Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

احوال مارشل لاء دور میں بھٹو کی بر سی میں شرکت کا

مختار احمد اتوار 31 مارچ 2019
احوال مارشل لاء دور میں بھٹو کی بر سی میں شرکت کا

یہ غالبا 5 جولائی 1977 کی بات ہے کہ ایک فو جی آمر جنرل محمد ضیال الحق جسے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سینئر فو جی افسران کو نظر انداز کر کے چیف آف آرمی اسٹاف کا منصب تک پہنچا یا اس وقت شاید انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ انہوں نے جس شخص پر احسان کیا ہے وہی شخص آگے چل کر ان کے زوال کا سبب بنے گا بھٹو بنا ئے گئے اس جنرل سے ورثے میں ملنے والے اخلاص سے پیش آتے رہے اور اسی طرح جنرل بھی جھک جھک کر انہیں سلام پیش کر نے کے ساتھ منتخب جمہوری حکو مت کیخلاف سازش کے تا نے با نے بنتے رہا با لا آخر 5 جولائی1977 کو وہ موقع اس کے ہا تھ آگیا اور اس نے شب خون مار کر نا صرف جمہوری حکو مت کو ختم کر دیا بلکہ اپنے محسن ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی رہائش گاہ 70کلفٹن سے گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد اس دن سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کا ایک قدم جیل کے اندر رہا تو دوسرا قدم عدالتوں میں نظر آیا اور اسے طرح طرح سے جیل کے اندر اور عدالتوں میں رسوا کیا جا تا رہا

مگر اس کے با وجود اس عظیم شخصیت کے ماتھے پر بل تک نہیں آیا اور وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اپنی سچا ئی پر ڈٹا رہا اس نے سر جھکا نے کے بجا ئے سر کٹا نے کو ترجیح دی با لا آخراس اپریل کے مہینے میں، جب اللہ تعالیٰ پنجاب کو دلہن کی طرح حسن سے نوازتا ہے، محنت کشوں اور دہقانوں کی محنت کی بدولت فصلیں اپنے حسن کی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں، باغات میں نئے نئے پھول اور کونپلیں بہار کے موسم کا جھومر بنتی ہیں، پرندے نئی توانائی کے سا تھ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں پہاڑوں کی برف پگھل کر دریاؤں کو روانی بخشتی ہے اور دہقان اپنی فصل کاٹنے اور اپنی محنت کا ثمر پانے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اس عظیم ہستی اورعظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو جسے جنرل ضیاء الحق کے حکم پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں قید رکھا گیا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں دے کر اس کے حوصلے شکستہ کرنے کی کو شش کی جارہی تھیمگر اس کے حوصلے بلند تھے جس کے با عث فوجی حکام نے انہیں اچانک 4اپریل کوپھانسی دیئے جانے کی خبر سنائی جس پر بلند ہمت انسان نے اپنے حوصلے بلند رکھتے ہوئے، اپنی بیوی نصرت بھٹو اور بیٹی بینظیر بھٹو سے آخری ملا قات کی خوا ہش ظاہر کی۔

بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو جو اس وقت سہالہ ریسٹ ہاؤس میں نظر بند تھیں، 3 اپریل کو شہید بھٹو سے ان کی ملاقات کرائی گئی جو نصف گھنٹے سے زا ئد جاری رہی۔ اس دوران بھی بھٹو شہید انتہائی پر عزم حوصلے کے سا تھ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ اہم امور پر تبادلہ خیال کرتے رہے، بلکہ انہیں دلاسے بھی دیتے رہے۔ ملاقات کا وقت ختم ہوا، دونوں ماں بیٹی انتہائی غمزدہ انداز میں باہر آئیں مگر ذوالفقار علی بھٹو کے ما تھے پر کوئی شکن تک نہیں آئی۔انہوں نے حسب معمول شیو اور غسل کیا، کپڑے پہنے اور پھانسی کے وقت کا انتظار کرنے لگے۔ کیونکہ بہار کے موسم میں پھانسی کا وقت صبح 4 بجے متعین ہے لہٰذا وہ عبادت میں مشغول ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں : پٹرول مہنگا کرنیکی تجویز، وزیراعظم کا امتحان

