Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈپارٹمینٹل کرکٹ کی بساط لپیٹ دی گئی

کلیم عثمانی پیر 15 اپریل 2019
ڈپارٹمینٹل کرکٹ کی بساط لپیٹ دی گئی

پاکستان کی کرکٹ میں چار دہائیوں سے اہم کردار ادا کرنے والے ادارے حبیب بینک نے ‘محدود وسائل’ کی وجہ سے فرسٹ کلاس میں اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کئی موجودہ کھلاڑی متاثر ہوئے ہیں جن میں فخرزمان، حسن علی، فہیم اشرف، امام الحق اور عابد علی قابل ذکر ہیں۔حبیب بینک کے چیف کارپوریٹ کمیونیکشنز آفیسر علی حبیب نے تصدیق کی کہ 26 کھلاڑیوں اور کوچ سلیم جعفر سمیت کوچنگ اسٹاف کے چھ ارکان جو کنٹریکٹ پر تھے، فارغ کردئیے گئے ہیں اور انھیں بینک کے قوانین کے مطابق تمام واجبات ادا کردئیے جائیں گے۔

علی حبیب نے کہا کہ حبیب بینک نے اپنے وسائل اور وقت کو اب پاکستان سپر لیگ پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ان کے خیال میں پاکستان کی کرکٹ کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔علی حبیب کا کہنا ہے کہ کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا تعلق ٹیم کی اچھی یا خراب کارکردگی سے نہیں ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کے وسائل لامحدود نہیں ہوتے اور بینک کی انتظامیہ اب یہ سمجھ رہی ہے کہ وسائل کو پاکستان سپر لیگ کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کئے جانے کا فیصلہ حیران کن اس لئے نہیں ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو علاقائی سطح پر استوار کرنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں جس میں ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کا دائرہ کار برائے نام کیا جانا شامل ہے۔

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اس سوچ میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کے دنوں سے ہی ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کے خلاف رہے ہیں اور اب چونکہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں لہذا وہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کو مکمل طور پر علاقائی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ ڈیپارٹمینٹل کرکٹ کو ختم نہیں کیا جارہا لیکن مختلف اداروں کی جانب سے اپنی ٹیموں کو ختم کیا جانا بالکل مختلف صورتحال پیش کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی یو بی ایل نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم ختم کردی تھی۔غور طلب بات یہ ہے کہ حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کی فاتح ہے جہاں اس نے فائنل میں سوئی نادرن گیس کی ٹیم کو شکست دی تھی۔ستر کے عشرے میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے اْس وقت کے سربراہ عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو حبیب بینک اولین اداروں میں سے ایک تھا جس نے اپنی کرکٹ ٹیم بنائی تھی۔حبیب بینک کی ٹیم کو ہر دور میں بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل رہی ہیں۔

ان کرکٹرز میں جاوید میانداد، محسن خان،عبدالقادر، سلطان رانا لیاقت علی، عبدالرقیب، سلیم ملک، اعجاز احمد، شاہد آفریدی اور عمرگل نمایاں رہے ہیں۔حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کئے جانے کے ساتھ ہی ادارے کا اسپورٹس ڈویڑن بھی عملاً ختم ہوگیا ہے کیونکہ بینک نے فٹبال، ٹیبل ٹینس، والی بال، ہاکی اور دیگر کھیلوں کی ٹیمیں پہلے ہی ختم کردی تھیں۔ ماضی میں پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو ڈپارٹمنٹس کی زبردست معاونت حاصل تھی۔ پاکستان ہاکی کے نامور کھلاڑیوں حسن سردار، اصلاح الدین اور دیگر کھلاڑی پاکستان کسٹمز سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہاکی کی قومی ذمہ داریوں سے فراغت کے دنوں میں کراچی کے بین الا قوامی ہوائی اڈے پر اپنے ادارے کیلئے ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ہاکی کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، نیشنل بینک اور دیگر اداروں سے منسلک ہوتی تھی اور یوں وہ کھلاڑی فکر معاش سے آزاد ہو کر کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : دعا کریں ورلڈکپ ٹرافی جیت کر لائیں،سرفراز

