Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 26 اپریل 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارتی الیکشن میں فوج کا استعمال

ویب ڈیسک هفته 13 اپریل 2019
بھارتی الیکشن میں فوج کا استعمال

نئی دہلی …بھارتی فوج کے 8سابق فوجی سربراہان سمیت 100سے زائد سابق فوجی افسران نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں فوج اور اس کی علامتوں کو استعمال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ فوج کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

بی جے پی نے اس اقدام کو حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کا سیاسی حربہ قرار دیا ہے۔وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اس خط کو کانگریس کا سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ تشویش کی بات ہے کہ بعض لوگوں کے نام اس خط میں ان کی اجازت کے بغیر شامل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت میں مسلمان پرہندوئوں کاتشدد، سور کا گوشت کھلادیا

بعض مفاد پرست لوگوں نے فرضی الزام لگا کر ایک فرضی خط پر دستخط کیے ہیں۔ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔صدر مملکت کو لکھے گئے کھلے خط میں سابق فوجی افسران نے کہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائکس اور سرحد پار فوجی کارروائیوں کا سیاسی رہنماوں کے ذریعے کریڈیٹ لینا اور فوج کومودی جی کی سینا کہنا جیسے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کاانتخابی مہم میں ملٹری وردی پہن کر آنا اور پوسٹروں میں فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن وررتھمان کے پوسٹر آویزاں کرنا بھی تشویش کا باعث ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کمیشن نے اس حوالے سے کی گئی چند شکایات کے بعد فوج کے نام کا سیاسی مقاصد کیلئے استعال روکنے کے اقدامات کیے ہیں لیکن وہ موثر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

دریں اثنا بھارتی انتہا پسندوں کا مسلمانوں سے متعصبانہ رویہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا۔ بی جے پی کے امیدواروں نے حالیہ الیکشن میں مسلمانوں کو غیر ضروری قرار دے دیا۔ریاست اترپردیش کے شہر سلطان پور میں مسلم مجمع سے خطاب میں مانیکا گاندھی نے دبے الفاظ میں مسلمانوں کو دھمکی دے ڈالی اور کہا کہ اگر مسلمان انہیں ووٹ نہیں دیں گے تو اْن سے کسی کام کی امید بھی نہ رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں : مودی نے بھارت کی شکل بگاڑ دی ،لالو پرساد

ہم مہاتما گاندھی کی چھٹی اولاد نہیں کہ ووٹ نہ دینے والوں کی بھی مدد کریں۔ مانیکا گاندھی کے اس مضحکہ خیز بیان پر وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سخت تنقید کی ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ بیان کسی پاکستانی سیاست دان نے دیا ہوتا تو اْسے کبھی معاف نہیں کیا جاتا ، یہ بیان کسی بھی سیاست دان کا کیریئر ختم کرنے کیلئے کافی ہوتا۔

افسوس گاندھی اور نہرو کے ملک میں ایسا ہورہا ہے۔علاوہ ازیں سلطان پور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فرقہ وارانہ اور دھمکی آمیز خطاب پر مانیکا گاندھی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن نے بھی مانیکا کو اپنے خطاب کی وضاحت دینے کیلئے کہا تھا۔

(51 بار دیکھا گیا)

تبصرے