Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سلام وزیر اعظم نیوزی لینڈ

قومی نیوز جمعرات 28 مارچ 2019
سلام وزیر اعظم نیوزی لینڈ

اچھی حکمرانی بلند بانگ دعوئوں سے قائم نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ بلا امتیاز تمام شہریوں کے ساتھ مذہب، عقیدے اور نسلی تمیز کے بغیر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے سے جنم لیتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ نیوزی لینڈ کی حکومت نے کرکے دکھایا ہے۔ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہونے والے مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو اس کی خبر ملتے ہی وزیراعظم جیکنڈا اریڈرن نے یکے بعد دیگر دو پریس کانفرنسیں کیں اور دو ٹوک الفاظ میں اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان بھرائی ہوئی آواز میں کرتے ہوئے کہا، جس شخص نے ہمارے خلاف اس بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایسے تشدد کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ فائرنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ مہاجر ہیں یا پھر وہ تارکینِ وطن ہیں۔ جنہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا ہے۔ ہاں یہ ان کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصہ ہیں۔

آج کا دن نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ ہم پر یہ حملہ اس لیے ہوا ہے کہ ہم یک رنگی کے بجائے نسلی و سماجی رنگا رنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم حملہ آور کی پرتشدد وڈیوز اور اس کی 74 صفحات پر مشتمل اس تحریر کو جو اس نے حملہ کے جواز کے لیے پیش کی ہے شیئر نہ کریں اور اسے آگے نہ بڑھائیں تاکہ اس پر تشدد سوچ کو آکسیجن نہ مل سکے۔ مزید برآں وزیراعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں تمام مقتولوں کو اپنا قرار دیا اور قاتل سے برات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کی اسلحہ کی گن پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ دہشت گردی میں ملوث آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا سفید فام دہشت گرد اور اس کے سہولت کاروں کو پولیس نے گرفت میں لے کر فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اس پر قتلِ عام کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور اس کی حکومت نے اور اس میں آباد تمام مذاہب کے ماننے والے شہریوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے اس المناک اور دلخراش سانحہ پر جس اعلی کردار اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے دنیا پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں کردی ہے کہ اگر حکمراں اپنے ملک کے آئین کو بالادست تسلیم کرتا ہو اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ریاست کا سرکاری عقیدہ کیا ہے اور حکمراں کس مذہب کا پیروکار ہے۔

اصل چیز جو دیکھی جاتی ہے وہ ہے کہ وہاں بلا امتیاز نسل اور مذہب کی تمیز کے تمام شہریوں کے لیے انصاف کی فراہمی اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ہیں یا نہیں ہیں اس سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ میں آباد تمام مذاہب کے ماننے والے شہریوں نے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جس کردار کا مظاہرہ کیا ہے اس کی سب تحسین کررہے ہیں انہوں نے اپنی اپنی عبادت گاہوں میں دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا اور مسلمانوں کے لیے اپنی عبادت گاہوں کے دروازے کھول دیے وہ یہاں نماز ادا کریں اور قیام کریں اور مساجد کے باہر پھولوں کے گل دستوں کے ڈھیر لگاکر ثابت کردیا ہے۔ اس طرح کی ریاست کو ہی حقیقی معنوں میں جمہوری فلاحی ریاست کہا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ نے دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نجات کے لیے جس بیانیہ کو اپنی حکومت کا موقف قرار دیا ہے۔ دنیا اسی بیانیہ کو اپنائے گی تو تب ہی دنیا بھر میں ہمہ اقسام کے انتہا پسندو اور پرتشدد کارروائیوں پر یقین رکھنے والے دہشت گرد اور ان کے طاقتور سرپرستوں پر دنیا کی زمین تنگ ہوگی۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ نے اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے کہ وہ روایتی سیاستدان حکمران نہیں ہے۔

دنیا بھر کے تمام انصاف پسند اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے ان کو بلندقامت مدبر (اسٹیٹ مین) سیاستدان کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔ خدا کرے ساری دنیا کے طاقتور حکمران بھی اس حقیقت کا ادراک کرلیں کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے دوراندیش مدبر سیاست داں اور روایتی سیاستدان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو بھی وزیراعظم نیوزی لینڈ نے واضح کرکے بتا دیا ہے۔ 2001 میں امریکا میں 9/11 ہوا تو صدر بش نے دہشت گردی پر اپنے ردِعمل سے ثابت کیا تھا کہ ان کا روایتی سیاستدان کا ردِعمل تھا جس نے اپنے گروہی مفادات کے خاطر ساری دنیا کو دہشت گردی کے عذاب میں جھونکا اور افغانستان سے لے کر عراق سمیت ساری مسلم دنیا کو ہمہ اقسام کے انتہاپسندوں اور مسلح جنگجوئوں سے بھردیا۔ دنیا کو اس عذاب سے نجات کے لیے قدرت نے ایک نادر موقع فراہم کیا ہے اگر وہ بھی نیوزی لینڈ کی حکومت کی طرح اس بیانیہ کو اپنا لیں کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا تعلق کسی ایک نسل اور ایک مذہب کا نام لینے والوں سے ہوتا ہے۔ اپنا لیا جائے تو دنیا میں اسلاموفوبیا سے باہر نکلنے کے امکانات پیدا ہوجائیں۔ میڈیا کا کردار اس میں سب سے اہم اور کلیدی ہوگا۔ دنیا کو اس خوف میں مبتلا بھی مغرب کے طاقتور میڈیا ہائوسز کے مالکان نے ہی کیا ہے جس کا اپنے میڈیا ہائوسز اور بعض انکر پرسن بھی ہوئے تھے کہ جواب بعد از خرابی بسیار کسی حد تک اس سے باہر آئے ہیں۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا تجزیہ انکے صحیح تناظر اور صحیح پس منظر میں کرنے لگے ہیں۔

