Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

میں نہ مانوں

ویب ڈیسک جمعرات 21 مارچ 2019
میں نہ مانوں

دنیا کے 200 سے زائد ممالک اور آزاد و خود مختار ریاستوں و جزائر میں اس وقت اگرچہ زیادہ تر مرد حضرات ہی ریاست و حکومت کے اعلی ترین عہدوں پر براجمان ہیں۔ تاہم دنیا کے لگ بھگ 32 ممالک یا خود مختار ریاستیں و علاقے ایسے بھی ہیں، جہاں اعلی ترین عہدوں یعنی صدر اور وزیر اعظم کی نشست پر خواتین براجمان ہیں۔ حیران کن طور پر دنیا کے متعدد ممالک ایسے بھی ہیں، جن کی کئی صدیوں پر محیط تاریخ میں آج تک کوئی بھی خاتون صدر یا وزیر اعظم کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی۔ ایسے ممالک میں امریکا سمیت کئی ایسے ممالک بھی آجاتے ہیں، جو خود کو جمہوریت و سیاست کے چیمپئن کہتے ہیں۔ اسی طرح کئی ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں خواتین کو ریاست کے دیگر اعلی عہدوں یعنی فوج یا انصاف کے اداروں کی سربراہی بھی نہیں دی گئی۔ اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے اہم، خود مختار، رول ماڈل اور بڑے ادارے اقوام متحدہ(یو این)کی سیکریٹری شپ بھی گزشتہ 7 دہائیوں سے کسی خاتون کو نہیں سونپی گئی۔ اس وقت یورپ، ایشیا و افریقا سمیت دنیا کے دیگر خطوں کے بمشکل 32 ممالک یا ریاستوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں حکومت کے اعلی ترین عہدوں پر خواتین 3سے 4 دہائیاں قبل ہی براجمان ہوچکی تھیں۔ تاہم متعدد ممالک ایسے ہیں، جہاں آج تک خواتین کو حکومت و ریاست کے اعلی عہدوں کے لیے نامزد ہی نہیں کیا گیا۔ درج ذیل خواتین اس وقت حکومت و ریاست کے اعلی ترین عہدوں پر براجمان ہیں۔

برطانیہ :۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم کو اگرچہ حکومت کا کوئی عہدہ حاصل نہیں، تاہم انہیں ریاست کے علامتی سربراہ کا اعزاز حاصل ہے۔ ایلزبتھ دوئم نہ صرف برطانیہ کی ملکہ بلکہ دولت مشترکہ قلمرو ممالک کی بھی آئینی ملکہ و علامتی سربراہ ہیں۔ انہیں ملکہ برطانیہ کے عہدے پر طویل عرصے تک خدمات سر انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہیں، وہ 1926 میں پیدا ہوئیں اور 1953 کو ملکہ بنیں اور اب تک اسی عہدے پر براجمان ہیں۔

وزیر اعظم :۔ 61 سالہ تھریسامے دوسری مرتبہ برطانیہ کی وزیر اعظم بنی ہیں، انہوں نے 2016 میں عہدے سے سبکدوش ہونے والے ڈیوڈ کیمرون کے بعد 2016 میں پہلی مرتبہ وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا، جس کے بعد 2017 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی کنزویٹو پارٹی نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد مخلوط حکومت بنائی۔ وہ برطانیہ کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں، ان سے قبل 1990 میں مارگریٹ تھیچر بھی برطانیہ کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ تھریسامے وزیر اعظم بننے سے قبل برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں، جب کہ وہ متعدد سرکاری عہدوں پر بھی براجمان رہ چکی ہیں۔

کروشیا:۔ یورپی ملک کروشیا میں بھی پہلی بار کوئی خاتون صدارت کے منصب پر براجمان ہوئی ہیں، 51 سالہ کولندا گراربار کیتار وویچ 2015 سے صدر ہیں اور وہ عوامی رجحانات کی وجہ سے عالمی خبروں کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔ کولندا گرابار کو کم عمر خاتون صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جب وہ صدر بنی تھیں تو ان کی عمر 47 سال تھی۔