جیسے جیسے ہاکی کے کھیل سے اداروں نے ہاتھ کھینچنا شروع کیا ویسے ہی یہ کھیل پستی کی جانب جاتا رہا اور آج پاکستان ہاکی ٹیم بین الاقوامی ہاکی میں نچلے نمبروں پر موجود ہے۔پاکستان کے زمینی حقائق دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔ یہاں کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق ان خاندانوں سے ہوتا ہے جو مالی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ ان نوجوان کھلاڑیوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ کھیل میں اپنا مقام بنائیں اور قومی ٹیم کے لئے کھیلیں۔ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک سے 2 کروڑ نوجوان اسکول، کلب، علاقائی ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹس کی ٹیموں کے لئے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں کھیلنے والوں میں سے صرف 15 یا 16 وہ خوش نصیب کھلاڑی ہوتے ہیں جو قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر پاتے ہیں۔

لہٰذا والدین کو یہ خدشہ ہر وقت لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ کھیل ان کی اولاد کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ثابت نہ ہوجائے، اور پھر وہ اپنے بچوں کو اس کھیل سے دْور رہنے اور تعلیم پر توجہ دینے کے لئے دن رات سمجھاتے رہ جاتے ہیں، لیکن نوجوان چونکہ کھیل سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتے ہیں، اس لئے وہ بات کم ہی مانتے ہیں۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے ایڈیشن میں سامنے آنے والے کھلاڑی حارث رؤف بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی کھلاڑی ہیں۔ حارث کے والدین ان کو تعلیم مکمل کرکے نوکری تلاش کرنے کا مشورہ دیتے تھے جبکہ حارث دن رات اپنے شوق کی تکمیل میں لگے رہتے تھے۔ وہ اپنی اسی محنت سے لاہور قلندرز کی ٹیم میں شامل ہوئے اور دنیائے کرکٹ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے میں کامیاب رہے۔حارث اب قومی کرکٹ کے دھارے میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لئے ان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

حارث یہ محنت صرف اسی صورت کرسکتے ہیں جب کوئی ان کو فکرِ معاش سے آزادی دلوا دے اور ان کو یہ آزادی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ان کو کوئی ڈپارٹمنٹ نوکری پر رکھ لے۔حارث ہی کی طرح پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں کراچی کنگز کے لئے کھیلتے ہوئے عمر خان نے بھی اپنی عمدہ باؤلنگ سے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کا انتخاب کراچی کنگز نے ان کے ڈپارٹمنٹ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لئے عمدہ کارکردگی پیش کرنے کی وجہ سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں 7 وکٹیں حاصل کرکے ایک قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اپنے میدان موجود نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ شہروں کی کرکٹ چلانے والے لوگ بھی کھیل کے لئے خاطرخواہ خدمات پیش نہیں کرسکے ہیں۔ دوسری جانب ڈپارٹمنٹس کے اب اپنے کھیل کے میدان ہیں اور ان کے پاس مختلف کوچز بھی موجود ہوتے ہیں جو کھلاڑیوں کی کمزوریوں کو دْور کرنے کے لئے مسلسل محنت کررہے ہوتے ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان کم عمری میں ہی روزگار کا کوئی نا کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیتے ہیں کیونکہ وہاں کا خاندانی نظام پاکستان سے مختلف ہے۔ 2007ء کا ورلڈ کپ اب بھی یاد ہے جب عالمی کپ میں شرکت کے لئے آنے والی آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کے بہت سے کھلاڑی اس لئے مشکل کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ وہ اپنی اپنی نوکریوں سے چھٹیاں لے کر ورلڈ کپ کھیلنے آئے تھے، اور غیر معمولی طور پر ان کی ٹیم اگلے رائونڈ میں پہنچ گئی تھی جس کے سبب ان کی چھٹیاں ختم ہورہی تھی، اور اگلا رائونڈ کھیلنے کے لئے انہیں مزید چھٹیاں لینی پڑیں۔یہ ساری تمہید باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پاکستان کے موجودہ وزیرِاعظم اور سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی ماضی کی خواہش کو دہرایا، دہرایا ہی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ہدایت بھی کردی ہے کہ وہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کو آسٹریلین طرز کے مطابق ڈھال لیں، اور اس کے لئے کام شروع بھی ہوچکا ہے۔

