Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 23  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رخصتی سے پہلے رخصت

ویب ڈیسک جمعه 22 مارچ 2019
رخصتی سے پہلے رخصت

15 مارچ 2019ء صبح 8 بجے کا وقت تھا‘ کورنگی ابراہیم حیدری کے علاقے علی اکبر شاہ گوٹھ کی رہائشی 18 سالہ شفیقہ جلدی جلدی اپنی تیاریوں میں مصروف تھی‘ اسی دوران وہ صبح کا ناشتہ بھی کررہی تھی اور برقع پہن کر اپنے سر پر اسکارف باندھنے کی کوشش کررہی تھی‘ اس کی یہ جلد بازی دیکھ کر عقب سے کسی نے اُسے ناشتہ تو ڈھنگ سے کرنے کا کہا لیکن یہ سن کر بھی وہ اسی پھرتی سے اپنا کام کررہی تھی۔ اس نے کام کے دوران پیچھے دیکھے بغیر بولی کہ آج اسکول میں ٹیچرز میٹنگ ہے اور میٹنگ کا ٹائم صبح 8 بجے کا ہی ہے اورمجھے 8 گھر میں ہی بج گئے ہیں‘ یہ کہتی ہوئی شفیقہ نے آخری مرتبہ سنگھار میز پر لگے شیشے میں اپنے آپ کو دیکھا اور اپنی تیاری سے مطمئن ہوکر تیزی سے پلٹی اور بستر پر رکھے پرس اور اس کے ساتھ رکھی فائلوں کو اُٹھا کر گھر والوں کو خدا حافظ کہا اور تقریباً دروازہ پھلانگتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی اور گلی سے تیز تیز قدم اُٹھاتی ہوئی اسکول کے رستے مڑگئی۔

ابراہیم حیدری کے علاقے علی اکبر شاہ گوٹھ کی رہائشی 18 سالہ شفیقہ 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے گھر کی لاڈلی بھی تھی‘ اس کے بھائی محنت مزدوری اور سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے شفیقہ کے گھر میں کچھ غریبی کے سائے تھے لیکن اس کے باوجود انہی حالات میں یہ لوگ خوش اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے‘ اس گھر میں شفیقہ ہی تھی جس نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی اور اب تعلیم سے فارغ ہوکر علاقے کے ایک اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے علاقے کے بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کررہی تھی۔ شفیقہ کے اسکول جانے کے بعد گھر کے سب لوگوں نے ناشتہ کیا اور پھر مرد اپنے اپنے کاموں جبکہ خواتین گھر کے کام میں لگ گئیں اور پھر گھر کے تمام لوگوں کو اپنی مصروفیت میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ تقریبا ً دوپہر کے 2 بجے جب گھر کی خواتین اپنے کام سے فارغ ہوئیں تو انہیں وقت گزرنے کا احساس ہوا اور پھر اُن کے ذہن میں ایک سوال اُبھرا کے شفیقہ ابھی تک اسکول سے نہیں آئی کیونکہ شفیقہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ آج اسکول میں ٹیچر میٹنگ ہے جو دوپہر 12 بجے تک جاری رہے گی جس کے بعد چھٹی ہوگی لیکن اب دن کے 2 بجے رہے تھے اور شفیقہ ابھی تک گھر نہیں لوٹی تھی لیکن پھر گھر والوں نے اس خیال سے کہ ہوسکتا ہے میٹنگ لمبی ہوگئی ہوگی اور انہیں بھی میٹنگ کے دوران ٹائم کا اندازہ نہیں ہوا ہوگا‘ شفیقہ کے گھر والے یہ سوچتے ہوئے پے تھے کہ شفیقہ کے گھر کے موبائل نمبر پر ایک کال آئی جس کو سنتے ہوئے شفیقہ کی بھابھی کے ہاتھ کانپ گئے اور اس کا سرری طرف کال کرنے والی بھی ایک خاتون تھی جو فون کی دوسری جانب سے مسلسل بول رہی تھی اوراس کے جواب میں شفیقہ کی بھابھی صرف روہانسی صورت بنائے ہوئے اور ہاں میں ہی جواب دے پارہی تھی‘ پھر فون کی لائن کٹ گئی‘ موبائل فون جیسے ہی آف ہوا‘ شفیقہ کی بھابھی نے تیز آواز میں دھاڑیں مار کر رونا شروع کردیا‘ جس پر گھر کے تمام لوگ اُس کمرے میں جمع ہوگئے اور شفیقہ کی بھابھی سے اس قدر زارو قطار رونے کی وجہ پوچھی‘ پہلے تو وہ یونہی دھاڑیں مار مار کر روتی رہی لیکن پھر جب دل کچھ ہلکا ہوا تو اُس نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ ابھی عمران کی ماں نے بتایا کہ شفیقہ اسکول سے چھٹی کے بعد ان کے گھر گئی تھی اس دوران اُس کے پیٹ میں شدید درد اُٹھا جس پر ہم گھر والے شفیقہ کو علاج کے لئے جناح اسپتال لے کر گئے جہاں اس کا دوران علاج انتقال ہوگیا اور اب وہ لوگ شفیقہ کی میت لے کر ہمارے گھر آرہے ہیں‘ یہ خبر سنتے ہی پہلے تو سب اپنا حواس کھوبیٹھے لیکن پھر جب ان کے حواس کچھ بحال ہوئے تو وہ گھر جہاں کچھ پہلے تک زندگی نارمل تھی‘ اب وہاں ایک کہرام برپا ہوچکا تھا

