Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 19 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حکومت سندھ ڈنڈی ماررہی ہے‘ وسیم اختر

صابر علی جمعرات 18 اپریل 2019
حکومت سندھ ڈنڈی ماررہی ہے‘ وسیم اختر

کراچی … میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کے ایم سی کے ہر ماہ 50 کروڑ روپے غصب کررہی ہے‘ آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں وفاق سے حکومت سندھ کو کے ایم سی کے شیئر کی مد میں ایک ارب روپے ماہانہ وصول ہوتے ہیں جو مکمل طور پر کے ایم سی کا حق ہے‘ لیکن سندھ حکومت ہر ماہ 50 کروڑ روپے کی ڈنڈی مارتے ہوئے صرف 50 کروڑ روپے یعنی آکٹرائے کی مد میں وصول ہونے والے ایک ارب روپے میں سے صرف 50 کروڑ روپے کے ایم سی کو دیتی ہے جبکہ 50 کروڑ روپے غصب کرلئے جاتے ہیں اگر کے ایم سی کو ہر ماہ ایک ارب روپے جو اس کا حصہ اور حق ہے

وہ مکمل مل جائے تو کے ایم سی کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ قومی اخبار کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ جان بوجھ کر صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) نہیں بنارہی تاکہ صوبے سے شہری حکومتوں کو ان کے حصے کی رقم نہ مل سکے۔

وسیم اختر نے کہا کہ ایک جانب تو سندھ حکومت کے لوگ سندھ میں مزید انتظامی یونٹ بنانے کے مطالبے پر ناراض اور سیخ ہوتے ہیں۔دوسری طرف کراچی میں 6 اضلاع بنادیئے گئے اور اب ساتواں ضلع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کراچی میں 6 اور 7 اضلاع بن سکتے ہیں تو سندھ میں مزید انتظامی یونٹس کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صرف کراچی نہیں پورا ملک منی لانڈرنگ کی زد میں ہے ، وسیم اختر

وسیم اختر نے کہا کہ پورے ملک میں 22 انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حکومت سندھ نے واٹر بورڈ‘ بلڈنگ کنٹرول‘ ماسٹر پلان‘ سولڈ ویسٹ‘ ٹرانسپورٹ اور دیگر ادارے کے ایم سی سے لے کر صوبائی حکومت کی تحویل میں لے لئے جبکہ کے ایم سی کے بیشتر فنکشن ڈی ایم سیز اور ڈسٹرکٹ کونسل کو دیئے گئے ہیں اور یہ سارے کام اسمبلی میں قانونی سازی کے بجائے نوٹیفکیشن کے ذریعے کئے گئے‘ اس طرح حکومت سندھ کراچی کو نوٹیفکیشن کے ذریعے چلارہی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ نے 11 سال کے سالانہ بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے صوبے میں خرچ کئے اتنی بڑی رقم صوبے میں کہاں خرچ کی‘ اس کا حساب بتایا جائے‘ سندھ حکومت کی بیڈ گورننس‘ نااہلی‘ تعصب‘ کرپشن اور مصیبت کی وجہ سے سندھ کے عوام سفر کررہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی متعصبانہ پالیسیوں کے ذریعے سندھ کے عوام میں دوریاں پیدا کررہی ہیں‘ حکومت سندھ نے کراچی کا جائز حق کے ایم سی کو نہیں دیا جس پر بحیثیت میئر کراچی میں نے سپریم کورٹ میں تمام اعداد و شمار پیش کئے تو سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کو پابند کیا ہے کہ وہ کے ایم سی کو اس کے پیسے دے‘ خصوصاً کے الیکٹرک کے واجبات جس کے لئے کے ایم سی کے پاس پیسے نہیں ہیں اور کے الیکٹرک نے کے ایم سی کے محکموں کی بجلی کاٹنے کا کہا ہے جس پر عدالت نے سندھ حکومت سے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کے واجبات حکومت سندھ ادا کرے اس لئے کہ ہم نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کی رقم دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔

18 ویں ترمیم سے متعلق سوال پر وسیم اختر نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ریاست کے اندر ریاست بنادیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم سب سے بڑی ایٹک ہولڈر ہے لیکن کراچی میں حکمرانی اندرونی سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک ایم پی اے کرتا ہے‘ 18 ویں ترمیم میں جس طرح وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے ہیں‘ صوبہ بھی نجلی سطح پر اختیارات منتقل کرلے‘ فنانس کی تقسیم منصفانہ اور مساوی طریقے سے ہو۔

یہ بھی پڑھیں : کون ہوگا ڈپٹی میئر کراچی؟ پولنگ شروع

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اس بیان پر کہ ایم کیو ایم نے اپنا لیڈر بدل لیا۔ وسیم اختر نے کہا کہ ہم نے اپنا لیڈر نہیں بدلا‘ ہمیں اپنے بانی و قائد اور پاکستان میں سے ایک کو منتخب کرنا پڑا تو ہم نے لیڈر کو چھوڑ کر پاکستان کو ترجیح دی اور اپنے آبائواجداد کی قربانیوں کو رائیگاں جانے دینے نہیں دیا یہ ملک ہم نے بنایا تھا‘ پاکستان بننے سے پہلے سے ہم پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔

مراد علی شاہ بتائیں کہ آپ کا لیڈر کون ہے‘ بلاول یا آصف زرداری وسیم اختر نے کہا کہ ہم نے آپ کی طرح نہ کھپے پاکستان کا نعرہ لگاکہ بلیک میل نہیں کیا‘ ہم نے اپنے لیڈر کو چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا ایسا فیصلہ کیا جو تاریخ میں کسی نے نہیں کیا‘ نہ کوئی کرسکتا ہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ ڈلیور کرنے اور گورننس میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ کراچی اور سندھ کے ہر معاملے میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے‘ بیرون ملک کے مالیاتی ادارے بھی حکومت سندھ پر اعتبار نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں : پی سی بی میں بغاوت ،سابق چیئرمین کا ہاتھ ہے

حکومت سندھ کے پاس کے ایم سی کو دینے کے لئے 58 کروڑ روپے نہیں ہیں جو کے الیکٹرک کے واجبات کی مد میں دیدیئے جائیں جس پر سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو پابند کیا ہے کہ یہ رقم سندھ حکومت ادا کرے‘ کراچی جو سندھ حکومت کو ریونیو کا90 فیصد اور وفاقی حکومت کو 65 سے 70 فیصد ادا کرتا ہے لیکن کراچی کو کوئی کچھ دینے کو تیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے کہا کہ کراچی ایک اہم شہر اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والا ہے‘ حکومت سندھ اُسے دوسرے شہروں کی طرح نہ دیکھے‘ کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے۔

(278 بار دیکھا گیا)

تبصرے