Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تاجر پھر نشانہ

راؤ عمران اشفاق جمعه 12 اپریل 2019
تاجر پھر نشانہ

9 اپریل کی رات 7:45 پر شہر کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ جوڑیا بازار کے تاجر اپنا کاروبار بند کرنے میں مصروف تھے‘ مغرب کی اذان کے ساتھ ہی بازار میں کاروبار بند ہونا شروع ہوجاتا ہے‘ دن کے اوقات میں جوڑیا بازار جہاں پیدل چلنا بھی دشوار ہوجاتا ہے‘ شام ہوتے ہی مارکیٹ میں مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوجاتی ہے۔ مصالحہ بازار میں کاروبار بند ہونا شروع ہوگیا‘ مرچی گلی‘ فیروز اسٹریٹ پر مرچی کے بزنس مین محمد سلیم بھی اپنا کام سمیٹ رہتے تھے‘ اپنے شیشے کے چیمبر میں حساب و کتاب میں مصروف تھے‘ اس اثناء میں آسمانی رنگ کی شلوار قمیض والا موٹر سائیکل سوار اس کی دکان کے سامنے آکر رُکا۔ موٹر سائیکل سوار نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا‘ اُس نے کوئی بات چیت نہیں کی‘ ہیلمٹ کا شیشہ اوپر کرکے پستول نکال کر محمد سلیم کی طرف کیا اور شیشے کے دوسری طرف بیٹھا محمد سلیم خوفزدہ ہونے کی بجائے اُٹھ کر کھڑا ہوا تو موٹر سائیکل سوار نے اُن پر 6 گولیاں فائر کردیں‘ 4 گولیاں محمد سلیم کو لگیں‘ اس کے پیچھے ان کا بیٹا زین کھڑا تھا جو گولی کی آواز سن کر فروش پر بیٹھ گیا تھا‘ موٹر سائیکل سوار سیکنڈوں میں گولیاں بھرسا کر موٹر سائیکل دوڑاتا ہوا فرار ہوگیا۔ محمد سلیم گولی لگنے کے بعد فرش پر گر پڑے‘ زین خون میں لت پت والد کو دیکھ کر رونے لگا ‘ فائرنگ کے بعد علاقے کے دکاندار جمع ہوگئے اور محمد سلیم کو سوزوکی میں ڈال کر سول اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے محمد سلیم کی موت کی تصدیق کردی۔

جوڑیا بازار کے تاجر سلیم کارپوریشن کے مالک محمد سلیم کی ہلاکت کی اطلاع پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔جوڑیا بازار میں ٹارگٹ کلنگ کی واردات نے پولیس کے سیکورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان لگادیا تھا۔ علاقے میں پولیس چیک پوسٹ اور موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکاروں کے گشت کے باوجود واردات اور مصروف ترین بازار کی تنگ گلیوں سے موٹر سائیکل سوار ملزم بآسانی فرار ہوگیا تھا۔ محمد سلیم کو قتل کرنے والے ملزمان بھی 2 نہیں بلکہ ایک ہی ملزم تھا جو ماہر نشانے باز تھا۔ اُس نے موٹر سائیکل رُک کر گولیاں برسائیں اور موٹر سائیکل پر بآسانی فرار بھی ہوگیا تھا۔ محمد سلیم کا عرصہ دراز سے بازار میں مرچ کا کاروبار تھا‘ ان کا تعلق دہلی پنجابی سودگران برادری سے تھا‘ ابتداء میں سلیم اور اس کے بڑے بھائی شہزاد مل کر کاروبار کرتے تھے‘ 15 سال قبل اس کے بڑے بھائی کو ڈاکو نے سینے میں گولی ماری جو دل کے قریب لگی تھی لیکن محمد شہزاد اس حملے میں بچ گئے تھے

