Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 17 جون 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

غریب کے بچے

ویب ڈیسک بدھ 03 اپریل 2019
غریب کے بچے

آج ذرا وقت تھا تو صبا نے سوچا کیوں نہ اپنی پڑوسن سعدیہ کے پاس چکر لگا آؤں صبا کو اکثر اس کا احساس ہوتا تھا کہ ہم اپنی مصروفیات میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ اپنے دائیں بائیں کا بھی کچھ ہوش نہیں رہتا۔ وہ گئی تو اس کی دوست سعدیہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بڑی محبت سے ملی دونوں اپنی باتوں میں مشغول تھیں کہ اتنے میں سعدیہ کا شوہر گھر میں داخل ہواچھوٹا بیٹا احمد اسکے ساتھ تھا جو مشکل سے تین، چار سال کا ہوگااحمد کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلونا کار تھی جو اس نے گھر میں آتے ہی زور سے زمین پر پھینک کر ماری اور رونے لگا مجھے بڑی والی کار لینی ہے مجھے نہیں چاہیے یہ

چھوٹی کاراحمد مستقل ضد کیے جا رہا تھا اور بری طرح رو رہا تھا سعدیہ اسے پیار کرنے لگی چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ بہت حسرت بھری نظروں سے ماں کو دیکھ کر کہنے لگا امی ابو نے بڑی کار نہیں دلائی مجھے میں چھوٹی گاڑی سے نہیں کھیلوں گا میں بڑی کار لوں گا سعدیہ نے احمد کے ابو سے کہابڑی کار دلا دیتے آپ یہ کب سے ضد کررہا ہے صبا کو اندر کمرے میں سعدیہ کے شوہر کے ہلکے ہلکے بولنے کی آواز آئی کہاں سے دلاتا سعدیہ؟ بس سو روپے ہی تھے میرے پاس احمد کے لیے دودھ لیا اور یہ ضد کررہا تھا تو پچاس روپے والی کار اس کو دلا دی مگر یہ بڑی گاڑی کی ضد کررہا تھا۔ وہ چار سو روپے کی تھی کہاں سے لاتا میں 400 روپے؟ گھر کے خرچے ہی مشکل سے پورے ہوتے ہیں ابھی بجلی کا بل بھی بھرنا ہے کل آخری تاریخ ہے اس کے لیے سنبھال کر رکھے ہیں کچھ پیسے اب بڑی کار خریدنے کے لیے 400 کہاں سے لاؤں

یہ بھی پڑھیں : چڑیا کا انتقام

اس دوران صبا نے سعدیہ سے اجازت لی اور اپنے گھر آگئی۔ مگر ایک بوجھ سا تھا اس کے دل پر۔ گھر آکر بھی یہی سوچتی رہی میں نے کبھی سعدیہ کے حالات کی خبر ہی نہیں رکھی وہ تو میری بڑی اچھی دوست ہے پھر میں نے کبھی سوچا کیوں نہیں اس بارے میں؟ احمد کا رونا اسے بیقرار کررہا تھا اس کا جی چاہا اڑ کر جائے اور اس معصوم کی خواہش کو پورا کردے اور پھر اس نے ایسا ہی کیا بہت زیادہ روپے پیسے کی ریل پیل تو اس کے گھر میں بھی نہیں تھی مگر کوئی تنگی بھی نہیں تھی وہ بازار گئی اور اس کی پسند کی کھلونا کار خرید کر لے آئی شام کو وہ دوبارہ سعدیہ کے گھر گئی اور احمد کو آواز دی تو وہ شرماتا ہوا اس کے پاس آیا صبا نے گاڑی نکال کر اسے دی اور پیار کیا خوش رہنے کی دعا دی سعدیہ بہت ممنون نظروں سے صبا کو دیکھ رہی تھی، پھر بولی تم نے کیوں زحمت کی صبا؟ بچے تو ضد کرتے ہی ہیں؟ صبا نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اشارہ کیا احمد کو دیکھو وہ بہت خوش تھا بار بار گاڑی پر ہاتھ پھیر کر دیکھتا کبھی تیز چلاتا کبھی ہلکے اسکی لائٹیں جلتیں تو خوشی سے تالی بجاتااحمد کو خوش دیکھ کر جتنی خوشی صبا کو ہو رہی تھی وہ بیان سے باہر ہے سعدیہ کو بے اختیار ہی رونا آگیا تم نے کیوں اتنی زحمت کی صبا؟ بچے تو ضد کرتے ہی ہیں ارے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا پگلی یہ سب تو میں نے احمد کو خوش کرنے کے لیے کیا میں نے تو تم پر کوئی احسان نہیں کیا تم خواہ مخواہ شرمندہ ہو رہی ہو۔

یہ بظاہر ایک معمولی سا مگر سچا واقعہ ہے بس ایک چھوٹاسا پیغام ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ کبھی کسی غریب کے بچے کو بھی خوش کر دیا کریںجب اپنے بچوں کے لیے خریداری کریں تو کوئی جوڑا کوئی کھلونا کچھ کھانے پینے کی یا اور کوئی ضرورت کی چیز کسی غریب کے بچے کے لیے بھی لے لیا کریں۔

(256 بار دیکھا گیا)

تبصرے