نیوزی لینڈ: ۔ 37 سالہ جیسنڈا ایرڈرن نیوزی لینڈ کی پہلی نوجوان ترین وزیراعظم ہیں، جب کہ وہ گزشتہ 150 سال میں اس عہدے پر براجمان ہونے والی تیسری خاتون بھی ہیں۔ جیسنڈا ایرڈن 2017 سے وزیر اعظم ہیں، وہ وزارت عظمی پر رہتے ہوئے ایک اور منفرد کام کرنے جا رہی ہیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بعد دوران وزارت بچے کو جنم دینے والی دوسری وزیراعظم ہیں، بینظیر بھٹو نے 1990 میں وزارت عظمی کے دوران بچے کو جنم دیا تھا۔ جیسنڈا ایرڈن کے ہاں 21 جون 2018 کو بیٹی کی پیدائش ہوئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی بیٹی اسی دن پیدا ہوئی، جس دن بینظیر بھٹو کا جنم دن ہوا تھا۔

جرمنی:۔ 63 سالہ اینجلا مرکل یورپ کے اہم ترین ملک جرمنی کی چانسلر یعنی حکومت و ریاست کی سربراہ ہیں، یہاں یہ عہدہ دیگر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کا متبادل ہے۔ اینجلا مرکل گزشتہ 14 سال سے جرمنی کی چانسلر ہیں، وہ پہلی مرتبہ اس عہدے پر 2005 اور آخری مرتبہ اکتوبر 2017 میں فائز ہوئی تھیں اور قانون کے مطابق وہ زیادہ سے زیادہ 2022 تک اس عہدے پر رہ سکتی ہیں۔ اینجلا مرکل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر ہیں، وہ سیاسی پارٹی کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو(کی سربراہ بھی ہیں۔ اینجلا مرکل پہلی بار 1991 میں وفاقی جرمن پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں، تب سے اب تک وہ 7 بار رکن بن چکی ہیں جبکہ وہ وزیر برائے خواتین و نوجوانان اور وزیر برائے ماحولیات و نیوکلئیر سیفٹی بھی رہ چکی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 1998 میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سیکریٹری جنرل مقرر ہوئیں، 2000 میں قائد حزب اختلاف بنیں اور 2005 میں پہلی بار چانسلر بنیں اور اب تک وہ 4 مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوچکی ہیں۔

بنگلہ دیش:۔ 70 سالہ شیخ حسینہ کو جنوبی ایشیا کی خواتین میں اہم اور منفرد اعزاز حاصل ہے، کیونکہ وہ چوتھی مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی ہیں۔ بنگلہ دیش عوامی لیگ نامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی شیخ حسینہ واجد چوتھی مرتبہ 2018 میں وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ ان کا شمار بنگلہ دیش کے مقبول ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، تاہم حالیہ حکومت میں ان کی جانب سے کیے گئے کئی متنازع فیصلوں کے باعث انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے، ان پر سیاسی مخالفین کو قید و سزائیں دینے کا الزام ہے۔ شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں، وہ پہلی مرتبہ 1986ء میں رکن اسمبلی بنیں۔

پولینڈ:۔ بیٹا ماریا سزیلو یورپی ملک پولینڈ کی نائب وزیر اعظم ہیں، وہ حکومت کے دوسرے اعلی ترین عہدے پر براجمان ہیں، انہیں 2016 میں وزیر اعظم ماتوش موراویشتک نے اپنا نائب نامزد کیا تھا، اس سے قبل بھی وہ اعلی سرکاری و سیاسی عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

موریشس:۔ 58 سالہ امینہ غریب موریشس کی پہلی خاتون مسلم صدر ہیں، وہ 2015 سے اس عہدے پر براجمان ہیں۔ وہ ریاست کی سربراہ ہونے سمیت اعلی پائے کی سائنسدان بھی ہیں۔ موریشس اپنے خوبصورت جزائر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، موریشس بحر ہند کے مشرق میں متعدد جزائر پر مشتمل ملک ہے، اس کا دارلحکومت پورٹ لوئس ہے۔

