Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 23 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ڈکیت پولیس پارٹی پکڑی گئی

ارشد انصاری جمعه 29 مارچ 2019
ڈکیت پولیس پارٹی پکڑی گئی

سیکو رٹی فراہم کر نے والے ادا رو ں میں جن میں با لخصو ص پو لیس و ر دیو ں میں ملبو س افراد خو د کو پولیس اہلکا ر قر ار دیتے ہوئے لو ٹ مار کی وارداتوںکے لیے اپنے اپنے گینگ بنائے ہو ئے ہیں‘ اسی گینگ کے کار ند ے کبھی اسلحے کے ز ور پر عام شہر یو ں اور کبھی کا لی پو لیس کی ور دی کا رو پ دھار کر بھی شہریوں کو لو ٹا جا رہاہے تھا جس کی شکایات عام ہو رہی تھی حیدر آ باد میں بھی ایک ایسا ہی جعلی پولیس گر وہ کا 3 رکنی ڈا کوئو ں کا گینگ کے افراد گرفتار کرلیے گئے‘ ایس ایس پی حیدر آباد سر فرا ز نو ا ز شیخ کی جانب سے جعلی پولیس اہلکا رو ں اور لو ٹ مار کر نے والے گینگ کا پتہ چلا لیا گیا اور ان کی تلا شی شر وع کر دی گئی ضلعی حیدر آ باد میںمختلف تھانوںکی حد ود میں نا ئٹ چیکنگ کا سلسلہ یو میہ کی بنیا دپر جا ری رکھا گیا

17مارچ کو نائٹ پیٹر ولنگ کے دو ران ٹنڈوجام تھا نے کی پو لیس کو ا طلا ع ملی تھی کے 3 ڈاکوئوں نے جعلی پولیس اہلکا رو ںکا روپ دھا را ہو ا ہے اور لو ٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔ٹنڈ و جام تھا نے کی پو لیس نے مٹیا ری لنک رو ڈ مر ید سیپو چوک کے قریب کارروائی کر تے ہوئے نفری نے تین ملزمان کو آ خر کا ر گرفتار کر لیا ‘پولیس کے مطا بق گرفتار ڈا کو جعلی اے ایس آ ئی صا بر حسین ولد محبوب علی اور سعید شاہ ولد ضمیر شاہ ‘جبکہ عبد الجبا ر ولد محمد نو ا ز بھنگر نے ابتدائی تفتیش میں انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گینگ پورے سند ھ میں کبھی پولیس اہلکا رو ں کا روپ د ھا ر کر اور کبھی اسلحے کے ز ور پر لو گو ںکو لو ٹتا ر ہاہے

جبکہ ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جعلی پو لیس مقا بلو ں ہنگامہ آ رائی اور منشیات کی فر و خت کر نے سمیت دیگر اسٹریٹ کر ائم کی وار دا توں میںملو ث ر ہے ہیں گرفتار ملزمان کا تعلق اند رو ن سند ھ کے مختلف شہر وں سے بتا یاگیا ہے اورملزمان سے اسلحہ مو ٹر سائیکلیں اور دیگر سامان بھی بر آ مد کیا گیا ہے‘ ملزمان پر اس سے قبل سند ھ کے مختلف تھا نو ں پر کئی جر ائم کی وا ردا تو ںکے مقد مات درج ہیں۔گرفتار جعلی پو لیس اہلکاروں جو کہ حیدر آ بادسمیت دیگر شہر و ں میں وا ر دا تیں کر تے رہے تھے ان کے خلاف کئی تھا نو ں پر مقد مات کی تصدیق حیدر آ بادکے پو لیس ترجمان نے جا ری کر دہ ا علا میہ میں کر تے ہوئے ظاہر کیا ہے کہ تینو ں ڈا کو ئو ں کا تعلق سندھ کے مختلف شہر و ں سے ہے اور ڈا کو جر ائم کی وا ر داتیں کر نے میں ملو ث پا ئے گئے ہیں‘ جن کے قبضے سے ا سلحہ اورجعلی پو لیس کا ر ڈ و دیگر مسر و قہ سامان بھی بر آمد کیے جا نے کی تفتیش کا عمل جا ری ہے

ملز مان پر مقد مات درج کر لیے گئے ہیں‘ جبکہ پو لیس کی جا نب سے گرفتار ڈا کو ں کے دیگر سا تھی جو کہ ان کے لوٹ مار و جر ائم کی وا ردا تو ں میں ان کے ساتھ ملوث ر ہے ہیں‘ ان کی گرفتار ی کے لیے چھاپے ما ر ے جارہے ہیں‘ بہر حا ل ڈا کو جو کہ ڈکتیو ں اور لوٹ ما ر کرتے ہیں ڈا کو ں ہی کہلا تے ہیں ان ڈ اکو ئو ں کے خا تمے کے لیے پو لیس کی و ر دی کا ا ستعمال کیا جا نا پولیس انتظا میہ سمیت اعلی حکام پر سوا لیہ نشا ن ہے ڈا کو ئو ں کے پاس ور دی کہا ں سے اور کن افراد نے انہیں مہیاکی ہے یا پھر جن سینٹر و ں پر پو لیس کی یا دیگر سیکورٹی اہلکا رو ںکی ور دیاں ان کے ڈیپا رٹمنٹ کے لیٹر کے تصدیق کے بعدانہیں فراہم کی جا تی ہے

ان سینٹر و ں اور پو لیس میں کا لی بھیڑو ں پر بھی نظر یں رکھنا ہو گی۔تاکہ ڈا کو یا کو ئی اور ملزم کسی بھی وار دات کر تے ہوئے پولیس ور دی کے ہمر اہ نہ گرفتار ہو سکے اورنہ ہی انہیں پو لیس ور دی کی فراہمی ممکن ہو سکے‘ کیونکہ پولیس پر عو ام کا ا عتماد ہے اور اسی ا عتما د کے باعث وہ اپنی گا ڑ یو ں کی تلا ش اور شہر ی خو د بھی جا معہ تلا شی دیتے ہیں‘ تاکہ سیکورٹی ادا رو ں سمیت پو لیس کو ملز مان کی گرفتار کر نے میں آسا نیا ں پید ا ہو سکے‘ اور لوٹ مار کر نے والے اور عام شہر ی پو لیس کی نظر میں آسانی سے آ سکے اور حیدر آباد سمیت دیگر شہر و ں میں عام طور پر اب پو لیس وردی میں اہلکا رو ںکو شاپنگ کرتے یا تفریح کر تے دیکھا جا رہا ہے‘ جو کہ پولیس انتظا میہ کی لا پر واہی اور فرائض سے غفلت برتنے کے ز مر ے میں آ تا ہے‘ اس جا نب بھی توجہ دینے کی ضرور ت ہے او رپو لیس وردی کا ا ستعمال صرف پولیس و سیکو رٹی ڈ یو ٹی کے مو قع پر ہی نظر آ نا چاہیے۔

(283 بار دیکھا گیا)

تبصرے