اچانک رات کے دو بجے سپرنٹنڈنٹ جیل چوہدری یار محمد، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سید مہدی، مجسٹریٹ درجہ اول بشیر احمد خان، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس راولپنڈی جہاں زیب برکی دبے قدموں کال کوٹھری میں آئے اور انہیں پھانسی گھاٹ کی جانب لے گئے۔ اور پھر ٹھیک رات کے دو بجے میڈ یکل افسراصغر حسین کی موجودگی میں جلاد تارا مسیح نے صرف دس روپے کے معاوضے پر اس عظیم شخص کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔پھانسی کی خبر کو خفیہ رکھا گیا اور پھر فوجی حکام نے تدفین کی تیاریاں شروع کردیں۔ میت کو جیل میں غسل دیا گیا اور اسے تابوت میں بند کرکے ایئرفورس کے میڈیم رینج طیارے سی 130 کے ذریعے سکھر ایئرپورٹ روانہ کردیا گیا۔ پائلٹ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کے جہاز میں ذوالفقار علی بھٹو کی میت ہے۔لیکن اسے جیسے ہی اس بات کا پتا چلا تو اس نے میت کو آگے لے جانے سے انکار کرتے ہوئے، جہاز کو سرگودھا میں لینڈ کردیا جہاں سے ایک اور پائلٹ نے جہاز کو سکھر پہنچایا۔ پھر سکھر ایئرپورٹ سے اس عظیم ہیرو کی میت دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے (جن میں سے ایک پر فوجی حکام سوار تھے اور دوسرے پر میت تھی) گڑھی خدا بخش روانہ کی گئی جہاں فوج نے پہلے ہی غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر رکھا تھا۔ دونوں ہیلی کاپٹرز میت کے ہمراہ صبح سات بجے وہاں پہنچے۔

وہاں کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر سلیم تھے جنہوں نے بھٹو خاندان کے اہم رکن مظفر علی بھٹو سے میت کی تصدیق کروا کر صرف دس منٹ میں میت کی تدفین کا حکم دیا۔ مگر چونکہ بھٹو شہید کی پھانسی اور میت آنے کی خبر گاؤں بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی، لہٰذا لوگ تمام پابندیاں توڑ کر گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے فوجی حکام پر زور دیا کہ ہم میت کو اپنی روایت کے مطابق دفن کریں گے۔بالآخر فوجی حکام گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے جس کے باعث جسد خاکی کو زنان خانے میں لے جایا گیا جہاں شیریں امیر بیگم، مظفر علی بھٹو، مولا بخش بھٹو اور بھٹو شہید کے مینیجرعبدالقیوم خان نے میت کا آخری دیدار کیا۔ بقول عبدالقیوم خان، بھٹو شہید کی گردن پر پھانسی کے آثار کے بجائے سینے اور گردن پر زخم کے نشانات تھے۔

پھر زنان خانے میں آخری دیدار کے بعد مولانا محمود علی بھٹو نے نماز جنازہ پڑھائی اور باوجود پابندیوں کے جنازے جس میں لگ بھگ 1500 افراد نے شرکت کی اور ٹھیک ساڑھے دس بجے دن شہید بھٹو کو لحد میں اتار دیا گیااور یہ وہی دن تھا جب ذوالفقار علی بھٹو مر کر بھی زندہ ہو گیا اور کیونکہ وہ عوام کے دلوں میں زندہ تھا لہذا ہر سال لاڑکا نہ کے علاقے گڑھی خدا بخش میں اس کی بر سی منا نے کا سلسلہ 40سال گزر نے کے با وجود اب بھی جا ری ہے اور یہ بر سی کو ئی عام بر سی نہیں بلکہ ایک ایسی بر سی بن چکی ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں مرد و خواتین شر کت کر کے اپنے قائد محترم کو خراج عقیدت پیش کر تے نظر آتے ہیں مارشل لاء دور میں ایک ایسی ہی 4اپریل کو منا ئی جا نے والی برسی میں جانے کا اتفاق ہوا

