Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 24 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جلاد باپ

ویب ڈیسک جمعه 05 اپریل 2019
جلاد باپ

زمانہ جاہلیت میں جب کسی کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوتی تھی‘ تو اس وقت کے لوگ اسے رحمت کے بجائے زحمت تصور کرتے تھے اور نومولود بیٹی کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے‘ پھر دنیا میں ہمارے آخری پیغمبرؐ کی آمد ہوئی‘ آپ نے تبلیغ کے ذریعے اس وقت کے لوگوں کو شعور دیا کہ بیٹی زحمت نہیں ‘ بلکہ رحمت ہے‘ آپ نے تبلیغ سے زمانہ جاہلیت کی اس رسم کو باطل قرار دیا‘ آپ نے بیٹی سے محبت اور شفقت سے پیش آنے کی تلقین کی‘ جس سے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی رسم ختم ہوگئی‘ لیکن آج کل اس ترقی یافتہ دورمیں بھی کہیں کہیں زمانہ جاہلیت کے لوگ خام مال نظر آہی جاتے ہیں‘ جنہں اب کبھی بیٹی کی پیدائش زحمت نظر آتی ہے ‘22 فروری 2019 ء کو بھی کراچی کے علاقے کورنگی میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا‘ جس نے زمانہ جاہلیت کے ا س دور کی یادتازہ کردی ‘ جب ایک شقی القلب باپ نے اس کے لائے ہوئے کیک کھانے سے انکار پر اپنے ہی نطفے سے پیدا ہونے والی بیٹی کے جسم گرم سلاخوں سے داغ کر اوربیہمانہ تشدد کرکے اس کو قتل کردیا اور موقع پر فرار ہوگیا‘ بیہمانہ تشدد کے بعد قتل ہونے والی بچی کانام مسکان تھا‘ مسکان اپنے ماں ‘ باپ اور بھائی کے ہمراہ زمان ٹائون کی بستی میں رہتی تھی‘ مسکان کی والدہ اور درندہ صفت باپ کا نام عبدالحکیم عرف بربیجا ہے ۔

بنگالی قوم سے تعلق رکھنے والی مریم اور اس کا شوہر بربیجا زمان ٹائون کے رہائشی ہے‘ نو عمری میں مریم کی شادی عبدالحکیم سے ہوگئی اور شادی کے ایک سال بعد ان کے ہاں مسکان پیدا ہوئی ‘ جو شروع دن سے اپنے با پ کی آنکھوں کوکھٹکنے لگی‘ اسی دوران مریم کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک جرائم پیشہ شخص ہے ‘ جو لوٹ کھسوٹ‘ منشیات فروشی اور قتل وغارت جیسے سنگین جرائم میںملوث ہے‘ ایک روز اچانک پولیس نے ریڈ ماری اور عبدالحکیم عرف بربیجا کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا‘ جیل ہوجانے کے بعد مریم چند روز تک تو سکون سے زندگی بسر کرسکی ‘پھر بچی چھوٹی ہونے اور گھر میں فاقے کی وجہ سے مریم نے دوسری شادی کا فیصلہ کرلیا‘ بہتر زندگی گزارنے کی تلاش میں مریم نے ابو بکر نامی شخص سے دوسری شادی تو کرلی‘ لیکن مسکان کو اپنے ہمراہ نہ رکھ سکی‘ مسکان پر بربریت کا سلسلہ نہ رکا‘ پہلے اپنے باپ کے ظلم سہتی رہی ‘ بعد میں ماں سے جدائی کا صدمہ اور دادی کا وحشی پن سر چڑھ کر بولنے لگا‘ مسکان لڑکی ہونے کی وجہ سے سب کی آنکھوں کو کھٹکتی تھی‘ جس میں مسکان کا ظالم باپ‘ وحشی دادی اور چاپلوسی پھوپھیاں شامل تھیں‘ مسکان ماں سے جدا دادی کے ہمراہ رہنے لگی اور مسلسل اذیت کا شکار بنتی رہی۔ادھر مریم ابوبکر کے ہمراہ اپنی زندگی گزار نے لگی‘ وقت بیتنے لگا ‘ مسکان کی عمر اب 6 برس ہوچکی تھی اور ساتھ ہی اس کی تکلیف میں مزید اضافہ بھی ہوا تھا‘ مسکان جب بھی اپنی ماں سے ملتی تو جسم پر مار کے نشانات دکھاتی تھی‘ جسے دیکھ کر ماں کا کلیجہ بھی منہ کو آنے لگتااوراپنی بچی کوصبر کی تلقین دے کر اسے بچانے کیلئے ابو بکر کو بھی بولا کرتی تھی‘ لیکن ابو بکر کا دوٹوک جواب سن کر خاموش ہوجایا کرتی تھی‘ ابوبکر کا کہناتھا کہ میری بیٹی نہیںہے‘ اس لیے میں کچھ نہیں کرسکتا ‘ اصل وجہ عبدالحکیم عرف بربیجا کا خوف کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھاکہ وہ اس کو نکالے‘ دوسری طرف مریم نے بھی بچپن سے بناء ماں باپ کے زندگی بسر کی تھی اور ساتھ ہی نہ تو تعلیم کی دولت سے آشنا تھی اور نہ ہی صحیح سے اردو بول سکتی تھی‘ جس کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کو بچا سکیں‘6 سال کا عرصہ گزر چکا تھااو ر بربیجا کی رہائی کے دن بھی نزدیک تھے تو اس نے جیل سے باہرآکر سدھرنے کے بجائے ابو بکر کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے مریم کو طلاق دینے کا الٹی میٹم بھیج دیا