اس گھر سے فلک شگاف چیخوں سے علاقہ گونج اُٹھا جس کی آواز سن کر محلے میں موجود لوگوں کا ایک جم غفیر شفیقہ کے گھر جمع ہوگیا‘ یہاں جمع ہونے والی خواتین و مردوں کی ایک بڑی تعداد یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ اچانک ایسا کیا ہوگالیکن کچھ دیر بعد ہی وہاں موجود تقریباً سارے لوگوں کو ہی پتہ چل گیا کہ یہاں کون سی آفت آچکی ہے‘ اس وقت شفیقہ کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور جنہوں نے صبح شفیقہ کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا تھا انہیں اس بات کا بالکل یقین نہیں تھا کہ ہرنی کی طرح پھرتی سے بھاگتی شفیقہ کی شام کو موت کی خبر آئے گی‘ ابھی لوگ آپس میں چہ مگوئیوں میں مصروف تھے کہ اس دوران اس گھر کے قریب ایک ایمبولینس آکر رکی اور جب ایمبولینس کا دروازہ کھلا اور اس میں سے شفیقہ کی نعش کو باہر نکالا گیا تو شفیقہ کی نعش کو دیکھتے ہوئے وہاں موجود تمام لوگ ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صبح بظاہر ایک صحت مند لڑکی نظر آنے والی شفیقہ کی موت اس طرح اچانک واقع ہوگئی ہو۔ تاہم شفیقہ کے سادہ لوح گھر والے اس موت کو اللہ کی رضا سمجھ کرتدفین کے انتظامات کرنے لگے کہ اس دوران اچانک اس گلی میں ابراہیم حیدری پولیس کی موبائل داخل ہوئی اور جو سیدھی شفیقہ کے گھر آکر رکی‘ پولیس موبائل رکتے ہی اس میں سوار پولیس افسر و دیگر اہلکار فوراً ہی موبائل سے اُترے اور شفیقہ کے گھر والوں سے بات کرنے کا کہا۔