بعدازاں دونوں بھائیوں نے باہمی رضامندی سے کاروبار علیحدہ کرلیا تھا‘ اب محمد سلیم کے ساتھ اس کے 2 بیٹے زین اور سمیر دکان پر بیٹھتے ہیں جبکہ تیسرا بیٹا چھوٹا تھا‘ وہ تعلیم حاصل کررہا تھا۔ محمد سلیم کی 3 بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک کا انتقال ہوگیا تھا‘ محمد سلیم کے 5 بچے ہیں‘ وہ بلاک ڈی نارتھ ناظم آباد میں رہتے تھے‘ محمد سلیم کا بیٹا سمیر عمرے پر گیا ہوا تھا‘ اس لئے دکان پر ان کا صرف ایک بیٹا زین تھا۔ محمد سلیم کا اچھا کاروبار تھا‘ سلیم کے قتل کی وجہ معلوم نہ ہوسکی تھی کیونکہ ملزمان نے محمد سلیم کو ٹارگٹ کرکے اس کے سینے پر 4 گولیاں ماری تھیں۔ جوڑیا بازار اور اولڈ سٹی ایریا کے تاجروں کو ایک بار پھر بھتہ گروپ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں بھی ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ بھتہ خوروں نے گزشتہ ماہ مزار قائد کے قریب موبائل مارکیٹ کے بزنس مین کی کار پر فائرنگ کی‘ ملزمان سائوتھ افریقہ کے نمبر سے واٹس ایپ کال کررہے تھے‘ فون کال کے بعد تاجر کی کار کے قریب چلنے والی موٹر سائیکل پر سوار ملزمان نے تاجر کی کار پر فائرنگ کردی تھی۔

شہر میں 5 سال قبل دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے بعد پولیس اور رینجرز نے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس کے بعد تاجروں نے سکھ کا سانس لیا لیکن رواں سال کی ابتداء سے ہی ایک بار پھر دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد پولیس جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول تحویل میں لے کر فارنزک لیب بھجوادیتی ہے جس کی رپورٹ کے بعد یہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلحہ دہشت گردی کی کس واردات میں استعمال ہوا ہے‘ پولیس کی تفتیش اس رپورٹ کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں بنتی ہیں‘ انکوائری ہوتی ہے پھر کیس کا معلوم نہیں ہوتا کیا ہوا۔ 2 روز قبل درخشاں کے علاقے ڈیفنس فیز 6 خیابان غازی اسٹریٹ 26 میں اسپین کے قونصلیٹ کے سامنے بھی اسی قسم کا واقعہ ہوا جہاں ڈبل کیبن ویگو گاڑی میں سوار ملزمان نے فائرنگ کرکے پولیس اہلکار خالد محمود اور محنت کش رمضان کو ہلاک کردیا۔ پولیس نے فائرنگ میں ملوث ایک امیرزادے نذیر کو گرفتار بھی کیا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے علاقے میں فائرنگ کی کیوں تھی‘ ملزمان نشے میں تھے‘ یہ معلوم ہوسکا لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے پولیس اہلکار اور محنت کش کو کیوں گولی ماری۔

یہ بھی پڑھیں : باپ نے عدالت لگا لی

اس طرح جوڑیا بازار میں تاجر محمد سلیم کے قتل کے بعد پولیس کا کوئی اعلیٰ افسر جائے وقوعہ پر نہیں پہنچا۔تاجروں کے مطابق آئی جی یا ڈی آئی جی نہ آئے‘ علاقے کے ایس ایس پی نے بھی موقع پر پہنچنے کی زحمت نہ کی۔ پولیس نے تاجر کی ہلاکت کے مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ بھی نہیں لگائی‘ صرف زیر دفعہ 302 کے تحت محمد سلیم کے ملازم عبدالرزاق کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے اپنا کام پورا کیا۔ قتل کی اس واردات پر پوری تاجر برادری سراپا احتجاج تھی۔ جوڑیا بازار ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر جعفر کوڑیا‘ جنرل سیکریٹری عبدالقادر نورانی (بھولو بھائی) نے اس قتل کے واقعہ پر احتجاج کیا۔ بدھ کے روز جوڑیا بازار بند رکھنے کا اعلان آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ جامع الائنس مارکیٹ کے کے چیئرمین شیخ ارشاد‘ جنرل سیکریٹری خالد نور نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔

