Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جانباز سپاہی، مولانا کی جان بچائی

عارف اقبال جمعه 29 مارچ 2019
جانباز سپاہی، مولانا کی جان بچائی

22 مارچ کو گلشن اقبال میں مفتی تقی عثمانی پر حملے کو 7 روز گرگئے‘ 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 ملزمان کا پولیس سراغ تو نہیں لگاسکی‘ کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی‘ پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دیں‘ 4 روز کے بعد جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول کی فارنسک رپورٹ پولیس کو مل گئی کہ حملے میں جو ہتھیار استعمال ہوا ہے وہ اس سے قبل کسی دہشت گردی کی واردات میں استعمال نہیں ہوا۔ حملے میں نیا ہتھیار استعمال ہوا ہے‘ پولیس نے جائے وقوعہ کی جیوفینسنگ کے بعد 20 موبائل فون کا ریکارڈ لے کر موبائل فون استعمال کرنے والوں کو طلب کیا۔ ان میں سے 14 افراد کے انٹرویو کئے‘ 6 افراد نہیں آئے جن کی نگرانی کی جارہی ہے۔ 7 روز میں نتیجہ صفر ہے‘ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی‘ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ شہر کی امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کیلئے ملک دشمن قوتیں ملوث ہیں‘ دہشت گردی کی واردات کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں‘ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گردی کے خدشات اب بھی موجود ہیں‘ ایک بار پھر تواتر سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اسی طرح کے ایک واقعہ میں گلشن اقبال نیپا چورنگی میں 6 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 سے زائد دہشت گردوں نے مفتی تقی عثمانی کی کار پرحملہ کیا۔ حملے میں مولانا کے 2 محافظ شہید ہوئے۔ مذہبی اسکالر مفتی تقی عثمانی اپنی اہلیہ اور 2 پوتوں کے ساتھ سوار نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گلشن اقبال ایکسپو سینٹرکے قریب واقع مسجد بیت المکرم جارہے تھے کہ نامعلوم دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں ان کی سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکار محمد فاروق اور پچھلی گاڑی میں سوار مفتی صاحب کا ذاتی محافظ صنوبر شہید جبکہ سیاہ کار کا ڈرائیور حبیب اور دوسری گاڑی کا ڈرائیور عامر شدید زخمی ہوگئے۔ مفتی تقی عثمانی کورنگی میں واقع ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث اور نائب رئیس ہیں‘ ان کا شمار عالم اسلام کے گنے چنے بڑے علمائوں میں ہوتا ہے۔ مفتی صاحب 44 کتب کے مصنف اور اسلامی بینکاری کے موجد ہیں‘ ان کی گراں قدر دینی خدمات کی وجہ سے انہیں شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے‘ دہشت گردوں نے مفتی تقی عثمانی صاحب پر حملہ کیا تاہم قدرت نے انہیں اور ان کی فیملی کو محفوظ رکھا‘ یوں عالم اسلام ایک بڑی نقصان سے بچ گیا تاہم المناک واقعے میں انکے 2 ساتھی شہید اور 2 شدید زخمی ہوگئے۔
کہا جارہا ہے کہ حملہ مکمل ریکی کے بعد کیا گیا‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس جمعہ کو مفتی تقی عثمانی کا پروگرام تبدیل تھا۔ بدھ کے روز کی ملتان کے لئے مفتی صاحب کی سیٹ بک تھی‘ یعنی جمعہ کو انہیں کراچی میں نہیں ہونا تھا‘ یوں زیادہ تر لوگوں کو یہی معلوم تھا کہ اس جمعہ کو مفتی صاحب معمول کے مطابق مسجد بیت المکرم نماز پڑھانے نہیں آئیں گے لیکن ہوا یہ کہ اچانک ان کی فلائٹ کینسل ہوگئی اور وہ ملتان نہیں جاسکے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں تھی‘ سب یہ ہی سمجھ رہے تھے کہ مفتی صاحب ملتان جاچکے ہیں‘ اس کے باوجود حملہ آوروں کی انفارمیشن ایسی تھی کہ انہیں پتہ چل گیا کہ ان کا ملتان جانے کا پروگرام کینسل ہوچکا ہے اور وہ معمول کے مطابق جمعہ کی نماز مسجد بیت المکرم آئیں گے بعد میں اندازہ ہوا کہ انہوں نے اس بات کی کنفرمیشن بھی کی اور اس کے لئے وہ لوگ دارالعلوم کورنگی بھی گئے کیونکہ حملے سے قبل تقریباً دوپہر کے وقت کچھ نامعلوم افرادنے دارالعلوم آکر یہ پوچھا کہ آج یہاں نماز کون پڑھائے گا اور نماز کس وقت ہوگی‘ ہم لوگ تو مفتی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے آئے تھے‘ شاید وہ یہ معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کب بیت المکرم مسجد جانے کے لئے گھر سے روانہ ہونگے اور یہ کہ یہ پروگرام تبدیل تو نہیں ہوگیا

