Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 15 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کاروبار میں ترقی ایمانداری سے ہوتی ہے

قومی نیوز اتوار 17 مارچ 2019
کاروبار میں ترقی ایمانداری سے ہوتی ہے

ایک مشہور مقولہ ہے کہ جو ڈھونڈے گا سو پائے گا اس مقولے کا مطلب یہ ہے تلاش اور جستجو ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو کامیابی کی راہ دکھاتا ہے جدوجہد کا ایک لمبا سفر مثبت سوچ اور طرز زندگی میں کامیابی کے راز پوشیدہ ہوتے ہیں بلندیوں کے راستے پر بام عروج پر نظر آنے والی نمایاں کاروباری شخصیات میں ایک نمایاں نام سید محمود علی حقیقت پسندی ‘اُصول حیات جرأت مندانہ فطرت اور ایک شفاف آئینے کی طرح ایک روشن تابندہ مثال ہیںکراچی حلیم اور کراچی فوڈز کے( سی ای او) سید محمود علی کے والد سید محفوظ علی کا شمار بہترین گھڑی ساز میں ہوتا تھا نگینہ واچ کے نام سے ان کا کاروبار تھا مگر حالات کی ستم ظرفی کی وجہ سے یہ کاروبار زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا اسی حوالے سے سید محمود علی بناتے ہیں کہ ہم تین بھائی ہیں ہمارے ابتدائی ایام انتہائی خراب گزرے ہیں 1965ء کے دور میں والد صاحب کا ہاتھ بٹانے اور گھر کا خرچہ چلانے کیلئے اخبارات کی فروخت کا کام کیا اس دور میں ٹی وی چینلز کا زمانہ نہیں تھا اخبار اور ریڈیو ہی ذرائع ابلاغ کے مؤثر ذریعہ تھے اس دور میں چار روپے کے سو اخبار ریگل چوک سے لے کر میں آرام باغ اور لیاقت آباد پیدل اخبارات آوازیں لگا لگا کر فروخت کرتا تھا اور سارا دن کی آمدنی چار پانچ روپے ہو جاتی تھی جب میں اخبار فروخت کرتا تھا تب ریگل سے لیاقت آباد تک مین سڑک میں کئی سینما گھر موجود تھے تب مجھے فلمی پوسٹر بنانے کا شوق پیدا ہوا لہٰذا اخبارات کا کام چھوڑ کر 1967ء میں آرٹسٹ بننے کا خیال مجھے استاد رئیس احمد صدیقی کے پاس لے کر گیا میرے استاد رئیس احمد صدیقی تھے جن سے باقاعدہ میں نے فلمی پوسٹر بنانے کا کام سیکھا ان کے پاس کراچی کے سائیڈ کے سینما گھر فردوس، چمن، سوسائٹی، ریجنٹ میٹرو وغیرہ تھے دس برس میں مکمل کام سیکھا اس دوران 1977 میں کراچی کے جب حالات خراب ہوئے تھے تب میں ایک سرکاری ادارے کی نوکری سے وابستہ ہوگیا تھا سروس کے ساتھ ساتھ اپنا کام جاری رکھا اس وقت میرے پاس اوڈین سینما صدر، فلمستان سینما (تین ہٹی) شبنم، سنگم ڈرگ روڈ، شیریں سینما کورنگی تھے جن کے فلمی بورڈ میں بنایا کرتا تھا اداکار بدر منیر کی فلم یوسف خان شیربانو کے پوسٹر بدر منیر اپنے سامنے بیٹھ کر بنواتے تھے (فلم اسٹار )رانی کی فلم امراء جان ادا کا پوسٹر شبنم سینما میں بنایا تب رانی وہاں آئیں اور انہوں نے مجھے بہترین کام پر ایک ہزار روپے انعام دیا، ندیم کی چکوری، وحید مراد کی ارمان کے یادگار پوسٹر مجھے آج بھی یاد ہیں۔ سید محمود علی بتاتے ہیں کہ ان کی پیدائش 1954 کی ہے میرے والدین حیدرآباد سے کراچی آئے تھے۔
قومی اخبارO مناسب سرکاری نوکری کے بعد کاروبار کا خیال کس طرح آیا۔