استونیا:۔ 49 سالہ کیرسٹی کالجلیڈ یورپی ملک استونیا کی نوجوان ترین اور پہلی خاتون صدر ہیں، وہ اس ملک کی مجموعی طور پر پانچویں سربراہ ہیں۔ کیرسٹی کالجلیڈ سربراہ کے عہدے پر براجمان ہونے سے قبل ملک کی سیاست میں اہم کارنامے سر انجام دے چکی ہیں۔

اروبا:۔ بحیرہ کیریبین کا جزیرہ نما خود مختار ملک اروبا بھی نیدر لینڈ کے زیر انتظام ہے اور اس کا شمار چھوٹے ترین جزائر میں ہوتا ہے۔ 52 سالہ ایولین ویور کریوس کو اس جزیرے کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہ وزارت عظمی کے عہدے پر براجمان ہونے سے قبل بھی متحرک سیاستدان تھیں۔

سنٹ مارٹن:۔ بحیرہ کیریبین میں واقع جزیرہ نما ملک سنٹ مارٹن نیدرلینڈ کے زیر انتظام خود مختار ملک ہے اور 45 سالہ لیونا مارلن رومیو اس کی پہلی نوجوان خاتون وزیر اعظم ہیں۔لیونا مارلن رومیو سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پارلیمنٹ سے وزیر اعظم منتخب ہوئیں، وہ اس سے قبل بھی سنٹ مارٹن کی رکن اسمبلی منتخب ہوتی رہی ہیں۔

بارباڈوس:۔ 69 سالہ سینڈرا میسن کو نہ صرف بارباڈوس کی پہلی خاتون صدر بننے کا اعزاز حاصل ہے، بلکہ وہ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج، بارباڈوس کی پہلی خاتون رکن اور پہلی خاتون سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ سینڈرا میسن کے حصے میں کئی اور تاریخی کام بھی آئے ہیں، وہ عہدہ صدارت پر براجمان ہونے سے قبل متعدد سرکاری عہدوں پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

وزیر اعظم:۔ کیریبین ملک بارباڈوس میں جہاں اس وقت صدر بھی خاتون ہیں تو وہیں وزارت عظمی کا عہدہ بھی خاتون کے پاس ہے۔ بارباڈوس لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی 53 سالہ میا موٹلی وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل بھی سیاست میں متحرک تھیں۔

سوئٹزرلینڈ:۔ کرسچین ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی آف سوئٹزرلینڈ کی رہنما 56 سالہ ووئلا احمرڈ دسمبر 2018 ء میں سوئٹزرلینڈ کی فیڈریشن آف کونسل کی رکن بنیں اور انہوں نے یکم جنوری 2019 ء سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

کیرن کیلر سوٹر:۔ دی لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ کیرن کیلر سوٹر بھی دسمبر 2018 میں سوئٹزرلینڈ کی فیڈریشن آف کونسل کی رکن بنیں اور نئے سال سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

54 سالہ ڈورس لیتھرڈ کا تعلق کرسچین ڈیموکریٹک سوشل پارٹی جب کہ 57 سالہ سیمونیتا سوماروگا کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف سوئٹزرلینڈ سے ہے، ڈورس لیتھرڈ اس عہدے پر دوسری مرتبہ جب کہ سیمونیتا سوماروگا اس عہدے پر پہلی مرتبہ براجمان ہوئی ہیں۔

ایتھوپیا:۔ اقوام متحدہ میں کئی سال تک خدمات سر انجام دینے والی 69 سالہ سہالے ورک زیوڈے کو افریقی ملک ایتھوپیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سہالے ورک نے جہاں کئی سال تک اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں میں خدمات سر انجام دیں، وہیں وہ ایتھوپیا کی سفیر بھی رہ چکی ہیں اور انہیں سفارت کاری کی ماہر سمجھا جاتا ہے۔

