Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 17 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دوست بنے نشانہ

قومی نیوز جمعه 08 مارچ 2019
دوست بنے نشانہ

کراچی کے علاقے تھانہ سہراب گوٹھ کی حدود کوئٹہ ٹائون میں ڈاکوئوںنے دوران ڈکیتی مزاحمت کرنے پر 32 سالہ شاہ ولی اللہ ولد حافظ شاہ حسین اور امان الدین ولد محمد دین کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے‘ مقتول اسٹیٹ ایجنسی کے کاروبار سے منسلک تھے‘ پولیس نے واقع کا مقدمہ 46/19 بجرم دفعہ 397 درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا‘ 8 فروری دوپہر کا وقت تھا

شاہ ولی اور امان سہراب گوٹھ کے علاقے میں دونوں دوست اپنی موٹر سائیکل پر سوار بینک الحبیب سہراب گوٹھ برانچ سے رقم نکلوا کر کوئٹہ ٹائون سیکٹر 2/3 پر اپنی رہائش گاہ کی طرف آرہے تھے‘ کہ کچھ ملزمان جوکے موٹر سائیکل پر سوار ان کا تعاقب کررہے تھے‘ آہستہ آہستہ ان کے قریب آگئے‘ جیسے ہی مقتولین نادر اسپتال کے قریب پہنچے اور کوئٹہ ٹائون میں داخل ہونے لگے تو تعاقب کرنے والے ملزمان برق رفتاری سے ان کے قریب آپہنچے اور آتشی اسلحہ ان کے سروں پر تان کر انہیں لوٹنے کی کوشش کی جس پر دونو ں دوستوں نے مزاحمت کی تو ملزمان نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی

جس کے نتیجے میں دونوں دوست شدیدزخمی ہوگئے اور زمین پر گرپڑے ‘ جس کے بعد ایک ملزم نے آگے بڑھ کر امان الدین کی جیب سے رقم نکالی اور پھرتی سے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘ جس جگہ یہ واردات ہوئی وہ روڈ اکثر سنسان رہتا ہے اور اکا دکا گاڑیوں کی آمدورفت رہتی ہے‘ جس کا ملزمان نے فائدہ اٹھایا‘ جو دوپہر 12 بجے کا وقت تھااور اطراف میں رہنے والے رہائش پذیر لوگوںنے جب گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنی تو تمام لوگ محلے سے باہر نکل آئے اور جائے وقوعہ پر جمع ہونا شروع ہوگئے

بعد ازاں جائے وقوعہ پر جمع اہل محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی ہونے والے شاہ ولی اللہ اور امان الدین کو اٹھا کر فوری طبی امداد کے لیے قریبی پرائیویٹ نجی اسپتال منتقل کردیا‘ جہاں پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شاہ ولی اللہ نے جاں بحق‘ جبکہ امان الدین کو شدید زخمی حالت میں آغا خان اسپتال منتقل کردیاتھاجو کہ 2/9/19 کو صبح 7 بجے کے قریب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘ واقعے کے بعد پولیس بھی اسپتال پہنچ گئی‘ جہاں ضابطے کی کارروائی کے لیے نعشوں کو عباسی شہید منتقل کیا

جس کے بعد کارروائی مکمل ہونے کے بعد تدفین کی غرض سے نعش ورثاء کے حوالے کردی‘ واقعے کے حوالے سے مقتول شاہ ولی اللہ کے والد نے قومی اخبار کو آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ میرے بیٹے شاہ ولی اللہ کا کسی تنظیم یا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ ہمارا تعلق جنوبی وزیر ستان سے ہے ‘ نہ ہی ہماری کسی شخص سے کوئی دشمنی ہے نہ کسی سے کوئی لین دین کا تنازعہ ہے ‘ پھر بھی میرے بیٹے سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے

مقتول کے والد نے بتایا کہ شاہ ولی اللہ ایک نہایت ہی سلجھی ہوئی طبیعت کا مالک نمازی اور پرہیز گار بندہ تھا‘ مقتول نے اپنے سوگواران میں 2 بھائی‘ 2 بہنیں‘ماں باپ اور 3 بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے ‘ مقتول نے حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ عالم اور مفتی کا کورس بھی کیاہوا ہے ‘ مذہبی لگائو بھی بہت زیادہ تھا‘ واقعے والے دن جب ملزمان نے اس پر فائرنگ کی تو مقتول نے اپنی فکر چھوڑ کر اپنے دوست کے بارے میں بار بار پوچھ رہا تھا‘ مقتول 6 سال سعودی عرب میں رہا ‘ کچھ عرصہ قبل ہی اس کی موت اسے یہاں کھینچ لائی تھی‘ جہاں وہ اپنے دوست امان الدین جواسکائوٹ کالونی کا رہائشی اور تبلیغ وتدریس والا بندہ تھا‘ اس کے ساتھ مل کر اسٹیٹ ایجنسی کا کاروبار سے منسلک ہوگیا تھا