دہشت گردی کے حملے میں مفتی صاحب کا بچ جانا کسی بھی طرح معجزے سے کم نہیں تھا۔اس ضمن میں تقی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گولیوں کی بارش کے باوجود اس طرح محفوظ رکھا کہ مجھے خراش تک نہ آئی‘ البتہ 2 ساتھیوں کی شہادت اور 2 ساتھیوں کے زخمی ہونے پر مجھے سخت صدمہ ہے‘ جب حملہ ہوا تو میں سورہ کہف کی تلاوت شروع کررہا تھا‘ تلاوت شروع کرتے ہی فائرنگ اسٹارٹ ہوگئی‘ چند گولیاں میری کار کی ونڈ اسکرین پر آکر لگی لیکن عجیب بات ہے کہ شروع میں چلائی جانے والی گولیوں کی آواز مجھے تیز بارش کی بوندوں کی طرح سے محسوس ہوئی۔ میں یہی سمجھا کہ اچانک تیز بارش شروع ہوگئی ہے لیکن جب گاڑی کی ٹوٹی ونڈ اسکرین پر نظر پڑی جو معلوم ہوا کہ بارش نہیں بلکہ فائرنگ ہورہی ہے۔ پہلا خیال ہی ذہن میں یہی آیا کہ شاید کوئی دہشت گرد ہیں جو ہمیں نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور آگے پیچھے جارہے تھے اور ہوائی فائرنگ بھی کررہے تھے‘ 2 موٹر سائیکلیں تھیں اور ہر موٹر سائیکل پر 2,2 افراد سوار تھے لیکن مجھے فوری طور پر حملہ آوروں کی تعداد کا اندازہ نہیں ہوسکا تھا‘ جیسا کہ میں نے بتایا کہ حملے کے وقت میں سورہ کہف کی تلاوت کررہا تھا اور قرآن پاک میرے دونوں ہاتھوں میں تھا‘ میں تلاوت میں اس قدر محور تھا کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ ہم لوگ پہنچے ہیں لہٰذا حملہ آوروں کی تعداد کی طرف بھی میرا دھیان نہیں آگیا‘ میں عام طور پر سفر کرتا ہوں تو تلاوت کررہا ہوتا ہوں‘ لہٰذا عموماً مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ گاڑی کس مقام سے گزر رہی ہے‘ حملے والے روز بھی ایسا ہی ہوامجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہم کس جگہ پر ہیں‘ ایک دم گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی‘ اس وقت گاڑی میں پولیس گارڈ‘ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا‘ میں اپنی اہلیہ‘ پوتے اور پوتی کے ہمراہ بیک سیٹ پر بائیں دروازے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا‘ گولیاں مسلسل چل رہی تھیں‘ عقب سے آنے والی گولیاں ہمارے سروں کے انتہائی قریب سے ہوتی ہوئی سامنے کی سیٹوں کے پیچھے پیوست ہورہی تھیں‘ اس دوران دائیں طرف سے آنے والی گولی میرے ڈرائیور حبیب کے لگی‘ ڈرائیور نے مجھے کہا کہ آپ نیچے لیٹ جائیں۔

