Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جو پائوں پھیلاتا ہے وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا

قومی نیوز بدھ 27 مارچ 2019
جو پائوں پھیلاتا ہے وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا

سو برس پہلے کا قصہ ہوگا کہ ایک بزرگ دمشق کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے اتفاق سے اس دن ان کے گْھٹنے میں تکلیف تھی اور وہ پائوں پھیلائے ہوئے بیٹھے تھے اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ استاد کی پیٹھ قبلے کی طرف ہوتی اور اس کے شاگرد سامنے بیٹھے ہوتے ہیں شاگرد دروازے سے داخل ہوتے ہیں اور بیٹھ جاتے ہیں۔ اس وقت استاد کا چہرہ دروازے کی طرف تھا پْشت قبلہ کی طرف تھی اور پائوں دروازے کی طرف پھیلائے ہوئے تھے ابراہیم پاشا اس زمانے کا شام کا گورنر تھا اس کی سفاکی اور بے رحمی کے قصے لوگوں کی زبانوں پر تھے اس کوخیال آیا کہ میں حضرت کا درس جا کر سنوں اور ملاقات کروںراستہ ہی وہ تھا اس لیے وہ پہلے دروازے سی طرف سے آیاسب کا خیال تھا کہ استاد کو ہزار تکلیف ہو اس موقع پر اپنا پائوں سمیٹ لیں گے لیکن انھوں نے بالکل جنبش نہیں کی نہ ردس دینا بند کیا نہ پائوں سمیٹا اسی طرح پائوں پھیلائے رہے ابراہیم پاشا پائوں ہی کی طرف آکر کھڑا ہو گیاان کے شاگرد خوف سے لرز اْٹھے کہ دیکھے کیا ہوتا ہے کیا ہمارے شیخ کی شہادت ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گئی یا تذلیل ہو گی کہ مشکیں باندھ لی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ لے چلوابراہیم پاشا کھڑا رہا اور وہ دیر تک درس دیتے رہے۔ نگاہ اْٹھا کر دیکھا تک نہیںپائوں بھی نہیں سمیٹا مگر خدا جانے اس پر کیا اثر ہوا کہ اس نے کچھ کہا نہیں، کوئی غصہ نہیں کیا، کوئی شکایت نہیں کی اور چلا گیاوہ کچھ ایسا معتقد ہوا کہ اس نے جاکر اشرفیوں کا ایک تھیلا غلام کے ہاتھ بھیجا اور کہا شیخ کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ یہ حقیر نذرانہ قبول فرمائیںانھوں نے جواب میں کہا وہ آبِ زر سے لکھنے والا جملہ تھا جو علم کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا۔ انھوں نے کہا تھاگورنر کو سلام کہنا اور کہنا جو پائوں پھیلاتا ہے وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا یا پائوں ہی پھیلا لے یا ہاتھ ہی پھیلا لے ایک ہی کام ہو سکتا ہے دنیا میں جب میں نے پائوں پھیلائے تھے میں اسی وقت سمجھا تھا کہ اب میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتا

(328 بار دیکھا گیا)

تبصرے