Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آسمان کو چھوتی عمارتیں

ویب ڈیسک پیر 25 مارچ 2019
آسمان کو چھوتی عمارتیں

عالمی تاریخ میں ہرا بھرتی ہوئی طاقت کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ دنیا کی بلند ترین عمارت بنائے‘ اہرام مصر سے لے کر آج سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم تاریخ کی پہلی ایک کلو میٹر بلند عمارت تک یہ بہت طویل کہانی ہے کہ ان میں سے کچھ کی کہانی آج ہم آپ کو بیان کرتے ہیں‘ جو دراصل صرف بلند ترین عمارات کی داستان ہے‘ چاہے وہ رہائش اور مکینوں کیلئے ہویا نہ ہو‘ اس لیے اس میں ٹاورز اور یادگاروں کو بھی شامل کیاگیاہے‘ انتہائی بلند عمارات کیلئے اصل ووٹر کا آغاز 20 ویں صدی کے اوائل میں امریکا سے شروع ہوا کہ جب اس کے کئی شہروں میں فلک ہوس عمارات تعمیر ہوئیں ‘ آئیے آپ کو دنیا کی بلند ترین جدید وقدیم عمارتوں کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں‘

تائی پے 101 (2004)
تائی پے تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں قائم ایک بلند عمارت ہے ‘ جسے 4 جنوری 2010 ء سے پہلے دنیا کی بلند ترین عمارت ہونے کا درجہ حاصل تھا‘ اس عمارت کو سی وائی لی اینڈ پارٹنرز نے ڈیزائن اور کے آرٹی جوائنٹ وینچر نے تعمیر کیا‘ عمارت کا اصل نام تائی پے فنانشل سینٹر تھا‘ اسے 2004 ء میں یمپورس اسکائی اسکریپر ایوارڈ سے نوازا گیا‘ تائی پے 101 کی منزلوں کی تعداد 101 ہے اور عمارت کی مجموعی بلندی 509 میٹر (1 ہزار 671 فٹ ہے) عمارت نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں قائم پیٹرو ناس ٹوئن ٹاور کا ریکارڈ اپنے نام کیا‘ جس کی بلندی 452میٹر (1 ہزار 483 فٹ)ہے۔

پیٹرو ناس ٹوئن ٹاورز 1998 ء
پیٹرو ناس ٹوئن ٹاور ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں قائم ایک فلک ہوس عمارت ہے‘ جو دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز بھی حاصل کرچکی ہے‘ تاہم تائی پے ‘ تائیوان کی تائی پے 101 نے اس سے یہ اعزاز چھین لیا‘ ا س کے باوجود پیٹروناس ٹوئن ٹاورز کے ماہر تعمیرات کیسر پیلی ہیں ‘ جبکہ یہ 1998 ء میں مکمل ہوئی‘ 88 منزلہ عمارت اسٹیل اور شیشے سے تعمیر کی گئی ہے اور اسے اسلامی فن تعمیر کاجدید نمونہ بنایا گیاہے‘ عمارت کی کل بلندی 452 میٹر ہے ‘ٹوئن ٹاورز کی خاص بات دونوں عمارتوں کے درمیان رابطے کیلئے قائم پل ہے‘ یہ پل 170 میٹر کی بلندی اور 42 ویں منزل پر قائم ہے اور قائم 58 میٹر طویل ہے‘ یہ پل عوام کیلئے کھلا ہواہے‘ تاہم ایک دن میں پہلے آئیے ‘ پہلے پائیے کی بنیاد پر 1400 سے زیادہ پاس جاری نہیں کئے جاتے جو بالعموم دوپہر سے قبل ہی ختم ہوجانے ہیں‘ یہ تمام پاس بالکل مفت ہیں‘ پل پیر کے روز بند رہتا ہے‘ پہلاٹاور مکمل طورپر ملائیشیا کے ادارے پیٹرو ناس کمپنی کی ملکیت ہے ‘ جبکہ دوسرے میں الجزیرہ انٹر نیشنل ‘ بلوم برگ ‘ بوسنگ ‘ آئی بی ایم ‘ مائیکرو سافٹ او ر دیگر اہم قومی وبین الاقوامی اداروں کے دفاتر قائم ہیں‘