یہ بھی پڑھیں : خاکروب نے بیوی مار دی

ادھر ابوبکر نے خود کو بچانے کے لیے مریم کو طلاق دے دی‘ بربیجا کے جیل سے چھوٹنے کے لیے مریم نے دوبارہ وحشی درندے سے اپنی بیٹی کی خاطر شادی کرلی‘ تاکہ اس پر ہونے والے ظلم کا سلسلہ رک جائے۔مریم کی دوبارہ شادی کے بعد اسے اپنی بیٹی مسکان تو مل گئی‘ ساتھ ہی ابو بکر سے طلاق پر اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے آئی‘ مریم کو ابوبکر سے ایک بیٹا تھا‘ جس کی عمر 2 سال تھی‘ مریم بربیجا کے ہمراہ مسکان اور ایان کے ہمراہ رہنے لگی‘ بربیجا جیل سے آنے کے بعد پھر سے رہزنی ‘ منشیات فروشی جیسے گھنائونے کام کرنے لگا‘مریم کو اپنے ظالم شوہر کی حرکتوں کا اندازہ تو تھا‘ لیکن وہ اپنی بچی کی خاطر دوبارہ رشتہ ازدواج میں بندھی ہوئی تھی‘ بربیجا کا روز کا معمول یہی رہا کہ بچوں کو بلاوجہ مارنا اور غیر قانونی کام کرنا‘ پہلے بربیجا کے ہاتھوں مریم اور مسکان ہی اس کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی‘ اب ننھا آیان بھی اس مجرم کا نشانہ بننے لگا‘ بربیجا کی مسکان سے نفرت اس کا لڑکی ہونا تھی‘ مریم سے نفرت لڑکی پیدا کرنے کی وجہ تھی اور آیان سے نفرت کسی اور کا بیٹا ہونے سے تھی‘ نفرت اور ظلم کا نشانہ بننے والے تینوں ماں ‘ بیٹی اور بیٹیاں تھے‘ درندگی کا کھیل اس گھرانے میں تواترکے ساتھ کھیلا جانے لگااور اس کا نشانہ بننے والی بے بس ماں اپنے ہی لخت جگروں کو باپ کی وحشت کا نشانہ بنتے دیکھنے لگی‘ بربیجا گھر آکر بنا بات کے مسکان اور آیان کو بری طرح مارتا پیٹتا تھا‘ بجلی کاتار‘ گیس کا پائپ ‘ لکڑی کا ڈنڈا ودیگرجو چیز ہاتھ لگتی اندھا دھند مارنے لگتا تھا‘ وحشی باپ جب مار مار کر تھک جاتا ‘ تب ہی رکتا تھا‘ بچوں کی چیخوں کی اسے کوئی پرواہ نہ تھی‘ مریم بیچ بچائوکرنے آتی تو وہ بھی باقاعدگی سے بربیجا کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی‘ یہ سب سن کر میرا قلم رک گیاتھا‘ مجھ میں مزید لکھنے کی ہمت نہ رہی ‘ تب ہی ننھی مسکان کا چہرہ میری نظر وں کے سامنے آیا اور وہ مجھے ایک امید سے گھورنے لگی‘ جیسے مسکان کہنا چاہ رہی ہوکہ مجھے انصاف کب ملے گا؟ میں ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ مجھے وہ بات اچانک یادآئی جو مسکان کی خالہ ‘ خالوں اور ماں سے ملاقات کے دوارن انہوںنے بتائی کہ کیسے مسکان اس دنیا سے رخصت ہوئی‘ رات کا وقت تھا‘ عبدالحکیم عرف بربیجا 2 کیک اور ایک جوس کا ڈبہ گھر لے کر آیا اور مسکان کوکھانے کیلئے دیا‘ مسکان نے ایک کیک کھایا اور جوس پیاتو بربیجانے اسے دوسرا کیک کھانے کو بھی کہا‘ مسکان آج خوشی سے جھوم اٹھی کہ اس سے نفرت کرنے والا باپ آج اتنا مہربان کیسے ہوگیا‘ وہ حیرا ن تھی‘ لیکن بیچاری اپنے باپ کی شفقت بھرے لہجے کے پیچھے اس شیطان کو نہ پہچان سکی‘ جو اس پر ظلم کرنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا

مسکان نے کہا بابا دوسرا کیک بعد میں کھائوں گی‘ بس مسکان کے یہ الفاظ اس کی زندگی کیلئے عذاب بن گئے‘ وحشی باپ نے بات نہ ماننے کی وجہ سے مسکان کو پھر سے تشدد کانشانہ بنانا شروع کیا اور اس بار اس نے مسکان کے ہاتھ پیروں کو باندھنے کے علاوہ منہ پر کپڑا بھی باندھ دیا تھا‘ مریم یہ سب دیکھ کر چلائی تو اسے کمرے میں زنجیروں سے باندھ کر مسکان کو مارنا شروع کردیا‘ مسکان کو پائپ سے مارنے کی دوران تھک کے بیٹھ گیاتو مسکان نے اپنا سرباپ کی گود میں رکھ کر آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے زندگی کی بھیک مانگی ‘اس پر بھی درندگی کی انتہا کرتے ہوئے قاتل باپ نے بچی کو سر سے پکڑ کر منہ کے بل زمین پر پٹخ دیا‘ منہ کے بل زمین پر پٹخنے کی وجہ سے مسکان کی ناک کی ہڈی اور آگے کے دانت ٹوٹ گئے‘ لیکن اس وحشی درندے نے دوبارہ مسکان کو اٹھا کر سرکے بل زمین پر دے مارا ‘ مسکان نے اپنے باپ کی گودمیں سررکھ کر صر ف اتنا کہا تھا کہ بابا مجھے چھوڑ دو میں مرجائونگی ‘ اس پر قاتل باپ نے بچی کو چھوڑنے کے بجائے زمین پر پٹخ کرپیٹ میں سریاں گھونپ دیا‘ آہ مسکان پر تشدد کی انتہا اس کے باپ کے ہاتھوں بہت تکلیف دہ تھی‘ پیٹ میں سریاں جاتے ہی مسکان کی آنکھیں چڑھ گئیں‘ درد کے مارے چیختی چلاتی بچی ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی‘ زمین پر بے سدھ پڑی بچی کی ماں کمرے میں بند اپنی بچی سے بات کرنے کے لیے تڑپ رہی تھی‘ مسکان کو جان سے مارنے کے بعد سفاک قاتل کی آنکھوں میں کوئی ندامت نہ تھی وہ اپنی ماں سے پیسے لے کر بھاگ نکلاا ور پوری رات مسکان کی دادی مسکان کو باورچی خانے میں داغتی رہی‘ مریم کمرے میں بند یہ سوچ رہی تھی کہ مارکھاتے کھاتے بیٹی سو گئی ہے‘ اسے کیا پتہ تھا کہ کمرے کے باہر اس کی دنیا اجڑ چکی ہے ‘ مسکان کی سنگ دل دادی کا ارادہ اپنی پوتی کے جسم کو داغ کر جلا ہوا ثابت کرنا تھا‘ لیکن قدرت کو یہ ہر گز منظور نہ تھا‘ اتفاق سے اگلی صبح محلے کی ایک خاتون مسکان کے گھر اس کی دادی سے پیسے لینے پہنچی تو وہ دروازے کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہوگئی‘ خاتون کو تجسس بڑھااور اس نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی‘ مسکان بنا کپڑوں کے پڑی ہوئی تھی اور اس کا جسم بری طرح سے جھلسا ہوا تھا

