Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 26  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

2 دن میں 10 قتل

ویب ڈیسک جمعه 29 مارچ 2019
2 دن میں 10 قتل

شہر میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے‘ گزشتہ 2 روز کے دوران سپاہ صحابہ کے کارکن تبلیغی جماعت کے کارکن‘ دکاندار سمیت10 افراد دہشتگردی کا نشانہ بن گئے ہیں‘ بدھ کے روز ڈیفنس میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی کورٹ پر پیشی پر آنے والے نوجوان ذوالفقار سمیجو کو فائرنگ کرکے قتل کیا‘ مقتول کی 15 دن بعد شادی تھی‘ گھر میں شادی کی تیاریاں ہورہی تھی‘ ذوالفقار سمیجو ایک ڈاکٹر کے گھر گزری کے علاقے ڈیفنس فیز4 اسٹریٹ نمبر11 لین نمبر5ابراہیم مسجد کے قریب موٹرسائیکل پرسوار2 نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے 23سالہ ذوالفقار ولدمحمد عبداللہ کو ہلاک کردیا اور باآسانی فرار ہوگئے فائرنگ کی اطلاع پرپولیس موقع پرپہنچ گئی

پولیس نے نعش کو پہلے تھانے اور پھرجناح اسپتال منتقل کی‘ ایس ایچ اوگزری محمد خان نے بتایا کہ مقتول ذوالفقارعلی کا آبائی تعلق عمرکوٹ سے تھا اور وہ خیابان مجاہد اسٹریٹ نمبر32 میں ایک ڈاکٹرکے پاس بطورڈرائیور ملازمت کرتا تھا‘انہوں نے بتایا کہ مقتول کے خلاف سول لائن تھانے میں غیر قانونی اسلحے کا مقدمہ درج ہے اورمقتول ایک ماہ قبل ہی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوا تھا اور مقتول کی بدھ کو سٹی کورٹ مقدمے میں پیشی تھی اورمقتول پیشی سے واپس گھر آرہا تھا کہ اس دوران ملزمان نے تعاقب کے بعدذوالفقار کوفائرنگ کرکے قتل کیا‘انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مقتول کا شمس الاسلام ایڈوکیٹ سے ایک معاملے پر2سال قبل کوئی تنازع ہوا تھا جب وہ انکا ڈرائیور تھا‘ایس ایچ او او رایس آئی او امانت نے بتایا کہ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وکیل نے مقتول کو اپنے تعلقات کا استعمال کرکے گرفتار بھی کرایا تھا‘انہوں نے بتایا کہ مقتول کے جیب سے 18 ہزار روپے اور دیگر سامان بھی ملا ہے

دریں اثناء مقتول کے ورثاء نے تھانے کے باہرنعش کے ہمراہ احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے ‘پولیس نے ذوالفقار علی کے قتل کا مقدمہ اسکے بھائی امین کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر126/19درج کرلیا ‘تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ‘اس صورتحال پر مقتول کے اہلخانہ و رشتے دار وں نے ڈیفنس لائبریری کے قریب ذوالفقار کی نعش رکھ کر دھرنا دے دیا اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے اس معاملے پرپولیس کے ا علی افسران نے فوری ایڈوکیٹ شمس الاسلام کی گرفتاری کاحکم جاری کردیا ‘کلفٹن ڈویژن پولیس کی ایک ٹیم نے ایڈوکیٹ کے گھر پر چھاپہ مار اتو معلوم ہوا کہ وہ دن سے گھر پر نہیںآئے ‘ واضح رہے کہ یہ وہی ایڈووکیٹ ہے‘ جس نے اسنیپ چیکنگ کے سابق ایس ایچ او ڈیفنس اورنگزیب خٹک کے ساتھ بدتمیزی کی تھی جس کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے گرفتار بھی کیا تھا