ہیمپائر اسٹیٹ بلڈنگ 1931 ء
ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ امریکہ کے شہر نیویارک میں قائم ایک بلند بالا عمارت ہے ‘ جسے امریکی انجن برائے شہری انجینئرز نے جدید دنیا کے 7 عجائبات میں سے ایک قرار دیاہے‘ ثمر یو ‘ لیمب اینڈ ہیرومون کی ڈیزائن کردہ یہ عمارت 1931 ء میں مکمل ہوئی اور 1972 ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تعمیر تک دنیا کی بلند ترین عمارت کے اعزاز کی حامل رہی‘ 11 ستمبر 2001 ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ ایک مرتبہ پھر نیویارک شہر کی بلند ترین عمارت بن چکی ہے‘ یہ شکاگو کے سینٹر ٹاور کے بعد امریکہ کی بلند ترین عمارت ہے۔ عمارت کی کل بلندی انٹینا سمیت ایک ہزار 454 فٹ (443 میٹر)ہے‘ جبکہ چھت تک بلندی 1250 فٹ‘381 میٹر ہے‘ ایمپاز اسٹیٹ بلڈنگ میں 102 منزلیں ہیں‘ یہ 100 سے زائد منزلیں رکھنے والی دنیاکی پہلی عمارت ہے‘ جبکہ ریکارڈ 41 سال یہ دنیا کی بلند ترین عمارت رہی‘ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں 6 ہزار س500 کھڑکیاں ‘ 73 برقی سیڑھیاں اور 1860 سیڑھیاں ہیں۔

ایفل ٹاور1889 ء
ایفل ٹاور لو ہے سے بنے ایک مینار کانام ہے‘ جو فرانس کے شہر پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ہے‘ اس کانام اس کو ڈیزائن کرنے والے گستاف ایفل پر رکھا گیاہے‘ پیرس کا یہ سب سے اونچا ٹاور دنیا میں سب سے زیادہ پہچانی جانے والی یادگار ہے‘ اس کی بلندی 324 میٹر ہے‘ اسے 1889 ء میں مکمل کیاگیا‘ یہ جب سے بنا ہے ‘ اسے 20 کروڑ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں‘ اس لحاظ سے یہ دنیا کی ایک ایسی جگہ ہے ‘ جہاں سب سے زیادہ سیاح آچکے ہیں‘ اس کا وزن 7300ٹن ہے‘ اس میں 1660 سیڑھیاں ہیں‘ اوپر جانے کیلئے لفٹ بھی موجود ہے‘ ایفل ٹاور انقلاب فرانس کی 100سالہ تقاریب کے موقع والی نمائش کے دروازے کے طورپر بنایاگیاتھا۔

دی شرڈ لندن2013 ء
یہ بلڈنگ لندن میں واقع ہے ‘دی شرڈبلڈنگ کی تعمیر کا آغاز 2009 ء میں ہوااور اسے 2013 ء میں مکمل کیاگیا‘ اس کی اونچائی 306 میٹر ہے ‘ جبکہ اس کی 72 منزلیں ہیں‘ یورپی یونین کے ممالک میں آج بھی یہ بلڈنگ سب سے اونچی بلڈنگ ہے‘ اس عمارت کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں شیشے کا استعمال بہت زیادہ کیاگیاہے‘ اسے اٹلی کے آرکیٹیکٹ رینزو وپیانو نے ڈیزائن کیا۔

مسی ٹرم فرینکفرٹ جرمنی 1990 ء
مسی ٹرم 63 منزلہ 257 میٹر بلند عمارت ہے‘ یہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہے‘ یہ جرمنی کی دوسری سب سے اونچی عمارت ہے‘ اس عمارت کا آغاز 1988 ء میں ہوا‘ جبکہ 1990 ء میں یہ مکمل ہوئی اور سات سال تک اسے جرمنی کی سب سے اونچی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل رہا‘ یاد رہے کہ جرمنی ایک یورپین ملک ہے‘ یہ ملک دنیا کے سب سے زیادہ تاریخی ممالک میں سے ایک ہے ‘ اس ملک کے تاریخی ہونے کی ایک وجہ یہاں ہونے والی جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم ہے‘ برلن ‘ میونخ اور فرینکفرٹ اس ملک کے ایسے شہر ہیں‘ جہاں سب سے زیادہ سیاح آنا پسند کرتے ہیں‘ سالانہ 24.4 ملین سے زیادہ افراد اس ملک کا دورہ کرتے ہیں‘

لنکن کیتھڈرل 1300 ء
لنکن کیتھڈرل انگلستان کے شہر لنکن کا ایک مشہور اور تاریخی گرجا گھر ہے‘ یہ گرجا گھر 1300 ء سے 1549 ء تک دنیا کی سب سے اونچی عمارت مانا جاتاتھا‘ یہ عمارت تقریباً 250 سال سے زائد عرصہ تک دنیا کی بلند ترین بلڈنگ کے طورپر جانی جاتی رہی‘ یہ گاتھک طرز تعمیر کی عظیم بلڈنگ تھی‘ جسے 1185 ء سے 1311 ء تک تعمیر کیاگیا‘ اس عمارت کی لمبائی 144 میٹر ‘ جبکہ میناروں (ٹاورز) کی تعداد 3 ہے‘ اس عمارت کی اونچائی 83 میٹرتھی‘ جبکہ 1549 ء میں اس عمارت کے درمیانے مخروطی حصے گرگئے‘ جسے دوبارہ تعمیر نہ کیاگیا۔

