Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارتی وزیر اعظم مودی کے برے دن شروع

ویب ڈیسک پیر 15 اپریل 2019
بھارتی وزیر اعظم مودی کے برے دن شروع

کراچی …11 اپریل کو جس پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوئی، کم از کم اس مرحلے میں بی جے پی کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ اس مرحلے میں 91 سیٹوں پر چنائو ہوئے۔

ان میں سے سب سے زیادہ سیٹیں تلنگانہ اور آ ندھرا پردیش میں تھیں کیونکہ ان دونوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں چنائوہونے تھے۔ چنانچہ ان دونوں ریاستوں کی کل 42 سیٹوں میں سے ایک بھی سیٹ بی جے پی کے حق میں جاتی نظر نہیں آ رہی پھر ہندوستان کے سب سے اہم صوبہ اتر پردیش کی آ ٹھ سیٹوں پر چنائو ہوئے۔

یہاں دہلی سے ملی ہوئی غازی آ بادی سے لے کر مغربی یو پی کی آ ٹھ سیٹیں شامل ہیں۔ گرائونڈ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کو یو پی میں اس مرحلے میں ایک یا دو سیٹوں سے زیادہ مل پانا ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بی جے پی نے نغمہ ’’ پاکستان زندہ باد ‘‘ چوری کرلیا

اسی طرح مہاراشٹر، بہار، بنگال، کرناٹک اور دوسرے صوبوں سے خبریں ملی ہیں جن سے یہ واضح ہے کہ ہر جگہ یا تو کانگریس پارٹی یا پھر صوبائی پارٹیوں کو بی جے پی پر سبقت حاصل ہے۔ملک کے کسی بھی حصے میں کسی قسم کی کوئی مودی لہر نہیں یعنی 2014 میں جیسے مودی اپنے نام کو بیچ کر ہندوستان کے بادشاہ بن بیٹھے تھے، وہ اس بار قطعاً ممکن نہیں۔

پہلے مرحلے سے یہ بھی واضح ہے کہ ملک بھر میں مودی کے خلاف ایک لہر چل رہی ہے جو مودی کی پچھلے پانچ سالوں کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔عوام اور عام ووٹر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ریفارم سے پیدا ہونے والی مشکلات کو بھولے نہیں ہیں۔

اس کے سبب پیدا ہونے والی بے روزگاری اور تجارت میں نقصان سے پریشان ووٹر مودی سے نجات حاصل کرنے کے لیے ووٹ دے رہا ہے۔نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی سب سے بڑی پریشانی کسانوں میں بی جے پی کے خلاف غصہ ہے جو ملک کے ہر صوبہ میں بہت بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ’گو بیک فاشسٹ مودی‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ بن گیا

اس کے سبب پہلے مرحلے سے ہی یہ ٹرینڈ نظر آ رہا ہے کہ دیہی علاقوں میں بڑی کثیر تعداد میں ووٹر بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈال رہے ہیں۔ایک بات اور جو بہت صاف نظر آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ بی جے پی مخالف ووٹر بہت سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ ڈال رہا ہے۔

یعنی جیسے سنہ 2014 میں مودی مخالف ووٹ مختلف سیکولر پارٹیوں کے بیچ بٹ گیا تھا، اس بار ایسا نہیں ہو رہا۔ایک اور انتہائی اہم ٹرینڈ جو اس مرحلے میں ابھرا ہے وہ یہ ہے کہ غریب ووٹر کثیر تعداد میں مودی کے خلاف ووٹ ڈال رہا ہے۔

اس کے برخلاف شہری علاقوں میں آ باد مڈل کلاس، پیسے والا اور اعلیٰ ذات کا بڑا طبقہ آ ج بھی مودی بھکت ہے۔ یعنی اس چنائو میں غریب اور امیر کی خلیج بھی کافی واضح ہے، جو مودی اور بی جے پی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈوزیئر پر پاکستان کے سوالات مودی کیلئے پھندابن گئے

ذاتی اعتبار سے غریب، دلت، زیادہ تر پسماندہ ذاتیں اور مسلمان عموماً ان کو ووٹ ڈال رہے ہیں جو پارٹی بی جے پی کو ہرانے کی حیثیت میں ہے۔اس سلسلے میں مسلمان، بالخصوص اتر پردیش اور بہار میں بہت دانشمندی سے اسٹرٹیجک ووٹنگ کر رہا ہے۔

یعنی اس کی پوری کوشش یہ ہے کہ اس کا ووٹ بٹے بغیر محض اسی پارٹی کو جائے جو ان کے علاقے میں بی جے پی کو ہرانے کی حیثیت میں ہے۔ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں سے یہ واضح ہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے ہی مودی کے لیے بہت مشکلیں پیدا ہو گئی ہیں۔

(168 بار دیکھا گیا)

تبصرے