Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مضحکہ خیز شہر

ویب ڈیسک اتوار 10 مارچ 2019
مضحکہ خیز شہر

دنیا میں بہت سی پْراسرار جگہیں پائی جاتی ہیں، حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں اور رنگ برنگے پرندے، انواح واقسام کے جاندار اور ایسی ایسی صلاحیت کے حامل انسان دیکھنے میں آتے ہیں کہ جن کے بارے میں علم ہونے پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب کر اْنگلیاں دانتوں میں دبانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آپ نے یقینا بہت سی ایسی چیزوں کے متعلق پڑھا یا سْنا ہو گا جنہوں نے اپنے عجیب وغریب اور انوکھے خواص کی بنا پر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہو گی۔ اِن تمام مقامات، جانداروں، چیزوں اور واقعات کی انفرادیت قدرتی بھی ہو سکتی ہے اور انسانوں کے ذہنِ رسا کے ہْنرکاری کی کارفرمائی بھی۔ لیکن ان سب سے قطعِ نظر بعض اوقات کچھ ایسی چیزیں بھی نظر سے گزرتی ہیں کہ انسان اپنی بے ساختہ ہنسی پر قابو نہیں پا سکتا۔ شاید آپ نے کراچی کے دو علاقوں ’مچھرکالونی‘ اور ’بھینس کالونی‘ کا نام سْنا ہو لیکن ہم آپ کو امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کے چند چھوٹے شہروں اور قصبات کے ایسے ناموں کا احوال بتاتے ہیں جن کے بارے میں جان کر آپ اپنے ہونٹوں پر اْبھرنے والی مسکراہٹ کو روکنے میں ناکام ہو جائیں گے۔

جلی ہوئی مکئی، الاباما
غذائی ناموں پر شہروں کے مضحکہ خیز نام رکھنے کی سب سے اعلیٰ مثالوں میں سے ایک ریاست الاباما کا یہ قصبہ بھی ہے۔ اس قصبے کے نام کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے مختلف روایات مشہور ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر یورپی آبادکاروں نے ریڈانڈینز کے کھیت جلائے تھے جبکہ چند لوگوں کا ماننا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا تھا یعنی ریڈانڈینز نے آبادکاروں کے کھیتوں کو آگ لگائی تھی۔ بہرحال حقیقت کچھ بھی رہی ہو، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ 1813ء میں اِس مقام پر دونوں گروہوں میں جنگ ہوئی تھی جو ریڈانڈینز نے جیتی تھی۔

اَن الاسکا، الاسکا
انگریزی زبان میں کسی لفظ کا مطلب نفی کے معنوں میں لینے کے لیے اْس کے ساتھ ’اَن‘ (un) لگایا جاتا ہے۔ تاہم اس قصبے کے نام کا مطلب ’اینٹی الاسکا‘ (anti-Alaska) ہرگز نہیں ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس جگہ آباد ’اَن اینگین‘ (Unangan) یا ’الیوِٹ‘ (Aleut) قوم کے مقامی افراد اس علاقے کو ’اگنالکش‘ کہتے تھے لیکن ہجوں اور لہجوں کے فرق کے باعث سال ہاسال تک اس کے تلفظ کے بارے میں اْلجھن برقرار رہی۔ آخرکار 1800ء کے اواخر میں ’دی یونائیٹڈ اسٹیٹس بورڈ آن جیوگرافِک نیمز‘ نے یہ اعلان کیا کہ اس قصبے اور جس جزیرے پر یہ واقع ہے، دونوں کا سرکاری نام ’اَن الاسکا‘ ہے۔ یہ نام اِن کے اصل نام کو آسان بنانے کے تجویز کیا گیا تھا۔