پولیس کے اس حکم پر باہر موجود لوگوں نے شفیقہ کے بھائی عبدالرحیم کو اس کی اطلاع دی جس پر عبدالرحیم پولیس کے پاس آیا اور اپنے گھر پولیس آنے کی وجہ دریافت کی جس پر پولیس افسر نے عبدالرحیم سے گلی میں اس ہجوم کے بابت پوچھا جس پر عبدالرحیم نے پولیس کوبتایا کہ اس گھر میں جواں سالہ لڑکی کی اچانک موت واقع ہوگئی ہے اور ابھی تدفین میں شرکت کے لئے لوگ موجود ہیں جس پر پولیس نے عبدالرحیم کو بتایا کہ 18 سالہ شفیقہ کی اچانک موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کا قتل ہوا ہے‘ پولیس کے اس انکشاف پر وہاں موجود تمام لوگ حیرت زدہ رہ گئے تاہم پولیس نے مقتولہ کے بھائی عبدالرحیم سے مزید کہا کہ آپ ابھی تدفین کے مراحل کو روک دیں جس کے بعد پولیس نے نعش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا جہاںیہ بات ثابت ہوئی کہ مقتولہ کی موت اسقاط حمل کے دوران واقع ہوئی ہے۔ اس موقع پر اس مقتولہ کے بھائی عبدالرحیم اور کزن کلیم الدین نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم گھر والوں نے 3 ماہ قبل شفیقہ کا نکاح عمران نامی لڑکے سے کیا تھا اور اب 25 دن بعد اُس کی رخصتی تھی۔ شفیقہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور ترکی کے اشتراک سے چلنے والے جیٹ اسکول میں پڑھاتی تھی‘ اس دوران شفیقہ اور عمران میں کبھی کبھار ملاقاتیں بھی ہوتیں۔واقعہ والے روز متوفیہ صبح جلدی جلدی تیار ہوکر اسکول گئی تھی کہ اس کے اسکول میں ٹیچرز میٹنگ تھی اور دیر ہونے کی وجہ سے اُس نے ٹھیک طرح سے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا‘ عموماً شفیقہ دن کے 12 سے 1بجے کے درمیان گھر آجاتی تھی لیکن آج جب دن کے 2 بج گئے اور شفیقہ گھر نہیں آئی تو ہم لوگوں کو تھوڑی سی فکر ہوئی لیکن پھر یہ سوچ کر ہم لوگ خاموش ہوگئے کہ شاید میٹنگ ختم ہونے میں دیر ہورہی ہوگی جس کی وجہ سے شفیقہ ابھی تک گھر نہیں آئی۔

اسکول میں میٹنگ ختم ہوجائے گی تو شفیقہ گھر آجائے گی‘ یہ سوچتے ہوئے گھر والے دوبارہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے کہ تقریباً 4 بجے کا وقت تھا جب ہمارے گھر کے موبائل فون پر عمران کی ماں کی کال آئی اور اُس نے پھر جو کچھ بتایا وہ سن کر ہمارے پیروں تلے زمین نکل گئی‘ چونکہ ہم لوگوں کی تعلیم اتنی نہیں ہے اور سادہ لوحی میں زندگی گزارتے ہیں تو متوفیہ کے شوہر عمران کی ماں نے شفیقہ کے متعلق جو کچھ بتایا اُس کو ہم نے من وعن تسلیم کرلیا اور نعش کے آنے کے بعد تدفین کے انتظامات کرنا شروع کردیئے لیکن اس دوران ہمارے دل میں یہ بار بار خیال آرہا تھا کہ وہ لڑکی جو اسکول جانے سے قبل پھرتی سے اپنے کام نمٹا رہی تھی اور اس سے پہلے کبھی اس نے اپنے پیٹ کے درد کی شکایت نہیں کی پھر اچانک اس کے پیٹ میں کیسا درد اُٹھا کہ اُس کی موت واقع ہوگئی‘ ابھی ہم دل میں یہ باتیں سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے گھر ابراہیم حیدری پولیس آگئی اور نعش کو قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کیا‘ جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ مقتولہ شفیقہ کی موت غلط علاج کی وجہ سے ہوئی‘ تاہم صورتحال واضح ہونے کے بعد ابتدائی طورپر پولیس نے مقتولہ شفیقہ کے شوہر عمران کو حراست میںلے کر واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ کا آغاز کیا‘ جس میں عمران نے بغیر مزاحمت پولیس کو بیان دیا کہ نکاح کے بعد ہم لوگ آزادانہ ملا کرتے تھے‘ اس دوران مجھے انکشاف ہوا کہ شفیقہ حاملہ ہوگئی ہے‘ اس انکشاف پر ہم دونوں ہی بہت پریشان ہوئے‘ کیونکہ ہمیں اس بات کا احساس تھا کہ اگر رخصتی سے پہلے یہ بات منظرعام پر آگئی تو ہمیں کس اذیت سے گزرنا پڑے گا‘ اس بات پر پردہ ڈالنے کیلئے میں گھر آکر اپنی والدہ سے جلد از جلد رخصتی پر زور دینے لگا‘ شروع شروع میں تو گھر والوںنے میری اس بات پر کچھ دھیان نہیں دیا لیکن جب میرا اصرار بڑھتا گیاتو گھر والوں نے پھر مجبوراً شفیقہ کے گھر والوں سے بات کی اور پھر 2 مہینے کے بعد ہماری رخصتی کی تاریخ رکھی گئی‘ لیکن یہ وقت بھی ہمارے لئے عذاب سے کم نہیں تھا‘ اگر ہم مزید 2 ماہ انتظار کرتے تو سب کچھ عیاںہوچکا ہوتا