ظاہر ہے کہ گاڑی میں لیٹنے کی گنجائش نہیں تھی،لہٰذا میں کچھ آگے پیر کرکے نیم دراز ہوگیا‘ اس دوران تینوں اطراف سے گولیاں چلنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا‘ تاہم ڈرائیور نے زخمی حالت میں گاڑی آگے بڑھادی‘ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے حملہ آور اپنا کام کرکے چلے گئے لیکن اتنے میں حبیب کی آواز آئی کہ وہ پلٹ کر آرہے ہیں‘ آپ کچھ اور نیچے ہوجائیں‘ اس اثناء میں حملہ آور واپس آچکے تھے او رانہوں نے فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا‘ اس بار انہوں نے دائیں‘ بائیں‘ سامنے اور عقب چاروں اطراف سے گولیاں برسائیں‘ میں گاڑی میں بائیں دروازے کے ساتھ بیٹھا تھا‘ دہشت گردوں کی ایک گولی اسی دروازے کے آر پار ہوگئی‘ گولی لگنے کا مقام وہی تھاجہاں میری ٹانگ تھی‘ عقل تو یہی کہتی ہے کہ یہ گولی میری ٹانگ میں لگنی چاہئے تھی کیونکہ گولی دروازے کے آر پار ہوگئی تھی لیکن ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی ہے کہ یہ گولی کہاں چلی گئی؟ یہ معمہ شاید کبھی حل نہ ہو‘ میں اورمیری فیملی گاڑی کی عقبی سیٹ پر بیٹھے تھے‘ لہٰذا حملہ آور عقب سے زیادہ جدید فائرنگ کرتے رہے‘ یہاں تک کہ گاڑی کا عقبی شیشہ چکنا چور ہوگیا لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم سے دہشت گردوں کا مقصد پورا نہیں ہوسکا‘ شیشہ ٹوٹنے کے بعد بھی عقب سے گولیاں آنے کا سلسلہ جاری رہا‘ زیادہ تر گولیاں عقب سے آکر فرنٹ سیٹوں کے پیچھے حصوں میں لگتی رہیں‘ کچھ گولیاں گاڑی کی ڈکی کے اندر جاکر عقبی سیٹ کے راڈمیں پھنس گئیں‘ چند گولیاں عقبی شیشے کو سہارا دینے والی ربڑ میں بھی پیوست ہوئیں لیکن مجھے یا میری فیملی کو ٹچ نہیں ہوئیں

اس وقت میرا ایک پوتا ایمان 5 برس اور پوتی دینا 7 برس کی ہے‘ لہٰذا بچوں کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اصل میں کیا ہورہا ہے لیکن جب ڈرائیور اور گارڈ کو گولیاں لگیں تو پوتے ایمان نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ’’ابا‘ میرے یہاں لگی ہے۔‘‘ اس وقت میں تھوڑا گھبرا گیا‘ ایک طرح سے مجھ پر قیامت گزرگئی۔ میں نے دعا کی کہ ’’یا اللہ میرے بچے کو بچالے۔‘‘ میں نے جلدی سے ایمان کے قمیض کے بٹن کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ گولیوں سے ٹوٹنے والے کار کے شیشے کی کرچیاں اُسے لگی ہیں۔ شیشے کی کرچیاں میری اہلیہ کے بھی لگیں‘ ان کے دونوں ہاتھ زخمی ہوئے ہیں‘ حملے کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں بھی قرآن پاک تھا اور وہ بھی تلاوت کررہی تھیں‘ میری طرح الحمد للہ میری اہلیہ کو بھی کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں تھی‘ حملے کے وقت 2 گاڑیاں تھیں‘ ہماری ہنڈا سوک آگے تھی‘ جس کی اگلی نشستوں پر ڈرائیور کے ساتھ پولیس گارڈ بیٹھا تھا‘ عقب سیٹ پر میں‘ میری اہلیہ اور میرے پوتا پوتی تھے۔ پچھلی گاڑی میں ایک ڈرائیور عامر اور ہمارا ذاتی محافظ صنوبر تھا۔