تحریر و تقریر کی آزادی آزاد انسانوں ہی کا نہیں غلاموں کا بھی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل کی بات بلاخوف و خطر لکھ اور بیان کرسکیں۔ ریاست اور سماج کا بھی یہ فرض ہے کہ ان کی بات کو دردمندی سے سنے اور ان کی شکایات کا ازالہ کرے اور یہ کوئی رعایت اور بھیک نہیں، بنیادی انسانی حق ہے۔ اسی لیے اسے دنیا بھر کے انسانوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ تحریر و تقریر کی آزادی بھی ایک ضابطے، قاعدے اور نظم و نسق کی پابند قرار دی گئی ہے۔ اسی لیے دل آزاری اور نفرت پھیلانے پر مبنی تحریر و تقریر پر نہ صرف پابندی ہے بل کہ اسے قابل سزا جرم تسلیم کیا گیا ہے۔

اب ایک سوال اور بھی جواب طلب ہے کہ ہم تحریر و تقریر میں خبریت، حقائق اور بلاتعصب تجزیے کے پابند رہتے ہیں یا اسے کسی کے خلاف منصوبہ بند کریہہ پروپیگنڈے کے لیے بہ طور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے بھی انسانیت کے خلاف جرم تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ دورجدید میں تحریروتقریر کی آزادی کے نام پر اسے بہ طور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ ہتھیار مہلک ترین بموں سے بھی زیادہ وحشت ناک ہوچلا ہے۔

نائن الیون کے بعد دنیا پھر کے مسلمانوں کے خلاف اس ہتھیار کا استعمال جس بے دردی اور سفاکی سے کیا گیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں انتہائی تیزی آگئی ہے، کی ہزاروں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اب اصل حقائق تک پہنچنے کی رِیت نہ صرف ختم ہوگئی ہے بل کہ مغربی ذرایع ابلاغ (سوائے چند استثنا کے) اس کے مہلک اثرات کی جانب توجہ دینے میں بھی کوتاہی یا بہ طور حکمت عملی کے مرتکب ہیں۔ کیا یہ بتانے میں کوئی عار ہے کہ اب دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو، اسے فوری طور پر مسلم دہشت گردی کہنا سکہ رائج الوقت ہے۔ حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے باصفا اہل دانش اس بات پر بی یک زبان متفق ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن اب اسے منافقت سے کم کیا کہیں کہ مسلم دہشت گرد کی اصطلاح انہی کی ایجاد کردہ ہے۔

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے!
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں میں سیاست داں اور میڈیا بھی ذمے دار ہیں؟ ترکی کے وزیرخارجہ مولوت چاو شولو کا کہنا ہے کہ اس وحشت ناک حملے کے لیے ان سیاست دانوں اور میڈیا کے اداروں کو بھی ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنون کو ہوا دیتے ہیں۔ ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ حملہ نسل پرستی اور اسلام مخالف جذبات کی تازہ مثال ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک ناقابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم آرڈرن نے نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلینگٹن کی کِلبِرنی مسجد میں نمازیوں سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے سیاہ رنگ کا اسکارف اور لباس زیب تن کیا تھا اور وہ لواحقین کے ہجوم میں کھڑے ہر شخص کے گلے لگ کر ان سے ذاتی طور پر افسوس کر رہی تھیں۔

نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں دو مساجد پر نماز جمعہ کی ادائی کے دوران کئی معصوم، مظلوم اور نہتے مسلمانوں کو شہید اور زخمی کر دیا گیا، ان میں سے نو اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی شہریوں سمیت دیگر ممالک کی مسلم خواتین، مرد، بچے اور جوان سب ہی شامل ہیں۔ مسلمان نیوزی لینڈ میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔ یہ مسلمان نیوزی لینڈ کی کل آبادی کا صرف ایک فی صد یعنی چالیس ہزار ہیں۔ یہ سب امن پسند اور قانون پسند شہری اور وہاں کی ترقی میں اپنا کردار بہ حسن و خوبی ادا کر رہے ہیں۔ ویسے بھی صرف ایک فی صد آبادی کی حیثیت ہی کیا ہوگی۔ یہ اندوہ ناک سانحہ اس دلیل کی کھلی نفی کرنے کے لیے کافی ہے، جس کا ترقی یافتہ مغربی ممالک کے ذرایع ابلاغ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی سچائی کا کھلا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا مذہب ان کی پہچان کبھی نہیں ہوتا، ان کی پہچان صرف دہشت گردی ہی ہوتی ہے۔ یہ اندوہ ناک سانحہ مسلمانوں کے خلاف کریہہ پروپیگنڈا کرنے والوں کے منہ پر انسانیت کی طرف سے ایک زوردار طمانچہ ہے۔

پوری دنیا کے انسانوں کی بنیادی ضرورت امن و بھائی چارہ ہے۔ اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی قوم و ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی متحد رہ سکتا ہے۔ امن، عالم کی ضرورت ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ امن ساری انسانیت کا مشترکہ خواب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس سے انسانیت کی بقا وابستہ ہے۔ امن عالم کو قائم رکھنے ہی کے لیے ملکی اور بین الاقوامی قوانین بنائے گئے ہیں اور یہ قوانین بلاکسی رعایت ملک و ملت، قبیلہ و زبان اور مسلک و مذہب کے تمام پر لوگو ہوتے ہیں اور ان کی پاس داری کرنا ہی امن عالم کے ثبات کے لیے ضروری ہیں۔

(259 بار دیکھا گیا)

تبصرے