باہر سے آئی ہوئی خاتون ایک دم سے معصوم کی نعش کو دیکھ کر کچھ نہ سمجھ پائی اور سوال کرنے ہی لگی تھی تو اتنے میں اس کی دادی بہانہ کرتے ہوئے بولی کہ پانی کے ٹینک میں گرنے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی ہے‘ خاتون نے گھر سے باہر آتے ہی واویلا مچا دیا اور پل بھر میں پورا محلہ سر پر اٹھا لیا‘ محلہ جمع ہونے پر مریم کو بھی کمرے سے نکال لیا گیا‘ بند کمرے سے باہر آتے ہی مریم اپنی بیٹی مسکان کو دیکھ کر صدمے سے لڑ کھڑاتی ہوئی بچی کے پاس بیٹھ کر کھوئی ہوئی نظروں سے اسے گھورنے لگی‘ کچھ دیر گزر ی تھی کہ ایمبولینس اور پولیس آگئی‘ مسکان کی نعش کا پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا اور پولیس جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے لگی‘ مجرم دادی آنکھوں کے سامنے تھی‘ لیکن باپ روپوش ہوچکا تھا‘ جائے وقوعہ کی تلاشی کے بعد گھر سے منشیات ‘ پولیس بیلٹ‘ اسلحہ ودیگر مواد برآمد ہوا تو پولیس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے پائپ ‘ سریا اور مسکان کے منہ پر بندھا کپڑا لے گئے اور باقی سارا سامان وہیں چھوڑ کر ملزم کی تلاش میں لگ گئے‘ بربیجا کی ماں اپنے بیٹے کی سرپرستی کرتی تھی‘ جس کی وجہ سے وہ لوٹی ہوئی رقم یا منشیات فروشی سے کمایا گیاروپیہ اپنی ماں کے ہاتھوں میں لا کر رکھتا تھا‘ عبدالحکیم عرف بربیجا خود خونی درندہ تو تھا ہی لیکن ماں کی سرپرستی کی وجہ سے کھلے عام دنداتا پھر تا تھا‘ بربیجا سے اس کے بیوی بچے ہی نہیں ‘ اہل محلہ بھی خوف کھاتا تھا‘ اسلحے کے زور پر دہشت پھیلانے اور محلے کے ہرشخص کو دھمکا کر اس درندے کے خلاف کوئی کچھ نہ بو ل سکا‘ علاقہ مکینوں میں سے چند نوجوان نے مسکان کی موت پر اس کی دادی کو الزام ٹھہرایا تو اس نے اپنے گھر کو آگ لگا کر مکان جلانے کا الزام علاقے کے ان لڑکوں پر لگادیا‘ جس نے مریم کی ساس حسینہ کو بچی کی موت کا سبب بتایا تھا‘ گھر جل گیااور ساتھ ہی منشیات پولیس بیلٹ ودیگر سامان بھی جل جانے کی وجہ سے عبدالحکیم کے خلاف مزید ثبوت مٹ گئے‘ حسینہ نے مکان جلانے کا الزام لگا کر ان لڑکوں کے ایف آئی آر کٹانا بھی چاہی‘ لیکن چند معزز حضرات کی گواہی پر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے قاصر رہی۔پولیس ملزم کو ڈھونڈنے میں لگی تھی‘ ادھر مریم بیٹی کے صدمے میں پاگل تھی‘ ساس حسینہ اور نندیں اپنی چاپلوسی کے تحت پولیس کو رام کرنے میں لگی تھی‘ اس وجہ سے مقامی پو لیس نے حسینہ کو بھی گرفتار نہ کیا‘ لیکن عبدالحکیم عرف بربیجا بہت جلد مخبر خاص کی اطلاع پر پکڑا گیا‘ پولیس کی حراسست میں آتے ہی عبدالحکیم نے اعتراف جرم کرلیا‘ پولیس نے مجرم کو گرفتار کرلیا‘ لیکن مجرم کی ماں کو نہ جانے اس کیس سے کیوں دور رکھا ہوا ہے‘ حالانکہ وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے‘ مریم کی ساس حسینہ نے مسکان کے ساتھ متواتر وحشت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا‘ جیسا کہ مسکان جب اپنی دادی کے ہمراہ رہتی تھی تو وہ اپنی ماں سے ملنے کیلئے تڑپتی تھی