کیوں، اریزونا
کیوں (why)، اوہ کیوں، یہ قصبہ ’کیوں‘ (why) کہلاتا ہے ؟ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ ریاستی ہائی ویز نمبر 85 اور 86 اس مقام پر آکر ملتے ہوئے انگریزی حرف ’Y‘ کی شکل بناتی ہیں۔ ریاست اریزونا کے قانون کے مطابق کسی بھی شہر کا نام کم ازکم تین حروف پر ضرور مشتمل ہونا چاہیے۔ اس لیے اس قصبے کے بانیان نے اس کا نام ’Y‘ سے تبدیل کر کے ’وائے‘ (why) رکھ دیا۔ البتہ اِن دونوں ناموں کو بولتے ہوئے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، جب تک اِن کو لکھا ہوا نہ دیکھیں۔

انگوروں کا مکر، آرکنساس
یہ نام اِتنا عجیب تو نہیں ہے، جتنا سْننے میں لگتا ہے کیونکہ ’پوسم گریپ‘ امریکا کی جنوب مشرقی ریاستوں میں پیدا ہونے والے انگوروں کی ایک مقامی قِسم کا نام ہے۔ ریاست ’آرکنساس‘ بھی امریکا کے جنوب میں واقع ہے، اس لیے یہاں کے باسیوں کے لے یہ نام عجیب نہیں۔ اس قصبے کے نام کے متعلق ایک دلچسپ روایت یہ بھی ملتی ہے کہ قریباً 20 برس تک یہاں کے باشندوں میں اس بات پر ہی اتفاق نہ ہو سکا کہ اس کا نام ’پوسم‘ (مکر کرنا یا جھوٹ موٹ آنکھیں موند لینا) ہونا چاہیے یا صِرف ’انگور‘ کا لفظ ہی کافی ہے۔

زیڈ زیڈ وائے زیڈ ایکس، کیلیفورنیا
’کرٹِس ہوو سپرنگر‘ ریڈیو پر تبلیغ کرنے والا ایک عیسائی مبلغ تھا۔ ستم ظریفی مگر یہ تھی کہ وہ اپنے ریڈیو پروگرام میں لوگوں کو یہ جھانسا دیتا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور یوں انہیں اپنی جعلی ادویات بیچنے کی کوشش کرتا۔ اس نے پورے ملک میں معدنی پانی سے غسل کروانے والے حماموں کا نظام بھی بنا رکھا تھاجو اس کے بقول صحت کے لیے انتہائی مفید تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان حماموں سے ہونے والی آمدنی پر اس نے کبھی ٹیکس نہیں دیا۔ جب اس نے ’صحرائے موجاو‘ میں کچھ زمین لی اور وہاں معدنی پانی سے غسل کے چشمے بنائے تو اس جگہ کو ’زیڈ زیڈ وائے زیڈ ایکس مِنرل سپرنگ ریزورٹ‘ کا نام دیا۔ شائد اِس سے اْس کا مطلب یہ تھا کہ یہ صحت حاصل کرنے کا آخری مقام ہے۔ بلآخر وہ اپنی ہیراپھیریوں کی وجہ سے ’ایف بی آئی‘ (FBI) کی نظروں میں آ گیا اور پکڑا گیا۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اْسے کتنی قید ہوئی؟ محض 49 دن۔۔۔

بے نام، کولوراڈو
مضحکہ خیز ناموں والے شہروں میں اس قصبے کی خاص اہمیت ہے کیونکہ اس کا نام ہی ’بے نام‘ ہے۔ اس غیر معمولی نام کا سہرا اْن تعمیر کنندگان کے سر جاتا ہے جو بین الریاستی سڑک نمبر 70 بنا رہے تھے۔ انھوں نے سڑک کے متعدد خارجی راستوں کو بغیر نشانوں کے خالی چھوڑ دیا‘ جب ’کولوراڈو ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن‘ کا ایک افسر اْن راستوں کے نشان لگانے کیلئے گیا تو اْس نے خارجی راستے نمبر 119 پر ’بے نام‘ لکھ دیا۔ اس وقت سے اِس قصبے کا کوئی نام نہیں۔ ریاستی حکام نے ایک بار اس علاقے کا نام رکھنے کی کوشش کی لیکن مقامی باشندوں نے مزاحمت کر کے اس کو ناکام بنا دیا۔