معاملہ کچھ یہ ہے کہ عمران خان کا تعلق معاشی طور پر مضبوط خاندان سے رہا ہے، اور انہوں نے پاکستان میں کم ہی عرصے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی ہے، لیکن ان کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ پاکستان میں آسٹریلیا کی طرز پر علاقائی ٹیمیں تشکیل دی جانی چاہیے۔لیکن ان کے برعکس پاکستان کے ایک اور مایہ ناز کھلاڑی جاوید میانداد ہیں جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طویل عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلی ہے۔ جاوید میانداد ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ کھلاڑی تھے جن کی قومی ٹیم میں شمولیت سے پہلے ہی لوگ ان کی صلاحیت سے متاثر ہوگئے تھے۔میانداد کے بارے میں مشہور ہے کہ جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار نے ان کو نیٹ پر بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنے اطراف موجود لوگوں سے کہا کہ یہ لڑکا مستقبل میں پاکستان کی قومی ٹیم کا کپتان بنے گا۔ جاوید میانداد اس اعتبار سے بھی خوش نصیب تھے کہ ان کو اپنے والد کا مکمل طور پر تعاون حاصل تھا، جو اپنی سائیکل پر جاوید میانداد کو کھیلنے اور پریکٹس کرنے کے لئے کراچی میں قائم مختلف میدانوں میں لے کر جایا کرتے تھے۔

اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے تجربے کی بنیاد پر جاوید میانداد ہمیشہ ڈپارٹمنٹس کی کرکٹ ٹیموں کے حق میں رہے ہیں، کیونکہ ڈپارٹمنٹ کی وجہ سے نوجوان بہت حد تک فکرِ معاش سے بے فکر ہوکر ساری توجہ اپنے کھیل پر رکھ پاتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ڈپارٹمنٹ کرکٹ کا آئیڈیا کاردار صاحب نے ہی دیا تھا اور انہیں کے دئیے گئے آئیڈئیے کے بعد یہاں ڈپارٹمنٹ کرکٹ نے فروغ پایا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے والدین یہ بات پسند نہیں کریں گے کہ ان کا بیٹا کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کسی جنرل اسٹور پر یا ریسٹورنٹ پر نوکری کرے اور اگر کوئی ماں باپ راضی ہو بھی جائیں گے تو 7 یا 8 گھنٹے کی نوکری کے بعد کسی کے پاس اتنا وقت اور اتنی صلاحیتیں کیسے بچ سکتی ہے کہ وہ اپنے کھیل پر توجہ دے سکے؟اس صورتحال میں ڈپارٹمنٹس کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جو کھلاڑی کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کھیل میں نکھار لانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ اسپورٹس کی بنیاد پر ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بننے والے کھلاڑی نے اپنی محنت اور لگن کے باعث اداروں کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔وقار یونس اس کی ایک زبردست مثال ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے سپر وِلز کپ کے میچ میں دہلی کے مقابلے میں وقار یونس یونائیٹڈ بینک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ میچ پاکستان ٹیلی ویڑن پر براہِ راست نشر کیا جا رہا تھا۔ عمران خان جو اس وقت قومی ٹیم کے کپتان تھے انہوں نے ٹیلی ویڑن پر یہ میچ دیکھ کر وقار یونس کو فوری قومی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وقار نے صرف 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے اور اگر اس اہم میچ میں سلیم جعفر کے زخمی ہونے کی وجہ سے ان کو کھیلنے کا موقع نہیں ملتا تو شاید قومی ٹیم میں شامل ہونے کے لئے ان کو مزید انتظار کرنا پڑتا۔