آخری اطلاعات تک رات گئے تھے ڈیفنس لائبریری کے قریب مقتول کا دھرنا جاری تھا‘ جس میں 200سے250افراد شامل ہے ، اہل خانہ کا کہنا ہے مقتول کی 15روز بعد شادی تھی‘ ذوالفقار کوسی ٹی ڈی کے ہاتھوں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کرایاتھا‘ ذوالفقار کی سٹی کورٹ میں پیشی تھی‘ جس کے بعد ڈیفنس میں ڈیوٹی پر جارہا تھا۔اس واقعہ کے چند گھنٹوں بعد یوسف پلازہ کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر16 میں قائم مین مارکیٹ نزدمعراج سوئٹس کے قریب موٹرسائیکل سوار ملزمان نے اسٹوبری کا ٹھیلا لگانے والے محنت کش 34سالہ شہزادقریشی ولد معراج قریشی کے ماتھے پر ایک گولی مارکر قتل کردیا اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘اس اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور نعش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جبکہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا ایک خول تحویل میں لے لیا‘ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اس نے ریڑھی والے کے ماتھے پر ایک گولی مار ی اور فرار ہوگیا‘ پولیس کے مطابق مقتول شہزاد نیوکراچی سیکٹر 11بی کا رہائشی تھا اور اس کی باریش داڑھی تھی اور اردو اسپیکنگ بتایا جاتا ہے

ایس ایچ اوکے مطابق مقتول تبلیغی جماعت سے تعلق تھا اور 8ماہ سے تبلیغی جماعت کے ساتھ گیا ہوا تھا دو روز قبل ہی واپس آیا تھا‘ جبکہ اسکا بھائی کا تعلق بھی تبلیغی جماعت سے ہے‘پولیس نے بتایا کہ پولیس مختلف پہلوو ئوں سے تفتیش کررہی تفتیش قبل کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔جبکہ ایک روز قبل مومن آباد ‘ نیو کراچی ‘ بریگیڈ میں فائرنگ کے واقعات اہلسنت والجماعت کے کارکن سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے ‘ تاہم قتل کے کسی واقعہ میں پولیس کسی ملزم کو گرفتار نہ کر سکی‘بریگیڈ کے علاقے شاہراہ فیصل ایف ٹی سی پل کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نجی کمپنی کے اکائونٹنٹ 45 سالہ ریاض خان کے حوالے سے ایس ایچ او ہمایوں خان نے بتایا کہ ابتک کی جانے والی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ریاض خان کو کسی مذہبی تنظیم سے تعلق کے شبہ میں قتل کیا گیا اس لئے کہ وہ باریش تھا اور شکل صورت و حلیے سے مذہبی لگتا تھا

تاہم مقتول کا کسی تنظیم سے وابستگی معلوم نہیں ہوسکی‘ انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقتول کے اہل خانہ سے مقدمہ درج کرانے کے حوالے سے رابطے کیے جن کا کہنا تھا کہ وہ رات کو مقدمہ درج کرانے آئینگے۔ مومن آباد میں قتل کیے جانے والے نصیرالدین عرف نصرو کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہیںکیا جاسکا ‘اس حوالے سے ایس ایچ او حنیف کا کہنا تھا کہ مقتول کے بہنوئی کا مران کا کہنا تھا کہ وہ اہل خانہ سے صلح مشورے بعد مقدمہ درج کرائینگے انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مقتول کے قتل میں ملوث ملزمان اورقتل کیے جانے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ‘اس حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے‘ نیوکراچی میں ڈاکوں کی فائرنگ سے وہاڑی کارہائشی آفتاب کے قتل کا مقدمہ پولیس نے نمکو کے دکان کے مالک کی مدعیت میں درج کرکے ملزمان کی تنعش شروع کردی۔ عوامی کالونی کے علاقے کورنگی میں خواجہ سرائوں کے سرغنہ حاجی حجن کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جاسکا‘ اس حوالے سے ایس ایچ او شاہد خان کا کہنا تھاکہ پولیس مقتول کے اہل خانہ کوتلاش کررہی ہے‘ اگر وہ جلد پولیس کو نہیں ملے تو سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا جائے گا‘ جبکہ قتل کے حوالے سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور جلد ملزمان کو گرفتارکرلیا جائے گا۔

(248 بار دیکھا گیا)

تبصرے