جارجیا:۔ فرانسیسی نژاد جارجیائی سیاستدان 67 سالہ سالومے زور ابیشویلے کو یورپی ملک جارجیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سالومے زور دسمبر 2018 میں صدر منتخب ہوئیں، ان کا تعلق جارجیئن ڈریم پارٹی سے تھا اور انہوں نے 11 جماعتوں کے اتحادی امیدواروں کو بھی شکست دی۔ صدر منتخب ہونے سے قبل وہ اقوام متحدہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں جب کہ وہ فرانس میں جارجیا کی سفیر رہنے سمیت ملک کی پہلی خاتون وزیر خارجہ بھی رہ چکی ہیں۔

کینیڈا:۔ 53 سالہ جولی پائتے کینیڈا کی 29 ویں گورنر جنرل ہیں، یہ عہدہ اگرچہ حکومتی نہیں تاہم یہ مشترکہ ممالک قلمرو میں ایک علامتی ریاستی عہدے کی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عہدے پر تقرری ملک کا وزیر اعظم کرتا ہے اور اس عہدے پر براجمان شخص ایک طرح سے ملکہ برطانیہ کے معاملات دیکھنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا عہدہ دوسرے دولت مشترکہ قلمرو ممالک میں بھی ہے۔

کیورا سا:۔ 69 سالہ لوشیا جارج ووٹ بحریہ کیریبین کے جزیرہ نما ملک کیورا سا کی گورنر ہیں، یہ عہدہ ریاستی سربراہ کا عہدہ ہے۔ لوشیا جارج ووٹ گورنر بننے سے قبل بھی کیورا سا کے اعلی سرکاری عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔

ناروے:۔ 57 سالہ ایرینا سولبرگ حکومت کے اعلی ترین عہدے پر براجمان ہونے سے قبل بھی حکومت کے اعلی ترین عہدوں بشمول وزارتوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔ وہ 2013ء سے ناروے کی وزیر اعظم ہیں، ساتھ ہی وہ سیاسی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ بھی ہیں۔

میانمار:۔ 72 سالہ آنگ سانگ سوچی میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ ہیں، انہیں حکومت کی سربراہی کے لیے ایک خصوصی عہدے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، وہ میانمار کی پہلی اسٹیٹ کونسلر خاتون ہیں، یہ عہدہ وزیر اعظم کے برابر ہوتا ہے۔ اگرچہ آنگ سانگ سوچی براہ راست حکومتی پالیسیوں کی ذمہ دار نہیں ہیں، تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہی میانمار حکومت کی اہم پالیسی ساز ہیں۔ ان پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے بھی تنقید کی جاتی ہے۔

گریناڈا:۔ گرینیڈا کیریبین جزائر کا ایک جزیرہ نما ملک ہے، جس پر برطانوی سلطنت کا قبضہ تھا، 65 سالہ ڈیم سیسل اس ملک کی پہلی گورنر جنرل ہے، اس سے قبل وہ ملک کے اہم سیاسی و حکومتی عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں۔

نیپال:۔ 56 سالہ بدیا دیوی بھنڈاری مجموعی طور پر نیپال کی تاریخ کی دوسری خاتون جب کہ جمہوری نیپال کی پہلی خاتون صدر ہیں۔ بدیا دیوی بھنڈاری کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف نیپال سے ہے، وہ صدر بننے سے قبل وزیر دفاع سمیت دیگر عہدوں پر بھی براجمان رہ چکی ہیں۔

سربیا:۔ 42 سالہ اینا برنابیچ یورپی ملک سربیا کی نوجوان ترین اور پہلی خاتون ایل جی بی ٹی وزیر اعظم ہیں، وہ اس سے قبل بھی حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ اینا برنابیچ کو ہم جنس پرستی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

سنگاپور:۔ 63 سالہ حلیمہ یعقوب نہ صرف سنگاپور کی پہلی خاتون صدر بلکہ پہلی مسلمان صدر بھی ہیں، وہ اس سے قبل سنگاپور کی اسمبلی کی اسپیکر رہنے سمیت اہم سرکاری عہدوں پر براجمان رہیں۔ ان کا تعلق سیاسی جماعت پیپلز ایکشن پارٹی سے ہے۔