اس دوران میرے ذہن میں اسقاط حمل کروانے کا خیال آیااور پھر میں نے یہ بات شفیقہ سے کی‘ ابتدائی طورپر تو مقتولہ اس بات پر راضی نہیں ہوئی ‘ لیکن جب میرا اصرار بڑھتا گیاتو وہ بادل نخواستہ راضی ہوگئی۔ جس کے بعد میں اپنے علاقے سے دور ایسی لیڈی ڈاکٹر کی تلاش میں لگ گیا‘ جو رعایت کے ساتھ یہ کام کردے اور علاقے سے دور اسقاط حمل کروانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس بات کی خبر کسی بھی نہ ہو‘ تاہم کچھ دنوں بعد کورنگی کراسنگ بھٹائی کالونی میں واقع ایک کلینک کا میں نے پتہ لگاہی لیا‘ جہاں یہ کام بآسانی ہوسکتا تھا‘ بہر حال میں نے اس کلینک کی لیڈی ڈاکٹر سے اپنا مسئلہ بیان کیا‘تووہ ایک موٹی رقم کے عوض ہمارا یہ کام کرنے پر رضا مند ہوگئی اور مقررہ دن میں شفیقہ کو لے کر اس کلینک میں پہنچا ‘ جہاں لیڈی ڈاکٹر اور نرس نے اپنا کام شروع کیا اور میں کلینک میں ایک جانب ہو کر بیٹھ گیا‘ ابھی کچھ دیر ہی گزر تھا کہ اندر سے نرس بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ مریضہ کی حالت خراب ہورہی ہے‘ اس کو بڑے اسپتال منتقل کرنا پڑے گااور اس کے کچھ دیر بعد مقتولہ کی موت واقع ہوگئی‘ جبکہ ایس ایچ او ابراہیم حیدری صلاح الدین نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتایا کہ پولیس کو مخبر خاص سے اطلاع ملی کہ علی اکبر شاہ گوٹھ میں ایک جواں سال لڑکی کی اچانک موت واقع ہوگئی ہے‘ لڑکی اسکول ٹیچر تھی اور صحت مند زندگی گزار رہی تھی‘ لیکن نامعلوم وجوہ کی بناء پر اس کی اچانک موت واقع ہوگئی‘ نوجوان لڑکی کی اچانک موت ہمیں کچھ پر اسرارسی لگی‘ اس اطلاع پر پولیس فوری کارروائی کرتی ہوئی مقتولہ کے گھر پہنچی ‘ جہاں لوگوں کا ایک جم غفیر موجود تھا اور مقتولہ کے گھر والے خاموشی سے تدفین کی تیاری کررہے تھے

