Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 26 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تحقیق اورایجادات امریکا، اسرائیل جنوبی کوریا آگے

ویب ڈیسک بدھ 13 مارچ 2019
تحقیق اورایجادات امریکا، اسرائیل جنوبی کوریا آگے

کراچی …. تحقیق اور سائنسی ایجادات میں سرکردہ ممالک کی نئی فہرست جاری کر دی گئی ہے اور ایک مرتبہ پھر امریکا نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فہرست میں اسرائیل دوسرے جبکہ جنوبی کوریا تیسرے نمبر پر ہے۔

برطانوی ادارے آ ر ایس کمپوننٹس کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تین ممالک کے بعد بالترتیب جاپان، سوئیڈن، ڈنمارک، جرمنی، فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور آ سٹریا کا نمبر آ تا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی فہرست میں موجود سرکردہ دس ممالک میں سے 6 کا تعلق یورپی یونین سے ہے جبکہ برطانیہ کا 15واں نمبر ہے۔

آ ر ایس کمپوننٹس نے فہرست کی تیاری کیلئے کئی عوامل کا سہارا لیا ہے جس میں ہر ملک کو پرکھنے کیلئے چار مختلف شعبے طے کیے گئے جن میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کی تعداد، رجسٹر کرائے گئے پیٹنٹس، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خرچ کیا جانے والا جی ڈی پی کا فیصدی حصہ اور ہر ایک ہزار شخص کیلئے دستیاب محققین کی تعداد جیسے عوامل شامل ہیں۔

ادارے کے ترجمان نے برطانوی اخبار کو بتایا ہے کہ اگرچہ ایسی کوئی پیمائش نہیں ہے جس سے ہم ہر شعبے میں ہونے والی مجموعی کارکردگی اور پیشرفت کا جائزہ لے سکیں لیکن چند ایسے طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے ہم یہ پتہ چلا سکتے ہیں کہ کس طرح چند ملک سائنس کے شعبے میں اپنی قیادت کا لوہامنوا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھیں تو سب سے زیادہ تحقیقی مقالہ جات امریکا میں (25855) شائع ہوئے، جس کے بعد چین (14234)، جرمنی (8201)، برطانیہ (7214) اور جاپان (4670) کا نمبر آ تا ہے۔

سب سے زیادہ پیٹنٹ بھی امریکا میں (ایک لاکھ 55 ہزار 982) رجسٹر کرائے گئے، جس کے بعد جاپان (54422)، جنوبی کوریا (20201)، جرمنی (17752) اور چین (14234) کا نمبر آ تا ہے۔

ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (تحقیق و ترقی) کے معاملے میں دیکھا جائے تو اسرائیل کا پہلا نمبر ہے جو اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.25 فیصد حصہ اس شعبے میں خرچ کر رہا ہے۔

اس کے بعد جنوبی کوریا (4.23)، سوئٹزرلینڈ (3.37)، سوئیڈن (2.27) اور جاپان (3.14) کا نمبر ہے۔ اس شعبے میں امریکا کا نمبر دسواں ہے جو اپنی جی ڈی پی کا صرف 2.74 فیصد حصہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خرچ کر رہا ہے۔

ہر ایک ہزار افراد کیلئے دستیاب محققین کی تعداد کے لحاظ سے دیکھیں تو یہاں بھی اسرائیل سرفہرست ہے جہاں ہر ایک ہزار افراد کیلئے 17 محققین دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ڈنمارک (15) کا دوسرا نمبر ہے جبکہ سوئیڈن، فن لینڈ اور جنوبی کوریا (14) کا تیسرا نمبر ہے۔

(91 بار دیکھا گیا)

تبصرے