Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

عارضی رہائی

قومی نیوز جمعرات 28 مارچ 2019
عارضی رہائی

سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتے کے لیے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 50,50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ملک سے باہر نہیں جاسکیں گے‘ وہ چھ ہفتے میں اپنے امراض کا علاج پاکستان میں کسی بھی اسپتال یا ڈاکٹر سے کرائیں جس کے بعد انہیں خود کو6 ہفتے کے بعد سرنڈر کرنا ہوگا۔ سرنڈر نہ کرنے پر ان کی گرفتاری عمل میں آئے گی تاہم اگر وہ علاج کے لئے ضمانت میں توسیع چاہیں گے تو ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ منگل کے روز عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگی رہنمائوں اور کارکنوں نے عدالت کے باہر نکل کر سجدہ شکر ادا کیا اور کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کے قائد کو اپنا علاج کرانے میں سہولت ملے گی۔

نواز شریف کو 24 دسمبر 2018ء کو العزیزہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد وہ کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اس دوران انہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیا لوجی‘ سروسز اسپتال اور جناح اسپتال میں داخل کرایا گیا‘ متعدد ٹیسٹ ہوئے‘ 4 میڈیکل بورڈ بنے۔ تمام بورڈوں نے کہا کہ ان کی طبیعت خراب ہے‘ ان کی اینجیو گرافی کرانے کی تجویز دی گئی اور کہا گیا کہ گردوں کی تکلیف کی وجہ سے اس کے لئے خصوصی انتظام کیا جائے‘ تمام بورڈوں نے اسپتال داخل کرانے‘ علاج کرانے کی بھی تجویز دی تھی‘ تاہم نواز شریف نے حکومت کے سخت طرز عمل پر عدالت عظمیٰ سے صحت کی بنیاد پر ضمانت کے لئے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کوجو متعدد امراض میں مبتلا ہیں‘ علاج کے لئے 6 ہفتوں کی ضمانت منظور کی گئی ہے تاہم جس طرح کے امراض کا وہ شکار ہیں جن میں عارضہ قلب‘ گردوں میں پتھری‘ شوگر‘ انجائنا کی تکلیف اور بلڈ پریشر زیادہ ہونا شامل ہیں‘ ان کا علاج 6 ہفتوں کی مدت کم ہے تاہم عدالت نے اس حوالے سے ہائی کورٹ سے ضمانت میں توسیع کے لئے رجوع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف جن کو منگل کے روز ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں حکومت کو ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کاحکم دیا گیا ہے‘ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میاں صاحب کی ضمانت ہوگئی‘ اب وہ گھر آجائیں گے جس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے سے ان کا علاج شروع کردیا جائے گا۔ نواز شریف کی ضمانت کی اطلاع وزیراعظم عمران خان کو کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں‘ ہم نے نواز شریف کو پیشکش کی تھی کہ وہ جہاں سے چاہیں جس اسپتال سے چاہیں علاج کرائیں ہم اس کے لئے تیار ہیں تاہم وہ کسی اسپتال سے علاج کرانے پر آمادہ نہیں ہوئے‘ تاہم اب ان کی ضمانت ہوگئی ہے ہم دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ عدالت عظمیٰ سے رہائی کا فیصلہ آنے کے بعد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی بیماری پر حکومتی وزاء کا رویہ اور بیانات کافی تلخ تھے۔

وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ این آر او نہیں دیں گے‘ ان کا کہنا تھا کہ ان پر این آر او کے لئے دبائو ڈالاجارہا ہے۔ مبصرین یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا وزیراعظم اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ کسی کو این آر او دے سکیں۔ نوا زشریف اور مسلم لیگی رہنما این آر او لینے کے الزامات کے حوالے سے ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم بتائیں کہ ان سے کس نے این آر او مانگا ہے اور کب مانگا ہے‘ تاہم عمران خان ماضی میں یہ ضمانت دینے میں ناکام رہے۔ نواز شریف نے اپنے خلاف الزامات کے خلاف طویل قانونی جنگ لڑی۔ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد کابینہ کے پہلے اجلاس میں شریف خاندان کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگادی اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے۔ نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کیخلاف اس وقت لندن میں اپنی بیمار اہلیہ کے علاج و معالجے اور تیمار داری کے لئے موجود تھے مگر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد وہ چند روز بعداپنی صاحبزادی مریم نواز کو اپنے ہمراہ لے کر لاہور پہنچے اور اپنے آپ کو بیٹی سمیت حکام کے حوالے کردیا جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل پہنچادیا گیا۔ اب وہ پھر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تاکہ وہ اطمنان سے علاج کراسکیں۔

مسلم لیگ(ن) کے لئے یہ بہت اہم خبر ہے مسلم لیگ (ن) اس فیصلے کے نتیجے میں اپنی سیاست میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے عوام سخت پریشان ہیں‘ ملک میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ نجی کاروباری شعبہ سخت پریشان ہے‘ ملک میں حکومت اپنے کسی بھی وعدے یا دعوے پر کوئی عمل نہیں کرسکی‘ حکومت کوئی نیا منصوبہ شروع کرسکی ہے نہ پرانے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ سابقہ حکومت کے شروع کردہ کئی منصوبے جو مکمل ہوچکے ہیں ان کو عوام کے لئے کھولا نہیں جارہا۔ مسلم لیگ ن اپنی حکومت کے دوران کی کارکردگی کی بنیادپر عوام کی رائے اپنے حق میں کرسکتی ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں بجلی کے منصوبے مکمل کئے‘ آج لوڈشیڈنگ ختم ہوچکی ہے۔ ریلوے رواں دواں ہے‘ دہشت گردی ختم ہوچکی ہے‘ امن وامان کی صورت بہتر ہے‘ مسلم لیگ ن حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ان دعوئوں اور وعدوں کا ذکر کرسکتی ہے جو حکمران جماعت نے کئے تھے‘ حکومت کے لئے ہماری رائے ہے کہ وہ صرف نعروں اور سابقہ حکومتوں پر صرف الزام تراشی پر گزارا نہ کرے بلکہ ملک کے عوام کے معاشی مسائل کو سمجھے اور ان کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ حکومت واضح معاشی پالیسی بنائے اور اس پالیسی پر سو فیصد عمل کرے۔ ملک میں مختلف اداروں کا پیدا کردہ خوف و ہراس ختم کرے اور کاروبار دوست پالیسیاں اپنائے۔ یہ ملک اس لئے نہیں بنا تھا کہ طعنہ زنی کی جائے تحریک انصاف ہنی مون پیریڈ گزار چکی ہے‘ اب صرف کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے اور کارکردگی صرف باتوں سے ممکن نہیں اس کیلئے کام کرنا ہوگا۔