پولیس کے پہنچنے پر سب سے پہلے پولیس نے تدفین کی تیاری رکوائی اور مقتولہ کے بھائی اور دیگر اہل خانہ کو صورتحال کی سنگینی کا بتا کر قانونی کارروائی کیلئے شفیقہ کی نعش کو قبضے میں لے کر جناح اسپتال منتقل کیا‘ جہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ مقتولہ کی مو ت غیر قانونی طورپر اسقاط حمل کرنے کے دوران واقع ہوئی ‘ جس کے بعد پولیس نے مقتولہ کے بھائی عبدالرحیم کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 99/2019 درج کیا‘ جس میں عبدالرحیم نے پولیس کو بتایا کہ مذکورہ مقام پر اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر اور سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کاکام کرتا ہوں‘ میری بہن 18 سالہ شفیقہ کا نکاح 3 ماہ قبل عمران ولد سعید الحق سے ہوا تھا‘آج میری بہن شفیقہ جو کہ پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر تھی‘ گھر سے ٹیچر میٹنگ میں اسکول گئی اور وہاں سے اپنے شوہر کے ساتھ کہیں چلی گئی تقریباً 4 بجے شام عمران کی ماں نے ہمارے گھر فون پر بتایا کہ شفیقہ ہمارے گھر میں تھی کہ اس دوران شفیقہ کے پیٹ میں در د ہوااورہم جناح اسپتال لے کر گئے‘ جہاں دوران علاج انتقال کرگئی‘ فون کے کچھ دیربعد ایمبولینس کے ذریعے شفیقہ کی نعش ہمارے گھر عمران اور اسکی مال لے کر آئے ‘ اس دوران ہمارے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ میری بہن کے سسرال والے جھوٹ بول رہے ہیں‘ اس کی حقیقت ہمیں معلوم ہوئی کہ میری بہن کو اس کا شوہر اسقاط حمل کرانے کیلئے کورنگی کراسنگ بھٹائی آباد میں واقع اجالا کلینک لے کر گیااور اس دوران اسقاط حمل میری بہن اجالا کلینک میں ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی سے فوت ہوئی

اب مجھے معلوم ہوا کہ اجالا کلینک کی مالک عظمیٰ شیخ ڈاکٹر سمیرا گل عرف تبسم اور نرس فرزانہ نے میری بہن کے اسقاط حمل کرنے کیلئے ٹوٹل دس ہزار روپے میں بات ہوئی تھی‘ ہمارے بہنوئی عمران نے 5 ہزار روپے نقد اور بہن کی 2 عدد طلائی انگوٹھی کلینک کی مالک عظمیٰ شیخ کو فیس کی مد میں دیا‘ ڈاکٹر سمیرا گل عرف تبسم اور نرس فرزانہ نے میری بہن کے اسقاط حمل کرنے کیلئے ٹوٹل دس ہزار روپے میں بات ہوئی تھی‘ ہمارے بہنوئی عمران نے 5 ہزار روپے نقد اور بہن کی 2 عدد طلائی انگوٹھی کلینک کی مالک عظمیٰ شیخ کو فیس کی مد میں دیا‘میرا دعویٰ ہے کہ میری بہن کو دوران ناجائز طریقے سے اسقاط حمل کراتے ہوئے میرے بہنوئی عمران اجالا کلینک کی مالک عظمیٰ شیخ ‘ڈاکٹر سمیرا گل عرف تبسم اور فرزانہ کی غفلت سے ناجائز اسقاط حمل کرنے سے قتل کرنے کا ہے‘ کارروائی چاہتا ہوں‘ مدعی کے اس بیان کے بعد پولیس نے پہلے سے زیرحراست ملزم عمران کی نشاندہی پر بھٹائی آباد اجالا کلینک میں چھاپہ مار کر کلینک کی مالک عظمیٰ شیخ اور نرس فرزانہ کو گرفتار کرلیا‘ جبکہ اس وقت تک ملزمہ سمیرا گل عرف تبسم فرار ہوگئی‘ پولیس نے ملزمہ سمیرا گل کی گرفتاری کیلئے متعدد مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی‘ لیکن اس روز مفرور ملزمہ کی گرفتاری ممکن نہیں ہوسکی‘ ایس ایچ او ابراہیم حیدری صلاح الدین کے مطابق ابتدائی دنوں میں بظاہر پولیس خاموش ہو کر بیٹھ گئی‘ لیکن اس دوران پولیس نے خاموشی سے اپنے مخبروں کا پیچھاکیا اور پھر واقعہ کے 3روز بعد ٹیکنیکل بنیادوں پر گزری کے علاقے میں چھاپہ مار کر مفرور ملزمہ سمیرا گل عرف تبسم کو بھی گرفتار کرلیا‘ تمام گرفتار ملزمان نے جرم کا اعتراف کرلیاہے‘ تاہم پولیس مقدمہ میں نامزد تمام ملزمان کو مفرور عدالت کے روبرو پیش کرے گی۔