یہ بھی پڑھیں : پریمی جوڑے نے پھانسی لگا لی

حسینہ اسے ملنے بھی نہ دیتی اور ساتھ ہی اذیت بھی دیتی تھی‘ روٹی مانگنے پر مسکان کا ہاتھ گرم توے سے لگادیتی اور طرح طر ح کی تکلیف جو 6 سال کی ننھی بچی کیلئے برداشت کرنا ناقابل یقین سی بات تھی‘ جب مریم نے ابوبکر سے شادی کی تو بھی مسکان کو مریم سے چھین کر زبردستی اپنے پاس رکھ لیا تھا‘ مسکان نے بہت چھوٹی عمر میں بڑے بڑے ظلم سہے تھے اورآخر دم تک وہ بچی ظلم کی چکی میں پستی رہی‘ اس کے آخری الفاظ بھی یہی تھے کہ مجھے چھوڑ دو بابا نہیں تو میں مرجائوں گی‘ مریم سے ملاقات کے دوران اس نے ننھے آیان کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات دکھائے‘ ڈیڑھ یا 2 سال کا بچہ اس کا جسم نشانات سے بھرا ہوا تھا‘ ایساحیوان باپ تھا‘ کہ اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی جگہ جگہ بلیڈ سے کاٹا ہواتھا‘ عبدالحکیم عرف بربیجا ایک ایسا ظالم باپ تھا‘ جو بیوی بچوں سے نفرت کرتا تھا‘ چوری ‘ ڈکیتی‘ قتل وغارت جیسے سنگین جرائم کا عادی‘ منشیات فروشی ودیگر کئی جرم کی سزا کاٹ کر آنے کے بعد بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے اپنے ہی گھر میںکہرام بر پا رکھتا تھا‘ مسکان کے خالو کے مطابق گھر سے پولیس بیلٹ کا ملنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قانون کے رکھوالوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر ان سے حاصل کردہ بیلٹوں کی مدد سے خود کوپولیس والا ظاہر کرکے لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھتا تھا‘ تھانہ زمان ٹائون کے لاک اپ میں قید ملزم عبدالحکیم کی ماں اور بہنوئی کو بھی شامل تفتیش کیا جانا چاہیے‘ گھر میں ایک ہی چھت کے نیچے آنکھوںکے سامنے ظلم ہوتا ہوا دیکھ کر بھی اس کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھائی اور ملزم کو پیسے دے کر فرار کرانے میں اس کی مدد کرکے اسے بڑھا وا کیوں دیاگیا‘عبدالحکیم عرف بربیجا کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو8 سال کی عمر سے ہی اس نے لوگوں کی جیبیں کاٹنا شروع کردی تھی‘ وقت کے ساتھ ساتھ بربیجا کی عمر بڑھتی گئی تو اس کی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی تیزی آنے لگی‘ جیب کاٹنے کے بعد گھروں اور دکانوں میں چوری چکاری کرنے لگا‘ 8 سال کی عمر سے جرم کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد بربیجا کے خلاف متعدد تھانوں میں کیس بھی جمع ہونے لگے‘ پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے بربیجا کو حراست میں لیا اور اس نے جیل کاٹنا شروع کی‘ جیل سے رہا ہونے کے بعد بربیجا کا حوصلہ مزید بڑھتا گیا‘ چوری چکاری چھوڑ کر اس نے اسلحے کے زور پر شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا‘ جیب کترنے کے بعد چوری اور پھر ڈکیتی کے بعد منشیات فروشی کا دھندہ شروع کردیا‘ اس کے علاوہ ان سب باتوں سے پریشا ن ہوکر اور بار بار سمجھانے کے باوجود نہ سمجھنے پر بربیجا کے باپ نے 2008 ء میں اسے عاق کردیا‘ اس پر بھی وہ نہ سدھرا اور جرم کی دنیا میں مزید گھستاچلا گیا‘ بربیجا اپنی ماں کا لاڈلہ ہونے کی وجہ سے مزید بگڑنے لگا