ملک میں نئی حکومت بننے کے بعد سیاسی میدان میں آئے ‘ روز غیر معمولی حالات کا پیدا ہونا معمول بن چکا ہے‘ ماضی میں برسراقتدار بننے والی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے خلاف احتسابی عمل حالات کی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے‘ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی کرپشن کیسز میں گرفتاریوں اور ضمانت پر رہائی کے فیصلو ں سے سیاسی منظر نامہ میں تبدیلی رونما ہوتی رہی ہے‘ اس سارے عرصے میں مسلم لیگ(ن) احتسابی عمل کے خلاف حکومت مخالف سیاسی پالیسیاں ترتیب دے کر کبھی پارلیمنٹ کے باہر پارٹی قائدین کے ساتھ ناانصافی کو بنیاد بنا کر آواز بلند کرتی رہی‘ تاہم اس سارے عمل سے مسلم لیگ(ن) حکومت کیلئے کوئی بڑی مشکلات پیدا نہیں کرسکی‘ اب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ضمانت پر رہائی سے ایک بار پھر ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا امکان ہے‘ گزشتہ روز کے عدالتی فیصلے سے مسلم لیگ(ن) کو خاصا ریلیف مل چکا ہے‘ چنانچہ آنے والے دنو ںمیں مسلم لیگ(ن) کی طرف سے کسی بھی بڑی حکومت مخالف سیاسی تحریک کے تمام تر امکانات معدوم ہوچکے ہیں ‘ نواز شریف کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے فیصلے سے قبل شہر اقتدار میں یہ چہ مگوئیاں گردش کرتی رہی ہیںکہ نواز شریف کو حکومت کی طرف سے این آر او مل چکا ہے یا ملنے والا ہے اور ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق این آر او پر عملدر آمد کیاجائے گا‘ ان افواہوں اور چہ مگوئیاں کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم اس حوالے سے اکثر اوقات اپنے بیانات میں کسی بھی این آر او دینے کی تردید کرتے رہے ہیں‘ اب چونکہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیاہے‘ جس پر ضمانت سے قبل ہونے والی چہ مگوئیوں کو سیاسی حلقوں میں سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور آئندہ بھی اس پر سوالات اٹھیں گے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضمانت پر رہائی کے بعد مسلم لیگ(ن) کا طرز سیاست کیا ہوگا‘ کیونکہ (ن) لیگ کے طرز سیاست سے اس امر کی عکاسی ہوگی کہ نواز شریف کی رہائی کے محرکات کیاہیں

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر جہاں لیگی قیادت خوش دکھائی دیتی ہے‘ وہیں پر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے بھی کوئی مایوس کن رد عمل سامنے نہیں آیا‘ بلکہ عدالتی فیصلے کے احترام میں حکومت کی طرف سے اس پر عملدر آمد کرنے کی بات کی گئی ہیں‘ گزشتہ کئی ماہ سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف (ن) لیگ کی طرف سے کمزور سیاسی رد عمل سے عوامی سطح پر عوام کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نہیں نکالا جا سکا‘ حالانکہ خراب معاشی حالات بجلی وگیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ‘ ٹیکسوں کے حصول کے لیے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ‘ مہنگائی بڑھنے اور بیروز گاری میں اضافے جیسے دیگر مسائل کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ(ن) حکومت پر دبائو ڈال سکتی تھی‘ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا ‘ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے نہ صرف اپنی سابقہ پالیسیوں کا دفاع کیاہے‘ بلکہ آنے والے دنوں میں بھی ایسی پالیسیاں سامنے آئی ہیں‘ جن سے لوگوں کیلئے فوری ریلیف کی جائے‘ ان کے مسائل میں اضافہ ہوگا‘ حکومت ‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں سابقہ اضافے کے علاوہ مزید اضافہ بھی کرنے پر جارہی ہے

بجلی کی قیمتوں میں 2روپے فی یونٹ اضافہ کرکے صارفین سے مزید وصول کئے جائیں گے‘ جبکہ گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد اضافے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے‘ یہ تمام تر ایشوز ایسے ہیں‘ جن کی بنیاد پر (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں‘ لیکن دونوں سیاست پارٹیاں خود اتنے مسائل میں گھری ہوئی ہیںکہ حکومت کے خلاف کوئی بھی بڑی تحریک چلانے کی سکت نہیں رکھتیں ‘ اس کے برعکس حکومت مخالف دونوں بڑی سیاسی جماعتیں صرف احتسابی عمل پر حکومت کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر نکالنا چاہتی ہیں‘ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ دونوں جماعتیں بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گی‘ مسلم لیگ(ن) کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کے خلاف نئی تحریک کاآغاز کردیاہے‘ اس تحریک کے ابتدائی مرحلے میں مسلم لیگ(ن) اس کا حصہ نہیں ہے ‘ جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس تحریک کی اخلاقی حمایت ضرور کی گئی ہے‘ لیکن عملی طورپر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے متحدہ مجلس عمل یا دیگر جماعتیں پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئیں‘ چند روز قبل پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت نے جب حکومت مخالف تحریک چلانے کا باضابطہ فیصلہ کیاتو اس کے بعد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے کئے گئے ‘ جس پر دیگر جماعتوں کے پیپلزپارٹی کے اس اقدام پر ان کے ساتھ سڑکوں پر فوری نہ نکلنے کے جواب پر پیپلزپارٹی نے اکیلے ہی تحریک کا آغاز کردیا ہے

