھا لیکن اطلاع ملی کہ جنید رات کو کراچی پہنچ رہا ہے‘ اس کے دوست ایئرپورٹ پر لینے گئے تو وہ انہیں نہیں ملا‘ اس کے بھائی نے بتایا کہ وہ سولجر بازار کے پرائیویٹ اسپتال میں پہنچ گیا ہے اور اپنے بچے تلاش کررہا ہے‘ جب گھر پہنچا تو اس کو جب بیوی بچوں کی ہلاکت کا معلوم ہوا تو وہ زارو قطار رونے لگا۔اپنے بچوں کو یاد کرکے غش کھاکر گررہا تھا۔

متوفیہ کے اہل خانہ کو بھی شدید تشویش تھی کہ ماں بچوں کو کون جلا سکتا تھا۔ جمشید کوارٹر پولیس سے بھی اطلاع دی جارہی تھی کہ آکر مقدمہ درج کروالو‘ 5 دن کے بعد جمشید کوارٹر پولیس نے 27 مارچ کو شام ساڑھے 4 بجے سب انسپکٹر منیر احمد سیال کی سرکاری مدعیت میں جرم دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرلیا جس میں منیر احمد سیال نے بتایا کہ 22 مارچ کی صبح 7 بج کر 15 منٹ پر تھانے کے روزنامچہ عام میں جمشید بیس سے آپریٹر محمد علی نے رپورٹ کروایا‘ ڈاکٹر علی رضا ایم ایل او سول اسپتال نے نوٹ کرایا ہے، شمائلہ زوجہ جنید عمر 35 سال‘ صفران عمر 9 سال اور بچی انیسہ عمر 5 سال‘ پی ایس او پیٹرول والی گلی مکان نمبر E-290 بجلی گرائونڈ پٹیل پاڑہ سے جھلس کر ہلاک ہوکر چھیپا ایمبولینس کی گاڑی EA-0450 ہمراہ ڈرائیور ذاکر علی کے اسپتال لائی گئی ہیں جبکہ ایم ایل نمبر 1280-1279-1278/15 میں لیٹر کارروائی کے لئے انویسٹی گیشن آفیسر کو روانہ کرو۔ اس انٹری پر میں (منیر سیال) سول اسپتال پہنچا اور ایم ایل او کو پوسٹ مارٹم کرنے کا کہا اور 174 ض ف کی کارروائی مکمل کی، ورثاء کے اسرار پر بغیر پوسٹ مارٹم میتیں ان کے چچا زاد بھائی اعجاز خان کے حوالے کیں‘ اب تک کی جانچ کارروائی زیر دفعہ 174 ض ف خود معائنہ موقع جائے وقوعہ حالات و واقعات سے قوی شبہ پایا جاتا ہے کہ متوفیان کو نامعلوم شخص یا اشخاص نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر کوئی آتش گیر مادہ ڈال کر آگ لگاکر قتل کیا۔اس مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس بھی سرگرم ہوگئی تھی۔

مقتولہ کے بھائی فرحان کے مطابق وقوعہ والے روز گلی میں چند لڑکے بیٹھے تھے‘ انہوں نے مقتولہ کے بھائیوں کو بتایا کہ جس روز آگ لگی‘ ہم نے جنید کو گلی سے جاتے دیکھا تھا‘ ہم نے اس کی ماں سے پوچھا بھی کہ جنید کراچی آیا ہوا ہے تو اس کی ماں گھبراگئی‘ پوچھا کیوں تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس کو گلی سے جاتے دیکھا ہے‘ اس کی ماں نے کہا پاگل ہوگئے ہو‘ تم نے اس ملتی جلتی شکل والے کسی شخص کو دیکھا ہوگا۔ شمائلہ کے اہل خانہ کو جنید کے کراچی میں ہونے کے کچھ شواہد ملے اور 5 سے 6 گھنٹے میں وہ ملائیشیا سے کراچی کیسے پہنچ گیا تو انہوں نے جنید سے معلوم کیا تو اتنی جلدی کیسے پہنچا؟ تیرا پاسپورٹ کہاں ہے‘ تو اُس نے بتایا کہ میں بغیر پاسپورٹ کے کراچی آیاہوں‘ میری فلائٹ نکل گئی تھی‘ میں جلدی کراچی پہنچنے کے لئے اپنے ایک دوست کے ساتھ ہیوی بائیک پر دوسرے شہر کے ایئرپورٹ آیا اور وہاں سے جہاز میں سوار ہوکر بذریعہ دبئی کراچی پہنچا ہوں، بغیر پاسپورٹ کے کراچی کیسے پہنچ گیا

