Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 10 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

عدالتی کارروائی، فوج کا مورال گرے گا، قصوری

صابر علی منگل 02 اپریل 2019
عدالتی کارروائی، فوج کا مورال گرے گا، قصوری

کراچی … سینئر سیاست داں و سیاسی تجزیہ کار اور معروف قانون داں احمد رضا قصوری نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے کو عدالت کی جانب سے مزید کارروائی سے بچانے کے لئے اس مقدمے کو نہ چلائیں۔ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی سے فوج میں بددلی پھیلے گی اور فوج کا مورال گرے گا۔

قومی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے احمد رضا قصوری نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے پرویز مشرف کو 2 مئی تک پیش ہونے کی جو مہلت دی گئی ہے اور اس کے بعد پیش نہ ہونے پر انہیں مفرور قرار دے دیا اور مفرور کے لئے قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ،3 جوان شہید

احمد رضا قصوری نے کہا کہ بحیثیت وکیل اور قانون داں چیف جسٹس کا مذکورہ فیصلہ بالکل درست ہے لیکن بحیثیت سیاستداں میری نظر میں جب گزشتہ ماہ 26 فروری کو جس طرح بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور اس کے جواب میں پاکستان کی فضائیہ نے ہندوستان کے 2 طیارے مار گرائے

اس صورت حال کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی فوجیں سرحدوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی ہیں‘ اس نازک صورت حال میں جب یہ خبر ہندوستان میں جائے گی کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف اس انداز میں عدالتی کارروائی کی جارہی ہے تو اس کے نتیجے میں پاک فوج میں بددلی پھیلے گی اور فوج کا مورال گرے گا اور فوج مورال سے لڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ہماری آزادی اور قومی سلامتی کی حفاظت کررہی ہیں‘ اس نازک مرحلے میں سابق آرمی چیف کے خلاف کارروائی مناسب نہیں ہے۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ ملک کے خلاف غداری کا مقدمہ صرف حکومت وقت قائم کرواتی ہے اور سابق حکومت کے وزیر داخلہ نے یہ مقدمہ شروع کروایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایک ماہ میں آٹھواں بھارتی طیارہ تباہ

نواز شریف حکومت کے دور میں نواز شریف نے اپنی حکومت کو ختم کرنے کا بدلہ لینے کی غرض سے پرویز مشرف پر یہ مقدمہ بنایا تھا لیکن چونکہ اب نواز حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے اس لئے حکومت وقت سے پوچھا جائے کہ وہ مذکورہ کیس کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں‘ چونکہ یہ حکومت وقت کا حق ہوتا ہے

اس وقت جب دونوں ملکوں کی فوجیں سرحدوں پر آمنے سامنے ہیں اور آئے روز فوجی جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں اس لئے بحیثیت سینئر سیاستداں میرا حکومت وقت کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اس مقدمے کو مزید نہ چلائے تاکہ اس کیس کے سبب فوج میں بددلی اور مورال گرنے کے بجائے اُن کا مورال بلند ہو‘ یہ اقدام وقت کی ضرورت ہے۔

(366 بار دیکھا گیا)

تبصرے