سید محمود علیO جب میں سرکاری نوکری سے وابستہ تھا تب فلمی پوسٹر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا مگر اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ تصویریں بنانا درست نہیں ہے لہٰذا وہ کام چھوڑ دیا سرکاری نوکری کے دوران ہی مجھے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوا اسی دوران کاروبار کرنے کا خیال ذہن میں ابھرا تب اپنے بڑے بھائی سید افضل علی کے باہمی مشورے سے حلیم کا کام شروع کیا۔ اس وقت ہماری رہائش گاہ نارتھ کراچی میں تھی ہم نے پہلا اسٹال فائیو سی فور نارتھ کراچی میں لگایا کیونکہ میرا تعلق آرٹ سے تھا اور میں بیلٹی کی حقیقت سے بھی آگاہ تھا تب میں نے حلیم کی پبلسٹی کیلئے علاقے میں کثیر تعداد میں بینرز آویزاں کئے جس کی باعث کافی شہرت ملی اور پھر اللہ تعالیٰ نے دن دگنی رات چگنی ترقی دی دیکھتے ہی دیکھتے اسٹال دوکان کی شکل میں تبدیل ہوگئی پہلی دوکان کا قیام 1989 میں حسین آباد کے علاقے میں کراچی حلیم کے نام سے وجود میں آیا دوسری دوکان 1991 میں برنس روڈ تیسری لسبیلہ 1997 میں بنی اللہ پاک نے بہت کامیابی سے نوازہ اس کے بعد، نارتھ ناظم آباداور ڈی ایچ اے میں کراچی حلیم کا قیام عمل میں آیا اس کے بعد پی ای سی ایچ ایس (نرسری) میں کراچی فوڈز کا قیام ہوا۔
قومی اخبارO کاروبار کیلئے کتنا سرمایہ درکار ہوتا ہے۔
سید محمود علیO کاروبار کیلئے بڑی رقم کی نہیں بلکہ بڑے حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے کاروبار میں کبھی کبھی بروقت فیصلہ سازی بھی کرنی پڑتی ہے، ہمیشہ چادر دیکھ کر پائوں پھیلانا چاہئے کاروبار بھی ایک آرٹ ہے کاروبار اصولوں کے ساتھ کیا جائے ایمانداری، محنت اور رزق حلال کو اہمیت دیں گے کاروبار کامیاب ہوگا۔
قومی اخبارO تعلیم کسی بھی کاروبار میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سید محمود علیO دور حاضر میں تعلیم اولین ترجیح ہے جب میں سرکاری ادارے سے وابستہ تھا تو تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو میں نے جانا اس وجہ سے میں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔
قومی اخبارO اپنے بچوں کے حوالے سے بتائیں انکی کیسی تربیت کی۔
سید محمود علیO میری چار بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں بڑی بیٹی اسلامک لرننگ میں ماسٹر گولڈ میڈل سے کیا ہے دوسری بیٹی نے B.D.S تیسری نے آرکیٹکٹ اور چوتھی نے ایم بی اے کیا ہے جبکہ بڑا بیٹا اکنامکس میں ماسٹرز، دوسرا لندن سے ماسٹرز تیسرے نے لندن سے بیچلرز کیا ہے اور چوتھا (C.B.M) میں ہے۔
قومی اخبارO کراچی حلیم سے کراچی فوڈز کا قیام کس طرح عمل میں آیا۔
سید محمود علیO میرے بچوں کے ذہن کے مطابق کراچی حلیم سے کراچی فوڈز وجود میں آیا یہ ایک مکمل ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹ ہے جہاں مختلف اقسام قسم کے کھانوں کے ٹن پیک جو لوگ پوری دنیا میںلوگ لے جاتے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں مختلف اقسام کے کھانے جس میں جائنیز، باربی کیو، پاکستانی اور فاسٹ فوڈز دستیاب ہیں اور اس میںریسٹورنٹ تین سو لوگوں کی ڈائیننگ ہے۔
قومی اخبارO اپنی مصروفیات کے حوالے سے بتائیں