گولیاں لگنے سے ڈرائیور عامر شدید زخمی ہوا‘ اب بھی تشویشناک حالت میں ہے جبکہ محافظ صنوبر شہید ہوگیا‘ یعنی حملے میں 2 افراد شہید اور 2 شدید زخمی ہوئے۔ آپ اندازہ کیجئے 8 افراد کا قافلہ تھا‘ ان میں سے مجھ سمیت فیملی کے 4 افراد معجزانہ طور پر بچ گئے اور باقی 4 کو گولیاں لگیں ‘ میرے ڈرائیور حبیب کے دونوں کاندھوں پر گولیاں لگیں‘ تیسری گولی کہنی میں لگی‘ جبکہ چوتھی گولی اس کی تھوڈی کو چھوتے ہوئے گزر گئی‘ ڈرائیور کے بازو اور ہاتھ خون میں لت پت تھے لیکن وہ مسلسل گاڑی چلاتا رہا‘ ایک گولی ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے پولیس گارڈ محمد فاروق کے سرمیں لگی‘ ڈرائیور نے مجھے خود بتایا کہ اسے گولیاں لگ چکی ہیں‘ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ شروع میں ہونے والی فائرنگ سے وہ زخمی ہوا یا جب حملہ آور پلٹ کر آئے تھے‘ تو وہ دوبارہ ہونے والی فائرنگ کی زدمیں آیا‘ دراصل دہشت گرد ڈرائیور کے سرکو ٹارگٹ کرنا چاہ رہے تھے‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بچایا‘ اگر ڈرائیور کے سر میں بھی گولی لگ جاتی تو پھر معاملہ ختم تھا‘ کیونکہ اسی نے گاڑی اسپتال تک پہنچائی‘ دونوں کاندھے اورکہنی زخمی ہوجانے کے باوجود ڈرائیور نے بہت تیزی سے گاڑی بھگائی‘ اس دوران میں نے محسوس کیاکہ ہم آگے نکل چکے ہیں اور حملہ آور پیچھے رہ گئے ہیں

میں نے دیکھا کہ ڈرائیور کے دونوں بازوئوں اور ہاتھوں سے خون بہہ رہاتھااور اسے گاڑی چلانے میں دقت محسوس ہورہی تھی‘ بایاں ہاتھ شل ہوچکا تھااور اب وہ ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کررہا تھا‘ اس دوران اس نے مجھے کہا کہ حضرت ‘ میرا ایک ہاتھ تو بالکل بیکار ہوگیا‘ جس پر میں نے کہا کہ تم گاڑی سائیڈ میں لگائو اور پچھلی سیٹ پر آجائو، میں خود گاڑی چلا کو اسپتال لے جاتا ہوں ‘ لیکن حبیب نے انکار کردیااور بولا’’حضرت یہ نہیں ہوسکتا‘ آپ کی جان خطرے میں ہے ‘ دہشت گرددو بارحملے کرچکے ہیںاور تیسرا حملہ بھی کرسکتے ہیں‘ لہٰذا میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا ‘ خدا کے لیے آپ پیچھے ہی بیٹھے رہیں‘ میں خود ہی گاڑی چلا کر اسپتال لے جائونگا‘ کچھ دیر بعد حبیب کا وہ ہاتھ بھی زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے شل ہونا شروع ہوچکا تھا‘ جس سے وہ گاڑی چلا رہاتھا‘ چنانچہ اس نے محض اپنی انگلیوں کی پوروں کی مدد سے گاڑی ڈرائیوکرنا شروع کردی اور گاڑی کو لیاقت نیشنل اسپتال کے راستے پر ڈال دیا