پہلے مرحلے میں کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ ہوا‘ جس میں پیپلزپارٹی کے جیالوں میں بڑی تعداد میں شرکت کی‘ پیپلزپارٹی کے سندھ میں ہونے والے ٹرین مارچ کی کامیابی کے حوالے سے کوئی شکوک وشبہات نہیں تھے‘ بلکہ یہی امکان تھا کہ ٹرین مارچ میں عوامی قوت کا مظاہر ہ کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کا میاب ہوجائے گی‘ اس کا عملی مظاہرہ پوری قوم نے دیکھ لیاہے‘ بلا شبہ پیپلزپارٹی کا یہ کامیاب شو رہا ‘ تاہم اس کا ملکی سیاست پر کوئی گہرا اثر نہیں پڑا جس سے یہ کہا جائے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوچکا ہے یا پیپلزپارٹی کے اس اقدام نے حکومت کے لیے بڑی مشکلات کھڑی کردی ہیں‘ پیپلزپارٹی نے گزشتہ کئی روز سے (ن) لیگ کی مرکزی قیادت جن میں خواجہ آصف ‘ شاہد خاقان عباسی ‘ احسن اقبال‘ پرویز رشید سے رابطہ کیا‘ لیکن (ن) لیگ کی مرکزی قیادت کی طرف سے پیپلزپارٹی کو تاحال کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے‘ (ن) لیگ کی قیادت نے پیپلز پارٹی کو مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کے متعلق آگاہ کیا‘ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت کے مابین بھی فیصلہ سازی کے حوالے سے اس نکتہ پر اتفاق نہیں ہوا تھاکہ حکومت مخالف حالیہ تحریک سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طورپر کیا فائدہ حاصل ہوگا‘ پارٹی کے بعض سینئر شخصیات کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اگر مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی کی احتجاجی تحریک میں شریک ہوتی ہے تو اس کا تمام ترفائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا‘ پیپلزپارٹی کی حکومت مخالف تحریک کے مقاصد عوامی مسائل کے حل یا ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنانے یا دیگر باہمی دلچسپی کے حامل ایشوز کے حل کے لیے نہیںہے‘ بلکہ آصف علی زرداری ان کے فیملی ممبران اور قریبی دوستوں کی متوقع گرفتاریوں سے بچنے کے لیے ہے‘ لہٰذا ان حالات میں مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی کو اپنا کندھا استعمال کرنے کی پیشکش کرکے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرسکے گی‘ اس لیے (ن) لیگ الگ سے ہی حکومتی اقدامات کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاجی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنا اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری خالصتاً عدالتی فیصلے ہیں۔ بلاشبہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس نے یہ فیصلے ٹھوس قانونی بنیادوں پر جاری کئے ‘ جن پر بحث یا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ان فیصلوں سے چونکہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تین اہم رہنمائوں کو ریلیف ملا ہے‘ لہٰذا ان فیصلوں کے اثرات‘ مضمرات اور نوعیت پر سیاسی میدان میں ردعمل ضرور سامنے آئے گا اس تناظر میں مسلم لیگ ن کی طرف سے یقینی طور پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا گیا‘ برسر اقتدارتحریک انصاف نے نواز شریف پر فیصلے کو تسلیم کیا جبکہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا دل سے احترام کرتی ہے‘ سابق وزیراعظم کی 6 ہفتوں کے لئے ضمانت کو تسلیم کرتے ہین اور امید ہے کہ وہ اپنے علاج معالجے کے لئے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔

سیاسی میدان میں سامنے آنے والی اس پیش رفت پر کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی ردعمل سے قطع نظر بہت ضروری ہے‘ معاملات کو عدالتی فیصلوں کے احترام‘ قانون کی حاکمیت اور جمہوری روح کے مطابق آگے بڑھایا جائے‘ اب تک کی صورت حال کو دیکھا جائے تو سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بارے میں فیصلوں پر حکومت ردعمل یقینی طو پر آئینی‘ قانونی اور جمہوری روح کے مطابق ہے۔ شہباز شریف معاملے پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا حکومت کا حق ہے‘ جس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوگا‘ جہاں تک ان فیصلوں پر سیاسی تبصروں کا معاملہ ہے تو انہیں بھی اعتدال میں رہنا چاہئے۔ عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر کسی سیاسی جماعت کو سیاست چمکانے کے رویے سے گریز کرنا چاہئے‘ یہ وقت نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کی بیماری پر سیاست کی جائے‘ یا کسی سیاسی کھیل میں استعمال ہونے والے پتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے جارحانہ لہجہ اختیار کیاجائے۔

اس وقت معاشی‘ سیاسی ‘ دفاعی میدان میں ملک جن حالات سے گزر رہا ہے‘ وہ کسی بھی قسم کی داخلی محاذ آرائی کے متحمل نہیں۔ ملکی سلامتی کے باب میں جس طرح سے سیاسی جماعتوں نے حکومت اور افواج پاکستان کی غیر مشروط‘ بلا تفریق اور مکمل حمایت کی‘ نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے کامظاہرہ کیا گیا‘ اسی طرح معاشی بحران سے نجات کے لئے بھی سیاسی قیادت کو اکٹھا ہونا چاہئے۔ اس وقت آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں موجود ہے‘ سفارتی میدان میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نام نکلوانے کی کوششیں جاری ہیں اور معاشی میدان میں بہتری کے لئے فیصلے کئے جارہے ہیں‘ ان اہم و سنجیدہ مسئلے پر بھی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو سرجوڑنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر حکومت کی ذمے داری ہے کہ اپنے مزاج سے جارحانہ سوچ کو ختم کرکے تدبر و تحمل کا طرز عمل اختیار کرے۔ حکومتی ذمے داران کو سمجھنا چاہئے کہ اب وہ حکومت میں ہیں اور ایک پختہ فکر کی برسر اقتدار سیاسی جماعت کو عاجلانہ سوچ‘ بے جا جوش اور بچگانہ ہنگامہ خیزی سے اجتناب کرنا چاہئے‘ اس کے لئے بہترین طریقہ آئین اور قانون کے بتائے ہوئے راتسے کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی 6 ہفتوں کے لئے ضمانت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی سابق وزیراعظم کے ہر طرح کے علاج و معالجے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ اس تناظر میں ہونا یہی چاہئے کہ اگلے مرحلے میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ سیاسی افہام و تفہیم کی فضاء پیدا ہوسکے۔ اس کے ساتھ حکومتی سطح پر غور کیاجانا چاہئے کہ ملک کی جیلوں میں موجود ہزاروں قیدی علاج ومعالجہ تو دُور کی بات مناسب غذا تک کی بنیادی سہولت و حق سے محروم ہیں۔ نواز شریف‘ شہباز ‘ سراج درانی‘ قائم علی شاہ یا کسی بھی سیاسی شخصیت کو علاج و معالجے اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی جس طرح انتہائی مثبت بات ہے‘ اسی طرح عام قیدیوں کی علاج و معالجہ ‘ ادویہ‘ صحت مند غذا اور بہتر ماحول سے محروی ایک انتہائی منفی بلکہ بھیانک حقیقت ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ تحریک انصاف کی حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ناصرف سیاست کو سیاست تک محدود رکھنے کی نتیجہ خیز کوشش کرے گی بلکہ ملک بھر کے قیدیوں کو بنیادی حقوق و سہولتوں کی فراہمی پر بھی سنجیدگی سے توجہ مرکوز کرے گی۔

(290 بار دیکھا گیا)

تبصرے