شمائلہ کے بھائیوں اور کزن نے اس صورت حال سے پولیس کو آگاہ کیا تو جمشید کوارٹر تھانے کے ایس آئی او امتیاز پانڈے نے کیس کے تفتیشی افسر ظفر بخاری کو مقتولہ کے شوہر جنید سے پوچھ گچھ کے لئے تھانے بلانے کوکہا۔جنید جب تھانے آیا تو اس کے رشتے دار پولیس افسر عبدالحکیم اور اینٹی کرپشن میں متعین ایک کانسٹیبل بھی تھانے آگئے جس پر پولیس ںے زیر دفعہ 54 کے تحت اس کو حراست میں لے لیا۔ جنید سے 2 روز تک پولیس نے تفتیش کی‘ اُس نے تو اپنے پاسپورٹ کے بارے میں نہیں بتایا ‘ تاہم پولیس نے اس سے اپنے مخصوص انداز تفتیش سے پاسپورٹ منگوالیا‘ پاسپورٹ پر جنید کی 16اپریل کو کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کی انٹری تھی۔ کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد گلشن جمال میں واقع گلیکسی ان ریسٹ ہائوس کی گاڑی اس کو لینے ایئرپورٹ آئی۔ جنید نے 14ا پریل کو ملائیشیا سے ہی ریسٹ ہائوس کی بکنگ کروائی تھی۔ جنید نے ٹیلی نار کی موبائل فون سم حاصل کی‘ وہ اپنی ماں اور بھائی نادر سے رابطے میں تھا۔

جنید نے اپنے بیوی بچوں کو آگ لگانے کی واردات کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گلیکسی ریسٹ ہائوس سے 19 مارچ کو ڈیفنس خیابان محافظ پر واقع مشوانی گیسٹ ہائوس چلا گیا تھا۔ 21 اور 22 کی درمیانی شب ریسٹ ہائوس سے نکل کر گرومندر آیا‘ وہاں پی ایس او کے پمپ سے بوتل میں پیٹرول لیا‘ پھر ایک میڈیکل اسٹور سے جوس خریدے‘ اس میں نشہ آور دوا ملائی اور اپنے جوس کے ڈبے کو علیحدہ رکھا‘ جنید جب گھر پہنچا تو شمائلہ کے کمرے پر دستک دی‘ اُس نے دروازہ کھولا‘ تو وہ جنید کو دیکھ کرحیران رہ گئی۔ جنید نے چند روز قبل ملائیشیا سے فون کیا تھا تو شمائلہ نے اس کے کراچی آنے کے بارے میں پوچھا تھا تو اُس نے کہا تھا میں تمہیں سرپرائز دوں گا۔ شمائلہ نے کہا تھا کہ اگر تم آنے والے ہو تو میں پھر سسرال منتقل ہوجاتی ہوں‘ پہلے جب بھی جنید پاکستان آتا تھاتو شمائلہ اپنے سسرال چلی جاتی تھی لیکن جنید نے اس کو سختی سے منع کیا تھا کہ تم اپنی ماں کے گھر میں رہو۔ جنید گھر آدھی رات کو آیا تو اُس نے کہا‘ دیکھا میرا سرپرائز‘ بچوں اور بیوی کو شور کرنے سے منع کیا اور کہا کہ گھر والوں کو صبح اُٹھ کر سرپرائز دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں : جلاد باپ

اُس نے شمائلہ اور بچوں کو جوس دیا‘ وہ جوس پی کر بے ہوش ہوگئے جس کے بعد جنید نے پیٹرول کی بوتل لاکر کمرے میں پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔ جنید کے مطابق کمرے میں آگ ایسی بھڑکی کہ میں بھی دروازے سے گلی میں گرا اور فوراً وہاں سے نکل کر مشوانی گیسٹ ہائوس چلا گیا۔ جنید نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ میری بیوی چاہتی تھی کہ میں پاکستان میں رہوں‘ میں ملائیشیا میں سیٹ تھا‘ اس بات کو لے کر ہمارا تنازعہ چل رہا تھا اس لئے یہ واردات کی۔ اس کاکہنا تھا کہ میں بچوں کو جلانا نہیں چاہتا تھا لیکن بچے ماں کے ساتھ کمرے میں تھے اس لئے جل گئے۔ جنید کی گرفتاری کے بعد پولیس نے جس اسٹور سے اُس نے نشہ آور دوا خریدی اور جہاں سے جوس خریدا‘ وہاں معلومات کی تو انہوں نے بتایا کہ بہت سے گاہک خریداری کرتے ہیں‘ ہر گاہک کو پہچانا مشکل ہے۔