نخیل ٹاور
برج نخیل، جسے پہلے البرج کا نام دیا گیا تھا، متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کی ایک مجوزہ بلند عمارت ہے۔نخیل ٹاور کی کل اونچائی خیال کیا جارہا ہے کہ 1300 میٹر کے قریب ہوگی لیکن اسے حتمی تصور نہیں کیا جارہا کیونکہ نخیل گروپ اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے جبکہ اس کی تعمیر کا آغاز 2008ء سے شروع ہوچکا ہے جسے 2009ء میں ہی روک دیا گیا ہے اور اب مذکورہ گروپ کی دیگر گروپس کے ساتھ بات چیت جاری ہے جن میں سام سنگ سرفہرست ہے۔

بائیونک ٹاور شنگھائی چین
یہ بلڈنگ یا تو ہانگ کانگ میں تعمیر کی جائے گی یا شنگھائی میں‘ اس کی کل اونچائی ایک کلومیٹر 228 میٹر ہوگی۔ تعمیرر کے بعد اس عمارت کو ورٹیکل سٹی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کی اونچائی ایک کلومیٹر سے زیادہ یعنی 1,228 میٹر ہوگی جس کی 300 سے زیادہ منزلیں ہوں گی اور ایک وقت میں ایک لاکھ سے زائد لوگ اس میں رہ سکیں گے۔ یہ بلڈنگ موجودہ دنیا کی سب سے بلند بلڈنگ برج خلیفہ سے 400 میٹر بلند ہوگی‘ اس بلڈنگ کی خاصیت یہ ہوگی کہ یہ ماحول دوست ہوگی اسی لئے اس کا نام بائیو ٹاور رکھا گیا ہے۔ اس بلڈنگ کی تعمیر چھوٹے چھوٹے گروپس میں کی جائے گی۔

کنگڈم ٹاور : 2019ء
کنگڈم ٹاور سعودی عرب کا عالی شان منصوبہ ہے جس کی تعمیر کا آغاز اپریل 2013ء میں ہوچکا ہے‘ اسے 2019ء میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے سعودی شہر جدہ میں تعمیر کیا جارہا ہے‘ تعمیر کے بعد اس کی کل اونچائی 1001میٹر ہوگی۔ حال ہی میں لندن میں طویل المنزلہ عمارت ’’دی شارڈ‘‘ کی تعمیر کے پس پردہ ٹیم نے دنیا کی سب سے اونچی عمارت کی تعمیر کے لئے 1.2 ملین ڈالر (780 ملین پیونڈز) مالیتی پراجیکٹ کا کنٹریکٹ حاصل کرلیا۔ لندن میں قائم ’’میس‘‘ جدہ‘ سعودی عربیہ میں کنگڈم ٹاور کی تعمیر کے لئے ہم عصر برطانوی فرم ای سی ہیرس کے ہمراہ شریک ہوگئی کہ 3280 فٹ (ایک کلومیٹر) سے زائد اونچا ہوگا۔ بحر احمر سے دکھائی دینے والا یہ ٹاور دبئی میں 2717 فٹ (828 میٹر) اونچے برج خلیفہ سے دنیا کے اونچے تررین اسکائی اسکریپرز کا اعزاز چھین لے گا جبکہ 1017 فٹ (310 میٹر) اونچے دی شارڈ سے 4 گنا زیادہ اونچا ہوگا۔ کنگڈم ٹاور کی تعمیر 500,000 مربع میٹر سے زائد وسیع رقبہ پر ہوگی جس میں ایک کثیر المقاصد بشمول فائیو اسٹار فورسیزنز ہوٹل‘ اپارٹمنٹس‘ آفس کی جگہ اور آبزویٹری شامل ہوگی۔

سکائی سٹی ٹاور چین : 2014 ء
چینی صوبے ہونان کے شہر چانگ شا میں تعمیر کی جانے والی سکائی سٹی ٹاور نامی یہ عمارت فی الحال دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ سے 10میٹر بڑی اور 838 میٹراونچی ہوگی۔1 اعشاریہ صفر 5 ملین سکوائر فٹ رقبے پر پھیلی اسکائی سٹی ٹاور میں 208 منزلیں ہوں گی جس میں سے چھ زیرِ زمین اور 202 گرائونڈ سے اوپر ہوں گی۔ 855 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس منصوبے میں ہزار افراد کی گنجائش والے ہوٹل سے لے کر کم و بیش 30 ہزار افراد کیلئے رہائشی اپارٹمنٹس، اسکولز، شاپنگ سینٹرز، تھیٹرز، سینما اور ہسپتال کے علاوہ اس کی بیرونی دیواروں کو زرعی فارم کی طرح استعمال کرتے ہوئے اس پر سبزیاں اور پھل اگائے جائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں رہائش اور کاروبار شروع کرنے والے افراد کے لیے 90 لفٹس آپریشنل ہوں گی جبکہ بلڈنگ میں کم و بیش 2 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام بھی موجود ہوگا۔ واضح رہے کہ سکائی سٹی ٹاور کا تعمیراتی کام دراصل ستمبر 2013ء میں شروع ہوا تھا جس کے بعد فقط 8 مہینوں میں اسے مکمل کرتے ہوئے اپریل 2014ء میں اس کا افتتاح کیا گیا۔

