Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چائے کے کھوکے سے وزارت عظمیٰ تک

ویب ڈیسک جمعرات 28 مارچ 2019
چائے کے کھوکے سے وزارت عظمیٰ تک

نریندر مودی جیسا بھی ہے‘ اس کا باطن جیسا بھی ہے پر بحث کی ضرورت نہیں‘ مگر مودی کا ماضی بڑا دلچسپ ہے ‘ کہتے ہیں‘ شادی کے بعد یہ اپنی اسکول ٹیچر بیوی سے کئی سال الگ رہا اور انتہا پسندوں کے گروہوں کے ساتھ گھومتا رہااگر چہ اس نے انگریزی میں ماسٹر کررکھا ہے‘ دیگر معلومات بھی وافر ہیں‘ اپنی شخصیت اور کردار کے اعتبار سے اس کا بھارت جیسے بڑے ملک کا وزیر اعظم بن جانا یقینا کسی عجوبے سے کم نہیں‘ اس کے مخالفین کی اس کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ نریندر مودی پیدائشی طورپر جنونی اور انسانیت کا دشمن رہا ہے‘ یہ بھارت کا14 واں وزیر اعظم ہے اور شاید دنیا کا واحد وزیر اعظم ہے جسے بھارتی قوم دانستہ طورپر انتہا پسند اور انسانیت کا قاتل تسلیم کرکے اقتدار میں لائی تھی اور یہ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں نے سب کچھ دانستہ طورپر کیاتھا‘ تاکہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے

خواہ وہ ہندوستان میں بس رہے ہوں یا کشمیر میں‘ مسلمانوں پر ہی کیا موقف مودی کا ایجنڈا یہ تھا کہ بھارت میں ہندوئوں کے علاوہ تمام قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے‘ جس میں پہلے نمبر پر مسلمان اور پھر سکھ ‘اچھوت‘دلت‘ عیسائی اور دیگر چھوٹی قومیں ہیں‘ نریندر مودی کی انتہا پسندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ 1950 ء میں جب وہ 8 برس کا تھا تو اس نے راجیہ سوام سیوک (RSS) جماعت میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور جب 20 برس کا ہوا تو اس نے باضابطہ طورپر اس جماعت میں بطور ممبر شمولیت اختیار کرلی تھی‘ کیونکہ ہندوئوں کی یہ انتہا پسنداور گھیرائو جلائو کرنے والی جماعت فطری طورپر موذی مودی کے مزاج کے عین مطابق تھی‘ 1980 ء میں مودی جب بمشکل 10 سال کا تھاتو وہ ووڈنگر میں وہ اپنے باپ کے برتن دھوتا‘ کرسیاں لگاتا اور گاہکوں کو چائے پیش کرتا ‘ پھر 2 سال بعد اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ریلوے اسٹیشن کے پاس جائے گا‘ اسٹال لگایا اور کافی عرصہ ہی کام کرتا رہا۔

نریندر مودی کا سیاسی کیریئر سازشوں کا گڑھ رہا‘ خود کو پروموٹ کرنے کے چکر میں وہ اس قدر جھوٹ بولتا تھاکہ اس کے اپنے گھر والے اور ساتھی بھی اسے لعن طعن کیا کرتے تھے‘ 2002 ء میں گجرات میں ہونے والے ہندومسلم فسادات میں اس نے مسلمانوں کی ایک ٹرین کو آگ لگا دی‘ جس میں سوار درجنوں سکھ بھی زندہ جل گئے تھے‘ یہی وجہ ہے کہ آج پوری سکھ قوم مودی کے خلاف ہے‘ یہ جب سے اقتدار میں آیا ہے کہ سکھوں نے اسے اپنا وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا‘ نوجوت سنگھ سدھو تو کھلے عام مودی کا قاتل اور جنونی کہتا ہے‘ مودی ویسے تو شروع سے ہی مسلمانوں کا دشمن تھا‘ مگر پاکستان دشمنی میں اس کی طرف سے انتہا پسندی اس وقت دیکھنے میں آئی‘ جب نوجوت سنگھ سدھو وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنے پر پاکستان آیا اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جچھی ڈال لی‘ جس نے مودی کو آگ بگولا کردیا‘ اوپر سے پاکستان نے سکھوں کیلئے کرتار سنگھ بارڈر کھول دیا‘ جس نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور مودی مسلمانوں اورسکھوں کا برابر کا دشمن ہوگیا‘ خاص طورپر مودی کی انتہا پسندی کے چرچے اس وقت ہوئے جب 2005 ء میں امریکہ نے مودی کو ڈپلومیٹک ویزا دینے سے انکار کردیا‘ جس کی وجہ سے 2002 ء کے خونی ہنگامے اور قتل عام تھا‘ جس کا ذمہ دار صرف اور صرف مودی کو ٹھہرا یا گیا

