Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 25 مارچ 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پی پی میں بغاوت کا خطرہ

ویب ڈیسک جمعرات 14 مارچ 2019
پی پی میں بغاوت کا خطرہ

کراچی…….آصف علی زرداری کی گرفتار ی اورپیپلز پارٹی میں بغاوت کے خدشے پربلاول بھٹو کو فرنٹ فٹ پر لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ آصف علی زرداری کو بیک فٹ پر لانے کیساتھ پیپلز پارٹی کے ناراض ارکان کو ساتھ ملایا جائیگا جبکہ بلاول کے ذریعے دوبارہ سندھ کارڈ کھیلنے اور ن لیگ کے ساتھ معاملات مزید بہتر کرنے پر بھی کام شروع ہوگیا۔

پیپلز پارٹی کے مصدقہ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اہم رہنماؤں نے آصف علی زرداری کے بجائے بلاول بھٹو کو فرنٹ پر لانے اور انکے ذریعے پارٹی کو بالخصوص پنجاب میں دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے ناصرف کام شروع کر دیا ہے بلکہ بلاول کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس ، میاں نوازشریف سے جیل میں ملاقات اور پنجاب میں اہم رہنما ؤں سے ملاقات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

بلاول بھٹو اگلے چند دنوں میں مزید سیاسی شخصیات سے نا صرف ملاقاتیں کرینگے بلکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں میاں نوازشریف کے حوالے سے مریم نواز سے رابطہ جبکہ ن لیگی اہم رہنماؤں سے انکی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اندر ایک بڑے گروپ کا نا صرف یہ مطالبہ تھا بلکہ اس حوالے سے کئی اہم رہنما ناراض بھی تھے کہ انکی بات پر غور نہیں کیا جارہا ،وہ یہی تھا کہ اگر بلاول کو فرنٹ پر لایا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی نا صرف بہتر پرفارمنس کریگی۔بلاول بھٹو کے آنے سے پنجا ب کے اندر بہت سے ناراض رہنما دوبارہ پارٹی کیساتھ بھی آجائینگے اور پنجاب میں آئندہ انتخابات میں پوزیشن بہتر ہوسکے گی۔پیپلز پارٹی کے اندر چند ایسے رہنما جنہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت کرانے میں کردار ادا کیا تھا انکا بھی یہی خیال تھا کہ اگر بلاول کو سامنے لایا جاتا ہے تو پارٹی کو دو فائدے ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں : بھرپوریوم پاکستان،مہاتیرمحمد مہمان خصوصی ہونگے

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر وقت سے پہلے پارٹی کی کمان بلاول کے ہاتھ میں آجائیگی اور پارٹی کے اندر گروہ بندی اور بغاوت کا خدشہ ختم ہو جائیگا۔۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری بھی سیاست میں رہینگے مگر پیپلز پارٹی کے اندر اب اہم رول بلاول ہی ادا کرینگے۔

بلاول کو اسلئے بھی متحرک کیا گیا ہے کہ سندھ کے اندر پیپلز پارٹی میں واضح طور پر گروپنگ شروع ہوگئی ہے اور اس میں برملا فریال تالپور کا نام لیا جارہا تھا اور ایک گروپ اس پر سخت ناراض بھی تھا جس نے باقاعدہ بلاول سے ا س کا اظہار بھی کیا تھا۔ بلاول بھٹو کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما کا کہنا ہے کہ وہ ایک تیر سے تین شکار کر رہے ہیں۔

دریں اثناسینئر صحافی و تجزیہ کارحامد میر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صرف حکومت پر حملہ نہیں کررہے بلکہ اس سے آگے نکل گئے ہیں، شاید انہیں کچھ ایسی چیزیں بتائی گئی ہیں جس سے مس انڈراسٹینڈنگ زیادہ ہوگئی ہے، بلاول نے تین وزرا کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ جب تک انہیں نہیں نکالا جاتا ہم نہیں سمجھ سکتے کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی میں حکومت واقعی سنجیدہ ہے

ان کا اشارہ اسد عمر، شہریار آفریدی اور شیخ رشید کی طرف تھا، اسد عمر کیخلاف بلاول کا کیس مضبوط نہیں البتہ شہریار آفریدی اور شیخ رشید کو اپنی وضاحت کرنی چاہئے۔

(125 بار دیکھا گیا)

تبصرے