جنید کے قتل کے اعتراف کے بعد اس کے رشتے داروں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ مقتولہ کے اہل خانہ کے مطابق قتل میں جنید اکیلا نہیں بلکہ اس کے بھائیوں کو بھی گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر جنید کا 4 دن کا ریمانڈ لیاتھا۔ مقتولہ کے اہل خانہ کے مطابق شمائلہ کی ساس نسرین قتل میں ملوث ہے‘ اس نے ہی جنید کو شمائلہ کے قتل پر اُکسایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمائلہ کا تعلق ضلع مانسہرہ کے گائوں بجنہ سے ہے جبکہ جنید بھی مانسہرہ میں اس کے گائوں کے قریب تحصیل ڈوڈھیال کا رہنے والا ہے۔ 2009ء میںشمائلہ کا رشتہ طے ہوگیا تھا‘ اس وقت جنید کی ماں نسرین نے شمائلہ کے گھر کے قریب مکان خریدا‘ پھر شمائلہ کا رشتہ مانگا۔ اس کے گھر والوں نے بتایا کہ اس کا رشتہ طے ہوگیا تھا‘ شمائلہ کی شادی میں 20 روز باقی تھے‘ پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ ایک روز معلوم ہوا کہ شمائلہ اور جنید نے کورٹ میرج کرلی اس وقت جنید فائبر کا کام کرتا تھاشمائلہ کے گھر والوں کو جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے جنید کے والدین سے کہا کہ ہم باعزت طریقے سے بیٹی کو گھر سے رخصت کریں گے‘ شادی کے ایک سال بعد جنید کے ہاں بیٹے صفوان کی پیدائش ہوئی ‘ بیٹے کی پیدائش کے بعد 2010 ء میں اس کو ملائیشیا میں نوکری مل گئی‘ وہ چلا گیا‘ 2013 ء میں پہلی بار واپس آیا‘ پھر چلا گیا‘ اس کے بعد اب 2019 ء میں آیاتھا‘ شمائلہ کے کزن اکمل کے مطابق جنید کی ماں نسرین عملیات کرواتی تھی‘ ا س نے الزام لگایا کہ نسرین نے شمائلہ پر جادو کے ذریعے قابو کیااور بیٹے سے شادی پر مجبور کیا‘ جو لڑکی گھر سے نہ نکلے وہ 20 دن میں کیسے محلے کے لڑکے سے محبت کرکے کورٹ میرج کرے گی

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ سے 10 روز قبل ہم نے ایک عالم کو شمائلہ کا کمرہ دکھایاتھا‘ تو اس نے کمرے کا جائزہ لے کر بتایا کہ میں حیران ہوں کہ یہ زندہ کیسے ہے‘ کسی نے ہرن کی ہڈی پر اس کی موت کیلئے سفلی علم کروایاہے‘ ا س کے بعد ہم نے اس کا روحانی علاج بھی شروع کردیاتھا‘ جنید کی ماں نسرین نے گھر کے کام کاج کیلئے ایمن نامی لڑکی کو ملازمہ رکھا ہوا ہے ‘ نسرین کو ا س عمر میں فیشن کا شوق ہے ‘ وہ اپنی ملازمہ کے ساتھ بیوٹی پارلربھی جاتی ہے‘ ملازمہ ایمن سے جب معلوم کیاتو اس نے بتایا کہ نسرین جب بھی اپنے بیٹے سے بات کرتی وہ اپنی بہو کی بہت برائی کرتی تھی اور جھوٹی شکایتیں لگاتی تھی‘ شمائلہ کے گھر والوں نے پولیس کو کہا کہ اس کیس میں اس کے گھر والوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے‘لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس پر شمائلہ کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا‘ نعمان مسجد سے جمشید کوارٹر تک احتجاجی ریلی نکالی‘ مظاہرین قتل میں ملوث جنید کے ساتھیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے

ایک مظاہرے کے باوجود پولیس حر کت میں نہیں آئی‘ سوشل میڈیا پر مظاہرے کے چرچے ہوئے ‘ پھر چند روز بعد ایک بار پھر علاقہ مکینوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور جمشید کوارٹر تھانے پر دھرنا دیا‘ میڈیا پر خبریں نشر ہوئیں تو کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی نے اس واقعہ کا نوٹس لیا‘ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، مظاہرین کے مطالبے پر ناقص تفتیش پر جمشید کوارٹر تھانے کے ایس آئی او امتیاز پانڈے کو معطل کردیا‘ 9 اپریل کو جمشید کوارٹر پولیس نے مقتولہ شمائلہ کے بھائی فرحان کی مدعیت میں مقدمہ 159/2019 درج کیا‘ مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ 7ATA کا اضافہ کرکے مقدمے میں جنید احمد اس کی ماں نسرین اور بھائی نادر عرف سنی کو نامزد کیا‘ قتل کی تفتیش انسپکٹر ریاض مغل کو منتقل ہوگئی‘ پولیس نے جنید احمد کی ماں نسرین اور بھائی نادر عرف سنی کو گرفتار کیا ‘ انسپکٹر ریاض مغل کے مطابق سپریم کورٹ کی رولنگ ہے کہ ایک کیس کی 2 ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی‘ اس لیے دوسرا مقدمہ جو درج ہوا تھا‘ ہم نے سی کلاس کرکے پہلے مقدمے میں ترمیم کرکے دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ کا اضافہ کردیا‘ ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نہیں گیا‘

انہوں نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد ملے ہیں‘ وقوعہ والی رات کو پی ایس او کے پیٹرول پمپ سے ملزم نے پیٹرول خریدا تھا‘ اس کے ملازم نے ملزم کو شناخت کرلیاہے‘ جس رات کو مقتول اپنے گھر کو آگ لگانے کیلئے علاقے میں پہنچا تو صبح 4 بجے محلے کے رہائشی بینک ملازم نے اس کو گھر طرف جاتے دیکھا ا س کے ہاتھ میں جو س کے ڈبے اور بوتل تھی‘ وہ اپنے گائوں مانسہرہ جانے کے لئے بس اسٹینڈ جارہا تھا‘ اس کو جلدی تھی اس لیے جنید سے دعا سلام نہیں کی‘ جب مانسہرہ سے واپس آیاتو اس کو تمام واقعہ کا علم ہوا تو اس نے پولیس کو بتایا کہ انسپکٹر ریاض مغل کے مطابق مشوانی گیسٹ ہائوس سے وقوعہ والی رات کو ایک بچے جنید احمد نکلا تھااور صبح 6 بجے واپس آیا تھا‘ انہوںنے بتایا کہ ملزم اپنی والدہ اور بھائی سے رابطے میں تھا۔ پولیس نے سی ڈی آر کی مدد بھی لی ہے‘ ایک ٹیلی نار کی سم اس کی ماں کے پاس ہے‘ جو اس نے پولیس کے حوالے نہیں کی ہے‘ انسپکٹر ریاض مغل کے مطابق ابتداء میں ملزم نے قتل کا اعتراف کرلیاتھا‘ لیکن مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہواہے ‘ تو ملزم خاموشی اختیار کرلی ہے

وہ شمائلہ اور بچوں کو قتل کرنے کی وجہ نہیں بتا رہا ہے‘ چونکہ قتل کی واردات کے بعد نعشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں ہواتھا‘ عدالت میں مقتولین کی قبر کشائی کی درخواست دے دی ہے‘ مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈاکٹروں کا بورڈ پوسٹ مارٹم کرے گا‘ معلوم ہوا ہے کہ جنید ملائیشیا میں دوسری شادی کرنا چاہتا تھا‘ لیکن وہاں کے قانون کے مطابق جب شادی شدہ ہوتو آپ دوسری شادی نہیں کرسکتے‘ دوسری شادی کے لئے بیوی کو راستے سے ہٹایا‘ ملزم نے منصوبہ بندی سے جمعہ کا دن منتخب کیاتھا‘ اس کی 4 سالہ بیٹی انیسہ عائشہ اسلامک اکیڈمی میں پڑھتی تھی‘ جمعہ کو اس کی چھٹی ہوتی تھی‘ اس لیے جمعرات کی رات کو انیسہ اپنی نانی کے ساتھ سوتی تھی‘ جبکہ 9 سالہ صفوان کو منصوبہ بندی کے تحت نادر اپنے گھر لے گیاتھا‘ جہاں اس کو کھیل کود میں لگایا‘ لیکن رات کو ایک بجے شمائلہ نے صفوان کو بلوالیا اور بتایا کہ مجھے صفوان کے بغیر نیند نہیں آتی اور اپنی بہن کو بھی اپنے پاس بلالیا‘ جنید احمد کا صرف بیوی کو جلانے کا منصوبہ تھا۔

(467 بار دیکھا گیا)

تبصرے