Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں، سروے

قومی نیوز جمعه 08 مارچ 2019
خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں، سروے

اسلام آ باد … خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں اور یہ ایک عالمی رجحان ہے۔ اسٹیٹسٹا (Statista) کی جانب سے کئے گئے سروے میں ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا کے تمام 7 خطوں میں خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں تاہم ان تمام خطوں میں خواتین کو زیادہ تر کام کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔

سروے کے آ ن لائن اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خطہ ہے جہاں خواتین کی اکثریت کو زیادہ تر معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ سروے کے مطابق جنوبی ایشیا کی خواتین 7 اعشاریہ 8 گھنٹے روزانہ بغیر معاوضے کے کام کرتی ہیں۔

تاہم حقوق نسواں کے سرگرم کارکنان کو امید ہے کہ کام کی جگہوں پر خواتین کی صورتحال وقت کے ساتھ بہتر ہورہی ہے اور خواتین نے شہری علاقوں کے رسمی شعبوں میں نوکریاں کرنا شروع کردی ہیں۔ حقوق نسواں کے سرگرم کارکنان کا کہنا ہے کہ اب خاندان اپنی خواتین کو کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں اور خواتین اپنے خاندانوں کی کفالت کیلئے اپنے گھروں سے نکل رہی ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ کام کی جگہوں کا ماحول بھی بہتر ہوتا جارہا ہے جبکہ کام کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے سے بچائو کیلئے وفاقی محتسب کا دفتر بھی موثریت دکھا رہا ہے۔

تاہم انہوں نے دیہی علاقوں اور غیر رسمی شعبوں میں خواتین کے کام کی صورتحال پر خدشات کا اظہار کیا اور حکومت سے ان علاقوں پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

معروف وکیل اور حقوق نسواں کی سرگرم کارکن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر خواتین کو گھر سنبھالنے کے علاوہ اپنے مردوں کے ساتھ کھیتوں میں بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے رسمی شعبوں میں خواتین یونینز ورکنگ کنڈیشنز کی بہتری کیلئے کردار ادا کر رہی ہیں اور خواتین ورکرز کو درپیش مسائل واضع کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وومن ایکٹیوازم نے بھی خواتین کیلئے راستے ہموار کئے ہیں اور اب زیادہ سے زیادہ خاندان اپنی خواتین کو نوکری کیلئے بھیج رہے ہیں۔

حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ کام کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے سے بچائو کیلئے وفاقی محتسب نے موثر انداز میں کام شروع کردیا ہے، ہر شعبے میں سیکچول ہراسمنٹ کمیٹیاں اور دفتر ہونے چاہئیں ، ان سے خواتین کے خاندانوں کو اعتماد ملے گا اور نجی اور پبلک سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ خواتین نوکریاں کریں گی۔

(220 بار دیکھا گیا)

تبصرے