غالبا یہ 1983 کی بات تھی جب ملک بھر کی طرح کراچی سے بھی کا رکنان با وجود پابندیوں سختیوںکے ٹرینوں ،گا ڑیوں،ٹرکوں مین بھر بھر کر لا ڑکانہ کی جانب چل پڑے ہما را قافلہ بھی بعذریہ ٹرین لاڑکا نہ جانے کے لئے جب کینٹ اسٹیشن پہنچا تو فوجیوں کی بھا ری تعداد نے اپنے بو ٹوںسے ہمیں سلامی دی لاء تعداد کارکنان شدید زخمی ہو گئے مگر اس کے با وجود ان کی ہمت اور حوصلے میں کمی نہیں آئی اور وہ جئے بھٹو کا نعرہ ما رتے ہو ئے ٹرین پر سوار ہو گئے اورکراچی سے لاڑکانہ تک ہر اسٹیشن پر کا رکنان کی اسی طرح تواضح کی جاتی رہی مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے فوجیوں کے ہر اسٹیشن پر ٹرین روکے جانے اور پوچھ تاچھ مار پیٹ کے بعد ٹرین کئی گھنٹوں کی تاخیر سے لا ڑکا نہ پہنچی مگر وہاںبھی فوجیوں نے گھیرا تنگ کررکھاتھا لہٰذا کا رکنان بجائے دروازے کے دوسرے راستوں سے شہر پہنچے مگر وہاں بھی کیونکہ جگہ جگہ لوگوں کی تلاشی لئے جانے کے ساتھ ساتھ گرفتا ریاں ہو رہیںتھی لہٰذا ہما رے قافلے کے لوگوں نے فوری طور پر تانگے والوں سے با ت چیت کی اور گڑھی خدا بخش روانہ ہو گئے اس وقت گڑھی خدا بخش ایک اجڑا چمن بنا ہوا تھا کھیتوں کی ہر یالی غائب تھی اور چا روں طرف ما سوائے خشک مٹی کے علا وہ کچھ دکھا ئی نہیں دے رہا تھا با لا ء آخر ہم لگ بھگ دوگھنٹوں میں بھٹو کے آبا ئی قبرستان پہنچ گئے

یہ بھی پڑھیں : ڈالر کیوں مہنگا ہوا تحقیقات کرائی جائے‘ خورشید شاہ

جس کے دونوں جانب کھنڈر نما دو قدیم عما رتوں کے ساتھ موقبرستان بھی انتہائی مخدوش حالت میںتھا بھٹو کی قبر پر کوئی کتبہ نہیںتھا لوگوں کو بھٹو کی قبر بتانے کے لئے ایک ٹین کا بو رڈنصب تھا جسے دیکھتے ہو ئے ہم نے قبر پر حاضری دی اور پھر اس کچے قبرستان میںبھٹو خاندان کے دیگر لوگوں کی قبروں بھی حاضری دی اور جیسے ہی باہر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا باہر میلوں کے رقبے پر بنجر زمین پر شامیانوں کا ایک شہر آباد ہو چکا ہے جگہ جگہ ڈھابے کے طرزپر ہوٹل قائم ہو چکے ہیں اور سیگریٹ ،بیڑی کے کھوکے کے علاوہ لائبریری و دیگر دکانیں کھل چکی ہیں ہم نے سب سے پہلے بھٹو قبرستان کے ساتھ واقع دو کھنڈر نما بنگلے جس کے صحن میں ملک بھر سے آنے والوں کے آرام کے لیے سوکھی گھاس بچھائی گئی تھی لیٹ کر آرام کیا اور شامیانوں کے شہر کی جانب چل پڑے ہر شامیانے کے اوپر کشمیر ،پنجاب ،بلوچستان،سرحد کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے بینرز آویزاں تھے جسے دیکھ کر ہم نے وہاں لوگوں سے ملاقات کی ا ن شامیانوں کے نیچے بھی لوگ کسی چارپائی بستر چادر اور تکیے کے بغیر گھاس پھوس پر لیٹ کر اس طرح آرام کر رہے تھے کے جیسے کہ وہ کسی مخملی بستر پر آرام کر ہے ہیں لوگوں سے ملا قاتوں کا یہ سلسلہ شام تک جاری رہا