چونکہ میں جمعہ پڑھانے مسجد بیت المکرم جارہاتھا اور نماز کا وقت ہونے والاتھا‘ میں نے مسجد والوں کو راستے میں ہی فون کرکے بتایا کہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیاہے‘ لہٰذا جمعہ کی نماز پڑھانے نہیں آسکوں گا‘ کچھ دیر بعد ہم اسپتال پہنچ چکے تھے‘ فوری طورپر ایمر جنسی میں آئے‘ میں نے ایک اسٹریچر منگوا کر اس پر پولیس گارڈ کو ڈالا‘ کیونکہ مجھے امید تھی کہ شاید وہ بچ گیاہو‘ لیکن چونکہ گولی سر میں لگی تھی‘ لہٰذا پولیس گارڈ نہیں بچ سکا‘ وہ اسپتال آنے سے پہلے راستے میں ہی شہید ہوچکا تھا‘ 3 گولیاں لگنے اور شدید زخمی حالت میں گاڑی چلانے کے سبب ڈرائیور بھی اب نڈھال ہورہا تھا‘ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ حبیب نے کتنی جرأت کا مظاہرہ کیا‘ بڑا جیدار بچہ ہے‘ اسپتال کے عملے نے بڑی پھرتی دکھائی ‘ زخمی ڈرائیور کو فوری طورپر ایمر جنسی میں پہنچا کر طبی امداد دینے کا عمل شروع کردیا‘ میں پہلے گارڈ کے اسٹریچر کی طرف گیا اور ڈاکٹر سے پوچھاکہ اس کی کیا پوزیشن ہے‘ ڈاکٹر نے بتایا کہ اب گارڈدنیا میں نہیں رہا اور راستے میں دم توڑ چکا ہے‘ جبکہ ڈرائیور حبیب کے بارے میں ڈاکٹروںنے بتایا کہ اس کا آپریشن ہوگا‘ لیکن حالت خطرے سے باہر ہے تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا‘ اتنے میں انتظامیہ کے سربراہ آگئے‘ میں نے انہیں کہا کہ جمعہ کا وقت ہے ‘ نماز پڑھنا چاہتاہوں‘ وہ مجھے اسپتال کی مسجد میں لے گئے اور میں نے جمعہ کی نماز وہیں پڑھی‘ اس وقت خطبے کی اذان ہورہی تھی‘ میں تقریباً ایک گھنٹے تک اسپتال میں رہا

ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے فرمایا کہ جائے وقوعہ پرتو پولیس دکھائی نہیں دی‘ تاہم جب ہم اسپتال کی طرف جارہے تھے تو راستے میں ایکسپو سینٹر کے سامنے ایک پولیس موبائل ضرور دکھائی دی‘ جو پولیس اہلکاروں سے مکمل بھری ہوئی تھی‘ ڈرائیور گاڑی پولیس موبائل کے قریب لے کرگیا اور میں نے ان سے کہا کہ میری گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہے ‘ لہٰذا تم میں سے کوئی ایک اہلکار گاڑی ڈرائیو کرکے ہم لوگو ں کو اسپتال تک پہنچا دے‘ لیکن پولیس اہلکاروں نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ خود ہی اسپتال پہنچ جائیں‘ میں نے سوچا کہ ان سے بحث کرنے میں مزید وقت ضائع ہوگا‘ اس وقت ایک ایک لمحہ قیمتی تھا‘ ہم نے چلتے چلتے ہی بات کی تھی‘ لیکن جب پولیس اہلکار آمادہ نہیں ہوئے تو ہم نے خود ہی اسپتال کی طرف گاڑی چلادی‘ خوش قسمتی سے زیادہ ٹریفک نہیں تھااور ہم تقریباً 10 منٹ میں اسپتال پہنچ گئے‘ حال ہی میں تو مجھے کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیںملی‘ لیکن دوڈھائی بر س پہلے ضرور دھمکیاں ملا کرتی تھیں‘ لیکن میں نے کبھی ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیااور نہ ہی اس سے انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ گلشن اقبال ‘ نیپا چورنگی کے قریب مفتی تقی عثمانی پر کئے جانے والے دہشتگردوں کے حملے میں شہید پولیس اہلکار محمد فاروق باغ کورنگی کا رہائشی اور ڈھائی سال سے مفتی صاحب کی سیکورٹی پر مامور تھا‘ اس کا تعلق سیکورٹی زون ٹو سے تھا‘ وہ ڈیوٹی کے حوالے سے انتہائی فرض شناس اور مفتی تقی عثمانی سے خاص عقیدت رکھتا تھا‘ شہید محمد فاروق 7 بچوں کا باپ تھا‘ جس میں 3 بچے نابینا ہیں‘ شہید کی بڑی بیٹی 11 سالہ انعمتہ نابینا ہے ‘ جبکہ 3 سالہ رضا اور ایک برس کا علی رضا بھی نابینا ہے

