Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دہشت گردی یا قتل عام

ویب ڈیسک هفته 16 مارچ 2019
دہشت گردی یا قتل عام

نیوزی لینڈ میں مسلح شخص نے مساجد میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کرکے معصوم نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ اس درندگی پر پوری مسلم دنیا سکتے میں آگئی۔۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے ’دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں‘پولیس حکام کے مطابق چار افراد، جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، کو اب تک حراست میں لیا جا چکا ہے۔پولیس کمیشنر مائیک بْش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے۔ وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ’یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔‘اخبار نیوزی لینڈ ہیرلڈ کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور وہ آسٹریلوی شہری ہے۔کرائسٹ چرچ شہر کی میئر لیئین ڈلزیل نے ’المناک‘ حملے کے بارے میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہمارا شہر ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔‘
انھوں نے پولیس اور متاثرین کا خیال کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔‘حکومتی اعدادوشمار کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پزیر تھے، جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا ’اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی۔‘’جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریباً پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔‘نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔جب حملہ ہوا تو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی النور مسجد کے قریب تھے۔ بنگلہ دیش میں ویب سائٹ کرک انفو کے نامہ نگار محمد اسام بتایا کہ فائرنگ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ہمراہ تھے۔اسام کہتے ہیں: ’میں نے انھیں پارکنگ سے باہر نکلتے دیکھا، پانچ منٹ کے اندر ایک کھلاڑی (اقبال) نے مجھے مدد کے لیے بلایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بچاؤ، ہم بہت مصیبت میں ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔‘’پہلے میں نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن پھر ان کی آواز کپکپا رہی تھی تو میں بس دوڑ پڑا۔ میں جائے وقوعہ تک دوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر مجھے کسی سے لفٹ مِل گئی اور میں اس جگہ تک پہنچ گیا۔‘بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’وہ محفوظ ہیں، لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔‘نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق حملے کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان ہیگلی اوول میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بھی اب نہیں ہوگا۔برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا: ’کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘ وزیرِاعظم عمران خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں‘۔ ہماری ہمدردی اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا: ’ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’اسلاموفوبیا‘ کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیانیوزی لینڈ مساجد میں مسلح شخص کے حملے میں 49 نمازیوں کی شہادت پر مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’نسل پرستی اور فسطائیت‘ قرار دیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں دنیا بھر کے مسلمان رنجیدہ اور دل گرفتہ ہیں، وہیں مسلم حکومتوں نے بھی مساجد پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو نسل پرستی اور فسطائیت قرار دیا ہے۔متحدہ عرب امارات نے بھی مساجد پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پر امن لوگوں پر حملہ ناقابل قبول ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت اور نیوزی لینڈ سے ملزم کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انڈونیشیا کی حکومت نے کہا ہے کہ عبادت کے مقام پر ایسا حملہ ناقابل قبول ہے، لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور نیوزی لینڈ کی حکومت سے دہشت گرد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ افسوسناک واقعے میں شہید ہوانے والوں میں 3 انڈونیشی باشندے بھی شامل ہیں۔ملائیشیا نے مساجد میں حملے کو انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جان لینا ایک نہایت گھناونا عمل اور کسی مہذب سماج میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوا کر ہی مسلمانوں کے دکھ کو کم کر سکتا ہے۔ترکی نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کو نسل پرستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا عمل کوئی فاشسٹ ہی کر سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں تیزی سے پھیلتے اسلام سے خوف کھانا ہے۔ شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں۔افغانستان نے نیوزی مساجد حملے میں اپنے 3 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ نہتے لوگوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنانا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ نیوزی لینڈ کو سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیئے۔بنگلا دیش نے دہشت گردانہ حملے میں اپنی کرکٹ ٹیم کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہایت افسوسناک واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پْر امن لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے کسی بھی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں۔

(287 بار دیکھا گیا)

تبصرے