Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 24 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مسعود اظہر کیخلاف قرار داد پھر ویٹو ،بھارت کوایک اورشکست

قومی نیوز جمعرات 14 مارچ 2019
مسعود اظہر کیخلاف قرار داد پھر ویٹو ،بھارت کوایک اورشکست

نیویارک ۔۔۔۔چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی کی قرارداد ایک بار پھرویٹو کر دی ہے۔

جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے سلامتی کونسل ارکان کی قرارداد پرچین نے تکنیکی اعتراض اٹھایا اور اسے رکوا دیا۔

چین پہلے بھی 3بار مسعود اظہر کے خلاف قرار داد ویٹو کر چکا ہے۔ بھارتی حکومت 2009 سے مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس مرتبہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے قرارداد پیش کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تینوں ممالک نے چین سے رابطے بھی کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کا جنون برقرار‘ پانی روک لیا

بھارت کو توقع تھی کہ پلوامہ حملے کے بعد اب چین ویٹو کا حق استعمال نہیں کرے گا۔ تاہم دس برس بعد بھی بھارتی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

قرارداد ویٹو کیے جانے پر بھارت نے چین کا نام لیے بغیر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹیکنیکل ہولڈ کے ذریعے عالمی برداری کو پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی جماعت جیش محمد کے رہنما کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔

بھارت کے بیان میں امریکہ و دیگر ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین قرار داد سے متعلق پہلے بھی کئی باراپنا موقف دے چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیر پا نتائج کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے ،چین نے ہر بار سلامتی کونسل میں ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ قرارداد پرفریقین سے رابطے میں رہے ہیں اور ہمیشہ مناسب مؤقف اپنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چالیس یورپی ارکان کا مودی اور عمران کو خط

ترجمان نے کہا کہ اس مسئلے پرمتعلقہ اداروں کو قوانین اور طریقہ کار کی پیروی کرنی ہوگی، تمام فریقین کیلئے قابل قبول حل مسئلے کا مناسب حل ہوگا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی قرارداد 27 فروری کو عین اس وقت پیش کی گئی تھی جب بھارت پاکستان میں فضائی دراندازی کرچکا تھا۔

ان تینوں ممالک کی کوششوں کے باعث بھارت کو یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا۔

(134 بار دیکھا گیا)

تبصرے