برج خلیفہ: 2010
برج خلیفہ، سابق نام برج دبئی، متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت ہے جس نے4 جنوری 2010ء کو تکمیل کے بعد تائیوان کی تائی پے 101 کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ انسان کی تعمیر کردہ تاریخ کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس عمارت کو افتتاح کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے نام سے موسوم کیا گیا۔ برج خلیفہ کی تعمیر کا آغاز 21 ستمبر 2004 کو برج دبئی کے نام سے ہوا۔ عمارت کے ماہر تعمیرات ایڈریان اسمتھ ہیں، جن کا تعلق اسکڈمور، اوونگز اینڈ میرل (SOM) سے ہے۔
برج خلیفہ کی کل بلندی 828 میٹر ہے جبکہ اس کی کل منزلیں162 ہیں۔ اس طرح یہ دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت بھی ہے۔ عمارت نے 21 جولائی 2007ء کو 141 منزلیں مکمل ہونے پر جب 512 میٹر ( 1680فٹ) کی بلندی کو چھوا تو اس وقت کی دنیا کی سب سے بلند عمارت تائی پے 101 (509.2 میٹر)( 1671 فٹ) کو پیچھے چھوڑ ا، لیکن بلند عمارتوں کے حوالے سے عالمی ادارے انجمن برائے بلند عمارات و شہری عادات نے اس کو تسلیم تو کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تب تک بلند ترین عمارت نہیں کہلائے گی جب تک مکمل نہیں ہو جائے گی بالکل اسی طرح جیسے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں واقع ریونگ یونگ ہوٹل کو مکمل عمارت نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے باضابطہ طور پر بلند عمارت کا اعزاز 4 جنوری 2010ء کو حاصل کیا۔ اسی طرح برج خلیفہ نے فروری 2007 میں شکاگو کے سیئرز ٹاور کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

شنگھائی ٹاور : 2014ء
چین کے اقتصادی مرکز شنگھائی میں دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت کی تعمیر تقریباً مکمل ہوگئی ہے۔ 632 میٹر بلند ’’شنگھائی ٹاور‘‘ کی تعمیر مکمل ہونے کے لئے 2014ء تک کا کہا گیا تھا جسے مکمل کرنے کے بعد اب جلد ہی عوام کے لئے کھولا جائے گا۔اس بلند و بالا عمارت میں دفاتر‘ لگژری ہوٹل اور ممکنہ طور پر ایک میوزیم کے لئے جگہ دستیاب ہوگی۔ اس کی کل 121 منزلیں ہیں۔ اس عمارت کا ڈیزائن ایک امریکی تعمیراتی فرم جنلسر نے تیار کیا۔

مکہ کلاک ٹاور : 2012ء
مکہ کلاک رائل ٹاور کی 76 منزلیں ہیں اور یہ 577 میٹر اونچا ہے۔ اس کے اوپر 40 میٹر کی ایک بڑی گھڑی بنائی گئی ہے جو کہ بگ بین سے 5 گنا بڑی ہے۔ یہ گھڑی پانچوں وقت نماز کا اعلان بھی کرے گی۔ امید ہے کہ یہ مکہ کلاک ٹاور جی ایم ٹی کی جگہ لے لے گا۔ مکہ کلاک ٹاور سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کی ہدایت پر تعمیر کیا گیا ہے جسے ایک جرمن کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی گھڑی ہے جسے سات کلو میڑ کے فاصلے سے بھی بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کلاک ٹاور جو کہ بیت اللہ کے بالکل برابر میں ہے، اس کے چاروں طرف گھڑی ہو گی۔ دو اطراف میں یہ 80 میٹر لمبا اور 65 میٹر چوڑا ہے اور اس کا قطر 39 میٹر ہے اور دو اطراف میں اس کی لمبائی 65 میٹر، چوڑائی 43 میٹر اور قطر 25 میٹر ہے۔ قریب سے دیکھنے کے لیے ملاقاتیوں کے لیے دو لفٹیں بھی لگائی گئی ہیں جو 5 میٹر بالکونی تک جائیں گی۔ مکمل ہونے پر یہ دنیا کی سب سے بڑی گھڑی ہو گی۔

(190 بار دیکھا گیا)

تبصرے