Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موبائل فون موت بن گیا

حسن رضا شاہ جعفری جمعه 12 اپریل 2019
موبائل فون موت بن گیا

ایک زمانہ تھا کہ کراچی کو روشنیوں کو شہر کہا جاتاتھا‘ اس کہاوت کو کس کی نظر لگ گئی‘ کسی کو کچھ معلوم نہیں کراچی سیٹیزن پولیس کے شکایتی سیل میں روزانہ ایسی کئی درجن شکائتیں موصول ہوتی ہیں‘ جس میں اسٹریٹ کرائم موٹر سائیکل اور گاڑیاں چھیننا وغیرہ شامل ہے‘ ا س حوالے سے گزرے ماہ اگر اندازہ لگایا جائے تو مارچ کے مہینے میںکورنگی کے علاقے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 300 سے زائدکے قریب وارداتیں رجسٹرڈ ہوئیں‘ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر 200 وارداتیں رونما ہوجائیں تواس میں سے تقریباً 30 لوگ ہی بمشکل اپنی رپورٹ درج کرواتے ہیں‘جبکہ 70 افراد رپورٹ ہی درج نہیں کرواتے ‘ یہ 30 لو گ وہ ہیں جو کہ مختلف وارداتوں میں اپنی جان کی بازی ہار گئے‘ یہ تمام سلسلے کراچی میں خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں‘ اب اگر ہمارے یہاں 100 کے قریب وارداتیں ہوئی ہیں تو 30 سے 40 افراد بمشکل صرف اس وجہ سے رپورٹ درج کروانے کے زحمت کرتے ہیں‘ چونکہ یا تو ان کا موبائل فون چلا جاتا ہے یا ان کے ساتھ ان کا IDکارڈ وغیرہ والٹ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ یا ایسے کاغذات گم ہوجاتے ہیں‘ جس کے غائب ہوجانے پر ان کے دوبارہ بنوانے کیلئے روز نامچے کی انٹری رپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے

ورنہ یہ لوگ شاید اس کی بھی زحمت نہ کریں‘ چنانچہ ان30 فیصد افراد بھی اپنے مقاصد اور مفاد کیلئے ہی FIR در ج کرواتے ہیں‘ جبکہ ہر شہری کو چاہیے کہ خدانخواستہ اگر کسی بھی شہری کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتو وہ اس کی فوری رپورٹ درج کروائے‘ اسی اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے ایک بات یہ بھی ہے کہ 4 ستمبر 2013 کو کراچی آپریشن جو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شروع کیاتھا‘ اس کے 4 مقاصد تھے‘ ٹارگٹ کلنگ کراچی میں دہشت گردی‘ بھتہ خوری‘ اسٹریٹ کرائم وغیرہ ‘ لیکن بدقستمی سے اسٹریٹ کرائم میں ا ن تمام سالوں میں باقی تو عام چیزوں میں واقع کمی آئی ہے‘ لیکن اسٹریٹ کرائم میں کوئی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی‘ بلکہ پہلے لوگ ٹارگٹ کلنگ میںمارے جاتے تھے‘ جو کہ سب جانتے ہیں‘ لیکن جب بھی کسی کے قتل کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو پولیس سے معلوم ہوتاہے کہ اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے موبائل چھیننے کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیاہے‘ جس کی روک تھام کیلئے مزید اقدامات کی اشد ضرور ہے‘ یکم اپریل کو کراچی کے علاقے کورنگی 2 نمبر میں قتل کی ایک واردات ہوئی‘ جہاں کم عمرسے اسٹریٹ کرمنلرز نے موبائل فون چھیننے کے بعد جاتے ہوئے 9 ویں جماعت کے طالبعلم 17 سالہ احسن ولد بہادر علی کو فائرنگر کرکے قتل کردیااور جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے

یہ بھی پڑھیں : گلی محلوں میں شراب خانے کھل گئے

واقعہ کے مطابق ایک اپریل شام تقریباً 7:15 کا وقت تھا‘ کراچی کے علاقے زمان ٹائون کورنگی نمبر 2 میں واردات ہوئی‘ جہاں پر سیکٹر 41-Aکا رہائشی 9 ویں جماعت کا طالبعلم رات کو گھر میں لائٹ جانے کی وجہ سے محلہ کے ایک دوست مزمل کے ہمراہ گلی کے کونے پر بنے چبوترے پر آکر بیٹھ گیا اوراپنے موبائل فون پر گیم کھیلنے لگا‘ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان قریب آکر رکھے اور احسن سے پستول دکھا کر موبائل فون چھیننے کی کوشش کی ‘ جس پر اس نے مزاحمت کی ‘ ملزمان نے موبائل فون چھینا اور موٹر سائیکل پر بآسانی فرار ہوگئے‘واقعہ کے حوالے سے ایک عینی شاہدین نے نام نہ ظاہر کرنے کی بناء پر قومی اخبار کو بتایا کہ جس وقت ملزمان موبائل فون چھیننے کے بعد جارہے تھے تو مقتول نے انہیں شناخت کرلیا تھا‘ ملزمان نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی‘ جبکہ چہرے پر نقاب لگایا ہواتھا‘ جب ملزمان واردات کرکے جانے لگے تو مقتول نے کہا کہ تم فلاںہو میں نے تمہیں پہچان لیاہے ‘ جس پر وہ واپس پلٹے اور اس کو گولی ماردی اور فرار ہوگئے‘ جس وقت یہ واردات ہوئی اس وقت حسب معمول علاقے میں بجلی معطل تھی ‘ واقعہ کے بعد علاقے کے لوگ فوری طورپر جائے وقوعہ پر جمع ہوئے اور مقتول کو فوری طبی امداد کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت موٹر سائیکل پر لے کر چنیوٹ اسپتال کیلئے روانہ ہوگئے

لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مقتول راستے میں ہی جان کی بازی ہار گیا‘ واقع کی اطلاع ملتے ہی تھانہ زمان ٹائون پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی‘ابتدائی طورپر ایس ایچ او انسپکٹر شفیق آفریدی نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر 30 بور پستول کا ایک خول ملا‘ جوکہ پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا‘ جس کے بعد پولیس نے مقتول کی نعش کو ضابطے کی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کردیااور کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کردی‘ جسے غسل وکفن کے دوسرے روز کورنگی ایک نمبر پر واقع علاقے کے قبرستان میں سپردخاک کردیا۔ واقعے کے حوالے سے مقتول کے کزن نے قومی اخبار کو بتایا کہ مقتول 2 بھائیوں میں بڑا تھا‘ جس سے چھوٹا ایک بھائی اور تھا‘ مقتول زیادہ گلی محلہ میں بھی نہیں بیٹھتا تھا‘ پڑھائی کے بعدگھر اور گھر سے پڑھائی تک محدود تھا‘ واقعے والے روز گھر میں لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے گلی میں بیٹھا ہوا تھا‘ لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی موت آج اسے باہر لے آئی ہے‘ مقتول کی موت کے بعد مقتول کے گھر میں کہرام مچا ہواہے‘ بوڑھے ماں باپ صدمے سے بے حال ہیں‘مقتول کے والد ایک فیکٹری میں محنت مزدوری کرتے ہیں

علاقے میں اسی دن انہیں لٹیروں نے علاقے میں مزید ایک 2 لوگوں کو لوٹا تھا‘ پچھلے ایک ہفتہ میں اس علاقے میں لوٹ مار کی یہ پانچویں وارادت رونما ہوئی ہے‘ جوکہ قانون نافذ کرنے والوں کیلئے سوالیہ نشان ہے‘ مقتول کے والد نے بتایا کہ واقعے والے دن شام میں جس وقت واقعہ ہوا میں اپنی فیکٹری میں اوورٹائم پر تھا کہ رات 8 بج کر 2 منٹ پر بھتیجی نے فون کرکے کہا کہ فوراً گھر پر آجائیں‘ وہ فون کال پر رو رہی تھی‘ چنانچہ میں فوری طورپر گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ میرا بیٹا گلی میں کارنر پر بیٹھا گیم کھیل رہا تھا کہ 2 لڑکے موٹر سائیکل پر سوار ہوکر آئے اور میرے بیٹے سے موبائل فون چھین لیا‘ ملزمان نے منہ پر نقاب لگایا ہواتھا‘ دونوں پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے اور ارود اسپیکنگ معلوم ہوتے تھے‘ جنہوںمیرے بیٹے کو گولی ماری ‘ جو میرے بیٹے کی پیشانی کے الٹی سائیڈ پر لگی اور پیچھے گردن کی طرف سے آر پار ہوگئی‘ جو میرے بیٹے کی موت کا سبب بنی ‘ میری پولیس اور اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ میرے بیٹے کے سفاک قاتلوں کو فوری طورپر گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیاجائے۔ جنہوںنے میرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا

یہ بھی پڑھیں : باپ نے عدالت لگا لی

واقعے کے حوالے سے تھانہ زمان ٹائون کے پولیس آفیسرز ذوالفقار علی نے قومی اخبار کو بتایا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے پستول کے خول اپنے قبضے میں لے کر فارنزک کیلئے لیب بھجوا دیا ہے‘ جبکہ واقعے کا مقدمہ نمبر 207/2019 بجرم دفعہ 397/34 درج کرلیا‘ ایس ایچ او زمان ٹائون کیلئے ڈاکوئوں کو گرفتار کرنا چیلنج بن گیاتھا‘ کیونکہ علاقے میں لائٹ جاتی تھی‘ ڈاکو آجاتے تھے‘ روزانہ 20 سے 25 وارداتیں معمول بن گئی تھی‘ پولیس نے کورنگی سیکٹر 32 اے لنک روڈ پر ناکہ لگاکر مقابلے کے بعد 2 ڈاکوئوں جعفر حسین عرف عمران اور صدیق عرف دادا کو گرفتار کرکے پستول ‘موٹر سائیکل KLI-7443 برآمد کرلی‘ ملزمان نے دوران تفتیش حیرت انگیز انکشاف کیا‘ ملزمان نے کورنگی کے علاقے میں 200 سے زائد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملزمان اسی علاقے کے رہائشی تھے‘ کورنگی ایس ایریا میں ملزم نے نویں جماعت کے طالبعلم احسن کو موبائل چھیننے اور ملزمان کو شناخت کرنے پپرقتل کردیا تھا‘ ملزمان نے بتایا کہ احسن علاقے کا لڑکا تھا‘ اس نے ایک ملزم کو نام سے شناخت کرلیا تھا‘ اس لیے اس کو گولی ماری ۔

(149 بار دیکھا گیا)

تبصرے