جوڑیا بازار کے تاجر کے قتل کے خلاف کراچی ہول سیل گرو سرز گروپ کی اپیل پر بدھ کو جوڑیا بازار کی تھوک مارکیٹ بند رہی‘ مشتعل تاجروں نے کاروبار بند رکھ کر منگل کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے تاجر محمد سلیم کے قتل پر احتجاج ریکارڈ کرایا‘ سیاہ احتجاجی بینرز بھی آویزاں کیے گئے تھے‘ جن پر وزیر اعلیٰ سے تاجر محمد سلیم کے قاتلوں کی گرفتاری اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے مطالبات درج تھے‘ دکاندارو ں نے کہا کہ گھروں اور راستے میں ڈاکو لوٹ لیتے ہیں‘ کاروبار کی جگہ پر گولیاں مار دی جاتی ہیں‘ تاجروں کی وفاقی انجمن ایف پی سی سی آئی کے صدر اور سینئر اراکین نے بھی جوڑیا بازار کے تاجر کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن (کے ڈبلیو جی اے) کے سرپرست اعلیٰ انیس مجید‘اورمنیجنگ کمیٹی کے اراکین نے مقتول تاجر کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بطور احتجاج اجناس کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ ڈانڈا بازار اور اطراف کی مارکیٹیں بند رکھیں‘ جبکہ مارکیٹ میں احتجاجی بینرز بھی آویزاں کئے گئے ‘ انیس مجید اور ملک ذوالفقار نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی خزانے میں سب سے زیادہ ریونیو بھی یہاں کے تاجر جمع کرواتے ہیں‘ لیکن ا س کے باوجود کراچی کے تاجروں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ‘ انہوںنے وزیر اعلیٰ سے تاجر برادری کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جوڑیا بازار اور اس کے ملحقہ مارکیٹوں میں پورے ملک سے کاروبار ہوتا ہے اور ملک بھر میں یہاں سے ضرورت کے مطابق مال ترسیل کیا جاتا ہے‘ جس میں اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘ پھر کیا وجہ ہے کہ سندھ حکومت تاجروں کی جان ومال کی حفاظت کیلئے سنجید گی کا مظاہرہ نہیں کررہی‘ انہوںنے مارکیٹوں میں پولیس اور رینجرز کا گشت بڑھانے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

بلاک ڈی نارتھ ناظم آباد میں واقع اشرف مسجد میں تاجر محمد سلیم کے جنازے میں کسی حکومتی شخصیت نے شرکت نہیں کی۔ تاجروں کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی‘ مقتول محمد سلیم کو شہید کہا گیا تھا اس لئے اہل خانہ نے میت کو غسل و کفن نہیں دیا تھا‘ اس کے کپڑے تو پولیس نے سیل کردیئے تھے تاہم شہید تاجر کو ایک چادر میں لپیٹ کر سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ جوڑیا بازار کے تاجروں کے مطابق علاقے میں لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں پولیس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں 469 اور اپریل کے 10 روز میں 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں‘ ان میں 10 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ دہشت گردی میں ملوث کوئی بڑا ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔ سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کے قتل کی ایف آئی آر بھی پولیس نے اے کلاس کردی‘ مرحوم کی والدہ نے کراچی پریس کلب میں اپنے شوہر اخلاق عابدی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں علی رضا عابدی قتل کیس میں پولیس کی تفتیش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سی ٹی ڈی نے ان کے بیٹے کے قتل کے کیس کو خراب کردیا ہے‘ پولیس نے خون کا سودا کرلیاہے‘ علی رضا عابدی کی والدہ تفصیلات بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی۔ انہوں نے اپیل کی کہ قتل کیس کی تفتیش آئی ایس آئی سے کروائی جائے۔