مقتول کا دوست امان علاقے میں ہی اپنی ایک الگ اسٹیٹ ایجنسی بنارہاتھا‘ جس کا افتتاح آنے والے جمعہ کو انہوںنے کرنا تھا‘ لیکن شاید اس کو خوشیاں راس ہی نہ تھیں‘ مقتول کے مرنے کے بعد مقتول کے گھر میں صف ماتم بچھ گیا ہے‘ چھوٹے چھوٹے بچے باپ کے انتظار میں آنکھیں دروازے پر لگائے والدکے آنے کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں‘ انہیں نہیں معلوم کہ وہ اب کبھی لوٹ کر نہیںآئے گا‘ مقتول کے والد نے قانون کے مطابق انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کے ملزمان کو گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے

واقعے کے حوالے سے اہل محلہ میں خوف کی لہر دوڑ گئی‘ محلہ داروں نے قومی اخبار کوبتایا کہ سہراب گوٹھ کا علاقہ خصوصاًکوئٹہ ٹائون کے اطراف کا علاقہ جرائم پیشہ افراد کا مسکن بن گیاہے‘ جبکہ پولیس ان افراد کی سرپرستی کرتی دکھائی دیتی ہے اہل محلہ کے مطابق ایک سوزوکی کیری ایک ہائی روف اور ہنڈا125 موٹرسائیکل اکثر وبیشتر اس علاقے میں گھومتی ہے اور لوگوں سے لوٹ مار کرتے رہتے ہیں‘ یوں سمجھ لیں کہ ایک ہفتے میں 2 وارداتیں تو ضرور ہوتی ہیں‘ جن کی اطلاع پولیس کو علاقہ مکین دے چکے ہیں‘ لیکن پولیس پھر بھی ان جرائم پیشہ افراد کو لگام ڈالنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے

صرف گٹکا فروشوں کو پکڑ کر فوٹو شوٹ کروانے سے علاقے میں نہ امن آئے گا نہ ہی اسٹریٹ کرمنل قابو میں آئیں گے‘ مذکورہ قتل کی واردات سے ایک ہفتہ پہلے ہی اس علاقے میں لوٹ مار ہوچکی ہے‘ جبکہ مذکورہ قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو موصول ہوگئی ہے‘ جس میں ملزمان کے چہرے واضح نہیں ہیں‘ ہماری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ہماری جان ومال کے لیے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنایا جائے‘ واقعے کے حوالے سے تھانہ سہراب گوٹھ کے تفتیشی افسر محمد صالح نے قومی اخبار کو بتایاکہ مذکورہ واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے

جائے وقوعہ سے پولیس کو4 خول ملے ہیں‘ جنہیں فارنزک کے لیے بھجوا دیاہے‘ ا یک سوال کے جواب میں پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ایک کیس نہیں ہوتا آئے روز متعدد کیس ہوتے ہیں‘ جنہیں ہم نے ہی دیکھنا ہوتا ہے‘ ساری توجہ اور ٹائم کسی ایک کیس پر نہیں دے سکتے‘ علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے‘ جوکہ واضح نہیں ہے‘ پولیس ہرپہلو سے غور کررہی ہے کہ آیا واقعہ ڈکیتی کا ہے‘ یا کوئی ذاتی دشمنی یا لین دین کا معاملہ تو نہیں ‘ کیونکہ ملزمان نے جس طرح سے مقتولین پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اس سے یوں لگتا ہے کہ گویا وہ ڈکیتی کرنے نہیں

بلکہ پوری منصوبہ بندی کے تحت ان کو قتل کرنے آئے تھے ‘ چونکہ ملزمان اپنے ہمراہ پوری رقم بھی لے کر فرار ہوئے اور اگر انہیں فائرنگ ہی کرنی تھی تو ایک دو گولی مار کر یا ہوائی فائرنگ کرکے بھی فرار ہوسکتے تھے‘ جیسا کہ اکثر وارداتوں میں دیکھنے میں آیا ہے ‘لیکن اس کیس میں نوعیت سے ہٹ کر بے دردی سے مقتولین پر گولیاں برساناسمجھ سے بالا تر ہے‘ پولیس ہرزاویے سے جائزہ لے رہی ہے‘ اصل حقائق تک جلدرسائی حاصل کرکے مقتولین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنا ہمارا اولین فریضہ اور کوشش ہے۔

(340 بار دیکھا گیا)

تبصرے