بربیجا کی ماں حسینہ کی اسے سرپرستی حاصل ہونے کے باعث وہ یکے بعد دیگرے سنگین جرائم کرنے لگا‘ اس کی ماں نے اس کی شادی کر دی ‘ یہ سوچ کر کہ وہ سدھر جائے گا‘ لیکن وہ نہ مانا اسے جرم سے کمائی گئی دولت کی لت لگ چکی تھی‘ اس کے علاوہ نشے کا عادی ہونے کی وجہ سے بھی کسی کو خاطر میں نہ لانا اور من مانی کرتے ہوئے مار پیٹ کو مشغلہ بنا لیا‘ شادی کے بعد جیل سے رہا ہونے کے بعد بربیجا نے باقاعدہ طورپر جرم کو سرانجام دینے کیلئے گروپ بندی کرلی تھی‘ پوراٹائم گھر سے باہر رہ کر جرم کرتارہتا اور جب وقت ملتا تو گھر جاکر بچوں کو مارنا پیٹنا شروع کردیتا‘ اگر مریم بچوں کو بچانے بیچ بچائو کرتی تو اسے بھی بربیجا کی مارکا نشانہ بننا پڑتا تھا‘ بربیجا کی ان ہی حرکات وسکنات کی بنا پر اس کا دوسرا گھر پولیس اسٹیشن تھا‘ آئے روز کسی نہ کسی تفتیش کی وجہ سے وہ تھانے میں ہوتا تھا‘ لیکن مسکان قتل کیس میں اب اس کا مستقل گھر جیل ہی بننے والا ہے‘ ا س بات کا یقین اس کیس کے تفتیش افسر فراز نے دلایا ہے‘ ایس آئی او فراز نے کہا ہے کہ پولیس بچی کو انصاف دلانے اور عبدالحکیم عرف بربیجا کو کیفر کردار تک پہنچانے میں محنت کررہی ہے۔اس کے علاوہ ملزم نے اعتراف جرم کرلیاہے اور گھر سے آلہ قتل بھی برآمد کیا جاچکا ہے‘ جس میں پائپ ‘ سریا اور کپڑا شامل ہے‘ جبکہ اہل محلہ کے مطابق جب پولیس تفتیش کیلئے گھر آئی تو بربیجا کے گھر سے عادی مجرم ہونے کی وجہ سے لیڈیز ‘ پرس‘ مردوں کے وائلٹ ‘ اصل شناختی کارڈ ‘ ہیروئن‘پولیس بیلٹس ‘ حشیش ودیگر کئی چھینا ہوا سازو سامان بھی برآمد ہوا‘ جوکہ پولیس نے نظرانداز کرتے ہوئے آلہ قتل جائے وقوعہ سے لیا اور چلے گئے‘ اس کے علاوہ مقتولہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ جب کیس درج کروانے پولیس اسٹیشن گئے تو پولیس نے ہتک آمیز رویہ بھی اختیار کیا‘ مقتولہ کے لواحقین نے معزز عدالت سے اپیل ہے کہ معصوم مسکان کے قاتل حقیقی باپ کو سخت سے سخت سزا دی جائے‘ تاکہ مسکان کو انصاف فراہم ہوسکے۔

(271 بار دیکھا گیا)

تبصرے