رواں سال سب سے زیادہ دہشت گرد ی کی وارداتیں مارچ کے مہینے میں ہوئی‘ شہرمیں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اے ایس آئی سمیت 3 پولیس اہلکار ، جما عت الدعوہ،کالعدم سپاہ صحابہ ،اہل تشیع ، سیکورٹی گارڈ ،شکل وصورت سے مذہبی تنظیم کی مشابہت رکھنے والے شہر ی سمیت 8افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ گلشن اقبال میں مولانامفتی تقی عثمانی ،انکی اہلیہ اور پوتی معجزاتی طور محفوظ رہیں ، ٹارگٹ کلنگ میں ایک اے ایس آئی ، مولانا عامر شہاب سمیت 3افراد زخمی ہوئے ،ڈکیتی مزاحمت پر دکان کے ملازم سمیت 4شہریوں کو کھلے عام فائرنگ کرکے قتل اور48افراد شہریوں کو زخمی کیا گیا ،شہر میں ذاتی دشمنی و دیگر آپسی معاملات میں فائرنگ کے واقعات میںماں بیٹی سمیت 4خواتین ، ایک نامولود ،لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے نوجوان سمیت 16افراد جاں بحق اور50افراد زخمی ہوئے ، فیروز آباد میں رینجرز اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلے میں ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، شہر میں پرتشدد واقعات میں3 خواتین ،ایک مصنف ،خواجہ سراؤں کا سرغنہ اور دکان سمیت 13افراد کو قتل کیا گیا ، 3مارچ کو سول لائن کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ میں پولیس اہلکار جہانگیر ،4مارچ کو اورنگی ٹاؤن میں اے ایس آئی رضوان ،12مارچ کو جمعہ کے روز عزیز بھٹی میں مولانا مفتی عثمانی پر کئے جانے والے قاتلانہ حملے میں ایک پولیس اہلکار فاروق اور سیکورٹی گارڈشہید ہوئے جبکہ مولانا عامر شہاب سمیت 2افراد زخمی ہوئے معجزانہ طور مولانا صاحب انکے اہل خانہ محفوظ رہے ،23مارچ میں اورنگی ٹاؤن میں ٹارگٹ کلنگ میں اہل تشیع وجاہت حسین کو نشانہ بنایا گیا

26مارچ کو بریگیڈ کے علاقے ایف ٹی سی پل پر ریاض خان کومذہبی تنظیم سے تعلق کے شبے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ، اس روزمومن آباد میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق کارکن نصیر الدین عرف نصرو کو ٹارگٹ کیا گیا ، 27مارچ کو یوسف پلازہ میں پھل فروش و جماعت الدعوہ کے کارکن شہزاد قریشی کو ٹارگٹ کیا گیا۔یکم مارچ کو بغدادی کے علاقے لیاری میں کریکر اسٹین بم دھماکہ ہوا کوئی جانی نقصان نہیںہوا ،شہر قائد میں ٹریفک حادثات میں 3 پولیس اہلکار ، ایک نیوی اہلکار سمیت 73افراد جاں بحق ہوئے، پھندا ، زہریلی چیز کھانے اور خود کو گولی مار کر4 خواتین سمیت 20افراد نے خودکشیاں کی ،ایک پولیس اہلکار او2خواتین سمیت 22افراد کی پراسرار لاشیں ملیں ،کرنٹ لگنے سے 4افراد ،ماں اور2بچوںسمیت 7افراد جھلس کر جاں بحق ہوئے ، ٹرین کی ٹکر سے 2افراد ،بلند عمارت سے گر ،دیوار گرنے سمیت دیگر واقعات میں6مزدوروں سمیت 15جان کی بازی ہار گئے ، نہر ، سی ویو ، پانی کے ٹینک میں ڈوب کر لڑکی سمیت 9افراد جاں بحق ہوئے ،21مارچ کو عزیز بھٹی میں نورٹریڈ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں جھلس اور جان بچانے کے لئے کود کر اقراء یونیورسٹی کے طالبہ صالحہ ،نعمان حمزہ اور جہانزیب جاں بحق ہوئے۔بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں کالعدم جماعتوں کے ٹارگٹ کلر اور اجرتی قاتل سرگرم ہوگئے،ٹارگٹ کلنگ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر،اہم شخصیات،مذہبی،سیاسی تنظیموں کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، گزشتہ سال کے آخری ماہ سے سرگرم گروہ 33افراد کو نشانہ بناچکا ہے،تحقیقاتی اداروں اور سی ٹی ڈی سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق شہرقائد میں ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گروپ ایس ٹی ایف،کالعدم تنظیم مہدی فورس،کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے ساتھ شہر میں اجرتی قاتلوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لشکر جھنگوی عاصم کیپری گروپ کے پکڑے جانے کے بعد شہر میں پولیس کلنگ اور شیعہ کلنگ کافی حدتک بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھی۔ لیکن ایک بار پھر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے۔ذرائع کے مطابق سرگرم گروہوں نے گزشتہ سال کے آخر ماہ میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما علی رضا عابدی کا قتل کیا۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں سمیت 19افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ پولیس کیلئے نیا چیلنج بن گیا۔سی ٹی ڈی افسران کا کہنا ہے کہ رواں سال کے ابتداء میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور پی ایس پی سندھ کے جنرل سیکریٹری پر قاتلانہ حملے ہوئے جس میں وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔سی ٹی ڈی کے مطابق ویسٹ زون میں حالیہ پولیس کلنگ میں کالعدم تحریک طالبان کا ایس ٹی ایف گروپ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے 2 واقعات میں ایک ہی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : موبائل فون موت بن گیا