دیگر بچوں میں بیٹی ماہ نور اور 3 بیٹے احمد رضا‘ جنید رضا اور عبید رضا شامل ہیں‘ تنخواہ کی کمی کے باعث اخراجات پورا کرنے کے لیے اس نے کورنگی دارالعلوم کے عقبی علاقے میں ہی ایک کرائے کی دکان لے کر ٹائر پنکچر کاکام شروع کررکھاتھااورایک لڑکا ملازم بھی رکھا ہواتھا‘ جبکہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد شہید فاروق پنکچر کی دکان پر خود بھی بیٹھ کر ٹائروں پر پنکچر لگاتا تھا‘ محمد فاروق شہید کے والد محمد حنیف دل کے مریض ہیںاور ان کا علا ج چل رہا ہے‘ جبکہ والدہ کا انتقال ہوچکا ہے‘ شہید نے 6 بہنوں میں سے 4 بہنوں کی شادی کرائی تھی‘ جبکہ 2 بہنیں غیر شادی شدہ ہیں‘ جن کے لیے محمد فاروق جہیز جمع کررہا تھا‘ شہید اہلکار کی ایک بہن فرحانہ بیوہ ہے‘ بیوہ بہن کے 5 بچے ہیں‘ جن کی کفالت بھی شہید فاروق کیا کرتا تھا‘ محمد فاروق کا ایک بھائی بابرہے‘ جو کباڑی کا ٹھیلا لگاتا ہے اور بمشکل اپنی فیملی کے ساتھ گزارا کرتاہے‘ شہید محمدفاروق کے والد حنیف نے بتایا کہ ہمارا سر فخر سے بلند ہوچکا ہے‘ میرا بیٹا حرام کی کمائی سے دور بھاگتا تھا‘ وہ کہتا تھا کہ اگر میں نہ رہوں تو اللہ آپ لوگوں کیلئے کوئی دوسرا سبب پیدا کردے گا‘ واقعہ والے روز صبح جاتے ہوئے تمام بچوں اور بڑوں سے مل کر گیا‘ دوسری جانب مفتی تقی عثمانی کے ڈرائیور حبیب کا آپریشن کیا جاچکاہے اور اس کے جسم سے گولیاں بھی نکالی جاچکی ہیں

حبیب مفتی صاحب کے ساتھ پچھلے 18 سالوں سے ہے ‘ آپریشن کے بعد حبیب کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے دوسرے وارڈ میں منتقل کیا جاچکا ہے ‘ بدھ 27 مارچ کو ڈرائیور حبیب کو اسپتال سے ڈسچارج کیاگیاتو دارالعلوم کورنگی پہنچا ‘ جہاں مفتی تقی عثمانی اس کے استقبال کیلئے موجودتھے‘ انہوںنے شفقت سے حبیب کے سر پر ہاتھ پھیرا‘ اس کو دعائیں دیں، ڈرائیور حبیب نے مفتی تقی عثمانی پر حملے کے دوران گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ میں زخمی ہونے کے باوجود بڑی مہارت سے کار لے کر اسپتال پہنچا تھا‘ ڈرائیور حبیب کی بہادری کے چرچے دنیا بھر میں ہوئے تھے‘ مفتی تقی عثمانی نے اپنے ڈرائیور کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور مکمل صحت یابی تک گھر آرام کرنے کا مشورہ کیا‘ ڈرائیور حبیب دارالعلو م کے قریب رہائش پذیر تھا‘ حبیب جب اپنے گھر پہنچا تو علاقہ مکین گھروں سے باہر نکل آئے‘ حبیب کی گاڑی پر پھولوں کی بارش کی ‘ علاقہ مکینوں کے مطابق ہمیں فخر ہے کہ حبیب جیسا بہادر شخص ہمارے علاقے میں رہتاہے۔ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دھمکیاں دینے والے خود کو جن تنظیموں سے منسوب کیا کرتے تھے‘ میرے خیال سے ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا تھا‘ یعنی ایک طرح سے یہ اصلی نہیں جعلی دھمکیاں تھیں