نریندر مودی نے اب حال ہی میں پلوامہ کا جو ڈرامہ رچایا‘ جس کا پول بھی کھل گیااور خود بھارتی میڈیا وہ ویڈیو بھی سامنے لے آیاجس میں مودی کے آدمیوں نے کروڑوں ڈالر کے عو ض پلوامہ میں 34 فوجیوں کو دھماکے سے اڑانے کی ترغیب دی اور پھر مودی کا جرم ثابت بھی ہوگیا‘ مودی کو اس بات پر بھی شرم نہ آئی کہ اتنی جلدی تھانے سے موٹر سائیکل واپس نہیں ملتا ‘ جتنی جلدی پاکستان نے اس پائلٹ ابھی نندن کو واپس لوٹا دیا‘ مگر اس کے جواب میں مودی نے پاکستانی شاکر اللہ کی میت واہگہ بارڈر کے ذریعے واپس بجھوائی ‘ جسے جے پور کی جیل میں قیدیوں اور پولیس نے پلوامہ واقعہ کے بعد طیش میں آکر پتھر مارمار کر شہید کردیاتھا‘ خلاصہ یہ ہے کہ اب نریندر مودی کا بھیانک چہرہ پوری دنیا کے سامنے آچکا ہے اور اب تو خود بھارت کے اندر سے یہ سوال اٹھ رہے ہیںکہ مودی 300 نشستیں حاصل کرنے کیلئے کتنی مائوں کی کوکھ اجاڑنا چاہتا ہے اور کتنی سہاگنوں سے اس کے سہاگ چھیننا چاہتا ہے‘ مودی کو سب سے بڑا صدمہ تو یہ ہے کہ پوری سکھ قوم اس کے خلاف میدان میں آچکی ہے اور پاکستان نے سکھوں کیلئے جو کرتار پور بارڈر کھول دیاہے‘ وہ ایک طرح سے نریندر مودی کی سیاسی سورمائوں کی ہمارے ہیرو حسن صدیقی نے جو درگت بنائی اس کے بعد نریندر مودی ڈوب مرتا‘ مگر وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہا ہے‘ جس نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں مودی جھوٹوں کا بادشاہ قرار پایاہے

گزشتہ روز تو مودی نے بھارتی جنتا کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور کہا کہ آ پ پہلے مجھ پر اور حکومت پر تنقید کریں‘ مگر بھارتی سینا کو جھوٹا نہ کہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ ابھی نندن جو 60 گھنٹے پاکستانی فوج کی حراست میں رہنے کے بعد واپس بھارت گیاہے‘ اس نے بھی پاکستانی حکومت اور فوج کے اچھے سلوک کا اعتراف کیاہے‘ سوکہنے کا مقصد یہ ہے کہ نریندر مودی کو کہیں بھی اپنے حق میں آواز اٹھتی دکھائی نہیں دے رہی‘ اوآئی سی کے اجلاس میں جہاں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بطور مہمان بلایا گیاتھا وہاں بھی چالاک لومڑی کی دال نہ گلی اور اوآئی سی نے کشمیری عوام اور پاکستانی مؤف کے حق میں قرار داد پاس کیں‘ امر واقعہ یہ ہے کہ مودی کے ہاتھوں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے کہ حالانکہ اس سے پہلے پوری دنیا میں مودی کی کشمیر بارے ڈپلومیسی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی تھی‘ مگر مودی کی غلطی سے دنیا پہلی بار مسئلہ کشمیر والے مظالم سے آگاہ ہوتی ہے اورحالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیںکہ کشمیریوں کو آزادی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا‘ مودی نے پاکستان پر ایک اور احسان یہ کردیاکہ حکومت اور اپوزیشن جو بعض اندرونی معاملات میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ میدان جنگ بنا ہوا تھا

مودی نے ایک فضائی حملے کی حماقت کرکے حکومت او راپوزیشن کو ایک پیج کر لاکھڑا کیاہے‘ حکومت اور اپوزیشن بھارت کے خلاف ایک پیج پر ہے‘ جبکہ مودی کی اس غلطی نے بھارت کو مختلف جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کردیاہے‘ 23 سیاسی جماعتوں نے تو نریندر مودی سے ایک طرح سے قطع تعلق کرلیاہے‘ جس کے اثرات ان عام انتخابات پر پڑے گا‘ جس میں نریندر مودی اپنی کامیابی کے خواب دیکھ رہا تھا‘ مگر مودی کے پلوامہ ڈرامہ اور پاکستان پر حملے کے اقدام نے اسے بھارتی قوم کی نظرو ں سے گرا دیاہے‘ اس وقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی انتخابات سے قبل ہی مودی کی سیاسی موت واقع ہوچکی ہے‘ اب تو یہ بھی تیارہے اور وہ اپنے سیاسی جلسے پر دہشت گردی کا ایک ڈرامہ بھی رچا سکتا ہے‘ اس دہشت گردی کے واقعہ میں نریندر مودی نے مزید کتنے لوگوں کو جان سے کھیلنے کا پلان بنا رکھا ہے‘ یہ بھی جلد منظر عام پر آجائے گا‘ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ بھارتی فوج کی صلاحیتوں کا پول کھل چکا ہے‘ جس نے اپنے سے آدھی فوج سے شکست کھائی ‘ اخبار لکھتا ہے کہ بھارتی فوج کے پاس اسلحہ بھی پرانا ہے‘ اس کا سارا بجٹ تنخواہوں میں اٹھ جاتاہے اور فوج میں سیاسی بنیاد پر بھرتیاں کی گئی ہیں‘ اخبار کے مطابق بھارتی فوج 10 روز سے زیادہ جنگ نہیں لڑ سکتی ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کے سپاہیوں کو مناسب خوراک بھی نہیں دی جاتی اور اعلیٰ پولیس افسران ذات پات اور نسل کی بنیاد پر نچلے درجے کے ملازمتوں کی توہین کرتے ہیں۔

(175 بار دیکھا گیا)

تبصرے