سید محمود علی O سارا وقت کاروبار پر مرکوز رہتا ہے فلمیں، ڈرامے ، نہیں دیکھتا البتہ کراچی کے مختلف تعلیمی اداروں میں مجھے خصوصی تقریبات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے جہاں طالب علموں کو کاروبار کے حوالے سے خصوصی لیکچراز دیتا ہوں نئے کاروبار کرنیوالے لوگ بڑے غور اور محبت سے میری باتیں سنتے اور فائدے حاصل کرتے ہیں اب ایسی کوشش میں رہتا ہوں کہ حلال حرام کی پہچان کا پیغام اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹی کی سطح پر طالب علموں کو پہنچائوں ،اسی بات پر عمل پیرا ہوکر تعلیمی ادارے ٹی سی ایف، آئی بی اے، محمد علی جناح یونیورسٹی، اقراء یونیورسٹی اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے یہ خدمت انجام دے رہا ہوں۔ مجھے ان اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں
سید محمود علی کا کہنا ہے کہ سروس سے بہتر بزنس ہے سروس میں آپ جتنا کام کریں تنخواہ مساوی ہوتی ہے جبکہ کاروبار میں ایسا نہیں ہے ہم مہنگائی کے دور میں بھی سستا کھانا فراہم کررہے ہیں حلیم آج بھی سب سے سستا کھانا ہے 120روپے میں حلیم اور روٹی آرام سے نوش فرمالیں، ہمارے یہاں صفائی ستھرائی کا بہترین نظام ہے ، ہماری تمام برانچوں پر ملازمین کام کی نگرانی کرتے ہیں، ہم تین بھائی، افضل، امین اور میں خود نے مختلف شعبوں سنبھالتے ہیں ہوم ڈلیوری آفس کی سہولتیں پانچویں برانچوں میں موجود ہیں سید محمود علی کہتے ہیں کہ کاروبار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اصل چیز یہ ہے کہ آپ کتنے ایماندار ہیں رزق حلال عین عبادت ہے شارٹ کٹ سے وقتی کامیابی ہے مگر دیریا نہیں ہے۔ انشاء اللہ ہم اب ڈیفنس میں ایک نئی برانچ پر کام کررہے ہیں جس کا بہت جلد قیام عمل میں آجائیگا جبکہ لاہور سے میں کراچی حلیم متعارف کرانے کا پروگرام ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر ایک بندہ کماتا ہے پورا گھر چلتا ہے پاکستان کی سرزمین میں بہت برکت ہے دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ایک کمایا اور دس کھائیں بیٹی قدرت کا انمول تحفہ ہے بیٹی اپنے ماں باپ کو دعائوں میں یاد کرتی ہیں میں احترام ً اپنی بیٹیوں کو باجی کہہ کر پکارتا ہوں بیٹیاں والدین کی نجات کا ذریعہ بھی ہیں سروس میں حق تلفی ہوتی ہے جبکہ بزنس میں انصاف ہوتا ہے۔
قومی اخبارOکاروبار میں ترقی کا راز بتائیں
سید محمود علیO دنیا میں سب سے مہنگی چیز عزت ہے قسمت بدلنی ہے تو پھر دعائیں لینا سیکھو اللہ تعالیٰ نے ایک چیز سب کو برابر دی ہے وہ چوبیس گھنٹے ہیں کچھ لوگ سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ سولہ گھنٹے آرام کرتے ہیں مسلمان ایماندار تاجر قیامت میں نبیوں اور صدیقوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اگر ہم بڑا بننا چاہتے ہیں تو پہلے چھوٹے نہیں
کاروبار میں مکمل ایمانداری ، اپنے بچوں کو حلال حرام کی پہچان دی ہے لوگ حرام میں نہیں شرماتے تو ہم حلال میں کیوں شرم محسوس کریں
قومی اخبارOغربت سے بلندی کا سفر کیلئے ممکن ہوا؟
سید محمود علیO ایک وقت ایسا تھا کہ غریب محلے میں رہتے تھے اور ہماری ٹکر کا کوئی غریب نہیں تھا اب امیر محلے میں رہتے ہیں اور ہماری ٹکر کا امیر نہیں ہے کیونکہ ہم نے رزق حلال سے ترقی کی ہے مجھے غربت ختم کرنے کا جنون تھا اور اس کو شکست دینے میں مجھے کامیابی ملی
قومی اخبارO الیاس شاکر سے دوستی کا رشتہ کب سے ہوا
سید محمود علیOالیاس شاکر مرحوم دوستی، محبت، خلوس اور ایثار کا پیکر تھے ان سے بہت پرانی دوستی تھی بہترین خدمت اور محنت کی الیاس شاکر ایک اعلیٰ مثال ہیں

(309 بار دیکھا گیا)

تبصرے