Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 24 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دھنی تڑپ تڑپ کے مرگئی

ویب ڈیسک جمعه 05 اپریل 2019
دھنی تڑپ تڑپ کے مرگئی

میرپور خاص روڈ سانگھڑ مشین اسٹاپ کے نواحی گائوں مولا بخش انڑ کے رہائشی بھیل برادری کے دُوُدو بھیل اپنی بیوی مسمات دھنی بھیل کو سول اسپتال سانگھڑ کے زچہ بچہ وارڈ میں لے کر آئے جہاںپر زچہ بچہ وارڈ کی انچارج اور نرسوں نے مسمات دھنی بھیل کو داخل نہیں کیا اور کہا کہ ابھی بچہ ہونے میں 2 دن ہیں‘ آپ گھر لے جائو‘ ہم زچہ بچہ وارڈ کے باہر بینچ پر پڑے رہے

نرسوں کی بڑی منت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ دھنی بھیل نے بتایا کہ میری بیوی کو بڑی تکلیف تھی مگر نرسوں نے داخل نہ کیا‘ ہم دھنی کو لے کر پرائیویٹ کلینک شہر سانگھڑ میں مجبور ہوکر لے کر گئے‘ وہاں آپریشن کے لئے 40 ہزار روپے طلب کئے گئے‘ ہم غریب آدمی کہاں سے 40 ہزار روپے ادا کریں‘ ہم دوبارہ مسمات دھنی کو زچہ و بچہ وارڈ میں سول اسپتال لے کر آئے‘ 2 گھنٹے تک باہر بینچ پر پڑے رہے اور نرسوں نے کہا کہ نواب شاہ سول اسپتال لے جائو‘ ابھی بچے کی پیدائش میں دیر ہے۔ مسمات دھنی بڑی تکلیف میں تھی اور تکلیف میں ہی باہر پڑے بینچ پر کھلے آسمان کے نیچے مسمات دھنی بھیل کے یہاں بچی نے جنم لیا مگر پھر بھی سول اسپتال کی نرسوں نے میری بیوی کو داخل نہ کیا اور تکلیف میں تڑپتے ہوئے میری بیوی دھنی بھیل فوت ہوگئی جس پر بھیل برادری اور ورثاء نے زچہ و بچہ وارڈ کے سامنے نرسوں کے خلاف سخت احتجاج کیا

یہ بھی پڑھیں : جانباز سپاہی، مولانا کی جان بچائی

جس کے بعد بھیل برادری کے سینکڑوں افراد اور ورثاء نے مسمات دھنی بھیل کی نعش لے کر سانگھڑ پریس کلب کے سامنے رکھ کر روڈ بلاک کرکے دھرنا دیا جس سے مظاہرین نے تھانہ روڈ‘ میرپور خاص روڈ اور پریس کلب چوک کو مکمل طور پر بند کردیا۔ مظاہرین میں مولا بخش انڑ‘ راٹھور‘ پریم داس‘ مٹھو بھیل‘ ڈھولو بھیل‘ دُودُو بھیل و دیگر مظاہرین نے سول اسپتال سانگھڑ زچہ و بچہ وارڈ میں تعینات نرسوں کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے‘ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے‘ ہمارے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے‘ نرسوں کی غفلت کی بناء پر مسمات 45 سالہ 3 بچوں کی ماں دھنی بھیل زوجہ دُودُو بھیل نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ مظاہرین سے مذاکرات کرنے کے لئے اور احتجاج ختم کرانے کے لئے ایس ایچ او سانگھڑ احسان بلیدی سانگھڑ پریس کلب پہنچے۔ مظاہرین سے مذاکرات نہ ہوسکے‘ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن کے ہمراہ سول سرجن سانگھڑ محمد اکبر کتھمبر‘ پاکستان ہندو کونسل کے ممبر راجیش کمار ہرداھا سانی‘ انسانی حقوق سندھ کے صدر جام غلام قادرانڑ‘ قومی اسمبلی ممبر نوید ڈیر‘ صوبائی اسمبلی ممبر خلیفہ علی غلام نظامانی و دیگر نے واقعہ کی شدید مذمت کی اور ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن نے مظاہرین سے مذاکرات کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی کے واقعہ میں ملوث ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹرز اور نرسوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ورثاء سے انصاف کیا جائے گا

جس پر ڈپٹی کمشنر نثار احمد میمن نے ڈی ایچ او ڈاکٹر شگفتہ نسرین عابد کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنائی گئی جس کی مکمل تحقیقات کرکے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے لئے مسلسل نعرے بازی کررہے تھے اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کی یقین دہانی پر اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ مظاہرین نے 2 گھنٹے سے زائد پریس کلب چوک تھانہ روڈ‘ میرپور خاص روڈ مکمل طور پر بند کردیا تھا اور دھرنا دے کر آنے جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بند کردی تھی۔ مذاکرات کامیاب ہونے پر سینکڑوں ہندو قوم بھیل اور میگھواڑ قوم سے تعلق رکھنے والے افراد عورتوں اور مردوں نے مظاہرہ اور دھرنا ختم کیا جس پر 2 گھنٹے سے زائد بند ٹریفک کو بحال کرایاگیا اور پرامن طور پر مظاہرین نے احتجاج ختم کیا۔ ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن نے کہا کہ غفلت برتنے والے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور نرسوں پر تین رکنی کمیٹی فیصلہ کرے گی اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ورثاء کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

(123 بار دیکھا گیا)

تبصرے