ہیپی لینڈ، کنیکٹی کٹ
’ہیپی لینڈ‘ (Happyland) دراصل ریاست ’کنیکٹی کٹ‘ (Connecticut) کے بڑے قصبے ’پریسٹن‘ (Preston) کے ایک چھوٹے سے علاقے کا نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے یہاں پر ایک تفریحی پارک ہوتا تھا جو بدقسمتی سے 1930ء کی دھائی میں آنے والے ایک طوفان نے برباد کر دیا۔ اس تباہی کے بعد بھی اس پارک کی یاد میں اس جگہ کا نام ہی ’ہیپی لینڈ‘ پڑ گیا۔

چھوٹی جنت، ڈیلاور
1870 ء کی دھائی میں اس جگہ ایک زمیندار نے اپنے آئرش مزدوروں کی رہائش کے لیے چند کیبن تعمیر کیے اور اْن کا نام ’چھوٹی جنت‘ (Little Heaven) رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی زمانے میں اسی علاقے میں ایک جگہ کا نام ’چھوٹا جہنم‘ بھی تھا۔ تاہم اب وہ موجود نہیں ہے۔

جلی ہوئی دکان، فلوریڈا
مقامی افراد کے مطابق اس قصبے کا یہ نام اْس دکان کے نام پر پڑا جو ’دریائے پیس‘ کے کنارے واقع تھی اور 1849ء میں جلا دی گئی۔ اس دکان کا ’جارج‘ نامی منتظم، ریڈانڈین قبیلے ’سیمی نال‘ (Seminole) سے ملاقاتیں کرتا رہتا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اسی قبیلے کے ایک حملے میں مارا گیا اور اس کے بعد وہ دکان بھی نظرِآتش کر دی گئی۔

تجربہ، جارجیا
گو مضحکہ خیز ناموں والے تمام شہروں کو بھی بذاتِ خود ’تجربے‘ (Experiment) ہی کہا جا سکتا ہے مگر جارجیا (Georgia) کے اس قصبے کے نام کی وجہ اس کے قریب ہی واقع جارجیا یونیورسٹی کی ’زرعی تجربہ گاہ‘ ہے۔

ہائیکو، ہوائی
’ہائیکو‘ (Haiku) نام پڑھ کر شاید آپ کا ذہن جاپانی شاعری میں نظم کی ایک صنف کی طرف چلا گیا ہو، جو تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ریاست ’ہوائی‘ کے اس قصبے کا نام جاپانی نظم پر نہیں بلکہ ’ہوائی‘ زبان کے ایک قدیم نام ’ہا ایکو‘ پر رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے ’قدرتی وادی‘۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام ’ہوائی‘ زبان کے ایک اور لفظ پر رکھا گیا، جس کا مطلب ’غصے میں اچانک بولنا‘ یا ’تڑخ کر کے ٹوٹنا‘ ہوتا ہے۔ دیگر چند لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مقامی پھول کا نام ہے۔

سانتا کلاز، انڈیانا
پہلے اس قصبے کا نام ’سانتا فے‘ تھا۔ 1856ء میں جب سرکاری حکام کو یہ معلوم ہوا کہ ریاست میں اسی نام کا ایک اور شہر بھی موجود ہے تو انھوں نے اس کا نام بدل کر کرسمس کے تہوار کے مشہور مذہبی کردار ’سانتا کلاز‘ کے نام پر رکھ دیا۔