نیوکراچی یوسی آفس اور رضویہ سوسائٹی میں پی ایس پی کے ٹاؤن آفس پر حملے میں ایک ہی اسلحہ استعمال ہوا۔ حملے کے طریقہ کار میں بھی مماثلت تھی تاہم رینجرز نے ان واقعات میں ملوث ایم کیوایم لندن سلیم بیلجیم گروپ کے کارندوں کو گرفتار کیا۔ سی ٹی ڈی نے دوسری جانب یہ بھی بتایاکہ شہر میں مولانا تقی عثمانی پر حملہ،بریگیڈ میں ریاض جان۔یوسف پلازہ شہزاد قریشی۔یوپی موڑ ہائی روف پر فائرنگ میں 2 افرادکی ٹارگٹ کلنگ میںکالعدم تنظیم مہدی فورس کے سید محمدعلی رضوی عرف ڈاکٹر اور اس کے گروپ کے عباس گورا ، عمران موٹا اور عدنان منجن کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ سی ٹی ڈی نے ملزمان کا مکمل ڈیٹا حاصل کرلیا ہے جن کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں،مبینہ ٹارگٹ کلر سید محمدعلی رضوی عرف ڈاکٹر گلبہار فردوس کالونی کا رہائشی ہے ، اس کے 2 ساتھی عمران عرف موٹا عرف کالو ،عدنان منجن کا کالعدم تنظیم مہدی فورس اور اسکے تیسرے کارندے عباس گورا کا تعلق کالعدم تنظیم کے احمد فاروق گروپ سے ہے ، سی ٹی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ ملزمان پر گلشن اقبال تھانے میں مقدمہ الزام نمبر981/12بجرم دفعات 302/ 324 /353/34 انسداد دہشت گردی ایکٹ کا ایک مقدمہ بھی درج ہے

اس مقدمے میں انکے گروہ کے2کارندے جوہر حسین عرف جعفر اورارشاد حسین عرف عامر گرفتار ہوچکے ہیں۔قائد آباد بم دھماکہ،چینی قونصلیٹ پرحملہ،درخشاں خالی پلاٹ میں کار بم دھماکے میں ملک دشمن عناصر بھارتی ایجنسی ر ا،بی ایل اے،افغانستان خفیہ ایجنسی پی ٹی ایم اور ایک سیاسی تنظیم کا جوائنٹ ایڈونچر گروپ ملوث بتایا جاتا ہے،3 اپریل کویوسف پلازہ کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 16 واٹر پمپ مصالحے والی مارکیٹ میں بدھ کی شام کمال چکی کی دکان پر3 موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے دکان کا ملازم 40 سالہ عظمت جا ں بحق ہو گیا تھا‘پولیس کے مطابق ملزمان لوٹ مار کررہے تھے کہ اچانک ایک جس کے ہاتھ میں پستول تھی اس کا پاو ٔں سلپ ہوا تھا پستول کا ٹریکردب گیا اور گولی عظمت کے سینے پر لگ گئی ملزمان بغیر لوٹے ہی فرار ہوگئے ، انھوں نے بتایا کہ مقتول فیڈرل بی ایریا بلاک 22مدینہ کالونی کا رہائشی تھا اور آبائی تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے بتایا جاتا ہے‘ اس حوالے سے انویسٹی گیشن کے انچارج انسپکٹر الطاف خان نے بتایا کہ پولیس نے عینی شاہدین کی مددسے فائرنگ کرکے والے ڈاکو کا خاکہ تیارکرلیا ہے اور پولیس کی واقعے کے حوالے سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں اور دکانداروں میں اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے یوسف پلازہ تھانے اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اعلیٰ پولیس افسران کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کا علاقہ مکینوں اور دکانداروں کے لیے کسی مقتل گاہ سے کم نہیں پے در پے ٹارگٹ کلنگ اور ڈاکوئوں کی فائرنگ سے کئی افراد اپنی زندگی سے محروم کر دیئے گئے ہیں

واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل گزشتہ بدھ ہی کے روز 27 مارچ کو یوسف پلازہ کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرز نے پھل فروش جماعت الدعوہ سے تعلق رکھنے والے شہزاد قریشی کو ماتھے پر گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اس واردات میں جو نائن ایم ایم پستول استعمال کیا گیا تھا وہ اس سے قبل رواں سال 22 فرروی کو نیو کراچی کے علاقے میں سوزوکی ہائی روف وین پر اور سال 2018 ء میں یوپی موڑ کے قریب موٹر سائیکل سواروں پر فائرنگ کرکے 4 افراد کے قتل میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں ہونے والی حالیہ اور گزشتہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث انتہائی خطرناک گروہ کا سراغ لگا لیا ہے ملزمان کی موجود گی کی اطلاع پر پولیس نے گزشتہ دنوں کراچی کے ایک علاقے میں چھاپہ مارا تھا‘ تاہم وہاں موجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے‘فرار ہونے والے ملزمان کا 4سال سے ریڈ بک میں ذکر موجود ہے۔سی ٹی ڈی کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لئے اندرون سندھ اور اندرون ملک ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں اور اب سی ٹی ڈی ان ملزمان کے قریب پہنچ چکی ہے اور امید ہے کہ انہیں بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔فرار ہونے والے ملزمان میں مہتاب ‘چھوٹا محمد‘کامران عرف پٹھان اور دیگرشامل ہیں۔راجہ عمر خطاب کے مطابق یہ گروپ سال2004ء سے کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔اس گروپ کے سابقہ گرفتار کارندوں کی تفتیش کے دوران فرار ہونے والے ملزمان کے نام سامنے آئے تھے اور ان ملزمان کے خلاف پولیس کے پاس کئی شہادتیں موجود ہیں‘ جنکی روشنی میں انکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔راجہ عمر خطاب کے مطابق ان ملزمان کی بیرون ملک فرار ہونے کے خدشے کے پیش نظر ائیر پورٹس اور بارڈر سیکورٹی فورسز کو بھی ان ملزمان کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا جا چکا ہے۔

شہر میں حالیہ بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ایم کیوایم لندن کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے‘ رینجرز نے سلیم بیلجیئم گروپ کی 8 رکنی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کو گرفتار کیا۔ رینجرز کے کرنل فیصل اعوان کے مطابق دسمبر 2018ء سے لے کر فروری2019ء تک کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا مقصد نہ صرف کراچی کے امن کو تباہ کرنا تھا‘ جس میں بانی ایم کیو ایم شامل ہے۔9 دسمبر 2018ء کو گلستان جوہر میں ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد میں دھماکا ہوا جہاں 7 کارکنان زخمی ہوئے تاہم وہاں پر موجود رہنما محفوظ رہے۔ 23 دسمبر 2018ء کو پی ایس پی کے ٹائون آفس پر فائرنگ ہوئی جس میں عہدیدار اظہر عرف سیاں اور نعیم عرف ملاں کوقتل کیا گیا اور دو کارکن یاسر اور فہد زخمی ہوئے۔ 11 فروری 2019ء کو ایم کیو ایم پاکستان کے یوسی آفس نیو کراچی میں فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک کارکن شکیل انصاری جاں بحق اور اعظم زخمی ہو گیا تھا۔ ان واقعات کی ایف آئی آر متعلقہ تھانوں میں درج ہیں اور اسی تناظر میں رینجرزکی خصوصی انٹیلی جنس ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ ان وارداتوں میں ملوث ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ان دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جوکہ سلیم بیلجیئم کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان ٹارگٹ کلرز کو جنوبی افریقہ میں موجود محمد سلیم عرف سلیم بیلجیم، الطاف حسین کی ہدایات پر لندن سے کنٹرول کر رہا ہے۔ سلیم بیلجیم کا اصل نام محمد سلیم عرف سلیم بیلجیم عرف جنرل عرف کمانڈر اِن چیف ہے جو کہ ٹارگٹ کلنگ کی درجنوں وارداتوں ملوث ہے اور سلیم بیلجیم کو 2011ء میں رینجرز نے گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا تھا لیکن مقدمے کی پیروی کے دوران بیرون ملک چلا گیا اور لندن، بیلجیم اور جنوبی افریقہ میں ایم کیو ایم لندن کے شر پسند عناصر کی پشت پناہی اور سرپرستی کرتا ہے۔ گرفتار ملزمان میں سید رضا علی عرف سولجر‘ محسن علی عرف شاہ جی‘ رحمن احمد عرف شاہ جی‘ شہریار عرف شیری‘ ضمیر الدین عرف شہزاد گولڈ‘ سید وقاص حیدر‘ تنظیم عرف اسمارٹ بوائے اور قاضی انیس الرحمن قادری عرف کیپٹن شامل ہیں جبکہ جنید‘ آصف عرف پاشا‘ سجاد چوہدری‘ کاشف‘ نعیم اور اعظم مفرور ہیں۔ ملزمان کے قبضے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے یوسی آفس پر حملے میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔

پی ایس پی کے دفتر پرحملے کے سلسلے میں آغا جوس پر میٹنگ ہوئی جس میں کاشف جمیل‘ جنید عرف اویس‘ رضا‘ غفران عرف بڑے میاں‘ انیس الرحمن اور محسن شریک ہوئے‘ یہ ملزمان 5 موٹر سائیکلوں اور ایک رکشہ میں پہنچے جن میں سے جنید عرف اویس‘ محسن عرف شاہ جی‘ رضا علی عرف سولجر اور اسد عرف عمر نے فائرنگ کی‘ اس کارروائی پر آصف پاشا نے قائد ایم کیو ایم کی جانب سے مبارک باد بھی دی تھی‘ اسی طرح ایم کیو ایم کے یوسی آفس کی آصف پاشا اور رضا نے ریکی کی تھی‘ جبکہ حملے میں 4 موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان پہنچے تھے جس میں سے سجاد چوہدری نے کلاشنکوف اور جنید عرف اویس نے نائن ایم ایم سے فائرنگ کی جبکہ ایک ملزم نعیم عرف علی کا پستول نہیں چل سکا تھا۔ گلستان جوہر میں ہونے والے دھماکے کی پلاننگ آصف پاشا اور محسن عرف شاہ رخ نے کی تھی جبکہ رضا علی اور جنید نے شاپنگ میں رکھ کر آئی ای ڈی ڈیوائس کو ریموٹ کنٹرول سے اُڑایا تھا۔ کرنل فیصل اعوان نے مزید بتایا کہ چھاپے کے دوران مٹھائی کے ڈبے میں بنائی گئی ایک آئی ای ڈی بھی برآمد کی گئی جو کہ ڈاکٹر فاروق ستار پر نیو کراچی میں حملے میں استعمال کی جانی تھی‘ اس کے علاوہ 14 فروری کو کراچی پریس کلب پر ایم کیوایم کے جلسے پر بھی ہینڈ گرنیڈ اور آئی ای ڈی سے حملہ کرنا تھا جو کہ رینجرز کی سخت سیکورٹی کے باعث نہیں کیاجاسکا۔ کرنل فیصل کا کہنا تھا کہ ملزمان آپس میں رابطے کے لئے موبائل سم استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ واٹس ایپ کالز اور انٹرنیٹ ایپلی کیشنز استعمال کرتے تھے جس میں زیادہ تر نمبر انگلینڈ کے ہوتے تھے‘ ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ ٹیم کی سرپرستی سلیم بیلجیئم قائد متحدہ کے احکامات پر کررہاتھا‘ مالی معاونت اور رقم کی ترسیل کے لئے سلیم بیلجیئم نے مختلف مواقع پر نامعلوم افراد اور خواتین کی مدد سے رقم پہنچائی‘ ملزمان کی زیادہ تر گفتگو کو ڈورڈر میں ہوتی تھی‘ جس کے لئے آئی ای ڈی کے لئے ڈبہ‘ گرنیڈ کے لئے آلو اور پستول کے لئے کیسٹ کا کوڈ استعمال کیا جاتا تھا‘ پریس کانفرنس کے دوران ملزمان کی آپس میں واٹس ایپ کالز کی ریکارڈنگ بھی سنائی گئی جبکہ چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے اسلحے اور آئی ای ڈی ڈیوائس کی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ مزید برآں قائد متحدہ کی جانب سے کی گئی حالیہ تقاریر میں بھی اس بات کو متعدد مرتبہ دہرایا گیا کہ ایم کیو ایم لندن سے علیحدہ ہونے والوں کو نشانہ بنایاجائے۔

(186 بار دیکھا گیا)

تبصرے