یہ بھی پڑھیں : وکٹوں کے پیچھے بولتے رہناعادت ہے،سرفرازاحمد

عمران خان کی سوچ یہ ہے کہ علاقائی ٹیموں کے مابین ہونے والے مقابلوں میں عوام کی دلچسپی زیادہ ہوگی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کل پاکستان کپ کے میچز جاری ہیں لیکن علاقائی ٹیموں کی بنیاد پر کھیلے گئے اس ٹورنامنٹ میں عوام کی دلچسپی بہت کم ہے۔ عوام غیر معروف کھلاڑی کے بجائے نامور کھلاڑیوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں اور وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کا پسندیدہ کھلاڑی کسی علاقے کی ٹیم سے کھیل رہا ہے یا کسی ڈپارٹمنٹ کی ٹیم سے۔پاکستان کے ایک نامور ادارے حبیب بینک نے تو اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے لیکن اگر یہ رسم چل نکلی تو پاکستان کی کرکٹ سے منسلک تقریباََ ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں کے بیروزگار ہونے کا خطرہ ہے۔پاکستان 20 کروڑ لوگوں کی آبادی والا ملک ہے۔ یہاں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں جو بھی تبدیلیاں لانی ہیں وہ کسی دیگر ملک سے متاثر ہوکر نہیں، بلکہ مقامی صورتحال کے مطابق ہونی چاہیے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی مشاورت کے بعد پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے ایک نیا ڈھانچہ تیار کرنے میں مصروف ہے۔ امید کرتے ہیں کہ وہ جو بھی نظام رائج کریں گے، اس میں ڈپارٹمنٹس کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شامل ضرور رکھیں گے کیونکہ یہ ڈپارٹمنٹس کی شمولیت کی مرہون منت ہی ممکن ہوا ہے کہ صرف ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے موجودہ کھلاڑی ہی نہیں بلکہ قومی کرکٹ ٹیم سے تقریباً 26 سال قبل ریٹائر ہونے والے سلیم یوسف اور ان جیسے سیکڑوں کھلاڑی آج بھی باعزت روزگار پر فائز ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے ڈومیسٹک ڈھانچے کے بلیو پرنٹ کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضع طور پر دکھائی دے رہی ہے کہ مستقبل میں میچوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو جائے گی۔پی سی بی کے مصدقہ اعداد شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال پورے سال کے دوران ریجن کی ٹیموں کی کرکٹ پر ایک ارب 50 کروڑ روپے کے بھاری اخراجات آئے جبکہ سال بھر اتنی بڑی تعداد میں میچ ہوئے جس سے معیار کا نام ونشان دکھائی نہیں دیا۔فرسٹ کلاس اور نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں 266 ٹیموں نے 539 میچ کھیلے۔ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ اس کے علاوہ تھے۔ سال کے تقریبا 7 ماہ ملک کے چھوٹے بڑے گراونڈز پر کرکٹ کرائی گئی۔یہی وجہ ہے کہ نئے نظام میں کم میچوں والی کوالٹی کرکٹ کرائی جائے گی۔ نئے نظام کے سامنے آنے سے پاکستان کرکٹ کا منظر نامہ مکمل تبدیل ہو جائے گا۔ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیزن کے دوران 18 ٹیموں نے قائد اعظم ٹرافی کے نام سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔

سیزن کے دوران 69 فرسٹ کلاس میچ ہوئے۔جبکہ گریڈ ٹو میں 34 ٹیمیں شریک ہوئیں جن کے دوران 86 میچ کرائے گئے۔سنیئر انٹر ڈسٹرکٹ میں ریکارڈ کا بننا اور ٹوٹنا کوئی نہیں بات نہیں ہوتی، اس ٹورنامنٹ میں 98 ٹیموں نے 245 میچ کھیلے۔ انٹر ریجن انڈر 19 ٹورنامنٹ میں 116 ٹیموں نے 539 میچ کھیلے۔پی سی بی ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق ریجنل ٹیموں کے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ پر 11 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کے اخراجات 7 کروڑ روپے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیزن میں کراچی وائٹس کی جانب سے 25 کھلاڑیوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ان میں سے 17 کھلاڑی ایسے تھے جو ڈپارٹمنٹ کے ملازم تھے۔فیصل آباد نے 18 میں سے 14 ایسے کھلاڑیوں کو موقع دیا جو بعد میں ڈپارٹمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے دکھائی دیئے جبکہ پنڈی ریجن کے 18 میں سے 14 کھلاڑی ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔

اس طرح اکثر ریجن کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز میں ایسے کرکٹر زیادہ تھے جو ڈپارٹمنٹ کے ملازم تھے جس کی وجہ سے ریجن کے نئے ٹیلنٹ کو نظر انداز کیا گیا۔ذرائع کے مطابق نئے سسٹم میں صوبائی سیٹ اپ کو بنانے میں پی سی بی بھرپور مدد کرے گا تاہم ہر ریجن اپنے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کی مدد سے اپنے پیروں پر کھڑا ہو گا۔فرسٹ کلاس کھیلنے والے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیئے جائیں گے، ان کی تنخواہیں ڈپارٹمنٹ سے زیادہ ہوں گی۔ وہ صوبائی ٹیمیں جو کمزور ہوں گے ان کو یہ پیشکش کی جائے گی کہ وہ دوسرے ریجن کے تین سے چار کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل کر لیں تاکہ فرسٹ کلاس سیزن میں تمام ٹیمیں ہم پلہ ہوں اور مقابلے کا رجحان زیادہ ہو۔کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پچز، گراونڈز کی کوالٹی اور سہولتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیندیں بھی معیار کے مطابق ہوں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی جب نئے سیزن کے خاکے کو حتمی شکل دیدے گا تو حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو پریزنٹیشن دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : آ سٹریلیا سے ہارنے کے باوجود پاکستان چھٹے نمبر پر

ڈائر یکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید، منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی ہدایت پر نئے نظام کا حتمی بلیو پرنٹ تیار کر رہے ہیں اور یہ سسٹم آسٹریلوی سسٹم کو سامنے رکھ کر پاکستانی کرکٹ کی ضرورت کے مطابق بنایا جارہا ہے۔اکتوبر سے نیا فرسٹ کلاس سسٹم صوبائی ٹیموں کے نام سے شروع ہوگا اور 6 ٹیموں پر مشتمل فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ متعارف کرایا جائے گا جب کہ گزشتہ سال فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی میں 18 ٹیمیں شریک تھیں۔پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کا نیا سسٹم بورڈ کے لئے چیلنج ضرور ہے تاہم یہ ایک ایسا نظام ہوگا جس میں سفارش، اقربا پروری اور بندر بانٹ کا خاتمہ ہوجائے گا، فنانشل ماڈل اور مارکیٹنگ اسٹرٹیجی کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔صوبائی سطح پر فرسٹ کلاس کرکٹ کے ساتھ ساتھ قومی ون ڈے کپ اور قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ریجن کی ٹیمیں ہی حصہ لیں گی۔

ماضی کے عظیم کھلاڑی جاوید میاں داد نے گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں انہیں مشورہ دیا تھا کہ ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو سسٹم سے باہر نہ کیا جائے لیکن نئے نظام میں ڈپارٹمنٹ کی کوئی ٹیم شریک نہیں ہوگی۔خدشہ ہے کہ کئی اور بڑے ڈپارٹمنٹ اپنی ٹیموں کو بند کردیں گے کیوں کہ اس سال پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو تبدیل کرکے ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو قومی کرکٹ سسٹم سے باہر کرنے کی تیاری مکمل ہے تاہم کھلاڑیوں، کوچز، فزیو، انالسٹ اور کرکٹ سے منسلک دیگر لوگوں کے لئے نئی ملازمتوں کے دعوے کئے جارہے ہیں۔آسٹریلوی طرز پرعمران خان کے خاکے کو عملی جامع پہنانے اور پروفیشنل سیٹ اپ لانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام ہورہا ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ نظام پاکستان کرکٹ کو بلندیوں پر پہنچا دے گا۔

ایک تجویز یہ بھی ہے ابتدا میں پی سی بی، ریجن کو مالی سپورٹ کرے اور اگلے سال پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ پاکستان میں ہوں گے، اس لئے پی ایس ایل کی آمدنی سے کا کچھ حصہ ریجن کو دے کر انہیں سپورٹ کیا جائے گا، ہر ریجنل ٹیم کے لئے ایک گراؤنڈ مخصوص کیا جائے گا جو اس ٹیم کو ہوم گراؤنڈ ہوگا۔پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو پروان چڑھانے میں ڈپارٹمنٹس کا کردار اہم ترین ہے اور اگر ڈپارٹمنٹس نے کرکٹ اور کرکٹرز کی سرپرستی سے ہاتھ اْٹھا لیا تو ہاکی کی طرح پاکستان کرکٹ کو ناقابلِ تلافی تقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

(311 بار دیکھا گیا)

تبصرے