ہیپو، کینٹکی
ریاست ’کینٹکی‘ (Kentucky) کے شہر ’ہیپو‘ (Hippo) میں ’ہیپوز‘ (دریائی گھوڑے) تو نہیں پائے جاتے البتہ اس کا نام 20 ویں صدی میں یہاں رہائش پزیر ’بی میڈیسن‘ نامی شخص کے نام پر رکھا گیا جس کی عرفیت ’ہیپو‘ تھی، حالانکہ اْس شخص کا دور دور تک دریائی گھوڑوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واٹر پروف، لوئسیانا
شروع شروع میں اس جگہ کو آباد کرنے والے لوگ محض اس لیے یہاں آئے کیونکہ پورے علاقے میں یہ واحد جگہ تھی جو ’دریائے میسیسیپی‘ میں آنے والے تباہ کْن سیلابوں سے محفوظ تھی۔ اسی لیے اس کا نام ’واٹر پروف‘ پڑ گیا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ پانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس بات کا اندازہ یہاں کے باشندوں کو اس وقت ہوا جب 2008ء میں یہاں قحط پڑا اور کسانوں کی قیمتی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

حادثہ، میری لینڈ
اس عجیب نام کی وجۂ تسمیہ جاننے کے لیے ہمیں ماضی کا سفر کرتے ہوئے 1700ء کے اواخر میں جانا پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست ’میری لینڈ‘ جب ایک کالونی کی حیثیت رکھتی تھی تو اس وقت وہاں کے دو ’سروئیرز‘ جن کے نام ’بروک بیل‘ اور ’ولیم ڈیکنز جونیئر‘ تھے اور وہ دونوں آپس میں دوست بھی تھے، کو اتفاق سے زمین کا ایک ہی ٹکڑا پسند آگیا اور انھوں نے اس کے حصول کے لیے درخواست دے دی۔ دونوں اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ ایک ہی جگہ لینا چاہ رہے ہیں۔ ’ڈیکنز‘ (Deakins) کو جب اس بات کا پتا چلا تو اس نے اپنی درخواست واپس لے لی کیونکہ ’بیل‘ (Beall) نے اس سے پہلے درخواست دی تھی۔ یوں اس کہانی کا انجام بخیر ہوا اور ایک حادثاتی اتفاق کی وجہ سے اس علاقے کا نام ’حادثہ‘ (Accident) پڑ گیا۔

سینڈوِچ، میساچیوسیٹس
1639 ء میں تشکیل پانے والا یہ قصبہ ’کیپ کوڈ‘ (Cape Cod)نامی بندرگاہ کا سب سے پْرانا قصبہ ہے، جس کا نام انگلستان کی کاؤنٹی ’کینٹ‘ (Kent) کی بندرگاہ ’سینڈوِچ‘ (Sandwich) کے نام پر رکھا گیا۔

جہنم، مشی گن
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے ’’جہنم میں جاؤ‘‘ تو ضروری نہیں کہ وہ غصے کا اظہار ہی کر رہا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو سمت سمجھا رہا ہو۔ اس قصبے کے نام کی کہانی کچھ ہوں ہے کہ ’جارج ریویس‘ نامی ایک شخص نے ریاست مشی گن کے اس وسطی علاقے میں آٹا پیسنے کی چکی لگائی۔ وہ آٹا پسوانے کے لیے آنے والے کسانوں کو گھر میں کشید کی ہوئی شراب پیش کرتا۔ کھیتوں میں جب کوئی اْن کسانوں کی بیویوں سے اْن کے بارے میں پوچھتا کہ وہ کہاں ہیں ؟ تو وہ جل کے جواب دیتیں ’’وہ پھر جہنم میں گئے ہیں‘‘۔ اس طرح اس قصبے کا نام ’ہیل‘ (Hell) ہو گیا۔ آج بھی اس قصبے کے ڈاک خانے سے بھیجی جانے والی ہر ڈاک کو ’داغ‘ کے آگے روانہ کیا جاتا ہے تاکہ پتا چلے کہ یہ کہاں سے آئی ہے۔

(185 بار دیکھا گیا)

تبصرے