زیادہ تر گمنام ہوتی تھیںاور عموماً بذریعہ خط آتی تھیں‘ کبھی کسی خط میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ا س کا تعلق داعش سے ہے اور لکھا جاتا کہ داعش کا کمانڈر ہوں اورآپ نے جوموقف اختیار کیاہے‘ ہم آپ کو چھوڑیں گے نہیں‘ میں ہمیشہ سے ہی ملک کے اندر مسلح کارروائیوںاور خود کش حملوں کے خلاف رہا ہوں‘ خط میں میرے اسی موقف کی طرف اشارہ ہوتا تھا‘ کبھی کوئی خود کو داعش کا قرار دے کر دھمکی آمیز خط بھیجتاتھا‘ کبھی بظاہر ٹی ٹی پی کی جانب سے اسی نوعیت کا دھمکی آمیز خط آجاتا تھا‘ اب پتہ نہیں یہ خط اصلی ہوتے تھے یا جعلی ‘ کیونکہ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ کسی نے ٹی ٹی پی کا ذمہ دار بن کر دھمکی آمیز خط بھیجا تو ٹی ٹی پی کی جانب سے تردید ی خط بھی آگیا کہ ان کی طرف سے اس قسم کا کوئی خط نہیں بھیجا گیاہے‘ یہی وجہ ہے کہ ان دھمکیوں کو میں نے کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا

ایک آدھ بار لوکل نمبر سے فون سے بھی آیا کہ آپ چھوڑیں گے نہیں‘ جس پر میرا کہنا تھا کہ’’ اللہ مالک ہے‘‘۔اگر چہ ملک میں مسلح کارروائیوں کے حوالے سے میرا موقف واضح ہے کہ اس کے باوجود میں سمجھتا تھا کہ کوئی میرا دشمن نہیں اور دھمکیاں دینے والے جن تنظیموں سے خود کو منسوب قرار دیتے ہیں‘ وہ درست نہیں‘ اس وقت تو پاکستان میں داعش کا وجود بھی نہیں تھا‘ دلچسپ امر ہے کہ اس کے باوجود ایک بار خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ ’’میں داعش کا کمانڈر ہوں اور آپ کے قریب رہتاہوں‘‘۔ شروع میں تو میرے پاس کوئی سیکورٹی نہیں تھی‘ لیکن ایک ڈیڑھ برس پہلے مجھے صرف ایک سپاہی دیاگیاتھا‘ میں نے سوچا کہ اسے واپس کردوں‘ کیونکہ میرا آنا جانا بہت کم ہوتا ہے‘ پھر میرے اپنے ذاتی محافظ بھی ہیں‘ تاہم قریبی لوگوں نے کہا کہ سپاہی کو رکھ لیںتو میں نے اپنا ارادہ بدل لیا‘ جب حکومت نے علماء کی سیکورٹی واپس لی تو مجھ سے بھی یہ واحد سپاہی واپس لے لیاگیا‘ تاہم کچھ عرصے بعد مجھے ایک کے بجائے 2 سپاہی دے دیئے گئے‘ اتفاق کی بات ہے کہ حملے سے ایک روز پہلے ا ن 2 سپاہیوں میں سے ایک سپاہی دوبارہ واپس لے لیا گیاتھا‘ لہٰذا حملے کے وقت ایک ہی سپاہی محمد فاروق میرے ساتھ تھا‘ جو شہید ہوگیا۔

(232 بار دیکھا گیا)

تبصرے