Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مودی نے بھارت کی شکل بگاڑ دی ،لالو پرساد

ویب ڈیسک جمعه 12 اپریل 2019
مودی نے بھارت کی شکل بگاڑ دی ،لالو پرساد

واشنگٹن … بھارت کے معمر سیاستدان اور راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ نریندر مودی نے بھارت کی شکل بگاڑ دی ہے یہ شخص ملک کی بربادی کا باعث بن رہا ہے بھارت میں اس وقت غیرا علانیہ ایمرجنسی نافذ ہے یہ اندرا گاندھی کی جانب سے 1975ء میں نافذ کی گئی ایمرجنسی سے مختلف ہے کیونکہ اندرا گاندھی نے اْس وقت کے اپوزیشن قائدین کو ملک دشمن یا غیر محب وطن قرار دیا تھا اور نہ ہی انکو جیلوں میں ڈالا گیا

لالو کی نئی کتاب ’’ گوپال گنج ٹو رائے سینا: مائی پولیٹیکل جرنی ‘‘ میں مزید لکھا ہے کہ نریندر مودی کی وجہ سے آج بھارت کے آئین کو خطرہ ہے خوف وہراس کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے نشریاتی ادارے مودی کے خلاف حقائق دکھانے سے ہچکچاتے ہیں مصنف نے سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججوں نے بھی تسلیم کیا کہ بھارت کا دستور اور جمہوریت خطرے میں ہے نریندر مودی نے پورے سماج میں نفرت کا زہر گھول دیا

یہ بھی پڑھیں : بھارت کورافیل ملے نہیں‘ پاکستانی پائلٹس نے اڑانا بھی سیکھ لئے

آج بھارت میں اقلیتوں اور دلتوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ ہے بیف رکھنے کے شبہ میں لوگوں کو سرعام قتل کیا جانا روز کا معمول ہے جو بھی حق کی بات کرتا ہے اسکو پاکستان جانے کا کہہ دیا جاتا ہے بھارت وہ نہیں جو ڈرامے بازی سے دکھایا جاتا ہے بلکہ نریندر مودی اور اسکی جماعت بی جے پی نے بھارت کو قتل گاہ بنا دیا ہے ہر روز ناحق خون کیا جاتا ہے اور ملزمان کی پشت پناہی بی جے پی کرتی ہے

یہ جماعت انسانوں کی نہیں بلکہ درندوں کی ہے اندر سے انکے ضمیر مر چکے ہیں ظاہر سے تو وہ انسان نظر آتے ہیں لیکن اندر سے بھیڑیے ہیں کتاب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ نریندر مودی سرکاری اداروں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے دیگر سیاسی جماعتوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ مودی کی مخالفت نہ کریں ورنہ انکی زبان ہمیشہ کے لیئے بند کر دی جائیگی

یہ بھی پڑھیں : ڈوزیئر پر پاکستان کے سوالات مودی کیلئے پھندابن گئے

آج بھارت کا میڈیا انڈر پریشر ہے اسکو پتہ ہے کہ اگر اس نے سچ بولا تو بی جے پی کے غنڈے انکو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔

(158 بار دیکھا گیا)

تبصرے