لتھووینیا:۔ 62 سالہ ڈلیا گریباسکیٹی نہ صرف لتھووینیا کی پہلی خاتون صدر ہیں بلکہ وہ مسلسل دوسری مرتبہ منتخب ہونے والی بھی پہلی صدر ہیں، وہ اس سے قبل مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔ ڈلیا گریباسکیٹی یورپی یونین اور کمیشن کے اعلی سرکاری عہدوں پر بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

مالٹا:۔ 59 سالہ میری لوئس اگرچہ مجموعی طور پر مالٹا کی دوسری خاتون صدر ہیں، تاہم وہ جدید دور کی پہلی خاتون صدر ہیں۔ میری لوئس نے اگرچہ 55 سالہ کی عمر میں عہدہ صدارت سنبھالا، تاہم حیران کن طور پر اس کے باوجود وہ ملک کی نوجوان ترین صدر قرار پائیں۔

نمبییا:۔ 50 سالہ سارہ کگینگلوا جنوبی افریقی ملک نمبیبا کی مجموعی طور پر چوتھی جب کہ پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں، انہوں نے 2015ء میں یہ عہدہ سنبھالا۔ ساتھ ویسٹ افریقہ پیپلز آرگنائزیشن نامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والی سارہ کگینگلوا اس سے قبل وزیر خزانہ سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکی ہیں۔

بہاماس:۔ 85 سالہ مارگریٹ پینڈلنگ بحرالکاحل کنارے سیکڑوں جزائر پر مشتمل کیریبن ملک بہاماس کی دوسری خاتون گورنر جنرل ہیں۔ ان سے قبل ایوی دوموٹ 2000ء سے 2001ء تک پہلی خاتون گورنر جنرل رہ چکی ہیں۔

جزیرہ مارشل:۔ 66 سالہ ہلدا ہین ایکواڈور کے قریب متعدد جزائر پر مشتمل جزیرہ نما ملک مارشل کی نہ صرف پہلی خاتون صدر ہیں، بلکہ وہ اپنے ملک کی پہلی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی خاتون بھی ہیں۔ ہلدا ہین نے 2016ء سے عہدہ صدارت سنبھالا، اس سے قبل وہ متعدد سرکاری عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں۔

رومانیہ:۔ 54 سالہ ویوریکا ڈینشلا کے لیے سال 2018 ء تاریخی ثابت ہوا اور وہ نئے سال کے پہلے ہی ماہ رومانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ ویوریکا ڈینشلا نے 29 جنوری 2018ء کو عہدہ سنبھالا، ان کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، وہ یورپی یونین کی رکن رہنے سمیت اہم سرکاری عہدوں پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

ٹرینیڈاڈ ٹوبیگو:۔ 60 سالہ پالا مائی ویکیس جو اس براعظم امریکی ملک ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی اعلی جج ہیں، وہ ملک کی پہلی صدر ہیں۔ پالا مائی ویکیس سیاسی جماعتوں کی مفاہمت اور جوڑ توڑ کے بعد گزشتہ برس خواتین کے عالمی دن کے موقع پر صدر بنیں۔

تائیوان:۔ 61 سالہ تسائی انگ ون کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ خود مختار مگر چین کی زیر تسلط ریاست تائیوان کی پہلی خاتون صدر ہیں۔ تسائی انگ ون کی پارٹی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی نے حیران کن طور پر 2016 کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کو شکست دی، جس کے بعد وہ ملک کی پہلی خاتون صدر بنیں۔ تسائی انگ ون ریاست و حکومت کے اعلی ترین عہدے پر براجمان ہونے سے قبل متعدد سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

آئس لینڈ:۔ 42 کیٹرن جیکوبوسڈوٹی کی نوجوان ترین وزیر اعظم ہیں، وہ اس عہدے پر براجمان ہونے سے قبل کئی وزارتوں کے قلمدان سنبھال چکی ہیں۔ وہ 2003ء میں صحافت سے سیاست میں داخل ہوئی تھیں اور جلد ہی انہوں نے سیاست میں اپنا مقام بنالیا۔

(179 بار دیکھا گیا)

تبصرے