اور ہمیں ہر کیمپ سے وہ محبت وہ خلوص وہ مہمان نوازی ملی جو کہ اس دور میں نا پید ہو چکی ہے ملاقاتوں میں نہ جانے کب شام ہوگئی کھنڈر نما ایک بنگلے میں گھاس پھوس پر بیٹھا کر لوگوں کومصالحے دار چاول کا لنگر کھلایا جانے لگا گو کہ اس کا ذائقہ اتنا اچھا نہیں تھا مگر لوگ اس طرح کھا رہے تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی من سلو ی اتارا ہو کھانے کا سلسہ ختم ہوا اور پھر کھنڈر نما دوسرے گھر میں مشاعرہ شروع ہو گیا جہاں ملک بھر سے آئے ہوئے شعرا اکرام اپنا کلام سناتے رہے مشاعرے کے دوران ہی بھٹو کے آبائی گائوں کے غریب ترین بچے جن کے جسموں پر کپڑے بھی نہیں تھے کالی کالی گندی کیتلیوں میں قہوہ بیچتے نظر آئے مگر پھر بھی برسی کے شرکا یہ قہوہ خرید کرپی رہے تھے جبکہ اکثر لوگ ایک روپے کے ملنے والے اس قہوہ کو مٹی میں انڈیل کر ان بچوں کو پیسہ دے رہے تھے ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ غربت کے مارے یہ بچے پورے سال 4اپریل کا صرف اس لیے انتظار کرتے ہیں کہ ملک بھر سے لوگ آئیں اور ان سے قہوہ خریدیں تاکہ اپنے گھروں کے چولہوں کو پورے سال نہیں تو کچھ روز کے لیے روشن کر سکیں

یہ بھی پڑھیں کشمیری دانشور بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور

مشاعرہ جوکہ ابھی جاری تھا کچھ اسے سنتے سنتے سو گئے جبکہ اکثریت رات بھر مشاعرے اور قوالی کو سنتے رہے پھر اچانک صبح کی سفیدی نمودار ہوئی تو مزار پر قرآن خوانی شروع ہوئی جس میں 600سے زائد قرآن ختم ہوئے کے علاوہ فاتحہ خوانی اور پھولوں کی چادر چڑھانے والوں کا نہ رکنے کس سلسلہ شروع ہو گیا مزار پر تل دھر نے کی گنجائش نہیں تھی مگر اس باوجود ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگ ایک دوسرے پر چڑھتے ہوئے مزار کے اندر داخل ہوتے رہے اور کیونکہ اس زمانے میں جلسہ صبح کے اوقات میں ہو کرتا تھا جس سے ملک بھر سے آئے ہوئے مرکز ی قائدین خطاب کیا کرتے تھے اور پھر جلسے کے اختتام کے بعد لوگوں کے واپسی کا سلسلہ شروع ہو جا تا تھا جو کہ کئی روز تک جا ری رہتا تھا اس زمانے میں آج کی طرح نہ تو کو عالیشان مقبرہ تھا

اور نہ ہی کوئی ہوٹل اور موٹل کی سہولت تھی ٹرانسپورٹ کے طور پر آج کی طرح فراٹیں بھرتی گاڑیاں بھی موجود نہیں تھیں بلکہ لوگ لاڑکا نہ سے گڑھی خدا بخش کا سفر یا تو تانگو ںمیں یا پھر پیدل طے کیا کر تے تھے مگر اس کے با وجود لوگوں کا اپنے قائد کو پیار لگائو اور محبت کے ساتھ ساتھ ان کی نظر یا ت سے گہری وابستگی دیکھنے کو ملتی تھی مگر آج پیپلز پارٹی کے کئی بار اقتدار میں آنے اور سندھ کے اندر مسلسل 10سالوں سے اقتدار میں رہنے ،گڑھی خدا بخش کے کچے قبرستان کی جگہ عالیشان مقبرے ،عالیشان ہوٹلز ،موٹلز ،ریسٹورنٹ اور چمکیلی گاڑیاں ہو نے کے با وجود نہ تو لوگوں کی پہلے کی طرح سال میں برسی میں شر کت کا جنون اور نہ ہی نظر یا ت دکھا ئی دیتے ہیں حالانکہ بھٹو خاندان کے اس آبائی قبرستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ساتھ ان کی زوجہ مادر ملت بیگم نصرت بھٹو ،ان کی صاحبزادی محتر مہ بینظیر بھٹو ،ان کے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو شہید بھی مدفون ہیں ۔

(331 بار دیکھا گیا)

تبصرے