مسیحا کا لفظ سنتے ہی ہر شخص کے ذہن میں ایک نام ڈاکٹر ِکا آتاہے‘ طب کے شعبے کو اس لیے بھی مقدس اور ڈاکٹر کو اس لیے مسیحا کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی جان کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے ہیں‘ جب اس شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بند جائے تو وہ قاتل اور مردار خور درندے کا روپ دھار لیتے ہی‘ طب کے اس شعبے میں بہت سے نان پروفیشنل عناصر ایسے ہیں‘ جو انسانی خدمت کرنے کا لبادہ اوڑھ کر دولت کی ہوس میں اسقاط حمل کا غیر قانونی وغیر آئینی دھندہ کررہی ہیں‘ لالچ سے جنم لینے والی ایسی ہی ایک گھنائونے جرم کا انکشاف مقامی ماڈل گرل اور اسکول ٹیچر کے قتل میں ہواہے‘ شہر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھر مار کے باعث محکمہ صحت نے اس سلسلے میں ایک سیل بھی بنایا ہے‘ محکمہ صحت کے اس سیل کے اہلکار شہر کے مختلف علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں‘ گزشتہ روز ہجرت کالونی میں محکمہ صحت نے 5 جعلی ڈاکٹروں کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کرکے ان کلینکس کو سیل کیا‘ لیکن یہ کارروائی عارضی تھی‘ چند روز بعد یہ کلینک دوبارہ کھل گئے

شہر کے مضافاتی علاقوںمیں ان کلینکس کی بھرمار ہے‘ بھینس کالونی ‘ بن قاسم ‘ ملیر ‘ لانڈھی‘ کورنگی ‘ابراہیم حیدری‘ اورنگی ٹائون‘ بلدیہ ٹائون‘ اتحاد ٹائون ‘ سعید آباد‘ سرجانی ‘ خدا کی بستی ‘ تیسر ٹائون‘ کیماڑی ‘ سچل ‘ شاہ فیصل کالونی سمیت دیگر علاقوںمیں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے‘ ایک اعداد وشمار کے مطابق شہر میں 7 ہزار سے زائد جعلی ڈاکٹرز نے اپنے اسپتال کھول رکھے ہیں‘ جہاں موت کا کھیل کھیلا جارہاہے‘ ان ڈاکٹروں نے اپنے اسپتال کے باہر اپنے نام کے ساتھ اتنی ڈگریاں لکھوا رکھی ہیں کہ سائن بورڈز پر کچھ اور لکھنے کی جگہ نہیں ہوتی‘ اگر ان ڈاکٹروں سے ایم بی بی ایس کا مطلب معلوم کیا جائے تو ان کو معلوم نہیں ہوتاہے ‘ ان میں سے متعدد ڈاکٹرز ایسے ہیں ‘ جنہوںنے نرسنگ کا کورس کیاہے اور پھر ڈاکٹر بن گئے ‘ڈاکٹروں نے اپنے کلینک پر رنگ برنگی گولیاں مکسچر رکھا ہواہے‘مریضوں کو یہ دوا دیتے ہیں‘ یہی حال سے میٹرنٹی ہوم کاہے‘ مڈوائف نرسوں نے اپنے میٹرنٹی ہوم کھول لئے ہیں‘ ان کلینک پر اسقاط حمل کے کیسز بھی ہوتے ہیں‘ شہرمیں کچرے کے ڈھیروں سے نومولود بچوں کی نعشیں ملتی ہیں‘ یہ کیسز ان کلینکس پر ہوتے ہیں‘ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے‘ اس سلسلے میں جو دفعات لگائی جاتی ہیں ‘ ان سے یہ جعلساز بآسانی ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں‘ جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ‘ محکمہ صحت کو بھی چاہیے کہ مذبحے خانے طرز کے ان کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

(318 بار دیکھا گیا)

تبصرے